تاریخِ ہند و پاکستان حالات حاضرہ

آئی ایس آئی کے مخالف میڈیائی مسخروں کے نام


حقیقیت پر مبنی مشہور شعر ہے کہ ” بشر رازِ دلی کہہ کر ذلیل و خوار ہوتا ہے  ۔  نکل جاتی ہے جب خوشبو تو گل بیکار ہوتا ہے۔ راز جب تک راز رہے گا سلامتی اور عافیت ہے۔ جاسوس کے سینے سے راز گلوا لیا جائے تو اس کے مالک و آقا کی سلامتی یقینی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ سو آئی ایس آئی ہو را ، موساد ہو یا سی آئی اے، ایسے تمام خفیہ  و حساس اداروں کا بنیادی فرض اپنے ملک کی سلامتی سے جڑے حساس معاملات کے رازوں کی حفاظت ہی ہوتی ہے اور اسی ” راز داری” پر ان کی پیشہ ورانہ کامیابی ہی نہیں بلکہ ان کے ملک و قوم کی سلامتی کا دارومدار بھی ہوتا ہے۔ راز اُس وقت تک راز رہتا ہے جب تک عوام و خواص سے ورا رہے اور جب پردہ اُٹھ کر عیاں ہو جائے تو نہ وہ راز باقی رہتا ہے نہ اس راز سے جڑے لوگوں، قوموں یا ملکوں کی سلامتی ۔ افواج پاکستان اور آئی ایس آئی کو بلا جواز تنقید کا نشانہ بنانے والے تعلیم یافتہ جاہلوں کو علم ہونا چاہئے کہ آئی ایس آئی بھی دراصل قومی سلامتی سے منسلک ایسا ادارہ ہے جس کی حیثیت ” مقدس راز” جیسی ہے۔ اسلام اور پاکستان کے بدترین دشمن مغربی و سامراجی فتنہ گر اور ان کے میڈیا یا نان میڈیا گماشتین اکثر ایسی فرمائشی مہم چلاتے رہتے ہیں کہ آئی ایس آئی ایک طاقتور بے لگام گھوڑا بنتی جا  رہی  ہے، لہذا اسے فوج کی بجائے حکومتی یعنی سویلین کنٹرول میں ہونا چاہیے۔ لیکن میں اپنے ہم خیال احباب کے ان خدشات سے کلی متفق ہوں کہ ایسی صورت میں نہ کوئی قومی راز، راز رہے گا، نہ یہ آئی آیس آئی کا ادارہ اس دبنگ انداز میں اپے قدموں پر کھڑا رہ سکے گا اور نہ ہی خدانخواستہ یہ ایٹمی قوت مملکت خداداد پاکستان دنیا کے نقشے پر موجود رہے گی۔ قوم اس بات سے مکمل باخبر ہے کہ وہ آئی ایس آئی ہی ہے جو برس ہا برس سے بیک وقت دنیا کی کئی انٹی پاکستان خفیہ ایجنسیوں کو تنہا انکاؤنٹر کر کے قوم و ملت کیلئے صحیح معنوں میں جہاد کر رہے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب و سامراج اپنے مذموم مقاصد کے حصول میں ناکامی پر کبھی آئی ایس آئی کو سویلین کنٹرول میں لانے کا واویلا اور کبھی من گھڑت ڈراموں اور قصوں کا سہارا لیکر خود یا زرخرید گماشین کے ذریعے مذموم پراپیگنڈے میں مصروفِ فتن رہتا ہے۔ ۔

گذشتہ دنوں لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کی بطور سربراہ آئی ایس آئی کے تعیناتی ہوئی تو یہ امر انتہائی خوش آئیند ہے کہ اس فیصلہء انتخاب میں سول حکومت اور پاک فوج کی مکمل ہم آہنگی اور باہمی رضامندی شامل تھی۔ لہذا اس حوالے سے بیشتر قومی و عسکری طبقوں اور اہل علم و دانش کی طرف سے ان کے انتخاب کو سراہا اور ان کی پیشہ ورانہ کامیابی کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا۔ جنرل رضوان اختر کو نزدیک سے جاننے والوں کا کہنا ہے کہ وہ سختی سے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ سیاست سویلین حکومت کا کام ہے اور بیرونی دشمنوں سے نپٹتا فوج کا فریضہ ہے۔ لیکن افسوس صد افسوس کہ ایک عرصہ سے افواج پاکستان اور حساس اداروں کی کردار کشی میں مصروف بال ٹھاکری آئیڈیالوجی کے وارث میڈیائی مسخروں نے ایک بار پھر سے قومی ادارے کے حوالے سے مذموم تنقید کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ انہیں نھارت نواز سیفما اور امن کی آشا کے دجالی میڈیا کے کارانِ خاص میں شامل ایک مغرب زدہ صحافی محمد حنیف نے بی بی سی میں آئی ایس آئی کے سابقہ اور نئے چیف کے حوالے سے  جو جو تنقیدی مضمون لکھا وہ انتہائی قابل مذمت و صد لعنت ہے۔ یاد رہے کہ امن کی آشا مافیہ کے خصوصی پالک مضمون نگار محمد حنیف صاحب ایک عرصہ سے اسلامی اقدار ، نظریہ پاکستان اور پاکستان کے عسکری حلقوں پر تنقید میں خاصی لعنتیں سمیٹ رہے ہیں۔ فتنہء قادیانی اور گستاخین قرآن و رسالت کی حمایت میں ان کے مضامین و کالم اہلِ مغرب اور سامراجی حلقوں میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ اس مضمون کے الفاظ اور طنزوں کی بندش سے یقین ہوتا ہے کہ لکھوانے والے سامراج کے پنٹاگونی فتنہ گر اور صلیبی شاہ رچرڈ کی لندنی باقیات اور جرنل بے شرم سنگھ اروڑا برانڈ دہلوی عناصر ہیں۔ موصوف فرمتے ہیں۔ ” پاکستان میں آئی ایس آئی کے ہر سربراہ کی تعیناتی کے موقعے پر امیدوں اور توقعات کا ایسا انبار لگایا جاتا ہے جیسے پرانی بادشاہتوں میں ولی عہد کی پیدائش کے موقعے پر لگتا تھا۔ کیا نحوست کے بادل اُٹھنے والے ہیں، کیا نیا راج دُلارا ایک روشن مستقبل کی نوید ہے؟ نئے آئی ایس آئی کے سربراہ کے بارے میں بھی ہمیشہ کی طرح مبارک سلامت کے نعروں کے ساتھ ہمارے موسمی دفاعی تجزیہ نگاروں نے یہ انکشاف کیا کہ نئے چیف ایک پیشہ ور فوجی ہیں۔ بھائیو اگر پیشہ ور فوجی جنرل نہیں بنے گا تو کیا عاطف اسلم یا راحت فتح علی خان کو اِس عہدے پر ترقی دی جائے گی “ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا قیامت کی نشانی ہے کہ مارننگ شوز کو بازار حسن کا مجرہء طوائف اور مذہبی شوز میں جنسی ماڈلز کو پیش کرنے والے ابلیسانَ دہر ہی پاک فوج کے سالاروں کا موازنہ گویوں اور سازندوں سے کر رہے ہیں۔ حیرت ہے کہ امن کی آشا کی آفیشل داشتہ شائستہ واحدی کے طلسماتی بیڈ کے مدہوش مزے لوٹنے والے مندر رسیدہ شریف زادوں کی رادھا رامی عاشقانہ تاریخ بھلانے والے، دنیا کو اس آئی ایس آئی کی تاریخ یاد کروا رہے ہیں جس کے تاریخ ساز کارناموں کی گواہ وہ تاریخ ہے جسے سوائے امن کی آشا زدہ مافیہ کے سب ہی آسانی سے پڑھ سکتے ہیں۔ موصوف نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہان، جنرل محمود، جنرل ندیم تاج اور جنرل ضیا الدین بٹ کے مسخرانہ انداز میں ذکر کے بعد نئے سربراہ جنرل رضوان اختر کو کچھ تصاویر دیکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں ک، ” سب سے پہلی تصویر آپ کے پیش رو جنرل ظہیر الاسلام کی ہو گی۔ وُہ بھی یقیناً ایک پیشہ ور سپاہی تھے جنھیں آپ کی طرح سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اِنٹیلی جنس کے میدان میں تو اُن کی کامیابیاں یقیناً خفیہ ہی رہیں گی لیکن قوم کے سامنے اُن کا سب سے بڑا معرکہ وہ تھا جِس میں اُنھوں نے ملک کے سب سے بڑے میڈیا گروپ کو چِت کیا ” ۔۔۔۔ حنیف صاحب، عام کہاوت ہے کہ کتے کی دم سو سال تک بانسری میں رہ کر بھی ٹیڑھی ہی رہتی ہے۔ لہذا امن کی آشا کا ہندوتوا برانڈ میڈیا اور آپ جیسے بالک صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے عالم اسلام سے ذلیل و رسوا ہو کر بھی محب وطن نہیں بن سکتے۔ حقائق یہی ہیں کہ اس میڈیا گروپ کو چت کرنے والی کوئی آئی ایس آئی قیادت نہیں بلکہ خود اس میڈیا گروپ کی انٹی پاکستان اور انٹی اسلام روش، مادر پدر آزاد عریاں تہذیب کی تشہیر و فروغ اور خلاف اسلام گستاخانہ پالیسیاں رہی ہیں۔ قوم کیلئے انتہائی ناگوار حرکات، ” پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ ” کا ملی و قومی نعرہ بگاڑنے اور امن کی آشا جیسے ناپسندیدہ گیتوں کے خالق سابقہ یا موجودہ آئی ایس آئی چیف نہیں، بلکہ بھارت میں بال ٹھاکرے مافیہ کی گود میں بیٹھے ہوئے وہ ہنومانی عناصر تھے جو آج بھی اس میڈیا کو اربوں روپے کے اشتہارات نوازتے ہیں۔ شائستہ واحدی جیسی خاتون کے مارننگ شو میں توہین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ اور توہین خاتونِ جنت سیدۃ النسا فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ عنہہ، جنرل ظہیر السلام یا جنرل کیانی نے نہیں کروائی۔ اس مذموم توہین اہل ببیت کے پس پردہ وہی عناصر تھے، جو اپنے عریاں بدن پر آئی ایس آئی کے ٹٹو بنوا کر، پاکستان کے حساس قومی ادارے کی بھارت میں تذلیل کرنے والی وینا ملک کو خصوصی طور پر اس شو میں لائے تھے۔ آپ کے اس عالمانہ وژن اور دانشوری سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ جیسے ننگِ وطن بھارتی گماشتین، اپنی محبوب بھارتی ایجنسی را اور موساد کے ہم خیال بن کر کسی بھارتی یا امریکی جرنیل کی بیٹی کے حاملہ ہو جانے پر جنسی تشدد کا الزام بھی آئی ایس آئی پر لگا سکتے ہیں۔

پھر فرماتے ہیں کہ ۔ ” ان سے ذرا آگے نظر ڈالیں توجنرل پاشا کی تصویر نظر آئے گی۔ اُن کا سیاست میں عدم دلچسپی کا یہ عالم تھا کہ امریکہ میں اگر کِسی منصور اعجاز نامی شخص نے سرگوشی کی تو وہ بھاگے بھاگے ثبوت جمع کرنے پہنچ جاتے تھے۔ کچھ لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ اُنھیں سیاست سے تو کیا اِنٹیلی جنس میں بھی کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ اُن کی واچ میں امریکی فوجی رات کے اندھیرے میں پاکستان کی سرحدوں میں گھس کر اسامہ بن لادن کو ہلاک کر کے لاش اٹھا کر لے گئے، اُنھیں کسی نے فون کر کے بتایا۔ اِس سے زیادہ اُن کی معصومیت کا کیا ثبوت ہو سکتا ہے “ ۔۔۔۔۔ حنیف صاحب آپ  قادیانیت کی پروردگی اور مرزا غلام قادیانی کے خاندان کے ننگِ آدم چشم و چراغ منصور اعجاز کی مداحی میں اس سے پہلے بھی بہت کچھ لکھ چکے ہیں۔ آپ کے محبوب  زندیقوں نے بھی میر صاحب کی گاڑی میں نصب بم کا ایشو بڑا اچھالا تھا لیکن اس کی سچائی کا کوئی سراغ کسی جادو نگری سے برامد نہ ہوا۔ لہذا یہ آپ بھی نہیں جانتے ہوں گے کہ بقول امن کی آشا مافیہ، آئی ایس آئی کی طرف سے حامد میر صاحب کی گاڑی کے نیچے رکھا بم کیوں نہ پھٹ سکا لیکن شاید آپ جیسا ” صاحب انفارمیشن” یہ ضرور جانتا ہو کہ وہ کون سے “جادوئی ذرائع” تھے کہ آپ کے ہم نوالہ ہم پیالہ بھائی حامد میر صاحب دنیا کے تمام طاقتور فرعونوں کومطلوب اسامہ بن لادن جیسے اس “موسٹ وانٹڈ ٹیرسٹ ” کےانٹرویو کیلئے اسامہ کے اس خفیہ ترین مقام تک بھی پہنچ گئے تھے جس کے بارے تمام عالمی غنڈے اور دنیا کے طاقتور ترین ممالک کی خفیہ ایجنسیاں بھی قطعی بے خبر تھیں۔ اور پھر یہ راز تو حامد میر صاحب ہی بتا سکتے ہیں کہ وہ کون سی ماورائےعقل روحانی یا طاقتیں تھیں جن کے خوف سے صدر بش جیسے دنیا کے طاقتور ترین شخص نے بھی حامد میر صاحب سے اسامہ بن لادن کےاس مقام کا پتہ پوچھنے کی جرات نہیں کی۔ حنیف صاحب نے لکھا ہے کہ، ” جنرل پاشا کا بھی بڑا کارنامہ یہ تھا کہ اُنھوں نے امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی کی چھٹی کرا دی۔ لیکن چونکہ دونوں قابل آدمی ہیں حقانی صاحب نے امریکہ میں نوکری پکڑ لی اور پاشا صاحب سُنا ہے دُبئی کے شہزادوں کو سِکھاتے ہیں کہ سیاست سے دور کیسے رہا جائے۔ باقی تصویریں آپ خود دیکھیں اور ریکارڈ بھی چیک کر لیں ایک پروفیشنل جنرل جاوید ناصر ہوتے تھے اُنھوں نے ریٹائرڈ ہونے کے بعد کیمروں کو حرام قرار دے کر تصویر بنوانے سے انکار کر دیا تھا۔ ہو سکتا ہے اُن کی یاد میں ایک خالی فریم لٹکا ہوا ہو”  ۔۔۔۔   اس حوالے سے صرف اتنا عرض کروں گا کہ حسین حقانی اور ان کی بیگم صاحبی کی ملک و قوم سے غداریوں اور سامراجی گماشتی کے قصے اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے سو اس کی بدبختی و نامرادی پر مزید کچھ لکھنا وقت اور الفاظ کا ضیاع ہو گا۔ لیکن خدا جانے وہ کون سی نامعلوم وجوہات ہیں کہ آپ کی آنکھیں اپنی محبوب دانش ور ساتھی عاصمہ جہانگیر کی مندروں اور بھوان کے ساتھ اتری تصاویر پر اندھی کیوں ہو جاتی ہیں۔ خدا جانے کہ آپ کو اپنے محبوب شہید رہنما سلمان تاثیر کی خنزیر خوری اور شراب نوشی یا اس کی روشن خیال بیٹیوں کی گوروں کے ساتھ نیم برھنہ تصاویر کی تصاویر کیوں نظر نہیں آتیں ؟ کیا یہ محض ایک اتفاق ہے کہ بھارتی حکمرانوں کی آنکھوں میں چبھنے والا جنرل جاوید ناصر آپ کا بھی ناپسندیدہ کردار ہے ؟ ۔۔۔۔  پھر وہ جنرل  رضوان  سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں کہ، ” سب سے نمایاں تصویر جنرل حمید گل کی ہو گی۔ وہ جنرلوں کے جنرل ہیں اور جاسوسوں کے جاسوس۔ آج سے 26 سال پہلے وہ آئی ایس آئی کے اِنتہائی پیشہ ور چیف تھے۔ اُن کے ہوتے ہوئے فوج کے سربراہ اور ملک کے صدر جنرل ضیا الحق اپنے درجن کے قریب ساتھی سینیئر فوجیوں کے ساتھ ایک طیارے کے حادثے میں ہلاک ہوئے۔ نہ کوئی ملزم ، نہ کوئی مقدمہ، جنرل حمید گل کی پیشہ وری پر جُوں تک نہ رینگی ۔”  محترم حنیف صاحب !  کالم نگاری کیلئے پہلا ضروری ہتھیار علم اور مطالعہ ہوتا ہے، آُپ کیلئے میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ تاریخ اور جنرل نالج کے حوالے سے اپنا مطالعہ وسیع کیجئے تاکہ روس افغان جنگ میں جنرل حمید گل اینڈ کمپنی کے ہاتھوں روس جیس سپر پاور کی اس ذلت آمیز شکست کا احوال جان سکیں جس کو یاد کر کے ابھی تک روس کی نئی نسل اپنے اس دور کے سیاسی قائدین اور جرنلوں کو دشنام درازی کرتی ہے۔ ماسکو اور اس کے حواری مافیہ کو ناکوں چنے چبوانے والے جنرل حمید گل کے بارے کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے والی بات ہے۔ میں آپ کو کیا کیا یاد دلاؤں کہ آپ کی تحریر آپ کی کوتاہ علمی کی چغلی کھا رہی ہے۔ تاریخ کے حوالے سے قارئین کی طرف سے آپ کیلئے زیرو بٹا زیرو نمبروں کے سوا اور کچھ نہیں۔

احباب قابل توجہ ہے کہ جیو اینڈ جنگ میڈیا گروپ کچھ ماہ قبل ہی آئی ایس آئی کے کیخلاف پراپیگنڈا مہم چلانے پر باقائدہ  تحریری معافی مانگ کر یہ سٹیٹمنٹ جاری کر چکا ہے کہ وہ ، ” اپنی خود احتسابی ، ادارتی بحث اور رائے عامہ کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ 19 اپریل کو حامد میر پر حملے کے بعد ہماری نشریات حد سے متجاوز، پریشان کن اور جذباتی تھیں “۔  اس معافی نامہ کے بعد آئی ایس آئی کیخلاف مذموم  ہرزہ سرائی کیلئے اپنے ایک مصدقہ کار خاص صحافی کو بی بی سی کے پلیٹ فارم پر استعمال کرنا ، ہندوتوا اور یہودیوں  جیسی مکاری ، کم ضرفی و عہد شکنی اور قومی اداروں سے بغض و عداوت کا ثبوت  ہے۔ لفٹیننٹ جنرل رضوان اختر پر تنقید کرتے ہوئے جیو اینڈ جنگ گروپ کے ایک اور ہمخیال سینئیر صحافی ایم ضیا الدین نے بھی امن کی آشا کی ہمنوائی کا اعزاز حاصل کرنے کیلئے لکھا ہے کہ، ” جنرل رضوان اختر کے دور میں رینجرز کافی سیاسی ہوگئی تھی اس میں وفاق اور صوبائی حکومت دونوں کا عمل دخل تھا۔ پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ رینجرز پولیس سے زیادہ غیر سیاسی ہے، پولیس سے زیادہ قابل ہے اور جرائم پر قابو پانے میں زیادہ قابلیت سے کام کرے گی لیکن جب ایکشن شروع ہوا تو کوئی زیادہ بہتری نظر نہیں آئی۔ کراچی میں تعیناتی کے دوران جنرل رضوان اختر کی کوئی خاص کارکردگی نہیں رہی اور کافی شک و شبہات نے جنم لیا اور یہ شدت سے محسوس کیا گیا کہ رینجرز ایک ایسے چشم دید گواہ کے طور پر موجود ہے جس کی امن کی بحالی میں کوئی دلچسپی نہیں” ۔۔۔۔۔۔ میں آئی ایس آئی کو تختہء مشق بنانے کی جرات رکھنے والے ضیاء الدین صاحب جیسے بہادر صحافی سے صرف اتنا اسفسار کروں گا کہ کیا ان میں مذید اتنی بھی اخلاقی یا صحافتی جرات نہیں کہ وہ کراچی کی ماڈرن مکتی باہنی کے سب کارنامے اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد بھی ان ” معزز قاتلوں ” کیلئے ” نامعلوم ٹارگٹ کلر” لکھنا چھوڑ کر ان کی “معلوم سیاسی تنظیم ” کا نام لکھ سکیں ؟محمد حنیف جیسے دانشوروں کو عالمی خبر رساں ایجنسی روئٹرز جیسے اداروں کی ان کو بھی مد نظر رکھنا چاہئے کہ، ” جنرل رضوان اختر خوفناک حد تک راست گو اور دو ٹوک انسان ہیں۔ وہ کراچی میں اپنے فرائض سرانجام دیتے ہوئے وہاں کی سیاست اور میدان میں لڑی جانے والی جنگ کے باوجود ہمیشہ غیر جانبدار اور غیر سیاسی رہے ہیں ” ۔ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ آئی ایس آئی کی “اصلیت” جاننے کا دعوی کرنے والے امریکیوں کی ” اصلیت ” یہ ہے کہ ساٹھ فیصد امریکیوں کا باپ ان کی ماں کا قانونی شوہر ہی نہیں ہوتا اور وہ مرتے دم تک اپنے باپ کے نام اور شناخت ہی سے لاعلم رہتے ہیں۔ جناب حنیف صاحب امن کی آشا مافیہ کی بغل بچگی میں آئی ایس آئی کے چاند پر تھوکنے اور پاکستانی معاشرت و سیاست پر اول فول لکھنے کی نجائے اس اپنے بی بی سی کے دیس کے غلاظت آلودہ معاشرے کی اخلاقی اصلاح کیلئے لکھیں جہاں امریکہ کی طرح تیس فیصد سے زائد آبادی غیر قانونی تخم خرام اور دس فیصد نوجوان لڑکیاں اپنے ہی فیملی ممبرز کے جنسی تعلقات سے حاملہ ٹھہرتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ جنگ گروپ اور بی بی سی کے نام نہاد دانشور محمد حنیف جیسے حضرات  پر لازم ہے کہ وہ افواج پاکستان اور آئی ایس آئی کے راز و نیاز جاننے کیلئے وقت ضائع کرنے کی بجائے اپنے سرپرست مغرب اور سامراج کے ان حکام کیلئے کسی انوسٹیگیشن کی سعی کریں جو اپنے اصل باپ کی شناخت ہی سے واقف نہیں مگر پاکستان کے حساس اداروں پر مافوق العقل تنقید سے خود کو باخبر ثابت کرنے کی مسخرانہ کوششوں میں مصروف ہیں ۔۔۔ نام نہاد صحافیوں کو خیال رہے کہ  آئی ایس آئی صرف جنرل رضوان اختر کا نہیں بلکہ ایک  ایسی نظم، ایک قومی  ادارے اور ایک جذبہء حب الوطنی کا نام  ہے ، جس کا  ہر اہلکار اور ہر افسر، پاکستانی قوم کیلئے جنرل حمید گل، جنرل ظہیر الاسلام اور جنرل رضوان اختر جیسے تمام اکابرین آئی ایس آئی جیسا معتبر و محترم ہے ۔ ۔

( فاروق درویش ۔۔ ۔واٹس ایپ ۔۔ 03224061000 )

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: