بین الاقوامی تاریخِ عالم و اسلام حالات حاضرہ

آدم خور نظام سیاست اور حرمین شریفین کی پاسبانی


انیسویں صدی تک مغرب کی ہر سازش سے  باخبر مسلمانوں کی ملی غیرت خوابیدہ  نہ تھی۔ وہ  ملت کیخلاف  مغربی فتنہ  گروں کی سازشوں سے کلی واقف  تھے۔ پہلی جنگ عظیم اور خلافت عثمانیہ کے خاتمے میں برطانوی جاسوس لارنس آف عریبیہ جیسے کرداروں کے راز عیاں ہونے پر عوام، مغرب کے بہروپیوں کو بجا طور پر  مغربی استعمار کا  قاتل و جاسوس گردانتے تھے ۔ لہذا تب ایسے عناصر اپنی کاروائیاں اور خباثت عیاں ہونے پر فوری قتل کر دیے جاتے تھے۔ لیکن پھر یہی مسلم عوام کہیں عیسائی مبلغین اور کبھی کاروباری افراد کے بہروپ میں چھپے جاسوسوں کو برداشت کرنے پر اس وقت مجبور ہوئے جب مغرب  نے  مسلم ریاستوں سے معاہدوں کے ذریعے کاروباری امتیازات حاصل کیے۔ مسلم امن پسندی اور رواداری کی اس سے بڑھ کر دلیل کیا ہو گی کہ عیسائی اپنی مذہبی شناخت چھپا کر یہودی تاجروں کے بھیس میں جاسوسی کرتے تھے۔ لیکن تاوتکہ سنگینیء حالات دوسرے مذاہب کیلئے امن اور سلامتی کا درس دینے والے رحمت العالمین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکاروں نے ان ” نقلی یہودی ” جاسوسوں سے بھی کبھی بوجہ مذہب نفرت آمیز سلوک نہیں کیا ۔ لیکن جب 1916ء میں یہودی  بہروپ میں مشہور فرانسیسی عیسائی مبلغ چارلس دی فوکو تیونس اور دوسرے مسلم علاقوں میں  فوجی تنصیبات کی جاسوسی کرتا ہوا پکڑا گیا۔ تو  ایک غیرت مند مسلمان نے اس ملعون کے سر میں گولی مارکر خاتمہ کر دیا۔ عیسائیوں کی طرف سے مکارانہ سرگرمی عیاں ہونے کے بعد مسلمان صلیبی بہروپیوں کے بارے انتہائی محتاط ہو گئے ۔

افسوس کہ ہمارے ہاں ریمنڈ ڈیوس جیسے کرداروں کے بارے حقائق افشا ہونے پر بھی ریاست اور عوام کو یہ عریاں حقائق اجاگر کرنے کی ضرورت  رہتی ہے کہ سفارت کاری اور این جی اوز  میں چھپے  صلیبی آلہ کار دراصل ریاست کی سلامتی  اور آزادی ہی کے نہیں بلکہ دین و ناموس محمدی کے بھی دشمن ہیں۔ ہم اپنی ازلی دشمن بھارت کے علاوہ اپنے مسلم ہمسایہ ممالک کی پاکستان دشمن سرگرمیوں کے بارے جانتے ہوئے بھی ان کے بارے نہ تو عالمی سطح پر بھرپور آواز اٹھاتے ہیں اور نہ ہی کوئی سدباب کرتے ہیں۔ نتیجاً ایران اور افغانستان سے ہماری سلامتی کیخلاف سرگرم دہشت گروں اور بلوچ باغیوں کو مبینہ امداد کا سلسلہ جاری ہے۔ ہم اپنے ارد گرد موجود صلیبی آلہ کاروں اور سیاسی منظر پر موجود کئی ایسے دو چہرہ کرداروں کی اصلیت سے ناواقف ہیں جو بظاہر مذہبی سکالر، صحافی یا خدائی خدمت گار ہیں،  مگر درپردہ ہماری ملکی سلامتی اور آزادی کیلئے سنگین خطرات کی حامل مغربی سازشوں کے اداکار ہیں۔ اس حوالے سے مغربی سرحدوں پر فعال  عناصر کی سرگرمیوں اور مشکوک  این جی اوز کے حوالے سے جنرل راحیل شریف کا حالیہ مظبوط بیان اور آئی ایس آئی کی طرف سے کڑی تحقیقات کا آغاز انتہائی خوش آئیند ہے ۔

 امریکہ ، مغرب اور انکے اتحادی ہنود و  یہود نے ہم پر جو جنگ مسلط کر رکھی ہے،  ہم اس میں اپنے فوجی جوانوں اور شہریوں کی ساٹھ ہزار شہادتوں کی بے مثال قربانی پیش کرنے کے بعد بھی کلی سرخرو نہیں ہو پائے ۔ لیکن ہمارے سیاستدان ،  دانشور، صاحبان علم  و حکمت اور میڈیا مسخرے، ” سب سے پہلے پاکستان” کی گردان میں  ”سب سے پہلے ہم اور ہمارے بینک اکاؤنٹ ” کا کاروبار کررہے ہیں۔ سامراجی جنگ کے دوران دنیا نے یہ تماشہء غیرت بھی دیکھا کہ غوری و غزنوی کے غریب الحال بیٹوں اور نظریاتی وارثوں نے سنگلاخ و سرسبز کوہساروں کی سرزمین میں اپنے آبا و اجداد اور اکابرین ملت کی لاج رکھی۔ تمام تر طاقت و حشمت کے باوجود صہیونی گماشتین رسوا و نامراد رہے ۔ اس جنگ میں ناکامی کے بعد امریکی اور مغربی استعمار ہوس خونخواری میں اب خطہء عرب میں سرگرم ہو کر لہو کے بیج بو رہا ہے۔

 آدم خور سیاست کے عالمی بدمعاشوں کی طرف سے خطے کے کنٹرول کیلئے جہدِ مسلسل کے پس پردہ اسباب جاننے کیلئے ہمیں ماضی کے طاقتور حکمرانوں کی روحِ سیاست کا جائزہ لینا ہو گا۔ چنگیز خان نے افغانوں کو اپنی طاقت کیلئے عظیم خطرہ سمجھتے ہوئے غوریوں کو شکست دیکر افغانستان پر قبضہ کیا تو مزاحمت  کرنے والی ہر قوت کو تیر و تاراج کر کے رکھ دیا۔ یہ بڑی عجب مگر قابل فہم بات ہے کہ سفاک درندوں جیسا آدم خوری  کردار رکھنے والا چنگیز  ان  مذاہب اور قوتوں کے بارے قدرے رحم دل ثابت ہوا  جو اس کی طویل العمری اور کامیابیوں کیلئے دعا گو رہے۔  اُس نے چین سے تاؤمت کے ایک نامور طبیب و عالم کو بڑے اعزاز کے ساتھ صرف اس لئے افغانستان بلایا کہ  وہ اس کی طویل عمری کیلئے مذہبی تقریبات کا اہتمام اور دائمی صحت کیلئے کیمیائے ابدیت تیار کرے۔ چونکہ بدھ مت اور چین کے دوسرے مذاہب نے  چنگیز اور ہلاکو کے تخت و تاج کو کوئی چیلنج نہیں دیا ، لہذا وہ ان کی کمزوری کے باوجود ان پر حملہ آور نہیں ہوا۔ ممکن تھا کہ اگر بغداد کے  ایرانی امراء اور ایرانی النسل وزیر العلقمی ، ہلاکو کو یہ باور کرا دعوت نہ دیتے کہ خلافت اس کی بالا دستی کیلئے خطرہ  ہے تو شاید وہ بغداد کو تیر و تاراج کرنے کیلئے ایسی ہولناک لشکر کشی نہ کرتا۔  اقتدار کے حصول و دوام کے اس خونخوار و آدم خور اندازِ سیاست کا بانی چنگیز نہیں تھا بلکہ یہ طریقِ سیاست قدیم مصری، رومی اور یونانی دور میں بھی کسی نہ کسی شکل میں  رائج رہا۔  ان تاریخی شواہد سے میرے اس موقف کی تائید ہوتی ہے کہ سیاست اور حکمرانی کی دوڑ میں  مذہب و مسلک اور عوامی حقوق  کوئی معنی نہیں رکھتیں، بلکہ یہاں نظریات کا پرچار اور تمام سعی صرف تخت و تاج کے  کیلئے ہوتی ہے۔ اقتدار اور حشمت شاہی بچانے کی اسی  جدوجہد میں  حکمران اور عالمی قوتیں ، آدم خور چنگیزی سیاست  پر مجبور ہوتی ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ امریکہ خطہء عرب و ایشیا میں کسی بھی اسلامی بلاک کو اپنی چوہدراہٹ کیلئے خطرہ سمجھتا ہے۔ لہذا اسے روکنے کیلئے ایران کے ذریعے اتحاد ملت کو پارہ پارہ کرنے کی سازش جاری ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مغرب جب بھی مشرق پر حملہ آور ہوا اس نے اس خطے میں  کسی نہ کسی غدار ریاست و حاکم کے ضمیر کا سودا ضرور کیا۔ احباب یہ میرا ذاتی موقف نہیں بلکہ تاریخ  سے ثابت ہے کہ  عالم اسلام میں وارد ہونے والے اکثر و بیشتر فتنے ایران ہی سے اٹھے۔ مثال کے طور پر اسلامی ریاستوں میں فتنہ پھیلانے والا بدبخت حسن بن صباح بھی ایران سے تعلق رکھتا تھا اور ایرانی  آشیرباد ہی سے تمام ہمسایہ مسلم ریاستوں کیخلاف دہشت گردی میں ملوث رہا۔  ہلاکو خان کو بغداد پر حملہ کی دعوت دینے والا عباسی وزیر ابو العقمی بھی ایران ہی سے تعلق رکھنے والا ایرانی آلہ کار  تھا۔ برصغیر کے بدنام زمانہ غدار میر جعفر اور میر صادق بھی  ایران  سے آئے تھے۔ اسی طرح پاکستان کے دو بدترین غدار اسکندر مرزا اور جنرل یحیی خان بھی ایرانی  ہی تھے۔

 میرے اس موقف کو کسی شیعہ سنی اختلاف یا مذہبی منافرت کے تناظر میں ہرگز نہ دیکھا جائے ،امت کےغداروں میں شعیہ اور سنی العقیدہ دونوں ہی شامل رہے ہیں ،  کسی غدار کا کوئی مذہب و مسلک نہیں ہوتا ۔ میں اتحاد بین المسلمین کا داعی اور فتنہء قادیانیت جیسے کفر کیخلاف  پرامن قلمی سپاہی ہوں۔ میں ” حسین سب کے حسین  اور علی ہیں سب کے علی ” کی سوچ کا علمبردار ہوں لیکن انتہائی تکلیف دہ امر ہے کہ کچھ متعصب شعیہ حضرات ایرانی مہم جوئیوں سے اختلافات رکھنے پر کچھ اس طرح کے پیغامات  بھیجتے ہیں کہ ”  تہمارا نام ہی پلید اور فتنوں والا ہے”۔ ایسے حضرات کو میرا مختصرجواب یہ ہے کہ مجھے فخر ہے کہ اس فقیر کا  نام اس عظیم المرتبت ہستی،  فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے نام پر ہے جو مرادِ مصطفٰے تھا اور تا قیامت اسی  نبیء آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں آرام فرما ہے۔

ہمارے لئے ایران کا شیعہ ریاست ہونا قابل اعتراض ہرگز نہیں،  بلکہ ایران کی ہر مہم جوئی از خود یہ ثابت کر رہی ہے کہ وہ دوسرے مسلم ممالک کی سلامتی کو پس پشت ڈال کر کسی بھی قیمت پر خطے میں چوہدراہٹ اور ” ڈکٹیٹر ریاست ” بننے کیلئے  کوشاں ایسا ملک ہے جو مسلک کو نظریاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے منافرت کے فروغ کا باعث اور امن و اتحاد ملت کیلئے زہر قاتل بن رہا ہے۔  یاد رہے کہ ایبٹ آباد پرامریکی حملہ کے بعد ایران بھی پاکستان کو یہ دھمکی دے چکا ہے کہ وہ شدت پسندوں کیخلاف پاکستان کے اندر بھی فوجی کاروائی کرنے کا حق اور صلاحیت رکھتا ہے۔ جس کے بعد اس نے  پاکستانی علاقہ کے اندر فوجی چوکی پر حملہ کر کے چار اہلکار شہید بھی کئے ہیں۔ لیکن حکومت اور افواجِ پاکستان نے ملت اسلامیہ کے وسیع تر مفاد میں انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جوابی فوجی کاروائی سے گریز کیا ہے ۔

افسوس کہ امریکہ اور مغربی  طاقتوں کے باطنی حواری ایران نے ان  طاقتوں کے ساتھ  ایٹمی سمجھوتہ ہوتے ہی سعودیہ پر حملے اور بمباری کی دھمکی دیکر دراصل براہِ راست حرمین شریفین پر ناقابل فہم و گمان حملے کا مذموم اعلان کیا ہے۔ ایرانی افواج کے سربراہ علی رضا بوردستان کے مطابق یمن میں سعودی حملے بند نہ ہوئے تو ایرانی طیارے سعودیہ پر بمباری کریں گے۔  منافقت و دو رنگی ہے کہ ایران ایک طرف تو یہ دعوی کرتا ہے کہ حوثی قبائل  سے اس کا کوئی تعلق نہیں جبکہ دوسری طرف انہیں حوثیوں کیلئے اس کا سلگنا اور تڑپنا کسی ہجر رسیدہ جنونی عاشق جیسا ہے۔ ذرا سوچئے کہ وہ کن سپر طاقتوں کی آشیرباد ہے کہ وہ ایران کہ جو شام میں جاری عوامی بغاوت کچلنے کیلئے بشار لاسد کی ہر آدم خور کاروائی کا حلیف بن کر شامی عوام پر کیمیائی بموں سے وحشیانہ بمباری کرنے کے ساتھ ساتھ لیبیا ، لبنان اور عراق میں بھی ظالمانہ فوجی مداخلت جاری رکھے ہوئے ہے۔  وہ کن اسلام دشمن طاقتوں کی آشیرباد و  ایما پر اب سعودیہ کیخلاف بھی ایک نیا محاذ کھولنے کی صلاحیت سے مالامال ہو سکتا ہے؟

ہائے ہائے امریکہ اور اسرائیل مردہ باد کے ظاہری نعرے لگانے والے استعماری کٹھ پتلی عراق و شام میں فتنہ گری کے بعد اب حرمین شریفین کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی صیہونی سازش کا مرکزی کردار بن رہے  ہیں۔ بھارت کے ساتھ بلوچ باغیوں کو اسلحہ اور  امداد دینے والا ایران اگر خطے کا سامراجی برانڈ چوہدری بننے کی آرزوئے فتن میں کسی صیہونی  سازش کا حصہ بنکر قلوب مسلماں حرمین شریفین پر حملہ آور ہوا تو پوری ملت اسلامیہ کیلئے اس کا یہ مذموم فعل ابرہہ جیسا قابل صد مذمت اور بحر صورت ناقابل برداشت ہو گا۔ پاکستان عالمی امن اور اتحاد ملت کیلئے ہمہ وقت کوشاں ہے۔ پاکستانی قوم ، حکومت اور افواج پاکستان دو برادر مسلم ممالک میں خونخوار جنگ و جدل نہیں بلکہ اخوت  اور پائیدار امن کے خواہاں ہیں۔ لیکن خیال رہے کہ ایران کی طرف سے سعودی عرب پر حملہ اوربمباری  براہ راست حرمین شریفین پر  پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اور کعبۃ اللہ پر حملہ آوروں کے سروں پر اب آسمان سے ابابیلیں نہیں، بلکہ  پاکستان  اور ترکی کے شاہین ابدی موت بن کر پرواز کریں گے۔  ماضی میں کعبۃ اللہ پر قابض ہونے والے ابلیسانِ یہود کیخلاف افواج پاکستان کی مجاہدانہ کارکردگی اور گذشتہ عرب اسرائیل جنگوں میں اسرائیلی فضایئہ کیخلاف پاکستانی فضائیہ کے شاہینوں کا “جھپٹنا پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا” ان بدبخت یہودیوں کو ابھی تک یاد ہے، لہذا ماڈرن ابرہہ بننے کے خواہاں ، آدم خور نظام سیاست کے مہرے ایران کو بھی یاد رکھنا چاہئے۔۔۔۔۔ شاید یہی وہ وقت ہے جس کیلئے شاعر مشرق نے امت مسلمہ کو ایک صدی پہلے ہی ” ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے ” کا پیغام دیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔

  حسین سب کے حسین اور علی ہیں سب کے علی
ہیں جاں سے پیارے وہ درویش چاروں یار ہمیں

 ( فاروق درویش — 03224061000 )

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: