بین الاقوامی تہذیبِ مشرق و مغرب حالات حاضرہ

انصارعباسی تجھے ملک و ملت کا سلام


مجھ  فقیر سمیت  کئی  لکھاریوں  نے صلبی برانڈ ملالہ ڈرامے  پر ایسا بہت کچھ لکھا ہے جسے گذرتا ہوا وقت بدتریج سچ ثابت کر رہا ہے.لیکن اوریا مقبول جان اور انصار عباسی صاحب نے اس ڈرامہء صد فتن کے ایسے باکمال پوسٹ مارٹم کیے ہیں کہ صفِ دہر و قادیان میں کہرام برپا ہے۔  ملالہ ڈرامے یا دوسری اسلام دشمن سازشوں کے حوالے سے اوریا مقبول جان اور انصار عباسی کے صحافتی کارناموں پرانہیں میدان صحافت کا خالد بن ولید اور صلاح الدین ایویی کہنا غلط نہ ہو گا۔ یہاں میں روزنامہ جنگ میں چھپنے والے جناب انصار عباسی  کے کالم ” کیا یہ وہی ملالہ ہے” کے کچھ اقتسابات کے حوالے سے زندہ و عیاں حقائق پر اپنا تفصیلی موقف پیش کر رہا ہوں۔

 انصار عباسی صاحب لکھتے ہیں کہ، ملالہ کی کتاب ” آئی ایم ملالہ‘‘ پڑھ کر دکھ ہوا ۔ سولہ سالہ بچی پہلے طالبان کے ظلم کا شکار ہوئی اب ایسے لوگوں کے ہاتھوں چڑھ گئی جو اُسے اسلام اور پاکستان کے خلاف استعمال کر نا چاہتے ہیں۔ ایک بچی جس پر پہلے ہی ایک قاتلانہ حملہ ہو چکا اور اللہ تعالیٰ نے ایک معجزہ سے اُس کو نئی زندگی بخشی، اب اسے ایسے معاملات میں گھسیٹا جا رہا ہے جو دنیا بھرکے مسلمانوں کے لیے انتہائی حساس نوعیت رکھتے ہیں اور جس کی وجہ سے اُس کی زندگی کوپہلے سے موجود خطرات میں بیش بہا اضافہ ہو جائے گا۔

مجھے جناب انصار عباسی صاحب کی صرف ان چند ابتدائی سطورسے اختلاف ہے کہ یہ سولہ سالہ بچی طالبان کے ظلم کا شکار ہوئی، ممکن ہے کہ انہوں نے یہ سطور طنزاً یا کسی صحافتی مجبوری کے تحت لکھی ہوں۔ قابل توجہ ہے کہ ملالہ اپنی کتاب میں لکھتی ہے کہ ” اسے حملے کے بارے میں کچھ زیادہ یاد نہیں ہے۔ بس اتنا یاد ہے کہ نو اکتوبر 2012 کو وہ اپنی سہیلییوں کے ساتھ گاڑی میں بیٹھی تھیں۔ ان کی سہیلیوں نے انھیں بتایا کہ ایک نقاب پوش پستول بردار شخص نے گاڑی Ansar-Abbasiمیں داخل ہو کر پوچھا، ’ملالہ کون ہے؟‘ اور پھر ان کے سر کا نشانہ لے کر گولی چلا دی” ۔۔۔ یہ عام سی بات ہے کہ طالبان ہوں یا کوئی اور تنظیمی لوگ ایسے اہم مشن سے پہلے مکمل ہوم ورک کرتے ہیں، ہرممکنہ مذاحمت اور ہر پہلو کا بغورجائزہ لیا جاتا ہے۔ منصوبے پر عمل درامد کیلئے ایک بہترین دستیاب شخص کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ مشن کیلئے منتخب کردہ شخص کو ٹارگٹ کی مکمل شناخت اور پہچان کرائی جاتی ہے۔ کئی کئی دن ٹارگٹ کی ریکنگ ہوتی ہے۔ مشن کی کامیابی کیلئے مناسب ترین وقت اورجگہ کا انتخاب کیا جاتا ہے۔سو میں ملالہ اور اس کے اعلی تعلیم یافتہ عاشقین سے سوال کرتا ہوں کہ جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس سامراجی و مغربی فوجوں کو لوہے کے چنے چبوانے والے ذہین جنگجو طالبان کیا اتنے ہی احمق اور اناڑی تھے کہ انہوں نے ملالہ جیسے اہم ٹارگٹ کی شناخت کرائے بغیر ہی ایک ایسے اناڑی شخص کو ملالہ کے قتل کیلئے بھیج دیا جو اسے پہچانتا ہی نہیں تھا؟ یاد رہے کہ سوات کے لوگ ملالہ کو بہت اچھی طرح جانتے اور پہچانتے تھے۔اور سوات میں طالبان کے لاتعداد کارکنان بھی موجود تھے۔ تو کیا طالبان اتنے ہی بیوقوف تھے کہ انہوں نے ایک انتہائی اہم ٹارگٹ ملالہ کو گولی مارنے کیلئے ایک ایسے غیر مقامی شخص کو بھیجا جو ملالہ کی شناخت ہی نہ رکھتا تھا؟ گوریلا جنگ کیلئے پوری طرح تربیت یافتہ مانے جانے والےطالبان کا وہ مجاہد کیا اتنا ہی اناڑی نشانچی تھا کہ وہ اتنے قریب سے بھی ملالہ جی کی کھوپڑی بھی نہ اڑا سکا؟ اور اگرہاتھی کا بھیجا اڑا دینے والے آٹھ ایم ایم کی ایک گولی سے ملالہ ٹھنڈی نہیں ہوئی تو کیا اس کی بندوق میں اور گولیاں نہیں تھیں۔ افسوس کہ یہ سب باتیں پہلی جماعت کا طالب علم یا تاریک خیال بنیاد پرست تو سمجھ سکتا ہے لیکن روشن خیال  ملالیوں کی سمجھ سے باہر ہیں۔

جناب انصار عباسی صاحب نے کیا خوب لکھا کہ ۔۔۔۔۔۔۔ کتاب پڑھ کر مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ بےچاری ملالہ استعمال ہو گئی۔ ورنہ ایک کتاب جس میں ایک بچی کی اپنی زندگی، اُس کی تعلیم کے حصول کے لیے جدوجہد اور قاتلانہ حملہ کی کہانی ہونی چاہیے تھی اُس میں ملعون سلمان رشدی کی کتاب ” دی سٹینک ورسز ” کے حوالے سے آزادی رائے کے حق میں بات کرنا، اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے قانون کے نفاذ پر اعتراض اُٹھانا، ناموس رسالت کے قانون کو پاکستان میں سخت کیے جانے کی بات کرنا، قادیانیوں اور مسیحی برادری پر پاکستان میں حملوں اور یہ کہنا کہ احمدی (قادیانی) اپنے آپ کو تو مسلمان کہتے ہیں جبکہ ہماری حکومت اُن کو غیر مسلم سمجھتی ہے ایسے موضوعات تھے جو مسلمانوں اور اسلام مخالف قوتوں کے درمیان تناؤ کا باعث بنتے ہیں۔ یہ معاملات ایک سولہ سالہ بچی کی سمجھ سے بہت بڑے ہیں مگر ملالہ کا نام استعمال کر کے ان معاملات کو اس انداز میں اُٹھایا گیا جو عمومی طور پر مسلمانوں کو دکھ پہنچاتے ہیں۔

یہ حقیقت تو انصار عباسی صاحب سمیت ہر اہل نظر جانتا ہے کہ نہ تو ملالہ کی بی بی سی برانڈ ڈائری خود ملالہ لکھتی تھی اور نہ ہی دجالی خیالات پر مبنی یہ کتاب اس کی اپنی لکھی ہوئی ہے۔ انصار عباسی صاحب کے ادارے جنگ سے ہی منسلک ایک اور صاحب ایمان صحافی ارشاد احمد عارف صاحب نے درست لکھا ہے کہ ’’ آئی ایم ملالہ‘‘سٹوری تو ملالہ کی ہے مگر لکھی برطانوی صحافی کرسٹینا لیمب نے ہے، یہ وہی محترمہ ہیں جسے پاکستان سے اس بناء پر نکالا گیا کہ اوبی لادن کے نام سے جعلی ٹکٹ کٹوا کر پی آئی اے پر سفر کرنا چاہتی تھیں تاکہ پوری دنیا کو یہ بتا سکیں کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں مقیم اور آزادانہ سفر کرتے ہیں۔ ملالہ، اس کے فنکار والد اور دیگر سرپرستوں نے کتاب اس صحافی خاتون سے لکھوانا کیوں پسند کی؟ یہ کوئی سربستہ راز نہیں، ایسی کتاب صرف کرسٹینا لیمب ہی لکھ سکتی تھی جس میں ملالہ کے والد پاکستان کا جشن آزادی ’’بازوئوں پر سیاہ ماتمی پٹیاں باندھ کر مناتے نظر آتے ہیں، پاک فوج اور آئی ایس آئی طالبان کی ہمدرد اور مددگار فورس ثابت کی گئی، جنرل پرویز مشرف کی تعریف و توصیف اور ملائوں پر جا بجا تنقید میں توازن نظر نہیں آتا اور پاکستان کو ایک ایسی ریاست نے طور پر پیش کیا گیا ہے جہاں عورت سانس لے سکتی ہے نہ گھر سے باہر نکل کر تعلیم، ملازمت اور کاروبار کے قابل رہتی ہے “۔ میرے مطابق مغرب کی لاڈلی معصوم ملالہ نے مغرب کے ایک اور لاڈلے ملعون سلمان رشدی لعنت اللہ علیہ کی شیطانی کتاب کا حوالہ دیکر آزادیء رائے کی بات کر کے مسلمانوں کے دلوں میں پلنے میں شکوک و شبہات کو یقین میں بدل دیا ہے۔ مغرب کی باندی ملالہ میں اب سوات کی ملالہ نہیں بلکہ سلمان رشدی، پادری ٹیری جونز اور ان کا ہر عاشق بولتا ہے۔ ملالہ نے از خود ثابت کر دیا ہے کہ اس کی روح میں مرزا غلام احمق قادیانی اور راج پال جیسی تمام شاتمینِ قرآن و رسالت بدروحیں حلوت کر چکی ہیں۔ دل سے کلمہ پڑھنے والے عاشقین نبیء آخرالزماں (ص) اور محبان پاکستان پرملالہ کی حقیقت اس وقت ہی عیاں ہو گئی تھی جب اس نے ایک بدترین اسلام دشمن مرتد باراک حسین اوبامہ اور نظریہ ء پاکستان و قائد اعظم کے پلید ترین حریف سرحدی گاندھی باچا خان جیسے ابلیسوں کو اپنا آئیڈیل اور ہیرو قرار دیا تھا۔ سو اگر توہین قرآن و رسالت کے قوانین پردجالی اعتراضات اوبامہ اینڈ کمپنی اور شاتمین اسلام قادیانی زندیقوں، الطافیوں اور باچا خانیوں کو ہیں تو ملالہ جی کا بھی ان شریعی قوانین پر ابلیسانہ اعتراضات کرنا فطری بات ہے۔ ملالہ بھی اپنے آئیڈیل اوبامہ اور اس کے بغل بچوں کی طرح یہی چاہتی ہے کہ کسی بھی عیسائی، قادیانی یا دہریے کو توہین قرآن و رسالت کی مکمل آزادی ہو کہ اس کے اور اس کے مغربی آقاؤں کے مطابق یہی اصل آزادیء رائے ہے۔ ملالہ کی طرف سے سلمان رشدی جیسے ملعون کا حوالہ دینا ثابت کر رہا ہے کہ اس کا اسلام اور پاکستان سے دور کا بھی واسطہ نہیں بلکہ وہ ایک ایسی صلیبی رکھیل ہے جسے امریکہ اور مغرب کی یہودی لابی اپنی بغل بچہ تنظیموں، فتنہء قادیانیت اور فتنہء الطاف و مشرف جیسے ہراسلام دشمن  کے ذریعے پروموٹ کر رہی ہے۔

malala2A انصار عباسی صاحب نے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے ذاتی طور پر کتاب پڑھ کر جس بات کا بہت دکھ ہوا کہ بار ہا ملالہ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ دیا مگر ایک مرتبہ بھی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں لکھا۔ میں نے تو غیر مسلموں  تک کو  نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے ساتھ۔” مے پیس بی اپون ھم ”  لکھتے دیکھا ہے مگر ملالہ کے نام پر جو کیا گیا وہ نہ صرف کسی مسلمان کے شایان شان نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات کے برخلاف ہے جن کے مطابق ہر مسلمان کے لیے آپ کا ذکر آنے پر صلی اللہ علیہ وسلم نہ کہنے پر سخت وعید ہے۔ میرے لیے تو یہ بات بھی ناقابل یقین ہے کہ سوات جیسے علاقہ سے تعلق رکھنے والی ایک بچی جو خود سر پر چادر لیے بغیر باہر نہ نکلتی ہو وہ اس بات پر احتجاج کرے گی کہ جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور میں لڑکیوں کو ہاکی کھیلتے وقت نیکر پہننے سے کیوں روکا گیا اور انہیں پاجامہ پہننے پر کیوں مجبور کیا گیا۔ ملالہ کے نام سے کتاب میں یہ بھی لکھ دیا گیا کہ پاکستان ہندوستان سے تینوں جنگیں ہارا۔

  ہر مسلمان اور ہر سچا پاکستانی جناب انصار عباسی صاحب کے اعتراضات سے کلی متفق ہے۔ ہم مسلمان ملعون سلمان رشدی برانڈ شاتمانہ سوچ رکھنی والے اس دجالی کردار سے کیسے یہ امید رکھ سکتے ہیں کہ وہ ہمارے آقائے نامدار محمد مصطفے کے نام گرامی کے ساتھ صلی اللہ علیہ وسلم لکھے جسے پادری ٹیری جونز اور مرزا غلام احمق قادیانی کے یہودی ومغربی آقاؤں نے نام نہاد تعلیمی مشن کے پردے میں اسلام اور پاکستانیت کی تذلیل و تطہیرکا مشن سونپا ہو۔ بلاشبہ یہ زبان چادر اوڑھنے والی معصوم ملالہ کی نہیں بلکہ ان قوتوں کی ہے جو کراچی کے ساحلوں پر امریکہ جیسی نیم عریاں خواتین اور پاکستان کے ہر کونے میں مغربی تہذیب کے نمائیندہ قحبہ خانے اور شراب خانے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ملالہ کا محبوب وہ بھارت ماتا کیوں نہ جو اس کے آئیڈیل باچا خان کا بھی محبوب تھا۔ ملالہ اس بھارت کی زبان کیوں نہ بولے جس بھارت میں ملالہ کے عزیز فتنہء قادیانیت کا کفر گڑھ قادیان اورکائنات کے بدترین شاتم قرآن و رسالت مرزا غلام احمق کی قبر نما ارتھی ہے۔ ملالہ افواج پاکستان کے بارے ہرزہ سرائی کیوں نہ کرے کہ اس کا ہر دجالی نظریہ بال ٹھاکری نظریات سے ہی ماخوذ ہے۔ ملالہ تو بار بار ثابت کر رہی ہے کہ بظاہر تو وہ لارنس آف عریبیہ اور مرزا غلام احمق کی طرح مسلمان ہی نظر آتی ہے لیکن اس فیک مسلمہ کے اندر بال ٹھاکرے، ٹیری جونز، اوبامہ اور سلمان رشدی جیسے سب ابلیسیوں کی بدروحیں حلوت کر چکی ہیں۔ اس کتاب کی زبان اور الفاظ بتا رہے ہیں کہ یہ کتاب ایک سولہ سالہ معصوم بچی کی نہیں ، دراصل کرسٹینا لیمب، سلمان رشدی یا اس جیسے کسی ملعون کردار کی لکھی ہوئی ہے۔

 انصار عباسی صاحب کہتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔ ۔ملالہ کا جنرل مشرف کی روشن خیالی کے حق میں بات کرنا اورجنرل ضیاء مرحوم کو اُن کی اسلامائزیشن کی پالیسیوں کی وجہ سے اس حد تک جانا کہ ضیاء مرحوم کی شکل کا مذاق اڑایا جائے کوئی اچھی بات نہیں۔ کتاب میں ملالہ پر اُس کے والد ضیاء الدین یوسفزئی چھائے ہوے نظر آئے۔اس کو پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ ضیاء الدین کوئی بہت بڑا ہیرو ہے جس کے لیے یہ کتاب لکھی گئی۔ ملالہ کے ہر دوسرے جملہ میں اُس کے والد کا حوالہ اور اُن کے خیالات کا اظہار ہے اور اسی وجہ سے ملعون سلمان رشدی جیسا معاملہ کتاب کا حصہ بنا۔ اس ملعون نے ہمارے پیارے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور امہات المومنین کے متعلق توہین آمیز کتاب لکھی۔ ملالہ کہتی ہے کہ اُس کے والد اس کتا ب کو اسلام مخالف سمجھتے ہیں مگر وہ آزادی رائے کے حق پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔ ملالہ کو شاید یہ خبر بھی نہ ہو کہ جو اس نے لکھا یہی تو اسلامی دنیا کا مغرب سے جھگڑا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ ہماری مقدس مذہبی شخصیات اور عقائد کا مذاق نہ اڑایا جائے اور نہ ہی اُن کی توہین کی جائے مگر مغرب وہی بات کرتاجو ملالہ نے اپنی کتاب میں کی۔ ہم تو لعنت بھیجتے ہیں ایسی آزادی رائے پر۔

سامراج و مغرب کی لاڈلی معصوم ملالہ عریانی و فحاشی کو پروموٹ کرنے والے دیسی اتا ترک پرویز مشرف کی روشن خیالی کی حامی اس لئے ہے کہ وہ پاکستان میں اپنے آقا امریکہ اور مغرب جیسی فحاشی و عریانیت اور سیکولر نظریات کا علمبردار تھا۔ ملالہ کو مشرف اور اس کی سوچ کیوں نہ عزیز ہو کہ وہ پاکستان میں سلمان رشدی برانڈ سیکولر طبقے، فتنہء قادیانیت کے دجالی منشور اورسامراج کے ابلیسی عزائم و مفادات کا محافظ تھا۔ ملالہ کو ضیا الحق سے کیوں نہ نفرت ہو کہ ضیا نے آئین میں فیصلہ کن ترامیم کے ذریعے قادیانی زندیقوں کی دجالی تبلیغ کا سلسلہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے روک دیا تھا۔ ملالہ کو ضیا الحق سے کدورت کیوں نہ ہو کہ اس نے ملالہ کے محبوب بھارت اور روسی آقاؤں کو عالمی فورم پر سفارتی اورافغانستان میں جنگی محاذ پر عبرت ناک شکستوں سے دوچار کیا ۔ میرے مطابق اس معصوم بچی  کےغدار ملت والد کی مثال بازار حسن کے اس دلال باپ سی ہے جسے بحر صورت اچھے معاوضے کی فکر و انتظار رہتا ہے۔ ایسےغیرت باپ کیلئے یہ بات کوئی معنی نہیں رکھتی کہ اس کی بیٹی کا گاہک امریکی ہے، برطانوی ہے قادیانی ہے یا سلمان رشدی کا سیکولر عاشق، اسے صرف پیسے سے غرض ہوتی ہے۔ اور یہاں تو خیر سے  پیسے بھی ڈالروں اور پاؤنڈوں کی شکل میں مل رہے ہیں۔ ولائتی آقاؤں نے اسے بھی قادیانی خلیفہ مزرا مسرور اینڈ کمپنی، الطاف حسین اور اپنے دوسرے اسلام دشمن بغل بچوں کی طرح لندن کی پر آسائش مخملی گود میں لیکر بیش بہا انعام و اکرام سے نوازا ہے۔

جناب انصار عباسی صاحب نے سب سے اہم اور فیصلہ کن سوال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔ قادیانیوں کے بارے میں یہ لکھنا کیوں ضروری سمجھا گیا کہ احمدی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں جبکہ ہماری حکومت کہتی ہے کہ وہ غیر مسلم ہیں۔ یہ کنفیوژن پیدا کرنے کی کیا ضرورت تھی جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اجماع امت کے نتیجے میں پاکستان کے آئین میں متفقہ طور پر قادیانیوں (احمدیوں، لاہوری گروپ وغیرہ) کو غیر مسلم کہا گیا۔

احباب میرا کھلا موقف رہا ہے کہ فتنہء قادیانیت کے زندیق شیاطین، پیمانہء غداری کا ایسا اعلی ترین تھرمامیٹر ہیں جس کی ریڈنگ کبھی بھی غلط نہیں ہوتی۔ قادیانی زندیق جس شخصیت یا نظریہ کی بھی حمایت کریں، فوراً سمجھ جانا چاہیے کہ وہ کرداریا نظریہ دشمن ملک و ملت ہے۔ سو قادیانیوں کی طرف سے ملالہ کی حمایت یا ملالہ کی طرف سے قادیانیوں کے ہر کافرانہ دجالی موقف کی تائید و حمایت کرنا اس امر کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ یہ دونوں اسلام دشمن فتنے یہود و نصاری اور ہندوآتہ کے بغل بچے ہیں۔ احباب یاد دلانا چاہتا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کو جھٹلانے والے قادیانیوں کو کافر و زندیق قرار دئے جانے پراس وقت کے قادیانی خلیفہ مرزا ناصر نے قومی اسمبلی کے روبرو کھلےعام کہا تھا کہ اگر کوئی شخص تمام انبیاء پر ایمان تو رکھتا ہے مگر مرزا غلام احمق قادیانی کو نبی نہیں مانتا تو ہمارے مرزائی عقیدے کے مطابق وہ غیر مسلم اور جہنمی ہے۔ اس لئے تمام مسالک کے علماء اکرام متفقہ طور پر صرف پاکستان کے آئین کے مطابق ہی نہیں بلکہ پورے عالم اسلام نے انہیں کافر و زندیق قراردیا تھا۔ احباب “زندیقیت” کفر کی بدترین حالت ہے۔ زندیق اس کافر کو کہا جاتا ہے جو کافر ہونے کے باوجود خود کو مسلمان اور اصل مسلمان کو کافر قرار دے۔ قادیانیت کفر زندیق کی سوفیصد درست اور ثابت شدہ مثال ہے۔ انہیں عقائد کی بنا پر پاکستان کے قادیانی وزیر خارجہ ظفر اللہ نے حضرت قائد اعظم کا جنازہ یہ کہہ کر پڑھنے سے انکار کیا تھا کہ چاہے کوئی اسے اک کافر کی طرف سے مسلمان کا جنازہ پڑھنے سے انکار سمجھے یا اک مسلمان کا کسی کافر کا جنازہ پڑھنے سے انکار، مگر اپنےعقیدے کے مطابق میں کسی غیراحمدی کا جنازہ نہیں پڑھ سکتا۔ ملالہ کا قائد اعظم کی بجائے ان کے سیکولر ہندو پرست سیاسی دشمن باچا خان کو اپنا آئیڈیل قرار دینا بھی شاید اسی مرزا برانڈ نظریات کے زیر اثر ہونے کا اشارہ دے رہا ہے۔ مرزا کے پیروکار ہم ختم نبوت پر ایمان رکھنے والے مسلمانوں کے بارے کیا نظریہ رکھتے ہیں اس کیلئے  مرزا غلام احمق قادیانی کی دجالی کتابوں سے چند مصدقہ تحریریں بمع حوالہ جات دے رہا ہوں۔ کائنات کا بدترین گستاخ قرآن و رسالت، شاتم الانبیاء و صحابہ و اہل بیت ، مرزا ملعون لکھتا ہے کہ ۔۔

نمبر١۔ کل مسلمانوں نے مجھے قبول کر لیا اور میری دعوت کی تصدیق کر لی مگر کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا۔ ۔ (آئینہ کمالات ص ۔٥٤٧
نمبر٢ ۔ جو دشمن میرا مخالف ہے وہ عیسائی ، یہودی ، مشرک اور جہنمی ہے۔ (نزول المسیح ص ٤، تذکرہ ٢٢٧
نمبر ٣ ۔ میرے مخالف جنگلوں کے سؤر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں ۔ (نجم الہدیٰ ص ٥٣مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی
نمبر ٤ ۔ جو ہماری فتح کا قائل نہ ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں ۔
( انوارالاسلام ص ٣٠مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)

احباب حقائق وواقعات از خود بتاتے ہیں کہ غیر مسلم اقلیت قرار دیے جانے کے بعد انتقام کی آگ میں جلتے ہویے قادیانیوں نے مسلم دشمن ممالک پناہ لیکر یہودی ایجنٹوں کا کردار ادا کیا ہے ۔ اپنے آقا یہود و نصاریٰ کے دجالی ایجنٹ کا کردار نبھاتے ہوئے ملت اسلامیہ اورخصوصا پاکستان کی سلامتی کے خلاف ہر سازش میں شریک ہو کرغداروں اور دشمنانِ پاکستان کے حواری بننا اپنا اہم ترین مذہبی فریضہ سمجھا ہے۔ فتنہء قادینیت کی پاکستان کے خلاف سازشوں اورقاتلانِ مسلم یہودیوں کے دیس میں دفاتر کھلنے سے متعلق حقائق کا بغور جائزہ لیں تو جان جائیں گے کہ فتنہء ملالہ اینڈ کمپنی اور فتنہء قادیانیت یہود کی گود میں پلنے والے سگے بہن بھائی ہیں۔ لہذا ملالہ جی کا اپنے قادیانی مداحوں کیلئے چیخنا فطری سی بات ہے۔ ان کے وہ مضامین پڑھیں جن میں عقایدِ اسلام اوراس آئین پاکستان کی تضحیک و تذلیل کھل کھلا کر کی گئی جس میں انہیں غیر مسلم اقلیت قراردیا گیا ۔ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر کے بارے میں ان کے ریمارکس اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بارے دشمن ملکوں کی ویب سایٹس پر زہر اگلتے پاکستان مخالف مضامین پڑھیں۔ آپ قادینیوں کے فیس بک پر قرآن حکیم میں تضادات کے شیطانی دعوے،ناموس رسالت، اہلِ بیت، صحابہ اکرام، اولیا اللہ اوراکابرین پاکستان کے بارے فحش ترین  مضحکہ خیز کہانیاں اور وجودِ پاکستان کے بارے مکروہ دعوے پڑھیں تو آپ کو خبرہو کہ مغربی صلیبوں اور قادیانی جماعتِ کے چیف پادری مرزا مسرور کی سرپرستی میں زہر اگلنے والے ہر ملالائی عاشق قادیانی کےاندر سلمان رشدی جیسا ایک گستاخ و ملعون کردار چھپا بیٹھا ہے۔

malala3A  انصار عباسی صاحب نے برحق لکھا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ملالہ کو پڑھ کر یہ بات سمجھ میں آنے لگتی ہے کہ امریکا و یورپ جنہوں نے نام نہاد دہشتگردی کے خلاف جنگ میں عراق، افغانستان اور پاکستان میں لاکھوں مسلمانوں جس میں ہزاروں ملالائیں شامل تھیں اُن کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے وہ سوات کی اس ملالہ پر کیوں اتنے مہربان ہو گئے اور اس بچی کو کس مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ باپ نے بیٹی کے نام سے منسوب کتاب میں اپنے انتہائی متنازعہ خیالات کے اظہار کا کیوں ذریعہ بنایا۔ ضیاء الدین کو ضرور سوچنا چاہیے کہ کہیں وہ بیٹی کے معاملہ میں سنگدلی کا مظاہرہ تو نہیں کر رہا ۔ کاش ملالہ یہ کتاب نہ لکھتی۔

جناب انصار عباسی صاحب نے جو بھی لکھا عین حق لکھا، یہی ہر سچے مسلمان اور محب وطن پاکستانی کی آواز ہے۔ میرا ایمان ہے کہ اس کتاب کے لکھے جانے میں ہی امت مسلمہ اور وطن عزیز کی بہتری تھی ۔ یہ کتاب نہ لکھی جاتی تو شاید ملالہ کی قادیانیت پروری اور اسلام دشمنی سے کبھی بھی پوری طرح پردہ نہ اٹھ پاتا، شاید کچھ شکوک و شبہات باقی رہ جاتے۔ مجھے اس بات پر کوئی حیرت نہیں کہ ملالہ نے پاکستان میں آ کر سیاست میں حصہ لینے اور وزیر اعظم بننے کے خواب دیکھنے شروع کر دیے ہیں۔ لیکن مجھے قوی امید ہے کہ اگلے چند برس تک یہ ملالہ ڈرامہ پوری طرح ایکسپوز ہو چکا ہو گا۔ میرا ایمان ہے کہ اس قوم میں مغربی برانڈ روشن خیال بننے کے جراثیم موجود ہی نہیں ہیں۔ میرا حق الیقین ہے کہ امریکہ اسے بھی اپنے ہر استعمال شدہ مسلم غدار ٹشو پیپر کی طرح ردی کی ٹوکری میں پھینک دے گا۔ ہوس زر کا شکار ملالہ اور ابو جی بھول رہے ہیں کہ سامراجی ٹولے نے ہر غدار کو استعمال کر کے خود ہی راستے ہی ہٹایا ہے۔ ملالہ نے اپنی کتاب میں انگلستان کی گوری گود میں بحفاظت پہنچ جانے کے بعد کے اپنے احساسات کے بارے لکھا ہے۔ ” مجھے ایسا لگا جیسے میرے دل پر سے کوئی بھاری بوجھ ہٹ گیا ہے۔ مجھے لگا کہ جیسے اب سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ” . ظاہر ہے  پاکستان کی دشمن کیلئے پاکستان کی سرزمین پر رہنا دل پر ایک بھاری بوجھ سا ہی ہو گا۔  اپنے اور اپنے محبوب فتنہء قادیانیت کے مغربی آقاؤں کی مخملی گود میں پہنچ کر ابھی تک تو سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہی چل رہا ہے۔ ولایتی شہریت مل گئی ہے، پورا مغرب گود میں اٹھائے محبت بھری لوریاں دے رہا ہے، چاروں اطراف سے انعامات اور نوازشات کی بارش بھی جاری ہے۔ لیکن یہ سب کچھ صرف اک صدائے کن کا محتاج ہے۔ یاد رکھیے کہ اس اصل مقتدر اعلی نے آج تک کسی حواریء گستاخین ، اسلام دشمن کردار کو عبرت ناک انجام کے سوا کچھ نہیں دیا۔

آخر میں جناب ارشاد احمد عارف کے کالم کے سنہرے حرفوں کی یہ سطور شیئر کرنا چاہوں گا ۔ ارشاد آحمد عارف صاحب نے کیا خوب لکھا کہ ۔۔۔۔۔  ” ایک طرف ہالینڈ کا آرنوڈ وین ڈرو ہے جس نےفلم ’’فتنہ‘‘بنائی مگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلمانوں کی والہانہ محبت، دلآزار فلم کے خلاف احتجاجی مظاہروں کو دیکھ کر موم ہو گیا اور ا ب حجاز ِمقدس میں بیٹھا اپنے رب اورمحبوبِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے معافی مانگ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ایمان کی دولت سے نوازا اور دنیا و آخرت سنوار دی۔ دوسری طرف ملالہ، اس کے والد اور کرسٹینا لیمب ہیں جو سلمان رشدی کے گستاخانہ اندازِ فکر کو آزادی ٔ اظہار رائے کی آڑ میں جائز قرار دینے کے لئے کوشاں ہیں ورنہ ’’ آئی ایم ملالہ ‘‘ میں اس واہیات کتاب، جنونی مصنف اور بکواس اظہار رائے کا ذکر ضروری نہ تھا۔ اس کا ملالہ کی زندگی، جدوجہد اور خدمات سے کیا تعلق؟ شاید نوبل انعام کمیٹی کے ارکان نے یہ کتاب نہیں پڑھی اور سلمان رشدی کے حقوق، مسلمانوں کے جذباتی پن اور ملّائوں کی تقلید والے حصے پر غور نہیں کیا ورنہ انعام دینے سے گریز نہ کرتے۔ مغرب کی دیرینہ روایت تو یہی ہے۔ خدا اس معصوم بچی کو اپنے دوستوں کے شر اور دشمنوں کے حسد سے محفوظ رکھے۔ خاص طور پر والدگرامی جو ذہین بیٹی کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے ہوشیاری سےاستعمال کر رہے۔ محمد نواز شریف، آصف علی زرداری، عمران خان اور بہت سارے دوسرے نوبل انعام نہ ملنے پر مغموم ہیں” ۔  یہ فاروق درویش کا حق الیقین ہے کہ قادیانی غدارِ ملت ڈاکٹر عبدالسلام کا ایوارڈ پانے والے سیکولر آغا خانی مسخرے پرویز ہود بھائی سمیت سب  یہود بھائی، مغرب کے تنخواہ دار صلیبی بغل بچے اور بال ٹھاکری نظریات کے علمبردار نئی دہلی  کے کٹھ پتلے ہنود بھائی چیختے چلاتے ہائے ملالہ وائے ملالہ کی قوالی کرتے رہیں گے۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔ ملالہ اینڈ کمپنی کی ایسی کی تیسی ۔۔۔۔۔ انشاللہ پاکستان کا مطلب سدا لا الہ الاللہ ہی رہے گا ۔۔۔۔

 فاروق درویش ۔۔ واٹس ایپ –  03224061000

 

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: