ریاست اور سیاست

اے عشق حنا بدنام نہ کر معصوم بلاول بچہ ہے


سنا ہے خدا جب حسن دیتا ہے، نزاکت آ ہی جاتی ہے. جو ایشیائی حور پانچ لاکھ روپے مالیت کا فرانسیسی سوٹ،دو لاکھ کا کینالی برانڈ اٹالین کوٹ شو، سترلاکھ کا ساؤتھ افریقن ڈائمنڈ کا سیٹ چار لاکھ کا ہینڈ بیگ، دو لاکھ کی عینک، پچاس لاکھ کی رولکس پلاٹینم گھڑی اور دو لاکھ کے پرفیوم کے ساتھ ممبئی سے مدراس اورگجرات سےکلکتےتک شو بز اور میڈیا میں اپنے جلووں کی تپش سے ہی آگ لگا دے، اس کی آتش ِ حسن سے انگلستان کی گوری میموں کے رسیا اور اپنی عمر سے بیس سال بڑھ کر تجربہ کار کھلاڑی بلاول بھٹو زرداری کا دل کیوں نہ پگھلے گا۔ جس روشن خیال خاتون مسلم وزیر خارجہ کے والہانہ مصافحے کیلئے بڑھے ہوئے ہاتھ کو دیکھ کر پینسٹھ سالہ بھارتی وزیر خارجہ کو بھی پسینہ آجاتا ہواس کی قربت پانے کیلئے زرداری برانڈ پاکیزہ خون بلاول جیسا مادر پدرآزاد خوبرو شہزادہ کیونکر نہ بہکےگا۔ جو حسینہ اپنےانجہانی امریکی آقا رچرڈ ہالبروک جیسے جواں دل بوڑھے دوست کی محفلوں میں شراب کےسنگ شباب بننے میں عارمحسوس نہ کرتی ہو وہ کسی ایسے خوبرو نوجوان رانجھے کو کیوں ٹھکرائے جو اس کےعشق کی خاطراسلام آباد کا تخت ہزارہ قربان کر کے سویزرلینڈ میں بھی گھر بسانے کیلئے تیار ہو

 

جو آزاد روح کبھی غیر مسلم مردوں کے ہاتھوں میں ہاتھ دیکر اسلامی اقداراور قومی تشخص کی دھجیاں اڑانے، کبھی بھارت ماتا کو پسندیدہ ملک قرار دلوانے کیلئے سرگرم اور کبھی نیٹو سپلائی بحال کروانے کی دوڑ میں بازی لیجا کر امریکی حکام سے شانوں پر تھپکیاں لیکر خبروں میں رہنے والی حنا ربانی کھر صاحبہ حسب معمول آجکل بھی گرما گرم خبروں کا حسین دیو مالائی کردار بنی ہوئی ہیں مگر اس بار وجہِ شہرت ان کی بھارتی برانڈ یا سامراجی مارکہ سفارتکاری نہیں بلکہ واردات حسن و عشق کے ہوشربا چرچے ہیں اور اس دفعہ کہانی کا کردار کوئی بھارتی وزیر یا امریکی سفیر نہیں بلکہ انکی محبوب ترین شخصیت صدر زرداری کا پرنس آف برٹش بیوٹیز بلاول بھٹو زرداری ہے۔ اس بات میں کس حد تک سچائی ہے یہ یا تو ماڈرن ہیر کی ان سہیلیوں کو پتہ ہو گا جو پرنس بلاول کے قریب قریب رہ کروزارتوں میں ہیں یا عشق کی اس داستان کے ماڈرن سیاسی قیدو زرداری کو۔ کہا جاتا ہے کہ اس حوالے سے ایوان صدر بھی باخبر رہا ہے اور حنا کھر اور بلاول بھٹو کے قریبی حلقے بھی ان خوشبو بھری سرگرمیوں سے بخوبی آگاہ ہیں ۔ بحرحال کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے کہ ابھی تک کسی جانب سے کوئی واضع تردید سامنے نہیں آئی۔ ہاں مگر کچھ اخبارات میں حنا ربانی کھر کےارب پتی صنعتکار شوہر فیروز گلزار نے ان کے حوالے سے ان اطلاعات کو من گھڑت اور شرانگیز قرار دیا ہے۔

لاکھوں روپے کی بجلی چوری کے الزام میں ملوث اور واپڈا کے نادہندہ رہنے والے شوہر نامدار نے انہیں اپنے خاندانی معاملات کے خلاف ایک سازش سے تعبیر کیا ہے۔ لیکن سوال اٹھتا ہے کہ وہ فیروز گلزار جو میڈیا اورسیاست سے ہمیشہ دور رہے ہیں آخر وہ کون سی اطلاع تھی جس نے انہیں میڈیا سے رجوع پر مجبور کیا۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ عشق کی مشک ان غیر ملکی اخبار نویسوں تک کیسے پہنچی جنہوں نے اس حوالے سے یہاں تک شائع کر دیا کہ حنا ربانی کھر کی طرف سے عیدالفطر کے موقع پر بلاول بھٹو زرداری کے نام عید کارڈ بھیجا گیا جس میں حنا ربانی کھر نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا کہ ہم نے بہت انتظارکرلیا ہے اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے انتظار کو اختتام دیں۔ اس اخبار کے مطابق حنا ربانی کھر نے بلاول بھٹو کو گلدستہ بھی ارسال کیا تھا ان کی طرف سے بلاول زرداری کو بھیجا گیا عید کارڈ صدر زرداری نے بھی دیکھا اور اس میں لکھی گئی تحریر پرحنا ربانی کھرکو طلب کرکے ناراضگی کا اظہار بھی کیا تھا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل ایک بنگلہ دیشی میگزین بلٹینز نے بھی ان کےعشق کی داستان شائع کی تھی۔ شاید فیروز گلز ار کی وضاحت اور تردید کا مقصد یہ باور کرانا تھا کہ عید کارڈ بھیجنے کا مطلب صرف معاشقہ نہ سمجھا جائے کہ اس میں کوئی قباحت نہیں بلاول بھٹو زرداری کو عید کے موقع پر لاتعداد عید کارڈ ملتے ہوں گے سو اگر انکی محبوب بیگم کی طرف سے بھی انہیں عید کارڈ اور گلدستہ ارسال کیا گیا تواسےغلط رنگ دینا افسوس ناک ہے۔

لیکن گلزار صاحب یا ایوان صدر نے عید کارڈ میں لکھے گئے اضطرابی الفاظ ”ہم نے بہت انتظار کر لیا ہے اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے انتظار کو ختم کریں،، کی تشریح نہیں کی ۔ ہو سکتا ہے کہ سیاست میں کیریئر بنانے کیلئے سامراجی آشیرباد حاصل کرنے سے لیکر برہمن لابی تک کی ہر خواہش پوری کرنے کیلئے تیار خوش رنگ حنا نے یہ جملہ پاکستان کے مستقبل کے ممکنہ وزیر اعظم بلاول کےقریب تر ہونے کیلئے کہا ہو اور کیا برا ہے کہ سیاست میں آگے سے آگے بڑھنے کے نظریے پر رواں دواں حنا ربانی کھر ملکہ عالیہ بننے کی خواہش رکھتی ہیں۔ مت بھولیں کہ سیاست اقتدارکےایوانوں تک پہنچنےکا ہی نام ہے اور خصوصاً ہمارے ملک کے سیاستدان تواقتدارحاصل کرنے کیلئے قوم فروشی اور دین فروشی تو کیا عقل و فہم سے ماورا کچھ بھی کر سکتے ہیں سو حنا کھرجو بھی کر رہی ہیں وہ ہمارے عظیم سیاستدانوں کی عظیم روایات کےعین مطابق ہے۔ بلا شبہ حنا کھر صاحبہ شادی شدہ اورایک ماں بھی ہیں لیکن اگر ہم اپنے سیاسی معاشرے اور خصوصاً ان کے کھر خاندان میں شادیوں اور طلاقوں کی روزمرہ وارداتوں اورجنسی سکینڈلز کی روایات کو سامنے رکھیں تو یہ خبر کسی بہت بڑے انکشاف کے زمرے میں نہیں آتی۔

حناربانی کے تایا مصطفے کھر کے بارے انکی سابقہ بیوی نے اپنی کتاب ” مائی فیوڈل لارڈ،، میں کھر خاندان کی جو ہوش ربا کہانیاں رقم کیں ہیں ان کے مقابلے میں حنا کھر کی یہ داستاں عشق محض چند سیکنڈ کا ٹائٹل ٹریلر ہےاور ویسےبھی پاکستان کی ننگ وطن سیاسی برادری ، ننگ دین اعلیٰ طبقات اور ننگ آدم جاگیردار خاندانوں میں شادیاں اورطلاقیں عام سی بات ہے۔ لوگ شاید حنا کھر صاحبہ کے کزن بلال کھر کا اپنی بیوی کو تیزاب سے جلا دینے والا واقعہ بھی بھول چکے ہوں گے لیکن مجھےبزرگوں سے سنی بات یاد ہے کہ طلاق اور علیحدگی صرف مڈل کلاس میں ہی ایک سانحہ اورعیب تصور کی جاتی ہے۔ دینداری، مذہب و مسلک، خدا رسول، قرآن و حدیث صرف رزق حلال کھانے والوں کیلئے اہم ہیں۔ قوم فروش سیاستدانوں کیلئے یہ سب بے معنی باتیں ہیں۔ سو ہر موقع و مقام پر اسلامی اقداراور قومی تشخص کی دھجیاں بکھیر کر، ننگ وطن بنکر بھارتی آقاؤں کی منظور نظربننے والی اور پاکستانی جوانوں کا لہو بیچ کر نیٹو سپلائی بحال کروانے میں پیش پیش قومی مجرم خوش رنگ حنا اگر خود سے آدھی عمر کےخوبرو پلے بوائے شہزادے سے راہ رسم بڑھانا یا عشق لڑا کے مستقبل کی ملکہءگل رنگ بنناچاہتی ہےتو اس حسین ومعصوم جرم پرتعجب اوراعتراض کیسا؟ اس جیسے جنسی سکینڈل اورمرزا صاحبہ جیسی داستانوں سے ہی تو دنیائے سیاست اور ایوان اقتدار کی رنگین تاریخ رنگین تر ہو گی ۔۔ جدوں لا دتی لوئی تے فیر کی کرے گا کوئی۔۔۔۔۔۔

فاروق درویش — واٹس ایپ ۔۔ 03224061000

 

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

19 Comments

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

Featured

%d bloggers like this: