حالات حاضرہ

اے قوم کے سالار کب انصاف کرو گے؟


دور حاضر میں محض ایک چھٹی کا تہوار بن کر رہ جانے والا یکم مئی آتا ہے اور دنیا کے بھولے بھالے مفلسوں کو سرمایہ دارانہ نظام کے ظالم شکنجے میں جکڑے مزدوروں کا نوحہ سنا کر سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے جلسے سجا، اخراجات پر ہلکی پھلکی چھری پھیر کر چلا جاتا ہے۔ اور پھر اگلا پورا سال ان محنت کشوں پر افلاس کی کھنڈٰی چھری چلتی رہتی ہے۔ مزدور کل بھی بھوکا اور مظلوم تھا، اور آنے والے کل میں بھی” مزدور کے خیرخواہ ” لیڈروں کی شعبدہ بازیوں اور سیاسی بندر بانٹ کرپشن کی بدولت فاقے ہی دیکھے گا۔  پاکستان اور مزدور کی خوشحالی چاہتے ہیں تو ہمیں یکم مئی کے نوحے کے ساتھ ساتھ بارہ اور تیرہ مئی کو کراچی کی سفاکانہ قتل و غارت اور ماڈرن مکتی باہنیوں کے ہاتھوں زندہ جلنے والے معصوم لوگوں کا مرثیہ بھی پڑھنا ہو گا۔ تاکہ آنے والی نسلوں کو بھی یاد رہے کہ پاکستان کی معشیت میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھنے والے کراچی کے امن، مزدور، تاجر ، صنعت کار اور کاروبار کے اصل دشمن بھتہ خور اور ٹارگٹ کلر کون ہیں اور انہیں پالنے والے کون دشمن ممالک ہیں۔ یکم مئی کی بجائے اسی جوش و جذبہ کے ساتھ اگر بارہ مئی منا کر کراچی کو ماڈرن مکتی باہنی اور دوسرے غیر ملکی ایجنٹ دہشت گردوں سے نجات دلانے کا عہد کیا جائے تو با خدا صرف کراچی کا امن اور کاروبار زندگی ہی نہیں پورے ملک کی معشیت سے زوال اور مزدور و محنت کش کی زندگی سے افلاس و بیچارگی کے سائے چھٹ جائیں۔

قابل غور امر ہے کہ جنوری 2007 میں امریکی اور مغربی پریس میں ایسی  رپورٹس شائع ہوئیں کہ بھارتی ایجنسیاں کراچی کو قتل گاہ بنانے کیلئے کراچی کی کچھ عناصر کیلئے اسلحہ جمع کر رہی ہیں۔ لیکن کسی حکومتی ادارے نے اس خبر کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور پھر بارہ اور تیرہ مئی کو کراچی میں خون کی جو ہولی کھیلی گئی اس سے نے سقوط پاکستان کے وقت مکتی باہنی کے ہاتھوں محب وطن بنگالیوں کی خون رنگ ہولی کو بھی شرما دیا۔ مگر افسوس کہ سابقہ  سرپرست حکومتوں کے انتقال فرما جانے پر بھی انہیں نیے حکومتی سرپرست ملتے رہے اور پھر ہر اگلا برس ان کی قاتلانہ کاروائیوں کے باعث ہولناک تر برس ٹھہرا۔ کیا بارہ مئی کا سانحہ  شکاگو کے مزدوروں کے قتل سے خوفناک تر سانحہ نہیں تھا۔ کیا پھر بھتہ نہ دینے والا کارخانہ ہی نہیں سینکڑوں مزدوروں کو بھی زندہ جلا دینا مزدوروں کی المناک شہادتوں کا سانحہ نہیں تھا ۔ مگر افسوس کہ ایک نیم مرد جیالے کی صوبائی حکومت ، ٹارگٹ کلر اور بھتہ خور مافیہ سے سیاسی اتحاد کے بدلے میں انہیں گورنر ہاؤس میں پناہ گاہیں فراہم کرتی رہی۔

 مارچ 2010 میں ایک امریکی اخبار نے پھریہ انکشاف کیا کہ سی آئی اے اور را کے گٹھ جوڑ سے پاکستان اور افغانستان میں جاسوسی اور اہم افراد کے قتل کیلیے جاسوسی کا نیٹ ورک بن چکا ۔ نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ اس نیٹ ورک کی قیادت امریکی محکمہ دفاع کے ایک  اہلکار مائیکل فرلانگ کر رہے ہیں۔ یہ خفیہ نیٹ ورک مشتبہ افراد سے متعلق معلومات حاصل کرتا اور نشان زدہ افراد کی ٹارگٹ کلگ کراتا ہے۔ اور اس میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے بعض سابق اہلکار بھی شامل ہیں ۔ یہ گروپ پاکستانی مخبروں اور بھارتی ایجنسیوں سے حاصل ہونیوالی خفیہ معلومات امریکی محکمہ دفاع کو بھی فراہم کرتا ہے جس سے ڈرون حملوں میں مدد ملتی ہے ۔ گو کہ ایسے کسی ٹارگٹ کلر پرائیوٹ نیٹ ورک کو مالی فنڈز کی فراہمی اور اعانت عالمی اور امریکی قوانین کے مطابق  ایک سنگین خلاف ورزی ہے تاہم اس کے باوجود ایسے ٹارگٹ کلر اور دہشت گرد مافیوں کو فنڈز اور دیگر سہولتوں کی فراہمی سی آئی اے، را اور موساد کا خصوصی وطیرہ رہا ہے۔ اور پاکستان کے خود ساختہ جلاوطن لیڈر اور ان کی دہشت گرد تنظیمیں ان تمام اینٹی پاکستان ایجنسیوں کیلئے مذموم مقاصد کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ رہی ہیں۔ لیکن افسوس کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں ایسی خبروں کو نظر انداز کر کے مجرمانہ غفلت کرتی رہیں  اور کراچی سے پشاور تک دشمنانِ پاکستان کے پالتو دہشت گردوں کے لگائے ہوئے موت کے  بازار سدا گرم رہے۔

احباب حسین بن منصور حلاج کے آتش پرست دادا نے یہ کبھی نہ سوچا ہو گا کہ اس کا بیٹا منصور باپ دادا کے آتش پرست مذہب  سے انحراف کر کے دین اسلام قبول کرے گا اور اس کا پوتا عقیدہء حلول و وحدت الوجود کی انتہائے آخر چھو کر نعرہء انالحق سے شہرت پائے گا۔ ایسے ہی ایک جید عالم دین اور “بنیاد پرست” مولانا مفتی رمضان نے یہ کبھی خواب میں بھی نہ دیکھا ہو گا کہ ان کا پوتا الطاف حسین شریعت محمدی اور اسلامی نظریات سے بغاوت کر کے لادینیت اور ملک دشمنی کی ہر حد عبور کر کے یہود و نصارٰیٰ کا دست راست بن جائے گا۔ شاید وہ  راسخ العقیدہ لوگ یہ نہیں جانتے تھے کہ لائنز ایریا اور جہانگیر روڈ کے ٹوٹے پھوٹے سرکاری کوارٹرز سے لندن کے عالیشان محل تک کا سفر طے کرنے کیلئے ملک و ملت سے غداری لازم  ہے۔ اگر ہمارے غدار لیڈر حقیقی مقتدر اعلی کی غلامی چھوڑ کر گلے میں گوروں کی غلامی کا طعوق پہن کرجاگیریں نہ پاتے تو آج مسندوں پر براجمان نوابزادوں، دولتانوں، ممدوٹوں، خانزادوں اور قریشیوں کی اولادیں کھیتوں میں ہل چلا رہی ہوتیں۔

بھارت میں پاکستان کے قیام کو تاریخ کی بدترین غلطی کہنے اور کراچی کے معصوم عوام پر بھارتی  گولیاں داغنے والے لندن برانڈ  لیڈر کی سیاسی غنڈہ گردی اب اس نہج تک پہنچ چکی ہے کہ  موصوف کی ٹیلیفونک تقریوں میں پاکستان کو سعودی عرب کی مدد سے حامکانہ انداز سے روکا جاتا ہے۔ گویا کارِ ریاست اور حساس خارجہ پالیسیوں کو گورے آقاؤں کی منشا کے مطابق چلوانے کیلئے  دباؤ ڈالنے کی کوششیں بھی غنڈہ گردی کا لبادہ اوڑھے ہیں ۔ اقبال کے فلسفہ ” خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی ” کے مخالف، اتحاد ملت کے دشمن سامراجی بغل بچے اور قائد اعظم کی پیروکاری کے دعوی دار  ، بھٹکی ہوئی بیمار آتما  کی شفا کیلئے حضرت قائد اعظم کا اپنے عرب مسلمان بھائیوں کیلئے  یہ بیان پڑھیں کہ۔’’ اسلام ہماری زندگی اور ہمارے وجود کا بنیادی سر چشمہ ہے۔ اسلام نے ثقافتی اور تہذیبی ماضی اور ہماری گذشتہ روایات کو عرب دنیا سے اتنا وابستہ گہرا،قریب کررکھا ہے کہ اس امر میں تو کسی کو شبہ ہی نہیں ہونا چاہیے کہ ہم عربوں ، ان کے مسائل اور مقاصد سے مکمل  ترین  ہمدردی رکھتے ہیں “۔

گذشتہ دنوں نائن زیرو پر پر رینجرز کے چھاپے میں ٹارگٹ کلرز اور بھارتی اسلحہ کی برامدگی نے متحدہ کا گھناؤنا چہرہ  مزید عیاں کر دیا ہے۔ ایس ایس پی ملیر راؤ نواز کا یہ جرات مندانہ انکشاف پوری قوم کے موقف کا عین ترجمان ہے کہ ایم کیو ایم بھارتی ایجنسی را کی کٹھ پتلی ہے اور اس کے دہشت گرد بھارت سے تربیت حاصل کر کے کراچی میں امن دشمن کاروائیاں کرتے ہیں۔ لیکن سندھ حکومت کی طرف سے اس کھرے بیان کے بعد ایسے بہادر آفیسر کو عہدے سے ہٹا دینا ایک انتہائی قابل مذمت قدم ہے۔ کچھ  مصدقہ ذرائع کے مطابق معاملات اس حد تک سنگین ہیں کہ  صبح  دہلی کی فلائیٹ آنے والے متحدہ کے دہشت گرد کراچی میں کاروائی کر کے رات کی فلائیٹ سے واپس دہلی چلے جاتے ہیں۔ اس صورت حال میں کیا وزیر اعلی سندھ اور ان کی صوبائی حکومت حشیش کے نشہ میں غرق ہے یا سیاسی اتحاد کی قیمت پر قتل و غارت کی کھلی چھٹی دی جاتی ہے ؟ کراچی کی کربلا میں مرتے ہوئے معصوم عوام کو حسینیت کے وہ نام نہاد علمبردار نہیں چاہئیں جو خود گورے یزیدوں کی پناہ میں بیٹھے ہوں۔ الطاف صاحب یہود و نصاریٰ کے دوسرے بغل بچے مرزا مسرور کی ہمسائیگی میں اسلام  دشمن گوری آشیرباد میں بیٹھ کر گاندھی جی کے پیروکاروں کی گیم مت کھیلیں۔ پاکستانی عوام کے رہنما ہونے کا دعوی ہے تو برطانوی پاسپورٹ پھاڑ کر پاکستان کی کربلائی سرزمین پر بیٹھ کر سیاست کریں تو حسینیت کا حق بھی ادا ہو ۔

احباب یاد رہے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل رضوان اختر، ماضی میں بھی کراچی دہشت گرد مافیوں کیخلاف حساس آپریشنز کی قیادت کر چکے ہیں ، لہذا وہ کراچی کے تمام دہشت گرد نیٹ ورکس اور انہیں ملنے والی بیرونی امداد سے سے پوری طرح واقف و با خبر ہیں۔ جنرل راحیل شریف کے حالیہ جراتمندانہ اقدامات ، پاکستان رینجرز کے تابڑ توڑ اپریشنز سے قوم میں یہ امید جاگ اٹھی ہے کہ کراچی جلد ہی ان خون آشام مافیوں کے چنگل سے آزاد ہو گا ۔ حق الیقین ہے کہ پاکستان کے مقتدراداروں افواج پاکستان اور آئی ایس آئی کی اعلی قیادت کیخلاف احمقانہ زبان استعمال کرنے والے بلیک ڈان کے بلیک ڈیز کا آغاز ہو چکا ہے۔ الطاف مافیہ کی ماڈرن مکتی باہنی پاکستان میں سی آئی اے، موساد  اور را کی کٹھ پتلی کا جو ہولناک کردار ادا کرتی آئی ہے، اس کا انجام  افواج پاکستان کی غیرت مندانہ حکمت عملی کی بدولت نزدیک  تر آتا دکھائی دیتا ہے۔  آج صرف کراچی نہیں خیبر یا راسکماری پورا پاکستان ہم آواز عرض نوا ہے،  جنرل راحیل شریف صاحب! شہرِ قائد گذشتہ  تیس برس سے ان دہشت گردوں کی سفاکیت  اور بربریت کا نشانہ بن رہا ہے۔ کو بہ کو دہشت اور موت کا ظالم پہرہ ہے۔ ظالمین کا ظلم روکنا بھی بحرحال عین انصاف ٹھہرا ہے۔ وزیرستان کے ساتھ ساتھ  اک آہنی “اپریشن ضربِ غصب ” ان سماجی، معاشی اور سیاسی دہشت گردوں کیلئے بھی درکار ہے جن کے ہاتھوں میں بھارت کے ہتھیار اور سربراہ  پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا خرکار ہے ۔ اور اب نواز شریف، عمران خان، فضل الرحمن  یا سراج الحق ہی نہیں پوری اٹھارہ کروڑ پاکستانی قوم اپنی جری افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے ۔

اے قوم کے سالار کب انصاف کرو گے : اتری ہے مرے دیس قضا بن کے سیاست  

( فاروق درویش ۔۔ واٹس ایپ کنٹیکٹ ۔۔  03224061000 )

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: