حالات حاضرہ سیکولرازم اور دیسی لبرل نظریات و مذاہبِ عالم

بال ٹھاکرے اور نیتن یاہو کا نظریاتی وارث ۔ حسن نثار


ایک رئیس زادے کا پالتو کتا باؤلا ہوا تو اس نے مالک کے دسترخوان پر سجی سب ڈشوں میں مونہہ مارا، گھر کے تمام افراد پر بھونکا، چاروں طرف غلاظت پھیلائی اور پھر اپنے ہی مالک کو بری طرح کاٹ کر زخمی کر دیا۔ گھر کی پالتو بلی نے اسے کوستے ہوئے طعنہ دیا کہ جس مالک نے تمہیں بڑی محبت سے پالا، تمہاری ہر آسائش اور ضرورت کا خیال رکھا،  رہنے کیلئے اچھی جگہ بنائی ، وقت پر من پسند  کھانا فراہم کیا۔  تم  نے اپنے اسی مالک کا برا سوچا اور بری طرح  کاٹ کھایا۔  کتے نے جواب دیا ، ” اس مالک نے مجھے دیا ہی کیا ہے ، اس مالک کی اتنی اوقات ہی کہاں کہ مجھے کچھ دے سکتا “۔ یہ ساری گفتگو سن کر درخت پر بیٹھا عقلمند  باز بولا، اس کتے کا دماغ خراب ہونے کی اصل وجہ دراصل کچھ اور ہی ہے۔ میں نے دیکھا کہ کل اس  نے ہمسائے کے  بچے سے اسرائیل برانڈ بسکٹ اور انڈین میڈ چاکلیٹ چھین کر کھائے تھے۔ لہذا  یہود و ہنود  برانڈ ” مال حرام ” کھا کر  یہ کتا بھی پاکستانی دانش ور حسن نثار طرح ” مہان ” بن گیا ۔ جی ہاں وہی حسن نثار جو چند  برس پہلے لنڈے کے سوٹ اور اب دس لاکھ  کی مالیت کا اٹالین برانڈ لباس پہنتا ہے۔ دس برس پہلے تک وہ بھی سفید پوش پاکستانیوں جیسے پانچ مرلے کے گھر میں رہتا تھا ، اب پچاس کینال کے عالیشان  محل  میں رہائش پذیر ہے۔ کبھی  وہ بھی پاکستانی مفلس کی طرح ایک پرانی کھٹارا موٹرسائیکل پر گھومتا تھا مگر اب وڈیروں اور صنعت کاروں کی طرح کروڑوں روپے مالیت کی لگژری گاڑیوں کا مالک ہے۔ غرضیکہ اسی پاکستان کی بدولت اس نے ہر جائز و ناجائز طریقے سے دنیا کی ہر آسائش و نعمت پائی ہے، مگر تف  کہ  وہ  احسان فراموش بھی مالک کے اس بے وفا  کتے کی طرح خود کو عزت و شہرت اور آسائش و مراعات دینے والی اپنی  دھرتی ہی کو برا بھلا کہتا ہے۔ وہ بھی کہتا ہے کہ ” پاکستان نے مجھے کچھ نہیں دیا، اس پاکستان کی اتنی اوقات ہی نہیں کہ مجھے کچھ دے سکے ” ۔ باز کی یہ گفتگو سن کر بلی بولی جی آپ نے درست کہا ، یہ یہودی اور ہندو دیش سے تعلق کی بدبخت تاثیر اور غلط طریقے سے ہتھیایا ہوا مال کھانے کا ہی اثر ہے کہ ایک وفادار کتے نے بھی ضرورت سے زیادہ “عقل مند و عالم فاضل ” بن کر اپنے ہی مالک کو کاٹ لیا ۔

پچھلے برسوں اس فرعونِ صحافت  حسن نثار  کے ” حُسن میاں مٹھوی ” پر مبنی  کالم ” کھوئی ہوئی آوازیں” پڑھا تو حقیقت عیاں ہوئی کہ  ابوجہل و بال ٹھاکرے کی طرح خود کو عقل کل اور صاحب دانش سمجھنے والے مسخروں کی دماغی صحت کی خرابی کا پہلا سبب کیا ہوتا ہے۔ موصوف خود تعریفی میں لکھتے ہیں کہ ” میں کیا اور میری شاعری کیا لیکن آج آپ کو میرے دو بہت ہی پرانے شعر برداشت کرنا ہوں گے کیونکہ اس کے بغیر گزارہ ہی ممکن نہیں ۔۔۔ ہونی کیا اور انہونی کیا ۔۔ جو ہونا ہو، ہو جاتا ہے ۔۔ جو ملنا ہے، مل کے رہے گا ۔۔۔ جو کھونا ہو، کھو جانا ہے ۔۔ یہ شعر ان زمانوں کی یادگار ہیں جب میرے اندر کا شاعر پورے شباب پر تھا۔ میری شاعری سن کر ڈاکٹر عزیزالحق نے کہا تھا، ۔ “A star is born” ۔۔۔ میں شرمسارہوں کہ ڈاکٹرصاحب کی پیشین گوئی پر پورا نہیں اترا اور میری شاعری کو ماہناموں کی صحافت اور پھر کالم نگاری کھا گئی کہ اعلیٰ شاعری کیلئے جیسا ” ظرف “ درکار تھا، وہ مجھے نصیب نہ ہو سکا۔۔۔ “۔

حسن نثار کی ایسی ” ہر نئی ادا ” کے بعد مجھ پر یہ راز کھلتا ہے کہ شاعری کے علوم سے کلی نا واقفیہ  خود ساختہ عالم فاضل، حضرت اقبال جیسے عظیم شاعر سے حسد میں ان کیخلاف بازاری نوعیت کی ہرزا سرائی کیوں کرتے ہیں۔  شعر و ادب میں معمولی دلچسبی رکھنے والا کوئی بھی شخص ان کی شاعری کے ” عالمِ شباب ” پر لکھے ہوئے واجبی اشعار کے بارے یہی کہے گا کہ ایسے اشعار تو پانچویں جماعت کا بچہ ہی نہیں، روٹیاں لگانے والا  ساجا تندوریا  یا بازار حسن میں کندھے پر رومال اور مونہہ میں پان ڈالے گاہک گھیرنے والا ان پڑھ ” استاد ” بھی کہہ لیتا ہے۔ لہذا  تیسرے درجہ کے ایسے نام نہاد شاعر کی طرف سے علامہ اقبال جیسی عالمگیر ہستی کے بارے بکواسیات کو اقبال کے پرستار اپنی ٹھوکر پر رکھتے ہیں۔ درحقیقت شاعر مشرق و حکیم الامت علامہ اقبال کے مداحوں  کیلئے  شاعری کی بنیادی معلومات اور فکر امت سے نا آشنا  مسخروں کی زہر آلود ہرزا سرائی بازارِ حسن میں شور مچاتے ہوئے کسی شرابی  کی اول فول سے زیادہ کچھ اہمیت نہیں رکھتی۔ خود کو ” سٹار ” گرداننے والے ایسے میاں مٹھو، تب تک ہی ” سٹار” رہتے ہیں جب تک ولائتی کپی کا نشہ سلامت رہتا ہے۔ ایسے بناوٹی سٹار نشہ اترتے ہی کبھی میڈم میڈونا کا گٹار اور کبھی سردار من موہن سنگھ  کی کٹار بن جاتے ہیں۔  اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ فتنہء قادیانیت کے بغل بچوں کے بعد اگر کسی مسخرے نے اقبال جیسے مرد مومن کیخلاف بدزبانی میں لعنت آلودہ ریکارڈ قائم کیا  ہے تو وہ بلا شبہ حسن نثار جیسی فتنہ گر ہستی ہی ہے۔ حضرت اقبال جیسے روشن و تاباندہ چاندوں پر تھوک تھوک کر موصوف کا اپنا چہرہ لعنت مسلم  اور پھٹکارِ افلاک سے اس قدر پراگندا ہو چکا ہے کہ اب ان پر تل ابیب کے کسی جدید مردانہ بیوٹی پارلر کا وزٹ لازم ٹھہرا ہے۔ ایسے ” کم ظرف” لوگوں کیلئے ” ظرف”  کے لفظ کا استعمال اردو زبان کی توہین ہے کہ جن کے گھروں کے ظروف بھی بال ٹھاکرے، سلمان رشدی اور نیتن یاہو جیسوں کی طرف سے تحائف میں ملتے ہیں۔ ایسے اسلام دشمن لوگوں کے دلوں میں  دین اور ملت سے وفا کی روشنی کیا ہو گی کہ جن کے گھروں کے چراغوں میں یہود و نصاری اور فتنہء ہنود کی بخشش کا تیل جلتا ہو،

حالیہ کالم ” نایاب پرندے، نایاب درندے میں لکھتے ہیں ” مذہب و ملک سے محبت کا جتنا چرچا اور رولا پاکستان میں ہے، کسی اور ملک و مذہب میں اس کا سواں حصہ بھی نہیں دیکھا لیکن عملی طور پر دونوں کے حوالے سے ہمارے اعمال اور کرتوت کیسے ہیں؟ ان پر تبصرے کی ضرورت نہیں تو آخر یہ کھیل رکے گا کہاں”؟

احباب عام کہاوت ہے کہ ” مونہہ کھائے تو آنکھ شرمائے ” ، سو حسن نثار صاحب اپنے آقا و محبوب یہودی یا ہندو دیس کے بارے زبان کیسے کھولیں؟ ۔ کیسے بیان کریں کہ  پاکستان کے بعد اسرائیل  ہی وہ واحد ریاست ہے جس کے وجود کی بنیاد مذہب ہے۔ اسرائیل وہ واحد ملک ہے جہاں عسکریت سے لیکر معاشرت تک کی ہر بنیاد مذہب سے جنون کی حد تک وابستگی ہے۔ اس ملک میں دفتر میں بیٹھے کلرک سے لیکر ٹینک پر بیٹھے فوجی کے پاس اپنی مذہبی کتاب تورات کی خود ساختہ جلد ہمہ وقت  موجود ہوتی ہے۔  اسرائیل کا ہر ایک بالغ مرد اور عورت اپنی یہودی سرزمین کی حفاظت کیلئے عسکری تربیت حاصل کرنا اپنی اولین مذہبی فرض مانتا ہے۔ حسن نثار صاحب کے جاہلانہ علوم کو عالمانہ کرنے کیلئے عرض کرتا چلوں کہ غزہ  پر مسلسل صیہونی حملوں کی بنیادی وجہ بھی دراصل یہودیوں کا یہ کٹر مذہبی عقیدہ ہی ہے کہ جب تک وہ دریائے اردن سے جڑے  زرخیز خطہ اورغزہ کے کھیتوں تک رسائی حاصل نہ کریں گے فلاح نہیں پائیں گے۔

 حسن نثار صاحب لکھتے ہیں کہ، ” چیسٹر بولس  کہتا ہے
“Government is too big and too important to be left to the politicians.”،
اب آخر پر آسٹن میلے کا یہ تاریخی تبصرہ کہ
“The statesman shears the sheep; the politician skins them.” ۔
ہماری سیاسی و انتظامی ایلیٹ تو اپنی بھیڑوں کا خون بھی پی جاتی ہے، ان کا گوشت بھی کھا جاتی ہے

؎دلچسب امر ہے کہ اپنے  محل میں نایاب پرندوں اور جنگلی حیات کا چڑیا گھر بنانے والے اس دیسی مرغی ولائتی انڈا برانڈ کالمسٹ کی اردو تحریروں میں ولائتی مصنفین کے انگریزی اقتباسات لازمی ہوتے ہیں۔ خدا جانے کہ اس کا مطلب خود کو فلسٹار میرا کی طرح  ولائتی عالم فاضل ثابت کرنے کی بھونڈی کوشش ہے یا ان میں ان انگریزی کلمات کا درست اردو ترجمہ کرنے کی صلاحیت کا فقدان ہے۔ اہل علم کیلئے اس میں بھی کچھ تعجب کی بات نہیں کہ ان کے کالموں میں اکثر و بیشتر مغربی گوروں اور اسرائیل کے ہمنوا  مصنفین ہی کا ذکرِ ہوتا ہے۔ اس کالم میں ان کے پسندیدہ گورے چسٹر بولس صاحب، امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے دور میں ایک امریکی ریاست کے گورنر اور  یہودی کمیونٹی  کیلئے آواز اٹھانے والی شخصیت مانے جاتے تھے۔ ان کے مطابق  ” تاریخی جملہ لکھنے والے ” دوسرے پسندیدہ  دانش ور،  آسٹن میلے کا تعلق فری سیکس قانون میں سرفہرست مغربی ملک ہالینڈ سے ہے اور وہ مغربی معاشرے میں ہم جنس پرستوں  کے حقوق کیلئے سرگرم فتنہ گر تھے۔ ان کے مذکورہ امریکی مصنف ڈاکٹر نورمین فنکلزٹن یہودی النسل اور مارک ایلس فلسطین میں یہودی آباد کاری کے زبردست حامی ہیں۔ علامہ اقبال اور ظفر علی خان جیسے مسلم شاعروں کو شاعری کا کچرا گردانے والے صحافتی ڈان جن انگلش شعرا کو کالموں میں شامل کرتے ہیں، ان میں اکثر و بیشتر آئزک روزنبرگ جیسے یہودی ہوتے ہیں۔ اسی لئے یہ غزہ پر صیہونی جارحیت کیخلاف آواز کی بجائے یہودی آقاؤں کی خوشنودی کیلئے فلسطینیوں کو دہشت گرد قرار دینے اور اسرائیل کو تسلیم کئے جانے کی احمقانہ باتیں کرتے ہیں۔ انہیں حضرت اقبال ہی نہیں،  البیرونی، جابر بن حیان، بو علی سینا، شیخ سعدی اور محمود درویش جیسے مسلمانوں کی عظمت کردار اور سنہری کارناموں کے ذکر سے بھی صرف اس لئے شدید کوفت ہے کہ یہ سب عظیم سائینس دان، دانشور اور شعرا مسلمان تھے۔

 حالیہ کالم ”  ٹیم ورک اور ہم ” میں لکھتے ہیں  کہ ، ” انتہائی تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ بیرون ملک سکھ اور ہندو بھی اس حوالہ سے کہیں بہتر ہیں۔ خاص طور پر سکھوں کا تو جواب ہی نہیں جو ایک دوسرے کیلئے ’’آؤٹ آف دی وے‘‘ جانے کو بھی ’’دھرم‘‘ سمجھتے ہیں اور ایک دوسرے کو اسٹیبلش کرنے کیلئے سب کچھ کر گزرتے ہیں” ۔

حسن نثار کو وہی سکھ قوم پسند آئی جو ان کی طرح ” دماغی ڈیفالٹر ” ہونے  کیلئے مشہور ہے۔ اسلام دشمن فطرت سے مالا مال ہستی کی پسندیدہ بھی وہی سکھ قوم ٹھہری کہ جس نے قیام ِ پاکستان کے وقت پاکستان ہجرت کرتے ہوئے مسلم مہاجرین کا بے دریغ قتل عام کیا۔ لیکن سکھوں کیلئے ان کے یہ کلمات ہی دراصل یہ حقیقت بیان  کر رہے ہیں کہ وہ ان سکھوں سے بھی بدتر ہیں جو اپنے ہم مذھبوں کا احترام و لحاظ کرتے ہیں۔ جبکہ حسن نثار وہ مسلمان ہیں کہ جن کے قلم اور زبان سے اپنے ہم مذہب اکابرینِ  ملت اور تاریخ کے عظیم حکمرانوں سے لیکر علامہ اقبال یا ساغر صدیقی جیسے نامور شعرا تک بھی محفوظ نہیں۔ صاحب اللہ کا شکر ادا کریں کہ وہ مسلمان ہیں اور اس سکھ قوم میں پیدا نہیں ہوئے جواپنے خلاف زبان کھولنے والوں کا  حشر اندرا گاندھی جیسا کرتی ہے۔ جتنی زبان درازی وہ مسلمانوں کیخلاف کرتے ہیں،  سکھ ہوتے ہوئے ایسی زبانی مہم جوئی، اگر اپنے ہم مذہب سکھوں کیخلاف کرتے تو کب کے انجہانی ہو چکے ہوتے۔ تلخ حقیقت ہے کہ مرزا غالب جنگ آزای میں انگریزوں کا ساتھ دیکر شاعروں، ادیبوں اور جدید میڈیا حضرات کیلئے قلمی تجارت کی ایسی مثال چھوڑ گئے کہ تقلید میں کوئی تحریکِ ماسکو کا غلام بن کر بڑا شاعر کہلوایا، کسی ادیب نے روشن خیالی اور کسی نے سامراجی جی حضوری کو اپنی شہرت اور حصول زر کی سیڑھی بنا لیا۔ لیکن گوروں کے غلام بکاؤ ایسے لکھاری ، مرزا غالب کے اس شعر میں چھپا ہوا وہ دردِ ندامت نہیں سمجھ پائے جو مرتے دم تک انگریز کی حفاظتی نظربندی میں قید،  مرزا غالب  کے دلِ پشیمان  میں رہا۔

بنا ہے شہہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا  — : —  وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے

( فاروق درویش ۔۔ 03224061000)

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

Featured

%d bloggers like this: