حالات حاضرہ ریاست اور سیاست

گمراہ بلاول ہے کہ بدمست سیاست


 لندن کے نرم گرم بستروں میں سو بار صدقے جانے والی گوری مٹیاروں کے  محبوب بلاول بھٹو  کی طرف سے مسلسل خلافِ مذہب اقوال و افعال ناقابل فہم بنتے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ” شدت پسند  لوگوں پر اپنے طرز کا مذہب مسلط  کرنا اور ملک میں تباہی پھیلا کر جنت کی جو حوریں لینا چاہتے ہیں، انھیں وہ نہیں ملیں گی “۔ احباب خیال رہے کہ یہ بات طالبانیت کی حمایت، اینٹی اسلامک گروہوں کی مخالفت اور سیاست سے بالکل ہٹ کے ہے کہ بلاول زرداری کی طرف سے پاکستان میں ایک عیسائی وزیراعظم کی انتہائی عجب خواہش اور مندر میں پوجا پاٹ کے بعد کسی مسلمان کو ان کی مذہبی وابستگی اور دماغی حالت کے بارے کوئی شک و شبہ نہیں رہ جانا چاہئے۔ اسلام کے بنیادی عقائد اور اللہ کے کلام میں موجود افکار و عقائد کی پیروی تو دور کی بات ہے ، انہیں دین کے بارے کسی شعور و آگہی کا قیاس و امید رکھنا بھی حماقت معلوم ہوتی ہے۔ بلاول زرداری بھٹو کو بلی کو چھچھڑوں کی خوابوں کے مصداق جنتی حوروں کے ذکر سے بھی اپنی وہ شعلہ بدن گوریاں یاد آتی ہیں جو بلاول ہاؤس سے لندن تک آغاز زمانہء بلوغیت سے ان کے ہمراہ موجود رہی ہیں۔

بلاول زرداری نے اسلامی فلاسفی پر جوعامیانہ و جاہلانہ اعترضات لگاتے ہیں، وہ علمی استدلال سے بڑھ کر تضحیک و تعریض کی سطح تک جا پہنچتے ہیں ۔ بلاول بھٹو کے حوروں سے متعلق بیانات پر ایک جاہل جیالے نے جس قابل اعتراض انداز میں جنت میں حوروں کی منظر کشی کی ، اس  سے ان بدبختوں کی ذہنی آلودگی اور گستاخانہ روش کا بخوبی اندازہ  لگایا جا سکتا ہے کہ، ” سہمی ہوئی حوروں کے پیچھے وحشی ملے بھاگ رہے ہیں ” ۔ جنت کی حوروں کو جنسی شہوت و تعلق کی ناپاک فلاسفی سے منسلک کر کے بازاری انداز میں تنقید کرنے والے احمقین توجہ کریں کہ سورۃ البقرہ کی آیت 25 میں ارشاد باری ہے، ” اور ان کیلئے بہشت میں پاکیزہ جوڑے (بیویاں یا شوہر) بھی ہوں گے اور وہ لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے”۔ میرا ماننا ہے کہ دین اسلام نے تو مادنیت اور روحانیت کے تصور ہی بدل ڈالے ہیں۔ ہمارا دین ترک دنیا، ترک جمالیات اور ترک لذت کا نام نہیں بلکہ یہ ان سب چیزوں کے درمیان رہ کر بھی ذاتِ الہی کی طرف سے نافذ کردہ حدود و احکامات کو یاد رکھنے کا نام ہے۔ ہمارا فلسفہء ہائے زندگی اور تصور جنت وہی ہے جو ہمیں کتاب الحکمت قرآن حکیم عطا کرتا ہے۔ قرآن کا یہی کہنا ہے کہ وہاں اللہ کے بندے اسی کی حضوری میں جیں گے اوراس کی نعمتوں سے استفادہ کر کے اس کا شکر بجالئیں گے۔

حوروں پر یہودی اور صلیبی برانڈ اعتراضات اٹھانے والے یاد رکھیں کہ حوروں کا مطلب وہی ہے جو قرآن مجید کے بیانات سے واضح طور پر سمجھ میں آتا ہے ۔ معاذ اللہ وہ حوریں اہل ثروت و اشرافیہ کیلئے سیاسی یا معاشی ڈیل میں ملا انعام و اکرام، ارباب مسند شاہی کی تسکین شہوت اور بلاول زرداری کو لندن میں جنسی عیاسشی کیلئے دستیاب گوری اور دیسی دوشیزاؤں یا ولائتی بوتل کے نشے میں ٹن دیسی مٹیار شرمیلا فاروقی جیسی نہ ہوں گی۔ بلکہ وہ اللہ کی طرف سے ملنے والی دیگر نعمتوں اور انعامات کے علاوہ بطور انعام ہر مرد و زن اہل جنت کو عطا ہوں گی۔ اکثر مفسرین و محققین کے مطابق یہ حوریں مردوں کیلئے عورتوں اور خواتین کیلئے مردوں کے روپ میں بھی ہو سکتی ہیں۔ عقلی دلیل بھی یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے عطا کردہ انعام کسی پلیدگی اور ناپاکی کیلیے ہرگز نہیں ہو سکتا ، سو ” حور” دراصل جنت میں جانے والوں کیلئے مذکر و مونث حسمانی حیثیت سے بلند ترایک ایسا انعام ہو گا جو بحر صورت دیناوی طرز کی تسکین شہوت سے بالا اور جنسیت سے ماورا ہو گا ۔

اگر سیکولر اور پلے بوائے ناقدین کے اس مفروضے کو فرض کر لیا جائے کہ حور مونث ہے تو ذرا سوچیے کہ جنت کی خواتین کیلئے ” مردوں کیلئے مونث حوروں ” کے مترادف انعام الہی کیا ہو گا ؟ چونکہ اللہ کی طرف سے احکامات اور فرائض مرد وعورت دونوں پر برابر ہیں اور نیکیوں کے بدلے میں انعام کی حقدارخواتین بھی ہیں تو اللہ کے انصاف حقیقی کے بعد “حور ” کے انعام کے حقدار صرف مرد ہی کیوں قرار نہیں پائیں گے کہ سب سے بڑا انصاف کرنے والا خدائے عظیم و برتر خواتین کو نیکیوں کا انعام نوازتے ہوئے ناانصافی کیسے کر سکتا ہے۔ لہذا انسانی عقل بھی یہ بات زیادہ تسلیم کرتی ہے کہ حورکا لفظ مذکر و مونث دونوں کیلئے استعمال ہوتا ہے اور قرآن حکیم میں مذکور ” پاکیزہ جوڑے” کا ذکر اس نظریے کی وکالت کرتا ہے۔ اس حوالے سے حور کے ذکر کو دنیاوی جنسی شہوت و لذتِ گناہ سے جوڑنے والے مسخروں کے دماغ میں شہوت وغلاظت میں لتھڑے ہوئے ناسوروں کے سوا کچھ اور نہیں۔ سو اپنی ہم جنس پرستی کیلئے مشہور بلاول اگر اب حور کو مذکر فرض کر کے اپنی ہم جنس پرستانہ ہوس کے من پسند معنی نکالیں تو ہم ان کیلئے صرف ہدایت یا ان کی والدہ جیسی ” عظیم شہادت ” کی دعا ہی کر سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری کا فرمانا ہے کہ چھوٹے صوبوں میں اس وقت تک امن نہیں ہوسکتا جب تک ملک کے سب سے بڑے صوبے میں دہشت گردوں کو پناہ ملنا بند نہیں ہوجاتی۔ وہ کہتے ہیں کہ ” ابھی تک ہماری اپنی جنگ ختم نہیں ہوئی اور آپ اپنے مشیروں کے مشورے پر دوسروں کی جنگ میں چھلانگ لگانے جا رہے ہیں”۔ انہیں  یہ بات کون یاد دلائے کہ تمام زندہ حقائق اور ان ہی کی سیاسی جماعت کے اکثر رہنماؤں کے بیانات کے مطابق متحدہ ملک کی سب سے بڑی دہشت گرد، بھتہ خور اور ٹارگٹ کلر جماعت ہے۔ جو گذشتہ برس ہا برس سے ان ہی کی سیاسی اتحادی بن کر گورنر ہاؤس سندھ سے لیکر سندھ کے شہری علاقوں کے گلی کوچوں تک موت اور دہشت کی علامت بن کر قابض رہی ہے۔ اس دہشت گرد تنظیم کا گورنر پی پی پی کی طرف سے انگنت طلاقوں کے باوجود  بھی کسی الف لیلوی رکھیل کی طرح گورنر ہاؤس سندھ کے حجرہء عروسی پر مسلسل قابض رہا ہے۔  سندھ میں ایک عرصہ قائم رہنے والے اس سیاسی اتحاد کے ہر دو اراکین سیاسی بندر بانٹ میں تمام اصول سیاست و ریاست کو بالائے طاق رکھ کر انتہائی ڈھٹائی سے عوام کا خون چوسنے اور معصوم شہریوں کا قتل عام کرنے میں ملوث رہے ہیں۔ دلچسب امر ہے کہ سندھ میں بلدیاتی قوانین اور مالیاتی فنڈز سے لیکر افسران کی تقرریوں تک تمام معاملات میں کبھی یہ دونوں ایک دوسرے کے ابن الوقت حلیف اور کبھی دکھاوے کیلئے طلاق یافتہ میاں بیوی کے بعد بنا حلالہ از سر نوبہاتہ جوڑا بنتے رہے ہیں۔ یہ حقائق بلاول  کیلئے باعث شرم اور جیالوں کیلئے بھی قابل فکر ہیں کہ لندن میں گوری مٹیاروں کے ہمراہ قیام کے دوران ان کی سیکورٹی پر سالانہ  بارہ ارب روپیہ خرچ کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن بھٹو اور بی بی شہید کے مقبروں کی بستی گڑھی خدا بخش سمیت سینکڑوں سندھی گوٹھوں کے لاکھوں لوگ  فاقوں سے بے حال اور ہزاروں مر رہے ہیں۔ عوام کو یاد رہے کہ جب ملک میں سیلاب زدگان ڈوب رہے تھے تو غریبوں کے ہمدرد بلاول زرداری اپنی بہنوں اور باپ کے ساتھ فرانس میں شاپنگ  اور یورپی ساحل سمندر کی مدہوش ہواؤں کے مزے لوٹ رہے تھے۔ بلاول کی اس طویل وقتی تلوار زنی کے جواب میں حقائق کی تھری ناٹ تھری کی یہی ایک گولی بہت کافی ہے کہ ان کی والدہ اور والد محترم سمیت اس ملک کا ہر حکمران کاسہ بردار غلام صلیباں اور کشکول بردار غلام ِ عرب و عجم رہا ہے۔ سچ یہ ہے کہ اگر ملک لوٹنے والے زرداری اور بی بی شہید کی لوٹی ہوئی قومی دولت ملک میں واپس لائی جائے تو ملکی دفاع کیلئے درکارتمام ضروری  فنڈز بھی دستیاب ہوں گے اور مفلس عوام بھی خوشحالی کی زندگی بسر کر سکیں گے ۔ بلاول اینڈ کمپنی کو  ان میاں برادران کو دعائیں دینی چاہئیں جو ابھی تک انہیں سڑکوں پر گھسیٹنے اور مغربی بینکوں سے قوم کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے انتخابی وعدوں سے ایک فیصد بھی انصاف ہی نہیں کر پائے۔

یاد رہے کہ ملالہ صاحبہ کی طرح بلاول  زرداری نے بھی مذہبی قوتوں پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ وہ پاکستان کو ” پتھرکے دور” میں واپس لے جانا چاہتے ہیں۔ مگر صورت احوال یہ ہے کہ درحقیقت ان کی سیاسی جماعت نے اپنی عیاشیوں میں مگن ہو کر تھر کو بھوک سے سسکتی موت کی وادی بنا کر مظلوم عوام کو پتھر کے زمانے میں دھکیل دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مذہب پسند طالبان ظلم اور تشدد سے وحشت کا قانون نافذ کرنا چاہتے ہیں مگر حقائق یہی بتاتے ہیں کہ سندھ کے گوٹھوں سے لیکر لیاری تک انہوں نے اور حیدر آباد سے لے کر کراچی تک کے شہری علاقوں میں ان کی سیاسی اتحادی ایم کیو ایم نے ایک مدت تک ظلم و تشدد اور وحشت و بربریت کا بازار گرم کئے رکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مذہبی شدت پسندوں کو اس وقت سے ڈرنا چاہیے جب پوری قوم ان کے خلاف کھڑی ہو گی مگر افسوس کہ یہ مرد نرم و نازک خود بلٹ پروف کیبن کے بغیر سٹیج پر کھڑے ہونے سے بھی انتہائی خوف زدہ ہیں۔ بلاول کہتے ہیں کہ ” مذہبی لوگ ملک میں دہشت کا نظام رائج کرنا چاہتے ہیں لیکن میں انھیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ اگر پاکستان میں رہنا ہے تو اس کا آئین ماننا ہوگا، ہم دہشت گردوں کے قانون کو نہیں مانتے، ہم مسلمان ہیں اور دہشت گردوں کو ہمیں اسلام کے بارے میں تعلیم دینے کی ضرورت نہیں “۔ لیکن کیا کہنے کہ وہ مسلمان ہونے کا دعوی تو کرتے ہی لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک عیسائی وزیراعظم دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔ وہ پاکستان کے آئین کو ماننے کی بات تو کرتے ہیں لیکن ہمیشہ سے اس ملکی آئین کی ہی نہیں بلکہ آئین قدرت کی پامالی تک ان کے خاندان کا وطیرہء خاص رہی ہے۔ انہیں ” راسخ العقیدہ لوگوں ” سے اسلامی تعلیمات کی کوئی ضرورت نہیں تو وہ احکامات الہی اور قرآن حکیم کی تعلیمات کی ہی پیروی کرلیں۔ جن کی رو سے ان پر لندن کی گوری پریاں یا سندھی سیاست کی  دیسی بجلیاں حرام اور مادر پدر آزاد زناکاری و ہم جنس پرستانہ عیاشی گناہ ٹھہرتی ہے۔ بلاول صاحب کو یاد رہے کہ وہ نیے نیے جوان ہونے سے لے کر اب تک جن خوبصورت کرتوتوں کے مرتکب ہو رہے ہیں وہ صرف اسلام میں ہی نہیں، صرف قرآن حکیم میں درج احکامات الہی کے مطابق ہی نہیں، عیسائیت اور بدھ مت سمیت دنیا کے تمام مذاہب میں گناہ اور صرف گناہ کا درجہ رکھتی ہیں۔ یقین نہ آئے تو کسی گرجا گھر پر لکھی یہ لائن پڑھ لیں کہ ” گناہ کی مزدوری موت ہے”۔

مودبانہ عرض ہے کہ بلاول زرداری کسی نوزائیدہ بچے کی طرح چیخ و پکارانہ  تقاریر میں ، مذہب و مسلک پر عامیانہ انداز کی تنقید اور امت مسلمہ کے عظیم  پاکستانی مجاہد حمید گل جیسے قومی سپوتوں کے بارے ہرزہ سرائی کی بجائے پہلے اپنے اصل مذہب اور عقائد کا اعلان کریں ۔ لیکن انہیں  یاد رہے کہ اسلام کا مطلب واشنگٹن اور نیو دہلی یا ہندوتوا کے آلہ کار دہشت گردوں  کا پسندہدہ  اسلام نہیں، قرآن و حدیث اور شریعت محمدی کا امن و سلامتی کا دین اسلام ہے اورعیسائیت سے مراد لندن اور نیویارک کے ہم جنس پرستوں کا خود ساختہ عیسائی مذہب نہیں بلکہ عہد نامہ قدیم و جدید کی بائیبل کا مذہبی و اخلاقی فلسفہ ہے۔ دعا گو ہوں کہ  بلاول صاحب اس عہد ِ جوانی ہی میں تائب ہو کر قرآن و سنت کے تابع ایک سچے مسلمان،  محب وطن پاکستانی اور بالغ النظر سیاست دان کے روپ میں سامنے آئیں کہ در جوانی توبہ کردن شیوہء پیغمبری ۔۔۔

( فاروق درویش — واٹس ایپ کنٹیکٹ — 03224061000  )

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: