بین الاقوامی حالات حاضرہ ریاست اور سیاست

بغداد کے ہلاکو اور اسلام آباد کا امریکی سفارت خانہ


امریکی یا نیٹو افواج کا سات سمندر پار ملکوں میں انسانی حقوق کی نام نہاد رکھوالی کیلئے غاصبانہ دراندازی کوئی نئی بات نہیں۔ سامراج اور مغربی طاقتوں یا ان کے حواریوں کے ایسے خود ساختہ بہانے اور ان کے نتیجے میں امت مسلمہ کا قتال تاریخ کا حصہ رہا ہے۔ چنگیز خان کے بعد خان اعظم کہلانے والا اس کا پوتا منگو خان تخت نشین ہوا تو شمال مغربی ایران میں اسماعیلی گروہ حشاشین نے ایک عجیب فتنہ و ہنگامہ اور خونریزی شروع کررکھی تھی۔ چونکہ یہ علاقہ منگولوں کے زیر حکومت تھا اس لیے وہاں کے مقامی باشندوں نے ان دہشت گردوں کے ظلم و ستم کے خلاف منگول حکمران منگو خان سے مدد کی فریاد کی۔ جس نے اس شکایت پر اپنے بھائی ہلاکو خان کو ایران کا حاکم بنا کے اسے اسماعیلیوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے حکم دیا ۔ تاریخ کے مورخ یا طالب علم کیلئے یہ حکم ایسا ہی تھا جیسا صدر اوبامہ نے امریکی اور نیٹو فوجوں کو طالبان کیخلاف ڈرون حملوں سمیت ہر سخت ایکشن کا دے رکھا ہے۔ تاریخ کے قاری جانتے ہیں کہ فتنہء دہر حسن بن صباح نے اس دہشت گرد خفیہ جماعت حشاشین کی بنیاد رکھی تھی، جس کا مرکز ایران کے شمال مغربی شہرالموت میں قلعہ الموت تھا۔ میرا حق الایمان ہے کہ جب کبھی بھی مخلوق خدا پرظلم اک انتہا کو پہنچتا ہے تو قدرت ظالمین کی ہلاکت کیلئے کچھ انوکھے ہی بندوبست کرتی ہے۔ بے شک مالک کائنات جس سے جب چاہے کچھ ایسے کام بھی لے لیتا جو انسانی عقل و فہم سے ماورا ہوتے ہیں۔ سو اس داستان میں بھی قدرت کی کوئی حکمت اور راز پوشیدہ تھا، کہ دجالی نظریات کے فتنہ گر حسن بن صباح کے پیروکارایک ظالم گروہ کو ہلاکت خیز انجام تک پہنچانے کیلئے ایک دوسرے ظالم گروہ منگولوں کے سفاک حکمران ہلاکو خان نے ختم کیا۔ ہلاکو نے قلعہ الموت کو فتح کرکے حسن بن صباح کے آخری جانشین امام رکن الدین کو گرفتار کیا اور بعد ازاں آخری اسماعیلی بادشاہ خور شاہ کو اس کے ہزاروں فدائیوں سمیت بڑی بے رحمی سے قتل کر کے دہشت گرد اسماعیلی حکومت کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ کردیا۔ اسماعیلیوں کے خاتمے کے بعد ہلاکو خان نے سیدھا بغداد کا رخ کیا جو اس زمانے میں فرقہ واریت اورشیعہ سنی فسادات کا گڑھ بنا ہوا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ مستعصم بالله وہ آخری عباسي خلیفہ تھا جس کے دور میں اسی کے ایک شیعہ وزیر ابن علقمی کی دعوت پر ہلاکو خان کی ظالم منگول فوجوں نے وحشیانہ انداز میں حملہ آور ہو کربغداد کو تباہ و برباد کیا تھا۔ بغداد کی ہولناک تباہی کے بعد خلیفہ مستعصم بالله کو ایک قالین میں لپیٹ کر گھوڑوں کے سموں سے کچھ اس طرح ہلاک کیا گیا کہ خون کی ایک بوند تک زمین پر نہ گر سکے۔ دراصل غدار ملت ابن علقمی نے انتہائی توہم پرست منگولوں کو اس بات کا یقین دلایا تھا کہ اگرمسلمان خلیفہ کے خون کا ایک قطرہ بھی دوران ہلاکت زمین پر گرا تو وہ خون رنگ لا کر منگولوں کی تباہی کا روحانی سبب بن سکتا ہے۔

صد حیرت کہ ہمارے حکمرانوں کو جامعہ حفصہ میں چند بندوقچیوں اور معصوم  و نہتی بچیوں کیخلاف  کمانڈو ایکشن لینا فرض ٹھہرتا ہے لیکن بلوچستان اور کراچی میں بھارتی مداخلت اور امریکی اسلحہ برداروں کی دہشت گردی یا امریکی سفارت خانے میں سی آئی آے کی مشکوک سرگرمیاں قطعی نظر نہیں آتیں۔ حقائق چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ گذشتہ دس برسوں میں امریکی سفات خانے کا حجم بیس گناہ بڑھ چکا ہے۔ سفارت خانے کی وسیع و عریض عمارت میں ایٹمی اسلحہ سے محفوظ جدید ترین بنکروں اور تین ہزار سے زائد ایلیٹ فورس کے کمانڈوز کی موجودگی میں امریکی سفارت خانہ ایک جدید صلیبی فوجی قلعے کا منظر پیش کر رہا ہے۔ ہیروشیما اور ناگا ساکی کے امن گرد قاتلوں کے مذموم عزائم دہشت گردی کےخلاف نام نہاد افغان جبگ اور عراق و شام کی فتن دوزیوں سے یہاں وعیاں ہیں ۔ مگر مشرف اور زرداری سمیت موجودہ حکمران تمام ممکنہ خطرات اور حساس نوعیت کے خدشات سے کلی بے پروا ہو کر اپنی دو رنگی سیاہ ست میں مگن ہیں۔ خدا جانے کہ آنے والے مورخ ہمارے کل اورآج کے ناعاقبت اندیش و اقتدار پرست حکمرانوں کے بارے کیا لکھیں گے، لیکن تاریخ کے کھرے ناقدین کے مطابق اس آخری عباسی خلیفہ کا سولہ سالہ دور خلافت زیادہ ترعیش وعشرت، شراب و شباب اور سیاسی و انتظامی غفلت میں گزرا۔ وہ شخص بھی مشرف اور زرداری اینڈ کمپنی کی طرح اپنی حسن پرستی،جنسی شہوت اور ست رنگی عیاشی کے نشے میں اس قدر بدمست تھا کہ اسے اپنے وزیروں کی غداری، منگول یلغار اور ان کے ہاتھوں اسلام کی نسل کشی و بیخ کنی کا قطعی ادراک نہ ہو سکا۔ کھلی آنکھوں سے حالات حاضرہ کا جائزہ لیا جائے تو سامراجی اور نیٹو افواج کی دراندازی یا اسلام آباد میں مسلسل پھیلتے ہوئے امریکی سفارت خانے کے پس پردہ حقائق اورصورت حال سقوط بغداد اورسقوط ڈھاکہ کے خون آشام قصوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں۔

بغداد کی تباہی کے وقت رنگیلے عباسی خلیفہ کی حکومتی دسترس اورلاپرواہی کا یہ عالم تھا کہ اس کا غدار وزیرابن علقلمی اس کے پہلو میں بیٹھ کر منگولوں سے خط و کتابت کرکے انہیں بغداد پر حملہ کرنے کی ترغیب دیتا رہا مگر وہ حالات سے بے خبر یا اپنے حال میں مست ہو کر خاموش تماشائی بنا رہا۔ شہرِ بغداد کو تیر و تاراج اور مسلم علمی ورثے کو تباہ و برباد کرنے کے بعد ہلاکو خان نے پورے عراق پر قبضہ کرلیا۔ بصرہ اور کوفہ کے عظیم علمی مراکز اور شہری بستیاں تمام علمی و ثقافتی ورثوں سمیت تباہ و برباد کردی گئیں۔ منگو خان کی موت کے بعد ہلاکو خان نے ایران میں اپنی مستقل حکومت قائم کرلی جو ایل خانی حکومت کہلاتی تھی۔ اس نے تبریز سے ستر میل جنوب میں واقع مراغہ کو اپنا دارالحکومت بنایا جسے بعد ازاں تبریزمنتقل کردیا گیا۔ ہلاکو نے امت مسلمہ سے بغض رکھنے والے یورپ کی تائید اوراپنی مملکت کے آرمینی اور گرجستانی باشندوں کی مدد سے اسلامی ملک شام پر حملہ کر دیا۔ منگول فوجیں نصیبین، رہا اور حران کے شہروں کو تباہی سے ہمکنار کرتے ہوئی حلب تک پہنچ گئیں۔ پچاس ہزار سے زائد مردوں کے وحشیانہ قتل عام کے بعد ہزاروں مجبورعورتوں اور معصوم بچوں کو غلام بنا لیا گیا۔ منگول فوجیں اسی طرح بے دریغ قتل و غارت کرتی اور تباہی و بربادی پھیلاتی ہوئی فلسطین پہنچ گئیں۔ جہاں ناصرہ کے جنوب میں عین جالوت کے مقام پر مصر کے مسلم جوانمرد مملوکوں نے ایک خونریز جنگ میں ان کو شکست فاش دے کر پورے شام سے باہرنکال دیا اور اس طرح مصر منگول بھیڑیوں کے ہاتھوں تباہی سے بچ گیا۔ ہلاکو کےبعد اس کا بیٹا اباقا خان تخت نشین ہوا اس نے بھی اپنے باپ کی اسلام دشمن حکمت عملی جاری رکھی۔ پوپائے روم اور یورپ کے حکمرانوں سے قریبی تعلقات قائم کئے اورعیسائیوں کو بیت المقدس پر قبضہ کرنے کیلئے آمادہ کیا۔ سیاست اور صاحبان اقتدار کے حوالے سے میرا تلخ مگر حق پر مبنی موقف ہے کہ ایوان حکومت تک پہنچنے والے اصحاب سیاہ ست کا کسی دین، مذہب یا مسلک سے کوئی حقیقی تعلق نہیں ہوتا۔ حصول اقتداراور طوالت اقتدار کیلئے کہیں مذہب و مسلک اور دین و ایمان  قربان کر دینا  اور کبھی اپنے ہی پیاروں اور قریبی عزیز و اقارب تک کا قتل و قتال، عین کامیاب  سیاسی حکمت عملی ثابت ہوا ہے۔

سلطان صلاح الدین ایوبی اور ٹیپو سلطان جیسے چند ایک مسلم حکمرانوں کے علاوہ اکثر حاکموں کی داغدار تاریخ، منافقت در منافقت، اپنے ذاتی وسیاسی مفادات کیلئے قوم و ملت سے بیوفائی اوراغیارسے وفاداری سے بھری پڑی ہے۔ اور یہ مفادیاتی طرز سیاست و حکومت صرف عرب و عجم کی مسلم تاریخ کا ہی نہیں بلکہ زمانہ قدیم کے رومن بادشاہوں، مغربی صلیبی ریاستوں اور قدیم برصغیر کی مہان سلطنتوں کی سیاہ و سفید تاریخ کا بھی جزوء حیرانی رہا ہے۔ سیاسی کامیابیوں کیلئے مذہبی لبادے اوڑھنا، دشمن کو دوست اور دوست کو دشمن بنانا یا دوستوں کو دغا دیکر سیاست میں کامیابیاں حاصل کرنا ہی سیاستی اور ریاستی کامیابیوں کی سنہری کنجی رہا ہے۔ سو کچھ تعجب نہیں کہ ہلاکو خان کی جو اولاد ایران اورعراق پر حکمران رہی وہ مسلم آبادی کی مذہبی و جذباتی ہمدردیاں حاصل کرنے کیلئے حلقہ بگوش اسلام ہوئی یا مسلمانوں کی ہمدرد اور دوست بن گئی۔ ہلاکو کا بیٹا احمد تکودار اسلام قبول کرنے والا وہ پہلا منگول  حکمران تھا جو بعد ازاں قبول اسلام کے اسی ” جرم ” کی بنا پر شہید کر دیا گیا۔ چونکہ چین، منگولیا اور کوریا بدھ مت کے پیروکاروں کی اکثریت تھی لہذا وہاں حکومت کرنے والی اس کی اولاد نے بدھ مت اختیار کیا۔ چنگیز کے سیاسی فہم رکھنے والے بیٹے اوکتائی خان نے اپنی نو سالہ حکومت میں مسلمانوں سے باقی بھائیوں کی نسبت بہترسلوک کیا۔ مسجدوں کو دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت دی گئی۔ اجڑے ہوئے شہروں کو بسایا گیا ۔ تاریخ کے ناقدین لکھتے ہیں کہ اوکتائی خان نے ریاست کے مسلمان علاقوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کیلئے عدل قائم کیا اور عام رعایا کی پرورش کی۔ دراصل اوکتائی خان ہی مغل بادشاہ جلال الدین اکبرکا وہ نظریاتی پیشرو اور پہلا منگول حکمران تھا جس نے طوالت اقتدار کیلئے مسلمانوں سے بھائی چارے اور سماجی بندھنوں کے ساتھ باہمی شادیوں کو رواج دیا تھا۔ بعد ازاں یہی اسلوب سیاست اپنا کر ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی اور بدھ مت کے نو رتنی امتزاج سے ” دین اکبری ” نامی چوں چوں کا مربہ مذہب بنا کر اٹھاون برس تک حکومت کرنے والا مہان اکبر بادشاہ ” مغل اعظم ” کہلوایا۔

چنگیز کےدوسرے بیٹے چغتائی خان کی تحویل میں باپ کی زندگی میں ہی ماوراالنہر، قازقستان، کاشغر اور ترکستان کےعلاقے تھے۔ اس نے اپنے باپ کی عاقلانہ وصیت کے مطابق، دور حاضر کے باہمی رشتہ داریاں مظبوط کرنے والے ذہین سیاست دانوں کی طرح  اپنے سیاسی اور انتظامی سوج بوجھ رکھنے والے وزیراعظم قراچار نوئیاں سے بیٹی توکل خانم کی شادی کر کے رشتہ داری قائم کی، اسے اپنے علاقوں کا انتظام سپرد کر کے خود اپنے بھائی اوکتائی خان کے پاس سکونت اختیار کر لی اور امور سلطنت میں اس کا پاتھ بٹاتا رہا۔ چغتائی خان بھی اپنے باپ کی طرح مسلمانوں کا بدترین دشمن تھا، سو قدرت کے انتقام کا شکار ہو کرعجب غیر طبعی موت مرا۔ چغتائی خان کی موت شکارگاہ میں اپنے ہی پھینکے ہوئے اس بازگشتہ تیر سے ہوئی جو اس کی پشت پہ لگ کر جان لیوا ثابت ہوا۔ چنگیز کے پوتے ہلاکو خان کا بیٹا اباقا خان باپ کے ساتھ ایران آیا اور اس کی وفات پر وارثِ سلطنت بنا۔ اباقا خان کا جانشین اس کا بھائی احمد تکوداربنا جو صدق دل سے اسلام قبول کر چکا تھا۔ بادشاہی حاصل کرتے ہی تکودار خان نے اعلانیہ اسلام قبول کیا اور اپنا اسلامی نام احمد رکھا۔ احمد تکودار کے اسلام قبول کرنے پر مغرب و مشرق کی صلیبی و  غیر مسلم طاقتوں نے اس کی حکومت کے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔ یورپی آشیرباد کے ساتھ اباقا خان کے بیٹے ارغون خان نے اس کے قبول اسلام پر تاتاری امراء کو برانگیختہ کیا مگر احمد تکودار نے بزور قوت یہ شورش دبا دی اور ارغون کو قید و جیل میں ڈال دیا۔ لیکن کچھ مدت بعد یورپی کٹھ پتلی تاتاری امراء نے پھر بغاوت کر دی اور ارغون کو قید سے رہا کروا کر بادشاہت سونپ دیا۔ احمد تکودار فرار ہوتے ہوئے گرفتار ہوا اور یوں صرف دو سال تین مہینے کی حکومت کے بعد بیدردی کے ساتھ شہید کر دیا گیا۔ ایران کا چھٹا ایل خانی حکمران ہلاکو خان کا پوتا، بیدو خان تھا۔ اس کے پیشرو گیخاتو خان کو گلا گھونٹ کر قتل کرنے کے بعد باغیوں نے بیدو خان کو تخت نشینی کی دعوت دی مگر اس کا دوسرا چچیرا بھائی غازان خان جو ارغون خان کا بیٹا اور گیخاتو خان کا بھتیجا تھا، اس سے مقابلے کیلئے خراسان سے لشکر لے کر چچا کا بدلہ لینے کے لیے میدان میں نکل آیا۔ لیکن ریاستی امرا کی مداخلت سے دونوں میں ایک عارضی سی صلح ہوگئی۔ کچھ عرصے بعد جب دوبارہ لڑائی شروع ہوئی تو اس کا فیصلہ غازان خان کے حق میں گیا۔غازان نے اپنے سپہ سالار نوروز کی ایمانی تحریک پر اسلام قبول کر لیا اور اس طرح اسے مسلمانوں کی حمایت حاصل ہوگئی۔ بیدو خان کے طرف داروں اور حواریوں نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا، جس کے بعد اسے قتل کردیا گیا۔ بعض مورخوں کے نزدیک اس نے بھی اسلام قبول کر لیا تھا اور وہی  اس کے خلاف بغاوت اور قتل کا سبب بھی بنا۔

ایل خانی ایک ایسی منگول خانان سلطنت تھی جس کی بنیاد دراصل خوارزم شاہی مسلم سلطنت پر ایک درندے چنگیز خان کی طوفانی یلغار اور وحشیانہ قتل عام کی خونی مہمات پر قاائم ہوئی تھی- تلخ ترین سچ اور شرمناک حقائق یہی ہیں کہ ہلاکو خان کو مسلم ریاستوں پر حملوں کی ترغیب دینے والے بھی امت مسلمہ کے اپنے غدار ہی تھے۔ مقام حیرت ہے کہ شاہی طبیبوں کی طرف سے جنسی تعلقات سے سخت منع کرنے کے باوجود کہ منگول سلطنت کے بانی ضدی چنگیز خان نے نشہء حسن اور جنسی تعلقات کیلئے جان دے دی۔ مقام عبرت ہے کہ ایک عجیب اور پراسرار وصیت کے مطابق اسے صحرا میں کسی نامعلوم مقام پر دفن کیا گیا۔ تدفین کے وقت موجود چند لوگوں کو اس کی تدفین کے فوراً بعد اس کے انتہائی وفادار عزیزوں نے صرف اس لئے قتل کر دیا کہ اس کی قبر کا مقام اور جگہ جاننے والا کوئی شخص زندہ نہ رہے۔ سو بربریت اور سفاکی کی علامت اس بھیڑیا صفت انسان کی قبر کا آج کہیں نام و نشان یا اتہ پتہ تک موجود نہیں۔ بعد ازاں اس کے پوتے ہلاکو خان نے اور خطوں کو فتح کرکے اپنے علاقے کا نام ایل خانی سلطنت رکھ دیا- دلچسب بات ہے کہ خود کو مقتدر کل گرداننے والے ہلاکو خان نے اپنا خطاب “ایل خان” یعنی “ماتحت خان” رکھا تھا، جس سے وہ اپنے آپ کو منگول سلطنت کی سرپرستی میں ان کا وفادار ثابت کرنا چاہتا تھا- لہذا عین ممکن ہے کہ کبھی ہمارے سامراجی غلام حکران بھی اپنے آقاؤں سے وفا کے اظہار کے طور پر پاکستان کا نام سامراجی جمہوریہ پاکستان رکھ دیں۔

ہلاکو خان کی سلطنت کا بیشتر حصہ ایران پر مشتمل تھا، جبکہ اس میں موجودہ عراق، افغانستان، ترکمانستان، آرمینیا، آذربائیجان، جارجیا، ترکی اور پاکستان کے علاقے بھی شامل تھے- ابتدا میں ایل خانی سلطنت کے حکمرانوں نے بھی آج کل کے حکمرانوں کی طرح نظریہء ضرورت کے مطابق بہت سے مذاہب اور نظریات کو اپنایا ، لیکن وہ خاص طور پر اپنی ریاست کی زیادہ آبادی کا مذہب ہونے کی وجہ سے بدھ مت اور اسلام دشمن مغرب کے حواری ہونے کے ناطےعیسائیت کے زیادہ خیرخواہ تھے- احمد تکودار جیسے جن منگول حکمرانوں نے اسلام قبول کیا وہ یورپ اور دوسرے اسلام دشمن عناصر کے عتاب و انتقام کا شکار بن کر آنے والے تمام حکمرانوں کو یہ خاموش پیغام دے گیے کہ ملک و ملت اور دین اسلام سے وفا نبھانے والوں کیلئے حصول اقتدار مشکل اور طوالت اقتدار ہمیشہ ناممکن رہے گا- ہلاکو خان نے سقوط بغداد کے سات سال بعد تک ایران پر حکومت کی- بعد ازاں اس کے خاندان کے آٹھ بادشاہوں کی حکومت کے بعد اس خاندان کا عبرت انگیزانجام یہ ہوا کہ درندگی اور سفاکی کی علامت سقوط بغداد کی مجرم ایل خانی سلطنت کا آخری بادشاہ ابوسعید بہادر خان لاوارث ہو کر اس جہان فانی سے کوچ کر گیا۔ اسی طرح سقوط ڈھاکہ کے مرکزی کردار ذوالفقارعلی بھٹو، ان کے دونوں بیٹے اور بعد ازاں بیٹی انتہائی غیر فطری موت کے بعد ” شہید” بنے اس جہان فانی سے کوچ کر گیے، جبکہ اس سانحہ کا ایک اور ننگ دین و ملت کردار مجیب الرحمن بھی صرف چند برس حکومت کے بعد اپنے خاندان سمیت ہولناک انجام کو پہنچا۔ کاش ایوان اقتدار و حزب اختلاف میں بیٹھے تمام سیاسی جادوگر اور مغربی غلام، وقت کی دیوار پر صاف لکھا وہ سب کچھ از خود پڑھ لیں جسے قوم کا ہر معصوم بچہ، دکھی بوڑھا اور سہما ہوا جوان خوف اور قہر کی ملی جلی نظر سے دیکھ رہا ہے ۔

( فاروق درویش ۔۔ واٹس ایپ ۔۔ 03224061000)

 

اپنی رائے سے نوازیں

%d bloggers like this: