بین الاقوامی حالات حاضرہ

بھیڑیے شہرِ محبت کے سفیرِ امن تھے ۔ وار آف ٹیرر حصہ اول


افغانستان پر تیرہ سالہ غاصبانہ قبضہ مہم کے بعد آخرکار امریکی افواج کی واپسی شروع ہو چکی ہے۔ پاکستانی عسکری قیادت اور حساس اداروں پر دہشت گردوں کی معاونت کے احمقانہ الزامات لگانے والے مغربی مہم جوؤں اور عالمی سیاست کے دو رنگی امریکی وار لارڈز کی  دوغلانہ پالیسی اور کھلی منافقت، آئیندہ افغان طالبان لیڈروں ملا عمر اینڈ کمپنی کیخلاف حملے نہ کرنے کے حیران کن ” صلح جو پیغام ” سے عیاں ہو چکی ہے۔ امریکہ کا افغان طاللبان سے خفیہ سمجھوتہ اور پاکستان میں مبینہ دہشت گردی کیلئے سرگرم بھارتی کٹھ پتلی عناصر کی خفیہ سرپرستی اس کی دو رنگی پالیسی کی کھلی دلیل ہے۔ عالمی امن کے نام نہاد ٹھیکیدار ” امن گرد امریکی بھیڑیے” کا کردار عریاں ہو چکا ہے۔ خدشات ہیں کہ امریکہ آئیندہ پاکستان میں موجود ان نام نہاد ” پاکستانی طالبان ” کو اب پاکستان کیخلاف پراکسی وار اور مذموم دہشت گردانہ مقاصد کیلئے استعمال کرے گا جن کی اصل ڈور امریکی ، مغربی اور بھارتی ہاتھوں میں ہے۔ امریکہ نے خود ساختہ نائن الیون ڈرامہ کا بہانہ بنا کر افغانستان پر حملہ کیا تو اس کا اصل مقصد افغانستان میں پاکستان کی ممکنہ حلیف مسلم حکومت کا قیام روکنا اور خطے میں امریکی و بھارتی مفادات کا تحفظ تھا۔

بھیڑیے شہرِ محبت کے سفیرِ امن تھے : خون آنکھوں کا جہاں ٹپکا وہیں ٹھہرا رہا

 یاد رہے کہ پنتیس برس قبل روس نے بھی افغانستان پر غاصبانہ قبضہ کیلئے حملہ کیا تھا۔ لیکن پاکستانی عسکری اداروں اور افغان مجاہدین کی مشترکہ حکمت عملی کے باعث شرمناک شکست کے بعد جب اس کی فوج افغانستان سے واپس گئی تواشتراکی وار لارڈ روس ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ مشتری ہوشیار باش کہ تاریخ خود کو دہرانے جا رہی ہے۔ افغانستان پر امریکہ نے بھی روس جیسا غاصبانہ قبضہ جمائے رکھا، جہاں سے وہ بھی روس ہی کی طرح شکسکت خوردہ نکل رہا ہے۔ اہل علم و دانش کو یقین ہے کہ سامراجی استعمار کے بادشاہ گر امریکہ کا انجام بھی روس جیسا ہی ہو گا۔ یاد رہے کہ اس تیرہ سالہ جنگ میں امریکہ کو اب تک سات کھرب ڈالرز کے اخراجات اٹھانے پڑے ہیں ۔ جبکہ افغانستان میں موجود اسی کھرب ڈالرز کی مالیت کے فوجی ساز و سامان کی واپسی کیلئے ساٹھ ارب ڈالر خرچ آئے گا۔ شکست در شکست کے صدمات سے دوچار امریکہ کیلئے باعث تشویش ہے کہ چالیس فیصد سے زائد برگر خور امریکی فوجی ہوم سکنس اور نفسیاتی امراض سے دوچار ہیں۔ جبکہ حواس باختہ امریکی اور بھارتی میڈیا حسب معمول افواج پاکستان اور پاکستانی حساس اداروں کیخلاف زہریلا پراپیگنڈا مہم میں مصروف ہے۔ پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنانے والے احسان فراموش امریکی یاد رکھیں کہ افغانستان میں ان کا تیرہ سالہ قیام ہمیشہ ہی سے پاکستان کی مدد و معاونت کا مرہون منت رہا ہے۔ اقوام عالم گواہ ہیں کہ امریکہ کی طرف سے مسلط کردہ وار اگینسٹ ٹیرر میں افواج پاکستان، حساس اداروں  اور قوم  نے ناقابل فراموش قربانیاں دی ہیں۔ امریکہ کی محفوظ واپسی کے حوالے سے  روسی صدر پوٹن کی طرف سے کسی بھی مدد سے انکار کے بعد اب صرف پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جو امریکہ کے فوجی سازوسامان کی افغانستان سے واپسی میں مدد کر سکتا ہے۔

 یاد رہے کہ افغانستان پر حملہ کرتے وقت پاکستان کا راستہ بند ہونے کے دوران امریکہ کو ایک انتہائی مہنگا اور طویل راستہ استعمال کرنا پڑا تھا جو روس کے راستے وسطی ایشیا اور پھر افغانستان آتا تھا۔ امریکہ سامان باہر نکالنے کیلئے بھی اگر وہی راستہ اختیار کرے تو مرحلہ  طویل اور مہنگا ثابت ہو گا۔ اس حوالے سے اہم ہے کہ ہم امریکہ کو واپسی کیلئے راستہ اور  مدد کے عوض اپنے ملکی مفادات کے تحفظ کیلئے کیا سودا کاری کرتے ہیں۔ روس کیخلاف افغان جنگ کے ہیرو اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل نے ایک تبصرے میں درست کہا تھا کہ جب تک امریکہ بھارتی جارحیت کیخلاف آواز اٹھانے اور کشمیری عوام کی حق خودارادیت کے حصول میں مدد نہیں کرتا، پاکستان کو امریکہ سے کوئی تعاون نہیں کرنا چاہئے۔ لیکن افسوس کہ ہم افغان جنگ میں بے پناہ قربانیاں اور پچاس ہزار شہادتیں دینے کے باوجود خطے میں اپنے قومی مفادات کے تحفظ کیلئے امریکہ سے کامیاب بارگین میں ہمیشہ ہی  ناکام رہے ہیں۔ قابل توجہ ہے کہ افغانستان سے نکلتے ہوئے امریکہ، گوادر کی بندرگاہ چین کو دینے اور ایران کے ساتھ پائپ لائن معاہدے کی مخالفت کیلئے بھارت سے لابنگ میں مصروف ہے۔ جبکہ عالمی مبصرین کے مطابق دور رس نتائج کے حامل یہ دونوں فیصلے پاکستان کے عظیم تر مفاد میں ہیں۔ ماہرین کے مطابق گوادر پورٹ کے آپریشنل ہونے سے ستر ارب ڈالر سے زائد سالانہ ریونیو ملنے کا امکان ہے۔

قابل توجہ ہے کہ روسی اشتراکیت کی فیصلہ کن شکست اور امریکی نژاد ” وار اگینسٹ ٹیرر ” کی تباہ کاریوں کے بعد سامراجی استعمار نے اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے بھارت سے گٹھ جوڑ کی پالیسی اختیار کی ہے۔ سامراجی عزائم کی تکمیل کیلئے میڈیا کے روشن خیالوں، امریکی برانڈ اسلام کیلئے کوشاں دانشوروں اور زرد صحافت کے بازی گروں کے کرشموں سے سیکولرازم کا ایک نیا طوفانی سیلاب، مسلسل پاکستان کی نظریاتی سرحدوں سے ٹکرا رہا ہے۔ سیاسی دھرنوں اور احتجاج و انقلاب کے نام پر رقص و مجرہ اور ہوش ربا میوزک شوز مغربی تہذب کے جنونِ عریانی کی تشہیری مہم  ہے۔ واشنگٹن، لندن اور دہلی کے گماشتوں کا لادین طبقہ جارحانہ استدلال اور منفی پراپیگنڈہ کے ساتھ اسلامی اقدار، پاکستان کی نظریاتی اساس، افواجِ پاکستان اور آئی ایس آئی جیسے قومی اداروں پر حملہ آور ہے۔ جیم جیو کے حامد میر افواج پاکستان اور حساس اداروں کی حب وطنی و کارکردگی کو نشانہ بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ بھارتی چڑیا باز نجم سیٹھی قائداعظم کے نظریہ ریاست کو سیکولر اور بطور گورنرجنرل نامزدگی کو حماقت قرار دیکر اپنی ” دجالی بصیرت” کی فتن دوزی میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔ جبکہ حسن نثار اور ایاز امیر جیسے بال ٹھاکری وارثین اپنے بدیسی آقاؤں کے ایجنڈے کے مطابق دجالی افکار کی تشہیر، اسلامی شعائر کی توہین اورحضرت اقبال جیسے اکابرین دین و ملت کے بارے ہرزہ سرائی سے نہیں چونکتے۔

وہ عاصمہ جہانگیر ہو، نجم سیٹھی  یا پیر آف لندن شریف ، ان سب کا زورخطابت اس بات پر ہے کہ اسلامی احیا کی ہر پرامن تحریک ہی دہشت گردی ہے۔ ان لبرلز کے مطابق قیام پاکستان کا محرک دو قومی نظریہ ہی غلط تھا۔ دراصل یہ لوگ دو قومی نظریہ کی نفی کرکے، بلاواسطہ “کانگرسی اکھنڈ بھارت” اور بالواسطہ اسلام کی نفی کر رہے ہیں، کیونکہ نظریہ پاکستان کا دوسرا نام ہی “نظریہ اسلام” ہے۔ سیکولرز کی سوچ پر یہ بخار وارد  ہے کہ آج کا پاکستان وہ نہیں ہے، جو قائد اعظم کے خوابوں کا پاکستان تھا۔ ان کے مطابق یہ ملاؤں کی طرف سے مسخ کردہ پاکستان کا وہ نقشہ ہے جو جہالت اور بنیاد پرستی کے اسلامی نظریاتی ڈیزائن پر تیار کیا گیا ہے۔ زرخرید مداری میڈیا کی طرف سے افواجِ پاکستان اور حساس ایجنسیوں کے بارے یہاں تک کہا گیا ہے کہ یہ ادارے خوامخواہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ کا کرداراپنے اوپر طاری کئے ہوئے ہے۔ پاکستان کا نظریاتی اور جغرافیائی تشخص مٹانے کی سامراجی سازش کوعملی جامہ پہنانے کیلئے میڈیا کا بھرپوراستعمال جاری ہے۔ پاکستان میڈیا کے ضرورت سے زیادہ متحرک اور مظبوط ہونے یا میڈیا پرسنز کی امریکہ اور مغرب سے ڈائی یارڈ محبت کا نتیجہ سامراجی  ناخداؤں کا عہدے بانٹنے کیلئے سیاست دانوں اور محب وطن ٹیکنوکریٹس کو نظرانداز کر کے نجم سیٹھی جیسے میڈیا اینکر کا انتخاب تھا۔ خطرناک امر تھا کہ ایسی نامزدگیوں کیلئے استعمال بھی سیاست دانوں ہی کو کیا گیا۔ میرے مطابق نجم سیٹھی جیسے صحافی کی نگران وزیر اعلی کیلئے تقرری، دراصل پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک خطرناک روایت کی مذموم شروعات تھی۔

احباب درحقیقت پاکستان دنیا کا آٹھواں عجوبہ ہے، کہ یہاں امریکی ایما پر بدنام زمانہ غدارِ میر جعفر کا پڑپوتا سکندر مرزا پہلا صدر بنا دیا جاتا ہے۔ عوام کی فراخ دلی کا یہ عالم  ہے کہ پاکستان کے ٹکڑے کروانے والے مرکزی کردار ذوالفقارعلی بھٹو کو بھاری اکثریت سے وزیر اعظم منتخب کیا جاتا ہے۔ یہ واحد ملک ہے جہاں مفرور ہونے والے قاتل خود ساختہ جلاوطن بن کر دشمنان پاکستان کی گوری گود میں بیٹھے سدا بہار اقتدار میں شرکت کے مزے بھی لوٹتے ہیں اور شہر قائد میں خود ہی کربل برپا کروا کر حسینیت کے علمبردار ہونے کے بھی دعویدار ہیں۔ صد افسوس کہ یہاں ایک آمر کو وردی سمیت منتخب کروانے والے جمہوری چوہدری ٹھہرائے جاتے ہیں۔ لال مسجد اور جامعیہ حفصہ میں معصوم بچیوں پر فاسفورس بم چلوا کر چنگیز اور ہلاکو سے ہولناک تر خونریزی کروانے والے سازشی عناصر آج بھی ایوان اقتدار کے دست راست ہیں۔ پشاور میں ڈیڑھ سو معصوم بچوں کے سفاکانہ قتل عام جیسے خون آشام سانحوں اور فوجی عدالتوں کے معاملات پر سیاست کی دوکان چمکانے والے منافقین، سیاسی اور فوجی قیادت میں ہم آہنگی اور قومی مفاہمت سبوتاژ کرنے کی خطرناک سازشوں میں مصروف ہیں۔ ذرا سوچئے کہ سانحہ پشاور کے حوالے سے افغانستان میں موجود بھارتی سفارت کاروں اور دہشت گردوں کے درمیان مصدقہ رابطوں کی خفیہ کہانی سامنے آنے کے باوجود حسن نثار، نجم سیٹھی اور حامد میر جیسے ” با خبر صحافیوں ” کی زبانوں کو تالے کس نے لگا رکھے ہیں؟ بلوچستان میں باغیوں سے بھارتی اسلحہ کی برامدگی پر سیفما برانڈ میڈیائی دانشوروں کی زبانیں گنگ کیوں ہو جاتی ہیں؟

دیتے ہیں خبر حشر کی صحراؤں کے عقرب : اب شہر ِ خموشاں ہے ترا کوچہ ء جاناں

 صد حیف کہ اس ملک کے اداروں کو  لوٹنے والے سزا یافتہ کرپشن کنگز اور رکھیلوں کو مسندیں اور وزارتیں عطا ہوتی ہیں۔ ایسا عجوبہ ء فتن بھی صرف یہیں ممکن ہے کہ  سپریم کورٹ کی طرف سے برطرف کیا گیا اٹارنی جنرل پنجاب اور قتل و اغوا کے بیس مقدمات میں ملوث شخص سندھ کا گورنر بنا دیا جاتا ہے۔ بھارت سے دریاؤں کے معاملات پر مذاکرات کرنے والا جماعت علی شاہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نام ہونے کے باوجود کینیڈا کی پناہ میں پہنچ جاتا ہے اور کینیڈا کا شہری پاکستانی ریاست بچانے کیلئے کنٹینر کی حفاظت میں حسینی سپہ سالار بن کر یزیدیوں سے معاہدہ کر لیتا ہے۔ اس ملک میں فحاشی کے ریکارڈ توڑ بزنس کرنے والی طوائفوں اورایوانوں میں بیٹھے وڈیروں کی شہزادیوں کو تمغات حسن کارکردگی اور قومی ایوارڈز سے نوازا جاتا ہے۔ معجزات سے سجے میرے اس وطن میں دماغ میں گولی کھانے والی معصوم ملالہ لندن پہنچ کر صرف دس دن میں ہی کتاب پر سو پاؤنڈ کا ٹیڈی بیئر سجا کر فوٹو سیشن کے قابل ہو جاتی ہے۔ طبلے سارنگیاں بجانے والے گویے، تعلیمی دانشور بن کر اکابرین دین و ملت کی تذلیل بھی اسی دیس میں کرتے ہیں۔ جی ہاں یہی تو ہے، انہونیوں سے ہونیوں، ناممکنات سے معجزات اورغیر یقینیوں سے یقینیوں میں بدلتی ، داستان الف لیلی اور کوہ قاف کی ہوش ربا پریوں کے طلسماتی قصوں کو شرماتی ہوئی، میرے دیس کی انوکھی سیاست کی داستانِ سیاہ ست۔ سو اس ست رنگی نظامِ سیاہ ست کا تابع و غلام میڈیا عالمی سازشوں اور اپنے امریکی یا بھارتی آقاؤں کی پاکستان دشمنی کے بارے حقائق کیوں کر بتائے گا ؟

جائے گا کہاں بھاگ کے اس قید ِ قفس سے
صحرا کے مسافر ترا خیمہ بھی ہے زنداں

آتش ہے جو ہر عشق زدہ قلب و جگر میں
روشن اسی شعلے سے ہے درویش کا عرفاں

( فاروق درویش ۔ 03224061000 )

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: