تاریخِ عالم و اسلام تاریخِ ہند و پاکستان ریاست اور سیاست

انجامِ سیاہ ست کی گواہ ہائے یہ تاریخ

تاریخِ عالم گواہ ہے کہ غرور و تکبر کے نشے میں بدمست انسانوں اور ہاتھیوں کا ہولناک انجام ایک سا ہوا، نمرود سر میں جوتیاں کھاتا مرا تو فرعون دریائے نیل کے پانیوں میں غرق ہو کر تا با ابد نشانِ عبرت بن گیا، شداد، سامری، قارون اورابراہا جیسے بدبختوں کو نہ خود ساختہ بہشت الارض میں کوئی مقامِ پناہ ملااورنہ ہی ان کےعلوم ساحری اورجمع شدہ انگنت خزانےانہیں واصلِ جہنم ہونے سے بچا پائےمگر ہوسِ زرکا لبادہ اوڑھے گورے چٹے لوگ کالی کرتوتوں میں کہیں سائنسدانوں اورکہیں ماہرین آثار قدیمہ کے بھیس میں آج بھی اُن کے گمشدہ و پراسرار خزانوں کی تلاش میں خطہءعرب،افریقہ اورسینا سے گوبی تک دشت و بیاباں کی خاک چھانتے یا کوہساروں کی سبز وادیوں میں لال بجھکڑ بنے یوں در بہ در ہیں گویا ان خزینوں میں ہی تاقیامت زندگی دینے والا آب حیات ہے۔دوسری طرف اقتدارِاعلی کے حصول یا طوالت کےخواہاں ملک و ملت سےغداری کا طعوق پہنے ننگ آدم کردار ِ سیاہ ست صلیبی بادشاہوں اور سامراجی بادشاہ گروں کے پروردا و کمین بن کر کاسہ و کشکول لئے بدیسی نگریوں میں تماشہء ذلت بنےگھومتے ہیں یا ان کے ایوانان ِ فتن سے محمد شاہ رنگیلے کی ہنوز دلی دور است کی صدائے بازگشت سنائی دیتی ہے۔ یہ لوگ کیوں بھول جاتے ہیں کہ آج یذید کی قبر پر فاتحہ پڑھنے والا کوئی نہیں، دنیا بھر کے وسائل اور جدید ٹیکنالوجی دستیاب ہونے کے باوجود آج تک کوئی انسان ہیبت اور بربریت کی علامت چنگیز خان کی قبر کا نام و نشان یا اتا پتہ نہیں ڈھونڈ پایا۔ ساری دنیا پرحکمرانی کا خواب دیکھنے والا سکندراعظم بخار کے ہاتھوں لاچار آسمان گھورتا وادیء عدم کو سدھارا تو طاقت کے بل بوتے دنیا کا سپر کنگ بننے کا خواہشمند ہٹلر قدرت کے ہاتھوں شکست کھا کر پوٹاشیم سائنایڈ کے زہر کا کیپسول لے کر اپنی نوجوان سنہری محبوبہ ایوا براؤن کے ساتھ زندہ قبر میں اُتر پارے کی طرح پگھل کر لمحوں میں خاک میں مل کر خاک ہوا۔ آمریت کا سہارا لیکر حکمرانی کرنے والوں کیلئے عبرت ہے کہ اُس کے اطالوی حلیف مسولینی کی لاش کو اُسی کی قوم نے اس وقت تک شہر کے چوراہے پر لٹکائے رکھا جب تک وہ تعفن سے گل سڑ کر ریزہ ریزہ نہیں ہوئی۔ چشمِ عالم نے یہ نظارہءعبرت بھی بڑی حیرت سے دیکھا کہ شاہ ایران کی لاش کو قبرکی دوگز زمین کیلئے ساری دنیا گھومنا پڑی، سانحہء مشرقی پاکستان پر شیطانی جشن منانے والی بدبخت اندراگاندھی اوراُس کے پاکستان دشمن  بیٹے ایسے بھیانک انجام کو پہنچے کہ آج تک اُس خاندان کے کسی فرد کو کرسیءاقتدار پر بیٹھنے کی جرات تک نہیں ہوئی پاکستان میں سوشلزم، اسلام اور کبھی روشن خیالی کے نام پر انقلاب لا نے کے دعویداروں، مفلس و مجبور قوم کو سبز باغ دکھا کر خون چوسنے والے سیاسی اور فوجی ڈکٹیٹرز میں سے کوئی عدالتی فیصلوں کے ہاتھوں قتل ہوا تو کوئی امریکی خفیہ ایجنسیوں کی سازشوں میں فضائی حادثات کا شکار۔ کوئی مغرب نواز کردار اپنے ہی پیاروں کے ہاتھوں قتل ہو کر کھربوں ڈالرز چھوڑ گیا تو کوئی خود ساختہ جلاوطنی میں ولائیتی شہریت لیکر دھرتی کے قتل کے سودوں اور ریمنڈ ڈیوس جیسوں کی دلالی سے اربوں کما رہا ہے مگر موت کے خوف سے وطن سے دور گوری گود میں بیٹھا یہود و نصاریٰ کی دھنوں پر برہمنوں کے راگ الاپتا ہے۔ اللہ کا نظام اور سیاست دانوں کی اپنے ہی خون سے بے وفائی کا یہ عالم ہے کہ یورپی بینکوں میں اربوں ڈالرز کی مالکہ بیگم نصرت بھٹو اپنی یاداشت کھوئے دو برس تک سانس کی مصنوئی مشین پرحالت کومہ میں رہی مگر اس کا کوئی پیارا کبھی اس کی خبر گیری کیلئے نہ گیا مگر دوسری طرف اسکی سیاسی شہید بیٹی سے لازوال محبت کا دعوی کرنے والا اسکے مقدمہء قتل کو طوالت دینے میں مصروف شوہر نامدار نا جانے کس کیلئے کھربوں ڈالرجمع کر رہا ہے، شاید اپنےاس پلے بوائے شہزادے کیلئے جسکی فول پروف سیکورٹی، لندن میں گوری تتلیوں اور رنگ رنگیلیوں کیلئے ماہانہ کروڑوں ڈالرز یا حنا ربانی کھر کیلئے سویزرلینڈ میں ممکنہ محل کی تعمیرکیلئے ایک زرِ خطیر درکارہے یا شاید فرعون اور قارون کی طرح ہوس زراُس بامِ عروج پر پہنچ چکی ہے کہ جس کے بعد پردہء افلاک سے کائنات کے اصل مقتدراعلیٰ کے

تاریخِ عالم گواہ ہے کہ غرور و تکبر کے نشے میں بدمست انسانوں اور ہاتھیوں کا ہولناک انجام ایک سا ہوا، نمرود سر میں جوتیاں کھاتا مرا تو فرعون دریائے نیل کے پانیوں میں غرق ہو کر تا با ابد نشانِ عبرت بن گیا، شداد، سامری، قارون اورابراہا جیسے بدبختوں کو نہ خود ساختہ بہشت الارض میں کوئی مقامِ پناہ ملااورنہ ہی ان کےعلوم ساحری اورجمع شدہ انگنت خزانےانہیں واصلِ جہنم ہونے سے بچا پائےمگر ہوسِ زرکا لبادہ اوڑھے گورے چٹے لوگ کالی کرتوتوں میں کہیں سائنسدانوں اورکہیں ماہرین آثار قدیمہ کے بھیس میں آج بھی اُن کے گمشدہ و پراسرار خزانوں کی تلاش میں im-naخطہءعرب،افریقہ اورسینا سے گوبی تک دشت و بیاباں کی خاک چھانتے یا کوہساروں کی سبز وادیوں میں لال بجھکڑ بنے یوں در بہ در ہیں گویا ان خزینوں میں ہی تاقیامت زندگی دینے والا آب حیات ہے۔دوسری طرف اقتدارِاعلی کے حصول یا طوالت کےخواہاں ملک و ملت سےغداری کا طعوق پہنے ننگ آدم کردار ِ سیاہ ست صلیبی بادشاہوں اور سامراجی بادشاہ گروں کے پروردا و کمین بن کر کاسہ و کشکول لئے بدیسی نگریوں میں تماشہء ذلت بنےگھومتے ہیں یا ان کے ایوانان ِ فتن سے محمد شاہ رنگیلے کی ہنوز دلی دور است کی صدائے بازگشت سنائی دیتی ہے۔ یہ لوگ کیوں بھول جاتے ہیں کہ آج یذید کی قبر پر فاتحہ پڑھنے والا کوئی نہیں، دنیا بھر کے وسائل اور جدید ٹیکنالوجی دستیاب ہونے کے باوجود آج تک کوئی انسان ہیبت اور بربریت کی علامت چنگیز خان کی قبر کا نام و نشان یا اتا پتہ نہیں ڈھونڈ پایا۔ ساری دنیا پرحکمرانی کا خواب دیکھنے والا سکندراعظم بخار کے ہاتھوں لاچار آسمان گھورتا وادیء عدم کو سدھارا تو طاقت کے بل بوتے دنیا کا سپر کنگ بننے کا خواہشمند ہٹلر قدرت کے ہاتھوں شکست کھا کر پوٹاشیم سائنایڈ کے زہر کا کیپسول لے کر اپنی نوجوان سنہری محبوبہ ایوا براؤن کے ساتھ زندہ قبر میں اُتر پارے کی طرح پگھل کر لمحوں میں خاک میں مل کر خاک ہوا۔ آمریت کا سہارا لیکر حکمرانی کرنے والوں کیلئے عبرت ہے کہ اُس کے اطالوی حلیف مسولینی کی لاش کو اُسی کی قوم نے اس وقت تک شہر کے چوراہے پر لٹکائے رکھا جب تک وہ تعفن سے گل سڑ کر ریزہ ریزہ نہیں ہوئی۔ چشمِ عالم نے یہ نظارہءعبرت بھی بڑی حیرت سے دیکھا کہ شاہ ایران کی لاش کو قبرکی دوگز زمین کیلئے ساری دنیا گھومنا پڑی، سانحہء مشرقی پاکستان پر شیطانی جشن منانے والی بدبخت اندراگاندھی اوراُس کے پاکستان دشمن  بیٹے ایسے بھیانک انجام کو پہنچے کہ آج تک اُس خاندان کے کسی فرد کو کرسیءاقتدار پر بیٹھنے کی جرات تک نہیں ہوئی پاکستان میں سوشلزم، اسلام اور کبھی روشن خیالی کے نام پر انقلاب لا نے کے دعویداروں، مفلس و مجبور قوم کو سبز باغ دکھا کر خون چوسنے والے سیاسی اور فوجی ڈکٹیٹرز میں سے کوئی عدالتی فیصلوں کے ہاتھوں قتل ہوا تو کوئی امریکی خفیہ ایجنسیوں کی سازشوں میں فضائی حادثات کا شکار۔ کوئی مغرب نواز کردار اپنے ہی پیاروں کے ہاتھوں قتل ہو کر کھربوں ڈالرز چھوڑ گیا تو کوئی خود ساختہ جلاوطنی میں ولائیتی شہریت لیکر دھرتی کے قتل کے سودوں اور ریمنڈ ڈیوس جیسوں کی دلالی سے اربوں کما رہا ہے مگر موت کے خوف سے وطن سے دور گوری گود میں بیٹھا یہود و نصاریٰ کی دھنوں پر برہمنوں کے راگ الاپتا ہے۔ اللہ کا نظام اور سیاست دانوں کی اپنے ہی خون سے بے وفائی کا یہ عالم ہے کہ یورپی بینکوں میں اربوں ڈالرز کی مالکہ بیگم نصرت بھٹو اپنی یاداشت کھوئے دو برس تک سانس کی مصنوئی مشین پرحالت کومہ میں رہی مگر اس کا کوئی پیارا کبھی اس کی خبر گیری کیلئے نہ گیا مگر دوسری طرف اسکی سیاسی شہید بیٹی سے لازوال محبت کا دعوی کرنے والا اسکے مقدمہء قتل کو طوالت دینے میں مصروف شوہر نامدار نا جانے کس کیلئے کھربوں ڈالرجمع کر رہا ہے، شاید اپنےاس پلے بوائے شہزادے کیلئے جسکی فول پروف سیکورٹی، لندن میں گوری تتلیوں اور رنگ رنگیلیوں کیلئے ماہانہ کروڑوں ڈالرز یا حنا ربانی کھر کیلئے سویزرلینڈ میں ممکنہ محل کی تعمیرکیلئے ایک زرِ خطیر درکارہے یا شاید فرعون اور قارون کی طرح ہوس زراُس بامِ عروج پر پہنچ چکی ہے کہ جس کے بعد پردہء افلاک سے کائنات کے اصل مقتدراعلیٰ کے آئین ِ قدرت کا ” صدائے کن فیکن ” مارکہ وہ سپریم آرڈر آتا ھے جسے کسی عدالتی تصدیق، کسی این آر او یا اٹھارویں انیسویں ترمیم کی بیساکھیوں کی ضرورت نہیں ہوتی اور پھر ہوتا وہی ہے جو میر جعفر، میر قاسم، میر صادق، صدام حسین اور حسنی مبارک جیسوںکے ساتھ ہوا۔ پانچ ہزار روپے ٹیکس دینے والے کھرب پتی صنعتکار سیاست دان کابیٹا لندن ہسپتال میں جان لیوا مرض اور بیگم بوجہ عارضہ قلب ندگی اور موت کی کشمکش میں ہے، چھوٹے بھائی صاحب طوفانی دوروں کے دوران اچانک ہسپتال پہنچ جاتے ہیں اور کبھی خود کا درد دل اپنے دوستوں کے وطن ولایت کے ہسپتالوں کے سرجری بستر پر لے جاتاہے لیکن ہوسِ زر اور ہوس ِ ترامیم کا طوفان زہر کی طرح روح کی گہرائیوں تک سرایت کر چکا ہے میاں صاحب کے رائیونڈ پیلس کا ماہانہ خرچہءمہمانداری و سیاست پندرہ کروڑ روپے ہے مگر پڑوس میں غریب فاقہ کش اپنے بچوں سمیت خودکشیوں پر مجبور ہیں۔ خادم اعلیٰ کی سستی روٹی سکیم سے کئی مہنگے ترین عالی شان بنگلوں کا خرچ چلتا رہاہے۔ میاں برادران کی جدہ یاترااور لندن قیامی کے دوران قربانیں دینے والے وفادار لیگی گقشہء گمنامی میں کھو چکے ہیں مگردیسی گھی اور سری پائے کے ناشتوں پر پلنے والے دودھ پینے والے مجنوں رائے ونڈ محل کے مستقل اورخاص مہمان ہیں۔ قاف قینچی یا قاتل لیگ کے وڈے پا جی چوہدری شجاعت حسین کو اپنی زندگی کیلئے صرف بیس روپے کی مالیت کے انسولین انجکشن چار ٹائم درکار ہیں لیکن لینڈ مافیہ اور بینک کرپشنز سے اربوں ڈالرز کما کر بھی نہ تو خود ان کی لالچ اور طمع کا پیٹ بھر پایا ہے اور نہ ہی ان کے اگلی نسل نے ان کی اس حالتِ زار سے کوئی سبق سیکھا ہے ۔ ہائی بلڈ پریشراور عارضہ قلب کے مریض اور ہر سرکار کے مشیرِجمہوریت مولانا فضل الرحمن ڈیزل صاحب اربوں کما کر مزید کھربوں کمانے کیلئے کسی بھی لوٹے اتحاد اور قتل ِ وطن کی ہر سازش میں اپنا پر اسرارمذہبی اور آئینی تناظر نما کردارادا کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ ساری زندگی ایمانداری اور قانون کی حکمرانی کا نعرہ لگانے والے عمران خان نے کرپشن اور لوٹا کریسی کے سب ریکارڈ توڑنے والوں کو ہی ضمنی الیکشن میں پارٹی ٹکٹ دے کراپنی اننگ کے بیٹنگ پاور پلے میں جارحانہ اندازاختیار کیا تھا اب شاید وہ بھی سمجھ گئے ہیں کہ لینڈ مافیہ، جاگیرداروں اور طاقتور امیدواروں کے بغیر الیکشن میں جیت تو درکنار الیکشن لڑنا ہی نا ممکن ہے۔ اسی لئے انہوں نے متحدہ اور پیارے الطاف بھائی کے خلاف لندن میں مقدمات کھولنے کے اصولی موقف سے یو ٹرن کا فیصلہ کر کے پاکستانی سیاست کی کامیاب ترین روائیتی پالیسی یعنی مصالحت اور مصلحت کا نیا گیم پلان تیارکیا ہے مگر ابھی تک ان کی اپوزیشن ہٹ سیاست کے سیاسی فوائد موجودہ کرپشن کنگزاوران قومی لٹیروں کو ہی پہنچنے کےخدشات صاف نظرآتے ہیں جن کے خلاف وہ آوازِ حق اٹھاتے رہے ہیں۔ صد افسوس کہ اسلامی ریاست کے داعی عمران خان کے تحریکی ساتھیوں میں اب گستاخین قرآن سنگر سلمان احمد اور ہم جنس پرستی کی علمبردار فوزیہ قصوری جیسی مغرب پرور لادین و ملعون شخصیات بھی شامل ہیں۔ کڑوا سچ یہی ہے کہ وہ پی پی پی ہو یا نون لیگ، قاف لیگ جیسے مفاد پرست سیاسی عناصر ہوں یا صلیبوں کے آلہ کار دین فروش علماءسیاست ، سرحدی گاندھی باچا خان کے بھارت نواز پیروکار ہوں یا متحدہ قومی موومنٹ اور پیرصاحب پگاڑا مرحوم جیسے سامراجی کٹھ پتلی پریشر گروپس، ایک دن یہ سب ایک دوسرے کیساتھ دست و گریبان ہوتے ہیں مگر دوسرے دن اپنے سامراجی آقاؤں کے حکم اور خواہش کے عین مطابق جاسوس قاتل ریمنڈ ڈیوس کی ڈیل کروانے یا مفلسان ِقوم پر وار کیلئےخونخوارآلہء قتل یعنی سیاسی بندربانٹ کےعالمگیر نظریہءضرورت کے تحت کہیں پراسرارحریف و حزب الاختلاف اور کبھی ہر دور میں اقتدار سے چمٹے کرپشن میں حصہ دارحلیف و حزب اقتدار بن کرایک ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں۔ سیاسی لوگ کہتے ہیں کہ سیاست میں کوئی دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا لیکن سیانے کہتے ہیں کہ جب تقدیر عقل پر پردا ڈالتی ہے تو آنکھوں پر خود ہی پڑ جاتا ہے۔ صلیبی غلاموں کو نہ تو حسنی مبارک اور اس کے پیچھے چھوڑے ہوئے ستر ارب ڈالرز کا انجام نظر آتا ہے اور نہ ہی وہ اس غیبی راز کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان جیسے غدارانِ ملت کی مدد سے ہی پوری دنیا پرحکمرانی کرنے والا طاقتور ترین بین الاقوامی بدمعاش سابق امریکی صدر ریگن زندگی کےآخری دو برس بیڈ روم سے بیت الخلا تک ملازمین کی کڑی نگرانی میں صرف اس لئے رہا کہ اسے ہذیان سے ماورا ایک ایسی پراسرار بیماری لگ چکی تھی جس میں وہ اپنی گندگی کو اپنے مونہہ اور جسم پر ملتا اور کھاتا تھا اور بالآخر اسی دردناک عذاب میں مبتلا جہنم واصل ہوا۔ دلی دعا  اور معصوم  خواہش ہے کہ کاش ملک و ملت کے یہ نام نہاد خدام، پیشہ ور سیاسی بہروپیےاور دین و دھرتی کے بیوپاری، ننگِ ملت، ننگ وطن، ننگ دین بتانِ دہر تاریخ کے وہ صفحات پڑھ لیں جن میں ان جیسےانگنت مکروہ کرداروں، ابن الوقت قوم فروشوں،بازار ِ سیاہ ست کے بے ضمیر لوٹوں، غدارانِ ملک و ملت اور مریضانِ ہوس ِ زر کا بھیانک اورعبرت ناک انجام صاف صاف لکھا ہے ۔۔۔۔۔۔

ہر دور ِ طاغوت اور ظلمت کی تاریخ لکھی ہے قدرت نے
درویش پھڑے جدوں رب میرا ، مڑ کڈھ کڑاکے دینداں اے

فاروق درویش

leaders

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

Featured

%d bloggers like this: