بین الاقوامی حالات حاضرہ

تیری جرات سے لرزاں سامراجی فتنہ گرتھے ۔۔ آئی سلیوٹ یو ہوگو شاویز


سامراجی آشیرباد یافتہ کولمبیا کے پڑوس میں واقع وینزویلا، تین کروڑ کی آبادی رکھنے والا ایک چھوٹا سا ملک ہے۔  تیل کی دولت سے مالا مال جوانمردوں کے اس لاطینی امریکی دیس میں دوسرے وسائل اور جدید جنگی ٹیکنالوجی نہ ہونے کے برابر سہی لیکن عالمی فرعونوں اور سامراجی دجالوں کے روبرو سینہ تان کر کھڑا ہونے کی جرات کا فقدان ہرگز نہیں۔ اسے بھی پاکستان کی طرح بجلی کے بحران، افلاس، بیروزگاری سمیت کئی شدید مسائل کا سامنا ہے۔ لیکن پاکستان کے قوم فروش کرپشن کنگ حکمرانوں کے برعکس وہاں کی محب القوم حکومت عوامی مسائل کے ہرممکن حل کیلئے مخلص اور ہوس زر و مالی کرپشن سے کلی آزاد رہی ہے۔ سو ان سب صبرآزما حالات اور دیرینہ مسائل کے باوجود غیرتمند وینزویلا عالمی سیاست میں ایک بھرپور اورجاندار آواز کا حامل ہے۔ اس کمزور و ناتوں ملک کے پاس نہ کوئی لمبی چوڑی فوج ہے نہ ایٹمی اسلحہ بردار میزائیل اور نہ جدید ٹینک توپ ڈویژنیں، مگر ہاگوشاویز کی جرات مند قیادت نےانہیں اقوام عالم میں غیرت کے ساتھ سے جینا سکھا دیا ہے۔ سلام ہےاس مردِ اہن  کوجس کے پاس صرف چار ڈویژن بری فوج، کل پچاس لڑاکا طیارے رکھنے ولی ننھی منی فضائیہ اور درجن بھر بحری جہازوں کا ناتواں بحری بیڑا تھا مگرامریکی ایوانوں کیلئے اس کی للکارکسی ایٹمی دھماکے کے نتیجے میں آنے والے زلزلے سے کم نہ تھی۔ ہرسامراجی فتنہ گری کیخلاف صدر ہوگوشاویز کا ردعمل جرات مندانہ ہوتا تھا او پوری قوم اپنے وطن کے اس عظیم سپوت کے پیچھے کھڑی ہوتی تھی۔ دنیا کے طاقتور ترین جابر امریکہ کے انتہائی قریب اور اینٹی امریکن لابی سے انتہائی دور ملک ہونے کے باوجود وینزویلا کی آواز مشرق وسطی و بعید سے لیکر، یورپ، چین اور روس تک  سنی جا سکتی تھی ۔

یہ ہوگوشاویز ہی تھے جن کی دوراندیش اور فہم بین قیادت کی بدولت وینزویلا نے تمام امریکی مخالف ممالک کے ساتھ انتہائی دوستانہ تعلقات استوار کر رکھے ہیں۔ چین، ایران اور روس سمیت کئی بڑے ممالک کے سربراہان مملکت وینزویلا کے دوروں پرامریکہ ناخوش مگر ہوگوشاویز کی قوم خوش تھی ۔ امریکی غنڈہ گردی کیخلاف چین اور روس کی مداخلت پر وائٹ ہاؤس حکام انتہائی سیخ پا بھی نظرآتے رہے لیکن انجہانی ہوگوشاویز نے ان سامراجی بھڑکوں کوجوتے کی نوک پر رکھ کر کبھی اس بات کی پرواہ نہیں کی کہ وہ پہاڑ قد امریکی فرعونوں کے مقابل محض اک رائی تھا۔ وہ شیردل حکمران اپنی  ملکی خودمختاری اور آزاد خارجہ پالیسی پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے پر کبھی تیار نہیں ہوا۔ وہ فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام ہو، غزہ کیلئے امداد لیکر جانیوالے فریڈم فلوٹیلا کا مسلہ ہو یا ایران کے ایٹمی پروگرام کا عالمی تنازعہ، افغانستان اور عراق کی سامراجی جنگیں ہوں یا شرق و غرب کےعالمی معاشی بحران ہوگوشاویز کسی بھی موقع پر امریکہ، اسرائیل اور اس کے طاقتورحواریوں سے نہ خوف زدہ ہوا اور نہ خاموش رہا۔ مسلمان اس کا یہ احسان کبھی نہیں بھلا پائیں گے کہ ایک غیر مسلم ملک ہونے کے باوجود اس نےغزہ کے مظلوم فلسطینی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کا ناقابل فراموش مطاہرہ کرتے ہوئے فریڈم فلوٹیلا پر حملے کیخلاف احتجاج کے طور پر اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلا لیا تھا۔ امریکہ نے اس کے ہمسائے میں بیٹھے اپنے کرایے کے بدمعاش کولمبیا کے ذریعے دباؤ بڑھانے کی سرتوڑ کوششیں کیں۔ کولمبین صدر ایلویرو اریبے نے ہوگوشاویز پر کولمبیا میں سرگرم باغیوں کی مدد کا الزام بھی لگایا۔

hogoshavezبھارت کی طرف سے پاکستان کو ملنے والی دھمکیوں کی طرح، امریکی شہہ پرمبینہ دہشت گردی کے کیمپوں کو بند نہ کرنے کی صورت میں کارروائی کی دھمکیاں بھی دیں۔ لیکن ان الزامات کے ردعمل میں  اس نے سر جھکانے کی بجائے انتہائی جرات مندانہ ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے  کولمبیا سے اپنا سفیر واپس بلا کرسفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ آفرین ہے اس غیرت مند سپوت پر جس نے امریکی کٹھ پتلی کولمبیا کے جارحانہ اقدامات کے بعد احتجاجاً اس کے ساتھ پانچ ارب ڈالر کا تجارتی معاہدہ بھی منسوخ کر دیا۔ اس نازک صورت حال میں اس مرد آہن نے پاکستانی حکمرانوں کے جارح بھارت کیخلاف معذرت خواہانہ رویوں کی طرح بزدلی نہیں دکھائی۔ بلکہ امریکی بغل بچے کولمبیا کے الزامات کو اپنے ملک وینزویلا کی خودمختاری پر کھلا حملہ قرار دیکر کولمبیا سے فوری معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس نے عالمی طاقتوں سے رحم کی بھیک مانگنے یا ان کی ڈکٹیشن لینے کی بجائے سرحدوں پر فوج کے اضافی دستے تعینات کر دیے تھے۔ اپنی مختصر سی فضائیہ کو فضائی حدود کی نگرانی کیلئے فضاؤں میں بھیج کر صرف کولمبیا کو نہیں بلکہ پورے سامراج کو دھمکیوں کا مونہہ توڑ جواب دیا تھا۔ اس  چھوٹے سے کمزور مگر باغیرت ملک کے صاحبِ فہم وطن پرست لیڈرنے اپنی تیل کی طاقت کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے امریکہ کو دھمکی دی تھی کہ اس کے خلاف کسی بھی جارحانہ کارروائی کی صورت میں امریکہ کو تیل کی فراہمی بند کر دی جائے گی۔

hogo-shawez3افسوس صد افسوس کہ ہم ایک ایٹمی طاقت تو ہیں لیکن بلوچستان سے لیکر گلگت تک کی دہشت گردانہ کاروائیوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے تمام تر شواہد اور ثبوت موجود ہونے کے باوجود  بےغیرتی کی حد تک خاموش ہیں۔ صد حیف کہ اندرون بھارت میں ہونے والی کسی بھی شدت پسندی کا الزام پاکستان پر لگایا جاتا ہے مگر ہمارا “ایمان افروزردعمل” صرف بھارتی ہائی کمشنر کی طلبی اور نرم و نازک الفاظ پر مشتمل ہجڑانہ انداز میں ایک احتجاجی مراسلے سے سوا کبھی کچھ نہیں ہوتا۔ صد افسوس کہ ہمارے ننگ اسلاف حکمران اپنے شہید فوجیوں کا لہو بھی قاتل نیٹو کی صرف ” ایک سوری” پر بیچ کر اندرون خانہ اپنے فارن بینک اکاؤنٹس بھروا لیتے ہیں۔ کاش ہمارے ننگ دیس حکمران جان سکتے کہ ایک چھوٹے سے ملک کے خوددار قائد انجہانی ہوگوشاویز نے معمولی فوجی طاقت، انتہائی محدود وسائل اور امریکی کٹھ پتلی جارح ہمساؤں کی موجودگی میں بھی عالمی برادری میں اپنی عزت اور وقار کیسے قائم کیا۔ میں سلیوٹ کرتا ہوں اس ہوگوشاویزکو جو اقوام عالم کے ظالم ترین ماڈرن فرعون امریکی صدر کی آنکھیں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی ہی نہیں بلکہ بلکہ اپنی قومی خود مختاری پر حملہ کرنے کی صورت میں علی العلانیہ ” پاگل اور کتا”  تک کہنے کی جرات رکھتا تھا۔ کچھ عالمی مبصرین ان شبہات کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ صدر ہوگوشاویز کی جان لیوا بیماری، کینسر کے پیچھے امریکی سی آئی اے کی طرف سے سلو پائزننگ کی مکروہ سازش بھی ہو سکتی ہے۔ عین ممکن ہے کہ اس گھناؤنے کام کیلئے ان کے کسی قریبی عزیز یا ذاتی ملازم کو استعمال کیا گیا ہو( واللہ علم بالصواب) ۔ آج فاروق درویش سمیت دنیا کا ہر مظلوم اور محکوم انسان، امریکی سامراج کے ظلم و جبر کا شکار ہر فرد، وینزویلا کے مغموم عوام کے دکھ اورغم میں برابر کا شریک ہے اور ان کے بہادر راہنما، ہوگوشاویز کو سلام پیش کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔ آئی سلیوٹ یو ہوگو شاویز۔ ۔

 ( فاروق درویش — 03224061000 — 03324061000 )

اپنی رائے سے نوازیں

Featured

%d bloggers like this: