بین الاقوامی تہذیبِ مشرق و مغرب سیکولرازم اور دیسی لبرل

جاوید چوہدری اور میڈونا کا مشترکہ مقدس ٹاسک


ممکن ہے کہ ایکسپریس نیوز کے نامور صحافی جاوید چوہدری صاحب کو بھی تاجداران واشنگٹن و لندن کی طرف سے مغربی سیکس ماڈل میڈم میڈونا کی طرح معصوم ملالہ جی کے دجالی نظریات کی تشہیر کا خصوصی و مقدس ٹاسک دیا گیا ہو۔ لہذا موصوف نے قوم کو درپیش اہم و حساس مسائل پر لکھنا چھوڑ کر اپنی مغربی لاڈو پر پندرہ دن میں تین کالمز دے مارے ہیں۔ میرے مطابق چوہدری صاحب بڑے راسخ العقیدہ مسلمان اورمحب وطن پاکستانی ہیں۔ سو ممکن ہے کہ گذشتہ دنوں جناب انصار عباسی اور اوریا مقبول جان صاحب کی طرف سے ملالہ کی دجالی کتاب ” آئی ایم ملالہ ” کا حلالہ ہونے کے بعد انہیں ان کی ایمان افروز تحریروں کے عوامی رائے عامہ پر مرتب اثرات زائل کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہو۔ وجہ جو بھی ہو، مجھے اس بات پر افسوس بھی ہے اور حیرانی بھی کہ پاکستانی  میڈیا برادری میں نہایت اچھی ساکھ اور نیک شہرت کے حامل چوہدری صاحب نے گذشتہ دنوں اچانک ہی اپنا قبلہ تبدیل کرتے ہوئے ایک ننگ ملت قادیانی ڈاکٹرعبدالسلام کا قصیدہ رقم کیا تھا۔ جس کے بعد مجھ فقیر کی طرف سے جوابی کالم لکھنے کے جرم کی پاداش میں ایکسپریس نیوز کی سائٹ پر میرے کومنٹس بلاک کر دیے گیے تھے۔ سو چوہدری صاحب کے اگلے دونوں ملالائی کالمز کے کچھ اقتسابات کے جواب میں اپنی رائے دینا فرض سمجھتا ہوں۔ اپنے کالم ” بیچاری ملالہ” میں لکھا ہے کہ ” ہم بزرگ لوگ ملالہ کے معاملے میں یہ غلطی کر رہے ہیں‘ ملالہ گل مکئی کے نام سے جب بی بی سی اردو میں مضامین لکھتی تھی تو اس وقت اس کی عمر صرف بارہ سال تھی‘ ملالہ نے آج جب دنیا کے ستائیس بڑے میڈلز اور اعزازات لیے تو یہ فقط سولہ سال کی بچی ہے ” .

چوہدری صاحب معافی چاہتا ہوں کہ مغرب اور سامراج کی مخملی گود خاندان سمیت گولڈن آسائشوں کے مزے لوٹنے اور کروڑوں ڈالرز کی مالیت کے ماہانہ وظائف اکٹھا کرنےوالی ملالہ بھی اگر “بیچاری” ہے توامریکی ڈرون حملوں میں ماری جانے والی بچیوں یا ملالہ کے ساتھ زخمی ہوننے والی دوسری طالبات کیلئے شاید ہی اردو لغت میں “بیچاری” سا کوئی لفظ موجود ہو گا۔ یہ بات آپ بھی بخوبی جانتے ہیں کہ بارہ سال کی عمر میں وہ مبینہ ڈائری لکھنا ملالہ جی بس کا روگ نہیں تھا۔ ناقدین اور ماہرین تحریر بارہا ثابت کر چکے ہیں کہ وہ بی بی سی ڈائری لکھنے والے بھی وہی سلمان رشدی برانڈ لوگ تھے جنہوں نے آج اس کی کتاب لکھی ہے۔ سامراجی حمایت اور مغربی میڈل معیار مسلمانی نہیں بلکہ تصدیق حواریء صلیبی ہے۔ علامہ اقبال رح کے مقابلے میں رابندر ناتھ ٹیگور کو ادب اور ایک دشمنِ ملک و ملت کو نوبل پرائز ملنا اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ مغربی میڈلز دینے والوں کی اولین ترجیح اسلام دشمنی ہے ۔ سوکچھ تعجب نہیں کہ مغرب میں ملالہ جی کو وہی پذیرائی نصیب ہو رہی ہے جو ملعون سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کو حاصل ہے۔

جاوید چوہدری صاحب نے لکھا کہ ” آج اس بچی نے اپنے اعتماد سے پوری دنیا کی توجہ حاصل کر لی لیکن ہم سولہ سال کی اس بچی کی لکھی ہوئی کتاب سے اسلام تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘ مجھے بھی اس کتاب کے بعض اقتباسات پر اعتراض ہے مگر آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے جب ہمارے بچے مذہب‘ ملک اور سیاسی شخصیات کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو کیا ان کے سوال ملالہ کے سوالوں سے زیادہ خطرناک نہیں ہوتے اور کیا ہم انھیں ڈرا دھمکا کر چپ نہیں کرواتے؟ ” کرسٹینا لیمب اس کتاب کی اصل رائیٹر ہے اور یہ رائیٹر پاکستانی نہیں برطانوی ہے۔

چوہدری صاب افسوس صد افسوس نہیں کہ پہلے آپ اس کتاب کو کو ایک سولہ سالہ بچی کی لکھی ہوئی کتاب قرار دے رہے ہیں اور پھر خود ہی اسے دراصل ایک برطانوی رائیٹر کرسٹینا لیمب کی لکھی ہوئی قرار دیکر ملالہ کو معصوم و بیگناہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آپ ایک راسخ العقیدہ مسلمان ہیں لیکن ایک مسلمان نام و تشخص رکھنے والی بچی کی کتاب سے اسلام تلاش کرنے کا طعنہ دے رہے ہیں۔ کیا مسلم معاشرے میں ایک سولہ سالہ بچی اسلام کی بنیادی تعلیمات سے نا بلد ہوتی ہے یا آپ اپنی بچیوں کوامریکی و مغربی یونیورسٹیوں سے اعلی تعلیم دلوانے کے بعد پچیس سال کی عمر میں پہنچنے کے بعد ہی اسلام کے بنیادی عقائد و نظریات سکھاتے ہیں؟ دراصل ہم تو اس کی کتاب کے ان کافرانہ نظریات نظریات کو ہائی لائٹ کر رہے ہیں جو کتاب کے اول تا آخرتک بنا تلاش کے ہی بار بار آنکھوں کے سامےعیاں ہوکر مسلمانوں کی دل آزاری کر رہے ہیں ۔

چوہدری صاحب لکھتے ہیں کہ ، ” ایک عزیز دوست کل ٹیلی ویژن پر ملالہ کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے فرما رہے تھے ’’ ملالہ نے اپنی کتاب میں قائداعظم کوچوہ قائداعظم کے بجائے جناح لکھا‘‘ میں ان کی بات پر حیران رہ گیا کیونکہ قائداعظم کو صرف ہم قائداعظم کہتے ہیں‘ دنیا قائداعظم کو جناح کہتی ہے‘ بالکل اسی طرح جس طرح ہندوستان موہن داس کرم چند گاندھی کو باپو مگر دنیا گاندھی کہتی ہے ” ۔

چوہدری صاحب میرے مطابق ملالہ کی طرف سے قائد اعظم کو صرف جناح کہنے پر معترض صاحب کو یہ اعتراض نہیں اٹھانا چاہیے تھا۔ انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ جو ملالہ ایک مرتد اسلام دشمن اوبامہ اور قائد اعظم و نظریہ پاکستان کے سب سے بڑے سیاسی دشمن باچا خان جیسی شخصیات کو اپنا آئیڈیل قرار دیتی ہے، بھلا وہ قائد اعظم کا نام احترام سے کیوں لے گی۔ غیر مسلم یا گستاخین رسالت تو آقائے نامدار پیغمبر اسلام ص کا نام بھی عزت و احترام سے نہیں لیتے مگر ہاں مسلمان اپنے نبی ص کا نامِ گرامی بصد احترام لیتے ہیں۔ اسی طرح محبانِ پاکستان تو بانیء پاکستان کا نام احترام سے لیتے ہیں مگر باچا خان جیسی غدار ملک و ملت اور قاتلِ ملت اسلامیہ اوبامہ کو اپنا آئیڈیل اور ہیرو ماننے والی مغربی لاڈو سے ہم قائد اعظم کیلئے عزت و احترام کی توقع کریں، تو یہ احمقانہ سی بات ہے۔ اس حوالے سے آپ سے بھی ایک سوال بنتا ہے کہ آج تک آپ نے بھی ملالہ کی طرف سے بدترین اسلام دشمن اوبامہ اور سرحدی گاندھی باچا خان کو آئیڈیل قرار دینے جیسے قابل تنقید ایشو کے بارے کوئی تحریر کیوں نہیں لکھی ؟

jc2

 چوہدری صاحب نے لکھا، ” س نے سواتی قمیض اور شلوار پہن رکھی تھی اور اس کے سر پر دو پٹہ بھی تھا اور اس نے دنیا کے ہر فورم‘ ہر جگہ پر پاکستان اور پاکستانی بچوں کی بات کی اور یہ اس ملک کی بچی کر رہی ہے جس کے صدور اور وزراء اعظم ملک میں شلوار قمیض اور ویسٹ کوٹ پہن کر پھرتے ہیں مگر اوبامہ اور ڈیوڈ کیمرون سے سوٹ میں ملاقات کرتے ہیں ” ۔‘

چوہدری صاحب ملالہ نے سر پر سرخ چادر تو اوڑھ رکھی تھی، حلیہ تو بلاشبہ ایک حیا دار مسلمہ والا بنا رکھا تھا لیکن حیرت ہے کہ اپنی کتاب میں حمایت مشرف کے اس دورعریانی اور مادرپدر آزادد، آزادی نسواں کی کرتی ہے جس میں عورتوں کو نیکریں پہن کر میراتھن دوڑ کروائی جاتی تھی۔ اگر ملالہ جی جینز اور ٹی شرٹ پہن کر مشرف کے مغرب برانڈ دورعریانی کی حمایت کرتیں تو بہتر ہوتا مگر ایک با حیا لڑکی کے گٹ اپ میں مغربی تہذیب جیسی آزادیء نسواں کی بات کرنا کھلی منافقت اور چادر کی توہین ہے۔ اسی لیے میں ملالہ جی کو اس لارنس آف عریبیہ کا دوسرا روپ قرار دیا ہوں جو مسلمان لبادہ اوڑھےاسلام کا بدترین دشمن ثابت ہوا۔ کرنل لارنس کو بھی اس دور کے آپ جیسے دانشور سچا مسلمان اور امت کا نجات دہندہ قرار دیتے تھے۔ لیکن جب اس مکار جاسوس کی اصلیت یہ ظاہر ہوئی تھی کہ وہ برطانوی فوج کے شعبہء جاسوسی سے تعلق رکھنے والا ایک عیسائی کرنل تھا تو سب کی آنکھیں حیرت سے پھٹی رہ گئیں تھیں۔

چوہدری صاحب فرماتے ہیں کہ، ” س ملک میں 16سال کی بچی کی یہ ہمت‘ یہ جرأت کہ یہ یو این میں خطاب کر جائے‘ یہ صدر اوبامہ کے سامنے بیٹھ جائے اور صدر اوبامہ اپنی بیگم اور اپنی بیٹیوں کو بلا کر ان کی اس سے ملاقات کرائے‘ ملکہ برطانیہ اسے دعوت دے اور یہ سولہ سال کی عمر میں بیسٹ سیلر کتاب کی مالک بن جائے‘ یہ کیسے ممکن ہے؟ ہم یہ کیسے برداشت کر سکتے ہیں ” ۔‘

چوہدری صاحب ملالہ وزیرستان کے کسی چوراہے میں طالبان کے روبرو صدائے حق بلند کرتی تو قوم اس کی جرات اور ہمت کو سلام پیش کرتی۔ مغربی آقاؤں کی محفوظ گود میں بیٹھ کر قادیانیوں کی طرح اسلامی اقدار پر حملے کرنے اور ولائتی پناہ میں الطاف حسین کی طرح بھڑکین مارنے سے کوئی جراتمند اور بہادر نہیں بن جاتا۔ آپ کے الفاظ “خطاب کر جائے” کچھ ایسا منظر پیش کرتے ہیں کہ گویا ملالہ جی طالبانی گولیوں اور بارود کی موجودگی میں افغانستان کا بارڈرپار کر کے یو این اوپہنچی تھی؟ ظاہر ہے مغرب کسی فلسسطینی یا کشمیری مظلوم لڑکی کو نہیں بلکہ اپنے بغل بچہ شو پیس کردار کو ہی انسانی حقوق کے اس نام نہاد عالمی سٹیج تک پہنچائے گا۔ افسوس ہے آپ کے اس بچگانہ انداز تحریر و فکر پر کہ آپ کی نظر میں ایک مرتد دشمن اسلام اوبامہ اس کی بیگم اور اس کی بیٹیاں اتنی معتبر و بزرگ ہستیاں ہیں کہ ان سے ملاقات کا شرف حاصل کرنا گویا کسی جنت کی کنجی ٹھہرا ہے۔ کیا آپ بتائیں گے کہ ملالہ نے مغرب اور امریکہ کیلئے ایسے کون سے مہان کارنامہ ہائے سرانجام دیے ہیں کہ امریکی و مغربی صدور و شہنشاہ بمعہ اہل و عیال اس کی زیارت کیلئےبے تاب رہتے ہیں؟

 جاوید چوہدری صاحب لکھتے ہیں ، ” ہم ملالہ کو کیسے برداشت کریں گے؟ ملالہ ایک بے چاری پاکستانی بچی ہے‘ ہم لوگ اس بچی کا اسکول بچا نہیں سکے مگر ہم اس کے گل مکئی ہونے‘ نوبل انعام تک پہنچنے اور دنیا کی نوجوان ترین مقبول مصنفہ ہونے پر بہت دکھی ہیں‘ میں حیران ہوں ہم نے اب تک سولہ سال کی اس بچی پر کفر کا فتویٰ کیوں نہیں لگایا اور ہم نے اسے را کا ایجنٹ قرار کیوں نہیں دیا‘مجھے لگتا ہے ہم یہ بھی کر گزریں گے “۔

چوہدری صاحب آپ نے درست فرمایا کہ ہم کیسے برداشت کر سکتے ہیں کہ ایک کھلی دشمنِ دیں سر پر چادر اوڑھے مسلمہ کے بھیس میں میڈونا جیسی سیکس ماڈل کی زبان میں پاکستان اور اسلامی اقدار کا تمسخر اڑائے۔ ہم کیسے برداشت کر سکتے ہیں کہ سلمان رشدی جیسے ماڈرن ابولہب گستاخ رسالت مآب کی شاتمانہ بکواس کو آزادی رائے قرار دینے والی صلیبی لاڈو کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بیٹی قرار دیا جائے۔ ہم کیسے برداشت کر سکتے ہیں کہ صلیبی تماشہ کرنے والی ایک کٹھ پتلی ایک دوسرے صلیبی بغل بچے گتنہء قادیانیت کو کافر قرار دیے جانے کے قرآنی و آئینی فیصلے کے حوالے سے قادیانیوں کے دجالی موقف کو ہائی لائٹ کر کے ہ، مسلمانوں کی دل آزاری کرے۔ چوہدری صاحب مت بھولیں کہ مغرب کے مقبول مصنف تو سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین جیسے ملعون کردار بھی ہیں۔ ثانت شدہ حقیقیت ہے کہ جو فتنہ جنا اسلام دشمن ہوتا ہے وہ مغرب اور سامراجی دیسوں میں اتنا ہی مقبول ہوتا ہے۔ یہ کوئی تاریک خیال مفتی یا ملا کا فتوی نہیں، قرآن میں لکھا مقتدر اعلی کا فیصلہ ہے کہ یہود و نصاری کا دوست انہیں جیسا ہے۔ یہ فرمان باری تعالی ہے کہ کفار کے ساتھ تعلقات اور میل جول رکھنے والا روزِ محشر انہیں کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ ان احکامات الہی اور قرآنی فیصلے کے مطابق یہود و نصاری اور کل عالم کے کفار کی گود میں بیٹھی صلیبی دوست ملالہ کیا کیلوائی جائے گی، یہ آپ خود ہی بتا دیجئے۔ صلیبی ایجنٹ ہونا را کے ایجنٹ سے کم نہیں۔ ملالہ جی نے مبینہ طور پر تینوں بھارت بھارت جنگوں میں بھارت کو فاتح قرار دیکر پوری پاکستانی قوم کی توہین ہے۔ ملالہ نے یہ کھلی دروغ گوئی بھارت ماتا اور را کی ایجنٹ ہونے کے ناطے کی ہے یا بھارت کے سامراجی و صلیبی حلیفوں کا لکھا ہوا سکرپٹ لکھا ہے یہ بھی آپ سے بہتر کوئی اور کیا جانے گا۔ ہماری نظر میں ہر صلیبی اور سامراجی ایجنٹ پاکستان کے ہر دشمن کا ایجنٹ ہوتا ہے۔

چوہدری صاحب نے فرمایا، ” ہم ملالہ کے معاملے میں بھی اسی رویے کا شکار ہیں، میں ابلاغیات کا طالب علم ہوں، میں اکیس سال سے صحافت سے وابستہ ہوں اورسولہ سال سے کالم لکھ رہا ہوں، میں اچھی طرح جانتا ہوں لوگ کس وقت کیا پڑھنا چاہتے ہیں، یہ کس بات پر تالی بجائیں گے اور کس پر نعرے لگائیں گے۔ کیا ہمارا کام وہ لکھنا ہے جو لوگ پسند کرتے ہیں یا پھرلوگوں کا ذہنی افق وسیع کرنا، انھیں تصویر کے پیچھے جھانکنے کی ٹریننگ دینا ہے۔ لکھاری اور حلوائی میں فرق ہونا چاہیے، حلوائی برسات کے موسم میں پکوڑے بناتے ہیں، شادیوں کے سیزن میں لڈو کی مقدار بڑھا دیتے ہیں اورسردیوں میں گجریلے پر سرمایہ کاری شروع کر دیتے ہیں، ہمارا کام یہ نہیں ہے، ہمارا کام لوگوں کو ایجوکیٹ کرنا، ان کو چیزوں کا اصل ویو دکھانا ہوتا ہے “۔

چوہدری صاحب ماشاللہ آپ اکیس سال سے صحافت سے وابستہ ہیں سولہ سال سے کالم لکھ رہے ہیں۔ بیسوں بار مالہ کی تعلیم کیلئے نام نہاد مسیحائی کا اظہار کر چکے ہوں گے۔ آپ سو بار ملالہ کے سکول کی بندش کا رونا رو چکے لیکن آپ سمیت کسی صحافی کو ایک بار بھی یہ توفیق نہیں ہوئی کہ اسندرون سندھ کے ان سینکڑوں بند سکولوں کے بارے میں بھی کچھ لکھیں جہاں وڈیروں اور جاگیرداروں کی بھینسیں بندھی پڑھی ہیں۔ آپ بتائیں کہ آپ کے ادارے یا آپ نے غازی علم دین شہید جیسی معزز ہستیوں کے بارے ان کی برسیوں پرکتنے پروگرام کیے یا کالم لکھے؟ آپ کے ٹی وی چینل مغرب میں کسی حلوائی کی دوکان سے کسی کتے یا بلی کی طرف سے لڈو اور پکوڑے کھا جانے کی خبر نشر دیتے ہیں۔ راج کپور کی پوتی کی شادی کو کوریج دے دیتے ہیں مگرغازی علم دین شہید یا سلطان ٹیپو شہید کی برسی پر ان مجاہدینِ ملت پر پروگرام یا کالم لکھنے کی آپ کو توفیق ہی نہیں ہوئی ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ عوام کو  ایجوکیٹ تو پاکستان کا وہ حق گو سوشل میڈیا کررہا ہے جو آپ لوگوں کو دل سے کھتکتا ہے۔ آپ جیسے مہان میڈیا حضرات دراصل لوگوں کو ایجوکیٹ نہیں بلکہ مس گائیڈ کرتے ہیں یا اپنے مغربی آقاؤں کا ڈیزائن کردہ اسلام دشمن پراپیگنڈا کی تشہیر کیلئے سرگرم ہیں ۔

جاوید چوہدری صاحب نے اپنے دوسرے کالم ” فیصلے نہ دیں ” میں لکھا کہ، ” رون حملے کا نشانہ بننے والے شمالی وزیرستان کے رفیق الرحمن اور اس کے دو بچوں کی مثال لیجیے‘ ایمنسٹی انٹرنیشنل اس علاقے تک پہنچی جہاں آج تک ہماری ریاست داخل نہیں ہو سکی۔ایمنسٹی نے رفیق الرحمن کے خاندان کو رپورٹ کا حصہ بنایا‘ امریکی کانگریس مین ایلن گریسن نے نہ صرف رفیق الرحمن اور اس کے بچوں کو امریکا بلایا بلکہ میڈیا کے سامنے بھی پیش کیا اور دنیا بھر کا میڈیا ان لوگوں کو بھرپور کوریج دے رہا ہے اور یہ لوگ امریکا میں بیٹھ کر امریکا کو قاتل اور ظالم قرار دے رہے ہیں اور لوگ ان کی بات ہمدردی سے سن رہے ہیں‘ یہ ہمدردی ‘یہ برداشت مغربی کلچر کا حصہ ہے لیکن یہ کیونکہ ہمارے لیے نئی بات ہے چنانچہ ہم ملالہ کے حق میں کوئی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں‘ آپ ملالہ‘ اس کی کوریج اور اس کی کتاب کو ایک واقعہ سمجھ کر دیکھیں‘ آپ کو یہ بری نہیں لگے گی‘ آپ اسے کفر اور اسلام کی جنگ بنا رہے ہیں اور آپ کے اس فیصلے کی وجہ سے ملک میں کشیدگی پیدا ہو رہی ہے‘ آپ سولہ سال کی بچی کے خلاف فیصلے نہ دیں‘ دل بڑا کریں‘ یہ ہماری بچی ہے ” ۔

چوہدری صاحب آج آپ نے مغربی کلچر کا قصیدہ لکھ کر قارئین کیلئے یہ فیصلہ کرنا نہات آسان کر دیا کہ مغربی کلچرکی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے والے میڈیا پرسن کس کیلئے کام کرتے ہیں۔ آپ مغربی برداشت اور ہمدردی کے قصیدہ گو ہیں تو کم از کم ہم سے یہ امید نہ رکھیں کہ ہم بھی توہین قرآن رسالت یا کسی ملعون سلمان رشدی کی شاتمیت کو آزادیء رائے گرداننا برداشت کرلیں گے۔ آپ یورپ کی ہمدردانہ فطرت کے گیت گا رہے ہیں تو خدارا کسی سامراجی یا صلیبی بادشاہ کا کوئی ایک ایسا بیان بتا دیجیے جس میں انہوں نے بیدردی سے قتل ہوتے ہوئے فلسطینیوں، کشمیریوں، عراقیوں اور افغانیوں کے خلاف مظالم پر اپنی زبان کھولی ہو۔ کوئی ایک ایسا مغربی راہنما بتا دیں جس نے برما میں زندہ جلائی جانے والی مسلم بستیوں کے مظلوم باسیوں سے اظہار ہمدردی کیا ہو۔ کوئی ایک مغربی میڈیا بتا دیں جس نے کشمیر میں قتل ہوتے ہوئے مسلمانوں اور مصری عوام کی خونریزی کی بھرپور کوریج کی ہو؟ قبلہ چوہدری صاحب اگر ملالہ آپ کی اور ہماری بچی ہے، پاکستان کی بیٹی ہے تو آئے پاکستان میں آ کر رہے۔ فتنہء قادیانیت کے زندیقین کی طرح گوری گود میں بیٹھ کر اسلام اور پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کرنے والی کسی ملالہ شلالہ کو ہم پاکستانی بچی نہیں مغربی بغل بچی اور سامراجی کٹھ پتلے کے سوا ہم کچھ نہیں مانتے۔ چوہدری صاحب خدا جانے کہ یہ محض اتفاق ہے یا کچھ اورلیکن باخدا جس دن آپ نے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی اور میڈم ملالہ کا قصیدائی کالم لکھا اسی دن تمام قادیانی ویب سائٹیوں پر ننگِ ملت و وطن ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی، چوہدری ظفر اللہ قادیانی اور ملالہ جی کی اکٹھی تصاویر کے بینرز آوازاں کر دیے گیے تھے۔ اللہ کرے کہ یہ محض ایک اتفاق ہی ہو۔ لیکن یہ محض ایک اتفاق نہیں کہ مغرب کی عریاں ترین سیکس ماڈل سنگر میڈم میڈونا گلے میں صلیب لٹکائے اپنے عریاں بدن پر ملالہ کا ٹٹو بنا کر بے لباس ہوتی ہے اور آپ کی اپنےصلیبی آقاؤں سے وفا آپ کی تحریروں سے۔ کاش آپ کی مظبوط و توانا آواز وہ تمام حقائق بیان کرپاتی جو آپ مجھ جیسے ایک عام پاکستانی سے بحرحال بہت بہتر جانتے ہیں ۔۔۔۔

jc3

اس تحریر میں میڈونا جی کی ملالہ برانڈ تصاویر کے بارے روشن خیالوں کا فتوی ہےکہ میں عریانیت پھیلا رہا ہوں۔ دین کی بینائی سے محروم نابینا سیکولرز  اور مغربی تہذیب کی عینک چڑھائے ملالائی اندھوں کو بھی نظر آ جانا چاہیے کہ میں نے جسم کےعریاں حصوں پر ڈیزائین پیسٹ کر کے سنسر کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ مغرب کی اس فحش سیکس ماڈل میڈونا نے ملالہ کی شان میں کئے گئے اس پروگرام میں اپنا تمام  لباس اتار کر پروگرام کو ڈبل ایکس بنا دیا تھا ۔۔۔۔ بحرحال خوش آئیند ہے کہ چوہدری صاحب نے اپنے اگلے کالم ” ملالہ یوسف زئی اور الطاف حسین ” میں ملالہ کا ان الفاظ میں اقرار جرم لکھ کر ان بات کی تصدیق کر دی ہے کہ کتاب ملالہ نے نئی کرسٹینا لیمب نے لکھی تھی۔ وہ لکھتے ہیں کہ ” میں نے ملالہ سے اس کی کتاب ’’آئی ایم ملالہ‘‘ کے متنازعہ مواد کے بارے میں پوچھا‘ وہ اس پر شرمندہ تھی‘ اس کا کہنا تھا‘ یہ کتاب کرسٹینا لیمب نے لکھی تھی‘ اس کا ریسرچ ورک بھی اسی نے کیا تھا‘ میں نے اس سے درخواست بھی کی تھی‘ وہ کتاب میں نبی اکرمؐ کا ذکر پورے احترام کے ساتھ کرے لیکن وہ جلدی میں اس کا دھیان نہیں رکھ سکی‘ مجھے اس پر شرمندگی ہے اور میں اس پر پورے ملک سے معافی مانگتی ہوں‘ ملالہ نے یقین دلایا‘ اگلے ایڈیشن میں یہ غلطی درست کر دی جائے گی ” ۔ کتاب میں درج گستاخانہ مواد کے حوالے سے غلطی درست ہوتی  ہے یا نہیں لیکن کم از کم چوہدری صاحب نے اپنی غلطی کا ازالہ کر دیا ہے۔ امید ہے کہ ان جیسے صاحب علم و فضل صحافی آئیندہ بنا کسی تحقیق کے گورروں کی آلہ کار میڈم ملالہ جیسی ہستیوں کی  وکالت نہیں فرمائیں گے۔۔۔۔۔

( فاروق درویش ۔ 03224061000 –33240610000 )

اپنی رائے سے نوازیں

Featured

%d bloggers like this: