حالات حاضرہ

جنگل کا بادشاہ اورسیاسی سرکس کے کاغذی شیر۔ سیاسی جیوگرافی


قدرت نے شیر کو بے پناہ طاقت اور منفرد فطرت و جبلت عطا کر کے جنگل کا بادشاہ بنایا ہے۔ بے مثال جراتِ کردار اور بے پناہ خود اعتمادی کا یہ وجیہہ قامت درندہ اپنے علاقے اور کنبے کی حفاظت کیلئے مرمٹنے کیلئے ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ بے شک وہ اشرف المخلوقات انسان ہوں یا بری بحری اور فضائی ذی روح، قدرت نے ہر ایک جین یا صنف ذی روح کو دوسرے جینوں سےمنفرد اور مخصوص فطرت و جبلت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ عادات و اطوار کا بغور جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ بری جانوروں میں طاقت اور بہادری کی علامت جنگل کے بادشاہ شیر کو اسکی  جداگانہ فطرت، منفرد اوصاف اور حیران کن عادات و اطوار ہی اسے دوسرے تمام جانوروں سے ممتاز کرتے ہیں۔ میں یہاں صرف ان چند بنیادی خصائل کا ذکر کروں گا جو جنگل کے شیروں میں بحرحال موجود مگر سیاست کے شیروں میں بحر صورت مفقود ہوتے ہیں۔ شیروں کی اولین فطرت ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر اپنے حلقہء اقتدار میں کسی دوسرے شکاری جانور کی موجودگی اور مداخلت ہرگز برداشت نہیں کرتا اور نہ ہی وہ اپنے علاقے کی تاجوری کیلئے دوسرے طاقتور کی مدد و معاونت کا محتاج ہوتا ہے۔ جبکہ سیاست کے شیر اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات کیلئے علاقے کے آدم خور لگڑبھگوں اور عیار سیاسی لومڑوں سے مفاہمت و مصالحت کو عظیم تر قومی مفاہمتی جذبہء اخوت کا نام دیکر بندر بانٹ کے عظیم الشان سیاسی نظریے پر کاربند رہتے ہیں۔ احباب شیر کی دوسری اہم خصلت یہ ہے کہ وہ کبھی بھی کسی بھی صورت میں جنگل میں اس کےباقی ماندہ شکار پر پلنے والے لومڑیوں، گیدڑوں، جنگلی کتوں یا خصوصاً ظلم و سفاکیت کی علامت، کبھی زندہ خور اور کبھی مردار خور بننے والے لگڑ بھگوں سے دوستی نہیں رکھتا۔ جہاں جنگل کا بادشاہ دردناک موت بانٹنے والے سفاک لگڑبھگوں کیلئے فطری طور پر دردناک موت کا پیغام بر ہے وہاں سیاست کے شیر اپنے مفادات کے حصول کیلئے انسانی بستیوں میں موت کے سوداگر آدم خور سیاسی لگڑبھگوں کو حلیف و ہمنوا بنانا کامیاب سیاسی چال گردانتے ہیں ۔ احباب وہ روشن خیال مسخروں کا شیر پرویز مشرف ہویا جیالوں کا شیر زرداری، وہ تبدیلی اور انقلاب کے علم برداروں کا سونامی شیر ہو، مذہبی سیاسی جماعتوں کا ڈیزل بردار شیر ہو یا پھر نون لیگیوں کا شیر پاکستان، یہ سب سیاسی شیر کبھی کراچی میں ظلم و بربریت کے نشان سیاسی لگڑبھگوں سے مفاہمتی اتحاد بنا کر یا انہیں گرتے وقت میں بیساکھیاں فراہم کرنے کو قومی مفاہمت کی پالیسی قرار دے کر ازخود اپنے نقلی شیر ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ اور کبھی سرحدی گاندھی برانڈ سیاسی بھیڑیوں اور زرداری مارکہ چالاک لومڑوں کے ساتھ اتحادی غول بنا کر ملک و قوم کی دولت کا شکار کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

شیر کے خاندانی نظام کی اگلی منفرد خاصیت یہ ہے کہ اس میں دو برس یا اس سے کچھ زائد عمر کے نر بالکوں کو جبراً خاندان سے باہر نکال دیا جاتا ہے۔ نتیجاتاً اگلے دو تین برس تک شکار کے ہنر سے ناآشنا وہ نیم بالغ بچونگڑے در در بھٹکتے،  جنگل کے بے رحم معاشرے میں اپنے جیسے بے آسرا نروں کے ساتھ ملکر خوراک کے حصول اورجان بچانے کیلئے  نبردآزما رہتے ہیں۔ دیکھا جائے تو آزمائشوں سے بھرپور خانہ بدوشی کا یہی عرصہء امتحان ان نابالغ شیروں کو مظبوط تر بناتا ہوا اس قابل بنا دیتا ہے کہ بالآخر وہ کسی جھنڈ کے کمزور بوڑھے شیر کو بچھاڑ کر اس کے خاندان پر قبضہ او علاقے میں اپنی بادشاہت کا اعلان کردیتے ہیں۔ لیکن اس کے کلی برعکس سیاسی شیر اپنے نابالغ بچونگڑوں کو اوائل عمری میں ہی تمام سیاست اور مکاری کے سب داؤ پیچ اورعوام کے شکار کے تکنیکی گر سکھانے شروع کر دیتے ہیں۔ اور یوں ان سیاسی شیروں کے بوڑھے ہونے تک ملک و قوم کے خزانے اور قوم کی خوش حالی کھا جانے والا طاقت سے بھرپور نوجوان شیر تیار ہو چکا ہوتا ہے۔ اس غیر شیرانہ فطرت نے پاکستانی سیاست میں موروثی سیاست کے نظام کو مظبوط تر ہی نہیں مقبول تر بنا دیا ہے۔ بھٹو کے بعد بھٹو کی بیٹی اور پھر داماد یا بیٹا اور اسی طرح نواز شریف کے بعد نواز کا بھائی، بیٹا، بھتیجا یا پھر بیٹی۔ ملوکیت کا انداز لئے یہ وہ موروثی جمہوری نظام ہے جو کم از کم شیروں کے معاشرے میں کہیں بھی موجود نہیں۔

شیر کے معاشرے کی ایک اور اہم خاصیت جو دوسرے جنگلی جانوروں اور درندوں سے یکسر مختلف ہے۔ شکار کرنے کی ذمہ داری شیرنی پر ہوتی ہے اور شیر صاحب صرف اس موقع پر ہی اس کی مدد کو آتے ہیں جب وہ کسی قوی الجثہ شکار کو گرانے میں ناکام ثابت  ہو۔ یوں نوے فیصد سے زائد شکار کرنے کی تکلیف شیرنی ہی اٹھاتی ہے۔ دوسری شیرنیوں کے شکار پر جانے کے بعد غیرحاضر شیرنیوں کے بچوں کو دودھ پلانے کی ذمہ داری بھی کسی شیرنی کی ہوتی ہے۔ جبکہ سیاسی شیروں کے معاشرے میں قوم و ملک کا دھن ہو یا سیاسی مخالفین کی زندگیاں، یہاں شکار کی تمام تر ذمہ داری مرد شیروں کی ہوتی ہے اور شیرنیاں شکار کے دھن سے قیمتی ہیروں کے نولکھے ہار اوررنگین ملبوسات خریدتی نظر آتی ہیں۔ اس حوالے سے سچی بات تو یہ ہے کہ ہماری سیاسی تاریخ میں بھٹو صاحب ہی وہ واحد شیر تھے جنہوں نے اپنے بیٹوں کو دربدر کر کے اپنی شیرنی کو شکار کی تربیت دی۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ شیرنی اپنے ہی شیر کے ہاتھوں شکار ہو کرایک پراسرار داستانِ شہادت بن گئی۔ دیکھا جائے تو وہ بے نظیر و بے مثال شیرنی بھی شیروں کے نظام معاشرت سے بالکل الگ ہی نہیں بلکہ لگڑبھگوں کے سماجی نظام کی حقیقی نمائیندہ کہلانے کی حقدار تھی۔ یاد رہے کہ شیروں کے جھنڈ کے برعکس لگڑبھگوں کے جھنڈ کا سربراہ کوئی نر نہیں بلکہ جھنڈ کی طاقتور ترین مادہ ہوتی ہے۔ افسوس  کہ ہمارے سیاسی شیر بہادری و جرات کی نہیں بزدلی اور مکاری کی علامت ثابت ہوئے ہیں۔ صد حیف کہ ہمارا سونامی برانڈ شیر بھی الطاف جیسے خونخوارلگڑ بھگے کو للکارنے کے بعد ناجانے کس خوف یا مصلحت کے زیراثر یو ٹرن لیکر اس سے دوستی کو اپنا فطری اتحاد قراردے دیتا ہے۔ لندن میں مقدمات کے سب نعرے خواجہ سرا کی بڑھک ثابت ہوتے ہیں اور پھر ایک جلسے کی قیمت پر سب کچھ مک مکاؤ ہو جاتا ہے۔ تاوقتکہ زہریلہ سانپ اپنے دودھ پلانے والے شیر خان کو زبردست ڈنگ نہیں مارتا۔

nawaz-sharif-lionsامریکہ اور مغربی طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایٹمی دھماکے کرنے والا یہ بہادر شیر پاکستان اب انہیں سامراجی و مغربی ناخداؤں کے مفادات کا محافظ و فرمابردار ہے۔ وہ شیر امریکی خون آشام بھیڑیوں کے ایما پر بھارت کو خطے کا بڑا تھانیدار تسلیم کرنے کیلئے بھی تیار ہو کر اپنے اس ایمان افروز ” ایٹمی قوت بردار” کردار کو از خود مسخ کر کے خود کو کاغذی شیر ثابت کرتا ہے۔ عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت کے شیر وزیر اعظم کے پاس بھارتی گیدڑوں کی اندرون ملک دہشت گردانہ مداخلت اور سرحدی غنڈہ گردی کیخلاف عالمی اداروں میں آواز اٹھانے کی جرات نہیں ہوتی ۔ لیکن ہاں بھارتی جارحیت کے جواب میں تین سو پچاس بھارتی قیدیوں کو رہا کر کے امن کی آشا کا پیغام ضرور دیا جاتا ہے۔ افسوس کہ ہمارے شیر کے لبوں پر برما کے مظلوم مسلمانوں کے سفاک قتل عام کی مذمت کرنے کیلئے کوئی الفاظ ہی نہیں۔ افسوس کہ ہمارے شیر کے پاس نہ تو فلسطینی مسلمانوں کیلئے ہمدردی کے کلمات ہیں اور نہ شام کے ہاتھوں زہریلی گیس سے مرتے ہوئے بیگناہ مسلمانوں کی حالت زار پر رسمی افسوس کرنے کی مجال ہے۔

 یاد رہے کہ شیر پاکستان نواز شریف نے اسلام اور پاکستان کے بدترین دشمن قادیانی زندیقوں کو اپنے بھائی اور ہندو سکھ مسلمانوں کو ایک ہی خدا کے ماننے والے کہہ کر عقیدہء ختم نبوتِ نبی آخر الزماں ص اور قیام پاکستان کی اساس دو قومی نظریے کی دھجیاں اڑائیں تو ان کے خلافِ ملک و ملت بیانات پر شیر صحافت مجید نظامی صاحب اس قدر برہم ہوئے کہ اپنے اخبار نوائے وقت میں سخت تنقیدی کالم لکھ مارا۔ شاید وہ اس حقیقت سے ناآشنا  تھے کہ شیر نہ تو ہندو ہوتا ہے اور نہ ہی مسلمان ، وہ سکھ ہے نہ عیسائی۔ شیرکا تو کوئی بھی مذہب، دین یا مسلک نہیں ہوتا بلکہ اس کا اول و آخر جذبہ و جنون صرف اور صرف اس کی بادشاہت یا اس کا خاندان ہوتا ہے۔ سو شیر بن جانے والے ایک مسلمان سے اس کے علاوہ توقع بھی کیا کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے اقتدار اور موروثیت کو بچانے کیلئے امریکی و مغربی شاہوں کے مفادات کا محافظ و ترجمان اور کسی بھی حد تک سیکولر بن جائے۔

sharif-party ہمارے سیاسی شیر کبھی ایک بدترین گستاخ قرآن رسالت بال ٹھاکری گستاخ رسالت عاصمہ جہانگیر کا نام نگران وزیراعظم کیلئے پیش کرکے واپس لیتے ہیں اور کہیں اس ننگ دین ملت  کے گروپ سے سیاسی اتحاد بنا کر لاہور اور اسلام آباد بار کونسلوں کے الیکشن لڑتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ رائیونڈ محل میں دیسی گھی کے حلوے پوری کھانے والا کوئی خوشامدی مشیر انہیں اس حقیقیت سے آگاہ نہیں کرتا کہ ان کے خلافِ اسلام بیانات اور اقدامات رائے عامہ میں ان کی مقبولیت کا گراف گرنے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ مسلم لیگی احباب یاد رکھیں کہ میں اول تا آخر پیدائشی مسلم لیگی ہوں لیکن کسی سیاسی شیر کا زرخرید غلام اور درباری ہرگز نہیں- مجھے فخر ہے کہ میری رگوں میں تحریک پاکستاان میں اپنی جانیں قربان کرنے والے آباواجداد کا لہو ہے۔  میں آج بھی قائد اعظم ، حضرت اقبال اور مسلم لیگ کا حقیقی نظریات کا علمبردار ہوں اور کل بھی دین محمدی اور پاک دھرتی کا جانثار اور کلمات حق کا قلم کار رہوں گا۔ قارئین صد افسوس کہ آج کا پڑھا لکھا سونامی پرستارمسلمان بھی تحریک انصاف کی صفوں میں موجود ہم جنس پرستی کی مصدقہ علمبردار فوزیہ قصوری اور کھلے گستاخِ قرآن و اسلام سنگر سلمان احمد کی اسلام دشمن حرکات کی مذمت کرنا سیاسی سبکی و حماقت سمجھتا ہے ۔ تلخ حقیقیت یہی ہے کہ ہمارے نوے فیصد دانشور، شاعر، ادیب، میڈیا اینکرز اور ہائی پروفائیلڈ پرسنز سامراجی ، مغربی یا ہندوآتہ کی کٹھ پتلیاں بن کر خود بھی ناچتے ہیں اور قوم کو بھی نچاتے ہیں۔ اس ملک میں ڈاکٹر قدیر خان اور حمید گل جیسے محب وطن اور طلعت حسین، انصار عباسی اور اوریا جان مقبول جیسے صحافی کم مگر ہاں دیسی مرغی ولائتی انڈے جیسے حسن نثار برانڈ دانشور حشرات الارض کی طرح ہر کونے میں موجود ہیں۔

 شیر کی سب سے ہیبت ناک اور ظالمانہ فطرت یہ ہے کہ وہ جب بھی کسی کمزور شیر کو پچھاڑ کر اس کے جھنڈ پر قبضہ کر کے اپنی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے توسب سے پہلے اس مقتول شیر کے بچوں کو بیدردی سے ہلاک کرتا ہے۔ گو کہ دیکھنے میں یہ ایک انتہائی ظالمانہ قدم اور قدرت کی طرف سے عطا کردہ ایک سفاک خصلت ہے لیکن اس میں بھی قدرت کا ایک راز پوشیدہ ہے کہ شکست کھانے والے کسی کمزور شیر کے کمزور نطفوں کو زندہ رہنے اور شیر کی فطرت کے عین مطابق مظبوط شیر بننے اور کہلوانے کا کوئی حق نہیں۔ قدرت کے اس کھیل میں بھی قدرت کی حکمت پوشیدہ ہے کہ شکست کھانے والے کمزور شیر اور ان کے کمزور نطفے مٹتے جاتے ہیں اورصرف مظبوط ترین شیر کے نطفے ہی زندہ رہ کر کامیاب ہی نہیں وہ طاقت رکھنے والے شیر بنتے ہیں، جو طاقت شیر کی پہچان اورعلامت ہے۔ گو کہ شیر کی اس ہیبت ناک اور ظالمانہ خصلت کا سیاست سے بظاہر کوئی تعلق نظر نہیں آتا لیکن درراصل یہی نظریہ ء تطہیر کمزوراں دنیائے سیاست پر حکمرانی کرنے والے عظیم بادشاہوں کا وطیرہء خاص رہا ہے۔ ہاں کہ شیر جنگل کا بادشاہ ہے مگر ہاں کہ وہ کبھی بھی گیدڑوں، لومڑوں، بھیڑیوں اور لگڑبھگوں کا دوست نہیں ہوتا۔ ہاں کہ یہی قانون قدرت اور عین اصول فطرت ہے۔ ہاں اگر شیر بن کے جینا چاہتے ہو مسلمہ بن کذاب پر شیروں کی طرح ٹوٹ پڑنے والے صدیق اکبر، اسلامی فلاحی ریاست کے داعی فاروق اعظم، سخیء بے مثل عثمان ذولنورین اور شیر خدا حیدر کرار کی طرح اسد اللہی بن کر جیو۔ سدا یاد رکھو کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کے وصال پر اہل خانہ کے پاس کفن دفن کیلئے رقم نہیں تھی۔ ہاں مگر اس مجاہد سلطان بے مثل کی زندہ قبر آج بھی داستانِ سرفروشاں بیان کررہی ہے۔ جائے عبرت ہے کہ محمد شاہ رنگیلے اور میر جعفر و صادق کی قبروں پر لعنتوں کے اشعار اور جوتوں کے انبار تا قیامت داستانِ قوم فروشاں سناتے رہیں گے۔

sher5a

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

Featured

%d bloggers like this: