تاریخِ ہند و پاکستان حالات حاضرہ

حامد میربمقابلہ زید حامد اور ہٹلر کے حریف و حلیف


حکومتی ایوانوں کی سیاست ہو، کاروبار صحافت کی گروہ بندیاں اور حکمت عملیاں ہوں یا مفادیاتی گروپوں کی باہمی رسہ کشیاں، مفادات کے تحفظ اور حصول زر کیلئے نئی لابیوں کا بننا اور پرانی ٹوٹنا سیاست اور سیاہ ست کے اس گورکھ دھندے کا معمول ہے۔ اس کشکمش میں کل کے حریف آج کے حلیف اور آج کے دوست کل کو دشمن بنتے رہتے ہیں۔ تاریخ عالم گواہ ہے کہ ذاتی و سیاسی مفادات کے تحت دوست اور دشمن بدلتے رہتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کی تاریخ کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ وسطی و مشرقی یورپ کی اشتراکی ریاستوں کے درمیان طے پانے والے وارسا معاہدہ کے ساتھ ہی اس خونی جنگ کے بیج بوئے جا چکے تھے۔ مغربی یورپ کے اتحاد نیٹو نے اپنے خلاف متحد ہونے والی کیمونسٹ طاقتوں کو اپنی بقا کیلیے شدید خطرہ خیال کیا۔ عالمی امن کے دشمن اعظم اور اقوام عالم میں فتنہ و فساد پیدا کیلئے متحرک یہودیوں کی روایتی فتنہ گری نے جرمنی اورپولینڈ کے مابین حالات خراب کرنےمیں اہم کردارادا کیا۔ نتیجہ یہ برامد ہوا کہ 3 ستمبر 1939ء کو جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کر دیا۔ یہ الگ موضوع ہے کہ قدرت کے دائمی قانون، مکافات عمل کا شکار ہونے والے یہود کے قتل عام کا آغاز اور سب سے زیادہ ہلاکتیں بھی پولینڈ میں ہوئیں۔

تاریخی حقائق سے عیاں ہے کہ امریکہ اور برطانیہ پچھلی دو صدیوں سے یہودیت کے غلام بن کر عالمی امن کیخلاف  سازشوں کے مرکزی کردار رہے ہیں۔ جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد 1918ء سے 1939ء تک مغرب کے حالات کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مشرق و مغرب میں اکثر و بیشتر جنگوں اور امن کش فتنہ و فساد کا مرکزی کردار برطانیہ پہلی جنگ عظیم کے حریف جرمنی کے آمر حکمران ہٹلر کو طاقت ور دیکھنے کا خواہاں تھا ۔ اسی غرض سے پہلے اس نے چیکو سلواکیہ کو ٹکرے کر کے کمزور کیا اور پھر پورے چیکوسلواکیہ پر جرمنوں کا قبضہ ہونے پر بھی خاموش رہ کر اس بات کا انتظار کرتا رہا کہ جنگجو مزاج  ہٹلر کی سیاسی اورعسکری طاقت اتنی مضبوط ہو جائے کہ وہ روس پر حملہ آور ہو سکے۔ مگر گوروں کی توقع کیخلاف جب جرمنی نے روس کے بجائے پولینڈ پر حملہ کیا تو انگریز چکرا گیے اور برطانیہ نے یہودی آقاؤں کی آماجگاہ پولینڈ کی حمایت میں جرمنی کیخلاف اعلان جنگ کر کے ام المنافقین ہونے کا تاریخی ثبوت دیا۔ وہ جنگ اپنے انجام کو پہنچی لیکن یہودی لابی کے غلام امریکہ اور برطانیہ کی امن دشمنی اور منافقت  ہر جنگ میں اور ہر رنگ میں جاری ہے ۔

hh7

 پاکستان کے دو طاقت ور صحافتی اور سیاسی کرداروں زید حامد اور حامد میر کے درمیان پراسرار اور حیران کن “نظریاتی جنگ” میں دونوں گروپوں کے حلیف و حواروں کی طرف سے توپوں کے مونہہ کھلتے رہتے ہیں۔ اس حوالے سے یاد رہے کہ  یہ  دراصل جیو اینڈ جنگ سمیت پورے پاکستان میڈیا ہی کا کمال تھا کہ مدعیء نبوت یوسف کذاب کے قتل کے بعد بارہ برس تک غائب رہنے والے ” زید زمان ” کو یہی میڈیا مافیہ ” زید حامد” بنا کر ٹی وی پروگراموں کے ڈرامہ سٹیج پر واپس لایا تھا۔ ان دو بڑے مگرمچھوں کی جنگ میں حضرت جیم جیو کےایک تازہ ” خریدہ کردہ حلیف ” ملاں طاہر اشرفی جیسے بوتل بردار کردار بھی اپنی دوکانداری چمکانے نکل پڑے ہیں۔ کیا بھول سکتے ہیں یہی چند ماہ قبل جیو سمیت پورے میڈیا پر اس دیسی ملا طاہراشرفی سے ولائیتی شراب برامد ہونے کی خبروں کے مناظر رمضان کے رش میں گرما گرم سموسوں کی رفتار کی طرح چل رہے تھے۔ کبھی اس مولوی پر جیو کی طرف سے فتنہء شرابی لگتا ہے تو کبھی مسٹر ایکسپریس اس پر جوے بازی کے الزامات کی رپورٹس دکھا رہے ہوتے ہیں۔ قابل مذمت ہے کہ موصوف  دین محمدی کے عالم کہلاتے ہیں مگر مولوی طاہر القادری کی طرح کرسمس کیک کاٹنے کی تقریبات میں انگلستانی پرفیوم کی پوری بوتل لگا کے جاتے ہیں۔ حقائق کی آنکھ سے دیکھا جائے تو اس کہانی کے کسی کردار کی ذات شکوک و شبہات سے مبرا نہیں ہے۔ زید حامد پر یوسف کذاب کا خلیفہ اور حواری ہونے، اس کے مقدمہ کی پیروی کرنے اور اس ملعون کو ایک شریف النفس صوفی انسان قرار دینے کا الزام ہے ۔ تو جیو گروپ کے حامد میر پر ریاست سے غداری اور بھارتی لابیوں کی فرمانبرداری کا الزام لگایا جاتا ہے۔ ملا طاہر اشرفی کی ذات اور بدکرداری اسی میڈیا پرمسلسل تنقید کا نشانہ بنتی رہتی ہے۔ مغربی سفارت خانوں کی محافل میں شراب نوشی، جی ٹی روڈ پر شراب کے نشہ میں دھت ملا سے شراب کی برامدگی اور جوابازی کی رپورٹس بھی حامد میر صاحب کے جیو گروپ سمیت سارے میڈیا کی زینت رہی ہیں۔ لکھاریوں کے مطابق یہ تمام الزامات ان افراد کے ذاتی و شخصی کردار کا احوال بیان کرتے ہیں۔

حامد میر پر تحریک طالبان پاکستان سے رابطے اور کرنل امام اور خالد خواجہ کی موت کی وجہ ہونے کا بھی الزام ہے۔ ان الزامات کے حوالے سے ثبوت کے طور پر حامد میر اور تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان کے درمیان ہونے والی ٹیلیفون گفتگو کا بھی ذکر بھی سوشل میڈیا اور مختلف ویب سائٹس کی رونق بنا رہا ہے۔ اسی طرح زید حامد پر بھی الزام ہے کہ وہ مولانا جلال پوری کے قتل میں ملوث ہیں۔ جس کی توثیق ان کے کارخاص عماد خالد کا یہ بیان کرتا ہے کہ جلال پوری  پر قاتلانہ حملے کی پلاننگ کا زید حامد کو پیشگی علم تھا۔ یہ وہ تین افراد ہیں جو اس وقت ایک دوسرے پر  میڈیا اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے زریعے تابڑ توڑ حملے کر رہے ہیں۔ سماجی رابطوں کی سائٹس پر انتہائی واہیات زبان کا بے دریغ استعمال بھی جاری ہے۔ افسوس ناک طرز عمل ہے کہ حامد میر کو “حامد میر جعفر” ، ملا طاہر اشرفی کو “حرام چربی کا ڈرم” اور ” مولوی کپی ” کا نام دیا جا رہا ہے۔ کلاشنکوف لئے ڈرائینگ روم جہاد کرنے والے مسٹر لال ٹوپ کو کذاب اور دجال جیسے نام دیے جا رہے ہیں۔ ان تینوں کرداروں کے پرستار ان پر تنقید کرنے والوں کی پذیرائی بھرپور گالیوں سے کر رہے ہیں۔ لیکن نہ تو عوام ہی اصل وجوہات کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ ہی جنگجو فریقین خود احتسابی کی طرف مائل ہیں۔ عوام بیحد دکھی اور خاص طور پر نوجوان نسل طبقہ ذہنی انتشار کا شکار ہے کہ سیاسی جادوگروں سے لیکر میڈیا بازیگروں تک کرپشن ہی کرپشن نظر آتی ہے۔ حزب اقتدار ہو یا حزب اختلاف ، شعبہء صحافت ہو یا بیوروکریسی، ہر شعبہ میں چاروں طرف حمام میں سب کے سب ہی ننگے نظر آتے ہیں۔ امن کی آشا کے پیامبر جیو گروپ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کیلئے تیار ہی نہیں کہ قوم نے ہندوآتہ سے امپورٹ کردہ امن کی آشا کا نعرہ یکسر مسترد کر دیا ہے۔

جیو حضرات کھل آنکھوں سے دیکھیں کہ قوم بھارت سے تعلقات صرف برابری کی بنیاد پر چاہتی ہے۔ قوم کشمیراور گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کے مجرم اور بلوچستان توڑنے کیلئے سرگرم بھارت ماتا سے امن کی آشا نہیں رکھتی۔ حامد میر جیسے سینیئر صحافی بھی اس بات سے باخبر ہوں گے کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الاللہ کا نعرہ بدلنے کیلئے کوشاں ان کا جنگ میڈیا قوم کو جذبات کو شدید مجروح کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ ساتھی بلاگر خورشید خان صاحب نے درست لکھا ہے کہ طاہر اشرفی اور زید حامد کو چاہیے کہ وہ یوسف کذاب کے معاملے پر علماء اکرام کا پینل تشکیل دیں۔ جس کے روبرو اپنے علمی دلائل پیش کریں تاکہ ایک ایسے حساس مسلہ کا دائمی خاتمہ ہو جو امت مسلمہ کو تقسیم در تقسیم کر رہا ہے۔ عجیب اور تکلیف دہ صورت حال ہے کہ عوام ان صاحبان فتن میں سے کس کو بھی حق پر یا معتبر جاننے کیلئے تیار ہی نہیں۔ وجہ عیاں ہے کہ ان میں سے کسی شخص کی ذات بھی حساس نوعیت کے الزامات سے پاک اور شکوک و شبہات سے مبرا نہیں ہے۔ یہ میری نہیں عوام کے دل کی آواز ہے کہ ان میں سے کوئی بھی کرپشن سے پاک اور ملک و ملت کا مخلص و غمخوار نہیں ہے۔ اس تماشہء ست رنگ کے چوتھے آلودہ کردار مبشرلقمان کا ذکر کرنا وقت کا ضیاع سمجھتا ہوں ۔ پیر آف لندن شریف اوراس کے حواری فتنہء قادیانیت کیلئے ان کی مخلصانہ خدمات قوم کے کسی فرد سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔

hh2

تاریخ ہمیں بار بار یاد کرواتی ہے کہ سیاست ایوانان اقتدار کی ہو یا صحافتی اجارہ داری کی، کل کے حلیف آج کے حریف ہو سکتے ہیں۔ کل کے حلیف جیو گروپ اور مسٹر لال ٹوپی آج حریف بن چکے ہیں۔ جیو پر شرابی اور جواری قرار دیا جانے والا ملا طاہراشرفی بھی اب امن کی آشا برانڈ جیم جیو صاحب کا زرخرید حلیف بن چکا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے پہلی جنگ عظیم کے دو بدترین حریف جرمنی اور اٹلی دوسری جنگ عظیم کے ساتھی اورحلیف تھے۔ قدرت کا کھیل دیکھیے کہ اس وقت برطانیہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ کسی نہ کسی طرح جرمنی روس پر حملہ آور ہو۔ مگر بالآخر روس نے ہی جرمنی کو فیصلہ کن شکست دے کر برطانیہ سمیت جنگ کے سارے اتحادیوں کی جان چھڑوائی۔ میرا موقف و ایمان ہے کہ جرمنی کی شکست میں بھی قدرت کا ایک اہم راز پویشیدہ تھا۔ قدرت کو یہودیوں کا صفحہء ہستی سے مٹ جانا منظور ہی نہیں تھا۔ اگر یہودی باقی نہ رہتے تو ان کا فتنہء دجال کے حواری بن کرسیدنا امام مہدی اور اہل حق کے ساتھ اس آخری معرکہ کا وقوع پذیر ہونا ہی مشکوک ہو جاتا جس کی اٹل پیشن گوئی نبیء آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے جید انبیاء اکرام کی طرف سے کی گئی ہے۔ قابل غور ہے کہ دوسری جنگ عظیم کی سازش کرنے والے ان عالمی فتنہ گریہودیوں کی کل آبادی کا نصف، تیس لاکھ کے قریب ہٹلر کے ہاتھوں قتل عام ہوا۔ لیکن اپنی امن دشمن فطرت سے مجبوریہ لوگ آج بھی پورے عالم میں فتنہ و فساد پھیلانےاور امت مسلمہ کیخلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔

تاریخ عالم گواہ ہے کہ بنی اسرائیل کے تمام انبیائے اکرام اور ان کے حق پرست امتی سدا سے ہی اس فتنہء یہود کے ہر فتن و شر کا شکار رہے۔ زمانہء قبل از نبوت ہو، دور رسالت مآب ص ہو یا عہد حاضر، یہودی اپنی فتنہ پروری سے بازآئے تھے نہ آئیں گے۔ اور یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ عہد نبوی میں بھی ان کے زرخرید بغل بچے ننگ ملت منافقین موجود تھے اورآج بھی ان کے پروردا و آلہ کارغدارین ملت کی کہیں کوئی کمی نہیں ہے۔ سو ان کے پالک و فرمانبردار فتنہء خوارج، ناسورِ قادیانیت یا ڈرامہء ملالہ و روشن خیالی جیسے سینکڑوں فتنے پیدا ہوتے رہے اور ہوتے رہیں گے۔ بے شک یہ بھی مالک کائنات کی طرف سے قافلہء اہلِ حق و حوارینِ باطل کی پرکھ کا اک طریق ہے۔ دنیا پر حکمرانی کا خواب دیکھنے والوں کا وارسا معاہدہ بیشترکیمونسٹ حکومتوں اور سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد تحلیل ہو چکا ہے۔ نیٹو کے حریف وارسا معاہدے کی سابق رکن ریاستیں ہنگری، چیک ریپبلک، پولینڈ، بلغاریہ، اسٹونیا، لتھووینیا، رومانیہ، البانیہ اور سلوواکیہ اب نیٹو کی رکن اور حلیف بن چکی ہیں۔ کاش کہ ہم اپنی زندگی میں ہی یہ بھی دیکھ پائیں کہ روس کی طرح امریکہ اور برطانیہ کے بھی کئی ٹکرے ہو چکے ہیں۔ یہ میرا حق الیقین ہے کہ آنے والے وقت کا مورخ ملت اسلامیہ کے تمام غدارین ملک و ملت  کی بربادی اور ان کے سرپرستوں، امریکہ اور برطانیہ کے ٹوٹنے اور پھوٹنے کی تاریخ  ہوش ربا ضرور لکھے گا ۔۔۔

( فاروق درویش 03224061000 )

hh5

جاری ہے

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

Featured

%d bloggers like this: