بین الاقوامی تاریخِ ہند و پاکستان

جوانی سے بڑھاپے تک بھٹکتی جنسی بلی اور سدا بہار دو قومی نظریہ


آجکل بھارت کے ٹی وی چینلوں پر ہندو سماج کے بڑے بڑے گرو اور مہاراج  ہندو عقائد کے مطابق گاؤ ماتا کے پوتر بول و  براز کے طبعی فوائد اور روحانی علاج کے پروگرام کرتے نظر آتے ہیں ۔ لہذا ممکن ہے یہ بھی ان کی گائے ماتا کے مقدس پیشاب کے ہندوتوا برانڈ مشروب ہی کا اثر تھا کہ انجہانی اندرا گاندھی کے دل و دماغ اور کردار سے  مرتے دم تک جنسی ہوس کی غلاظت کبھی رفع نہ ہو سکی۔ اپنے عاشق مزاج سیکولر باپ جواہر لعل نہرو کی طرح رنگین مزاج سیکولر بیٹی اندرا گاندھی بھی انگنت گل رنگ معاشقوں کی رومانوی ہیروئین تھی۔ اس حوالے سے سب سے پہلے ایک انگریز ادیبہ، کیتھرین فرینک نے اپنی کتاب ” دی لائف آف اندرا نہرو گاندھی” میں اس کی نجی زندگی اور جنسی تعلقات سے رنگین معاشقوں سے پردہ اٹھایا۔ کیتھرائن فرینک  لکھتی ہے کہ اندرا گاندھی کا پہلا معاشقہ شانتی نکتان یونیورسٹی کلکتہ میں خود سے چالیس برس بڑے، اپنے جرمن ٹیچر اور دوسرا اپنے باپ نہرو جی کے سیکرٹری ایم او متھائی سے ہوا۔ بار بار بوائے فرینڈز بدلنے کے جنسی جنون میں پاگل اندرا کا  اگلا معاشقہ اپنے یوگا ٹیچر دھرمندرا برہمچاری اور پھر بھارتی وزیرخارجہ دنیش سنگھ سے ہوا۔ یاد رہے کہ دو مسلمانوں یعنی فیروز خان ( فیروز گاندھی) اور یونس خان سے معاشقے اور مبینہ جنسی تعلقات اسکے علاوہ تھے۔

indra.gandhiاندرا کی سوانخ حیات لکھنے والے مصنفین کے مطابق وہ اوائل عمری ہی سے خوبرو پرست تھی۔ ” فیروزخان اور یونس خان” جیسے خوبرووں کے ساتھ معاشقوں کی داستانوں سے اندرا کے جسم و جان میں تا دم مرگ پلنے والی جنسی ہوس کے” انگنت قومی نظریے” کی محبت اور اس “دو قومی نظریے” سے نفرت کا احوال بیاں ہوتا ہے جس کی مخالفت وہ مرتے دم تک تک کرتی رہی۔ مسلمان خوبرو نوجوان فیروزخان سے اندرا کا معاشقہ آشکار ہونے پر اس وقت کے مہارا شٹر کے وزیر اعلیٰ شری پرکاش نے جواہر لعل نہرو کو اس کی لاڈلی بیٹی اندرا کی داستان عشق کے بارے خبردار بھی کیا لیکن نہرو اپنی شدید سیاسی مصروفیات کی وجہ سے بیٹی کے معاشقوں کی تحقیق کیلئے وقت نہ نکال سکا۔ حتی کہ فیروز خان کے عشق میں جنونی اندرا نے آزادیء ہند سے پہلے اسلام قبول کرنے کے بعد لندن کی ایک مسجد میں شادی رچالی۔ یاد رہے کہ شادی کے بعد اسی اندرا پریا درشی نہرو نے اپنا اسلامی نام میمونہ بیگم رکھا تھا ۔ لیکن ابتدا ہی سے سیکولر ذہن رکھنے والے نہرو کو اندرا کے کسی مسلمان سے شادی کرنے پر اعتراض نہیں تھا مگر وہ صرف اس لئے پریشان ضرور تھا کہ اندرا کے مسلمان ہونے کے بعد اسکا وزیراعظم بننے کا خواب کبھی پورا نہ ہو سکے گا۔ لہذا عیار و مکار ذہن نہرو نے اپنے داماد فیروز خان کو کسی نہ کسی طرح مجبور کر دیا کہ بے شک وہ مسلمان  رہے لیکن صرف اپنے نام  سے خان ہٹا  کر گاندھی بطور لقب لگالے۔ یوں نہرو کے اصرار پر اندرا کا مسلمان شوہر فیروز خان سے فیروز گاندھی بن گیا۔

یاد رہے کہ آزادیء ہند کے بعد بھارتی ہندوؤں کو بیوقوف بنانے کیلئے یہ شادی دوسری بار ہندو رسوم و رواج کے مطابق ایک مندر میں کروائی گئی۔ اندرا گاندھی کی موت کے بعد ایک نامور بھارتی سکالر کے این راﺅ نے اپنی مشہور کتاب ” دی نیرو ڈسٹنی” میں اندرا گاندھی کے خفیہ جنسی تعلقات سے پوری طرح پردہ اٹھا دیا۔ کے این راؤ کےمطابق راجیو گاندھی کی پیدائش کے کچھ عرصہ بعد اندرا اورخاوند فیروز گاندھی کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوئے تو دونوں مکمل طور پر الگ الگ رہنے لگے۔ اس دوران دونوں میاں بیوی  کے درمیان کسی کا کوئی میل ملاپ نہ تھا ، لیکن باقاعدہ طلاق بھی نہیں  ہوئی تھی۔ اور پھر یہ معجزہ  ہوا کہ اس علیحدگی کے دوران ہی اندرا گاندھی حاملہ ہوئی اور سنجے گاندھی پیدا ہوا۔ کے این راؤ کے مطابق سنجے گاندھی اندرا کے شوہر فیروز خان گاندھی کا بیٹا ہی نہیں تھا بلکہ وہ اندرا کے اس مسلمان عاشق یونس خان سے مراسم کا نتیجہ تھا جو اندرا گاندھی کا از حد منظور نظر اور قریب ترین کارخاص تھا۔ مابعد ثابت بھی ہوا کہ دراصل اندرا کا اس خوبرو پٹھان مسلمان کے ساتھ  مبینہ معاشقہ ہی شوہر فیروز خان سے علیحدگی کا سبب تھا۔ یاد رہے کہ مبینہ طور پر یونس خان کی اولاد سنجے گاندھی کی حادثاتی موت بھی بڑے پراسرار انداز میں جہاز کریش ہونے سے واقع ہوئی۔ قابل غور ہے حقیقت یہ ہے کہ جب سنجے ہوائی حادثے میں مرا تو اس کی چتا پر سب سے زیادہ دکھی اور دھاڑیں مارمار کر رونے والا اس کا حقیقی باپ یونس خان ہی تھا۔

اس حوالے سے اپنی کتاب “پرسن پیشنز اینڈ پولیٹکس ” میں یونس خان خود انکشاف کرتا ہے کہ سنجے کے اسلامی رواج کے مطابق ختنے بھی کرائے گئے تھے جو اسلامی روایت کا واضح ثبوت ہے۔ سنجے اندرا کا نہایت لاڈلا بیٹا تھا اور اندرا جذباتی طور پر اس سے بیحد مغلوب تھی۔ اصل حالات سے واقف کاروں کےمطابق سنجے کو اپنے اصل والد یعنی یونس خان کا علم تھا اور وہ ماں کو اپنے اصل باپ کے حوالے سے بلیک میل کرتا تھا۔ کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ اندرا اسکی تربیت مستقبل کے وزیراعظم کے طور پر کر رہی تھی۔ لیکن کچھ حقائق نگاروں کے مطابق بیٹے کی بلیک میلنگ اور راز فاش ہونے کے ڈر سے اسے مروانے والی بھی اندرا ہی تھی۔ ان شکوک کو تقویت اندرا کی طرف سے سنجے گاندھی کی موت کی تحقیقات رکوا دینے سے ملتی ہے۔ عمر کے آخری حصے میں بھی جنسی ہوس کا شکار اندرا گاندھی کے بارے مبصرین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ جنسی تسکین کیلئے بلا تفریق مذہب ” کل قومی سیکولر نظریہ” سے محبت اور سیاست میں “دو قومی نظریہ” سے نفرت کرنے والی دو چہرہ لومڑی کی “شہادت” کی وجہ اس کے تیسری قوم سے یعنی نوجوان سکھ باڈی گارڈز سے جنسی تعلقات بنے۔ انتہائی قابل غور ہے کہ اندرا گاندھی کے قاتلوں بینت سنگھ اور کہر سنگھ کے ساتھی تیسرے قاتل اور اندرا کے انتہائی نزدیکی اور پسندیدہ باڈی گارڈ سکھ نوجوان ستونت سنگھ نے اندرا کے قتل کیلئے چلائی گئیں تیس گولیوں میں سے بیشتر اس کی شرمگاہ پر چلائیں تھیں۔ اس سکھ نوجوان کی طرف سے اندرا کی جائے مخصوصہ پر گولیوں کی بوچھاڑ کا نفرت آمیز اور انتہائی معنی خیز فعل ان شکوک کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بوڑھی عمر میں بھی جنسی روشن خیالی کی عظیم مثال اندرا کے قاتل اس کے روزمرہ جنسی جرائم یا اپنے کسی خاص رقیب کے ساتھ جنسی تعلق کی وجہ سے شدید برہم تھے۔ باریکیء فہم رکھنے والے عاقلوں کیلئے اشارہ ہی کافی ہے۔

indira_gandhi_and_yunus_khanاوائل جوانی سے ہی خوب سے خوب تر مرد کی تلاش میں بھٹکتا ہوا ہوس پرست بدن تا دم قتل، سلگتا اور بھڑکتا رہا۔۔ بالآخر دو تین چھوڑ، تین چار پانچ کیا، انگنت قومی نطفے و نظریے پالنے والی یہ جنسی بلی اندرا گاندھی ساری زندگی دو قومی نظریے کی مخالفت میں طنز و دشنام بکتی، سیکولرازم کے گیت گاتی عبرت انگیز انداز میں چل بسی۔ سقوط مشرقی پاکستان کے المناک موقع پر بنگلہ دیش کے قیام کو دو قومی نظریہ کی موت قرار دیکر خلیج بنگال میں غرق کر دینے کی دعویدار دجالی لومڑی کو آج صرف فاروق درویش اور پاکستان اور عالم اسلام کے مسلمان ہی نہیں بلکہ اندرا کی ہندوآتہ کے بنائے ماڈرن بنگلہ دیش کا ہر محب پاکستان بنگالی مسلمان بھی با آواز دہل کہہ رہا ہے۔ کہ پاکستان کے ٹکرے کرنے والی اسلام دشمن جنسی داسی ہی نہیں اس کے سب کے سب پیارے اپنےعبرتناک انجام کو پہنچ چکے ہیں۔ لیکن آج ایک بار پھر ڈھاکہ سے چٹاگانگ اور کھلنا سے راجشاہی تک دو قومی نظریہ کی صدا ویسے ہی گونج رہی ہے جیسے قیام پاکستان سے قبل بحریرہء عرب سے لیکر خیلج بنگال اور بحر ہند کے ساحلوں تک گونجتی تھی۔ قائداعظم اور حضرت اقبال کا دو قومی نظریہ کہیں غرق نہیں ہوا لیکن اندرا کے گھوڑوں پر بیٹھ کر محبانِ پاکستان کا قتل عام کرنے والا غدارِ اسلام مجیب الرحمن اور سقوط ڈھاکہ کا مرکزی کردار”شہید بھٹو “، دونوں اپنے پورے پورے خاندانوں سمیت  موت کی سفاک وادیوں میں کھو چکے ہیں۔ سدا صد لعنت کہ زندہ بچ جانے والی مندری بغل بچی حسینہ واجد قدرت کے انجام سے سبق سیکھنے کی بجائے اسی ہندوآتہ کے دجالی خچر پر سوار پھر سے ان فرزندان توحید کو للکار رہی ہے۔ جو ہاتھوں میں قرآن اور سینوں میں ایمان کی مشعلیں جلا کر دہر و باطل کے اندھیروں میں حق کی روشنی پھیلانے نکلے ہیں۔

آج ہمالیہ کی چٹانوں پر لڑھکتی ہوئی اندرا کی چتائی راکھ بھی زندانِ شب میں حق پرستی یہ تماشہ دیکھ رہی ہو گی کہ ویل چیئر پر بیٹھا نوے سالہ ناتواں بوڑھا پروفیسرغلام اعظم بھی سینہ تان کر تختہ دار پر چڑھنے کیلئے تیار تھا اور عمر رسیدہ بزرگ دلاور حسین سید بھی شہادت کا آرزو مند رہا ۔ آج گنگا کے پانیوں میں عذاب الہی کا لطف لیتی، ڈبکیاں کھاتی اندرائی راکھ کا کالا کلیجہ بھی بنگالی مسلمانوں کی صدائے حق سے کانپ رہا ہو گا۔ آج بنگال میں مسلمانوں کے قتل عام پرغلامان سامراج پریس اینڈ میڈیا خاموش اور این جی اوز کی بال ٹھاکری محبوبائیں، گستاخین قرآن و رسالت کی ہم آواز سارنگیاں ہیں۔ لیکن بحیرہءعرب سے خلیج بنگال تک سمندروں کا مغموم سکوت خاموش زبان میں کہہ رہا ہے کہ اندرا اور مجیب کی باقیات کی اپنے سیاسی مخالفین اور کلمہ محمدی پڑھنے والوں کیخلاف یہ دجالی یلغار بنگلہ دیش کی ایک یا دو مذہبی جماعتوں کے  نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کیخلاف ہے۔ آج چٹاگانگ سے رنگ پور اور سلہٹ سے کھلنا تک اٹھنے والی صدائے حق گواہ ہے کہ خطہء بنگال کا مسلمان جاگ چکا ہے۔ آج گستاخین اسلام ہندوآتہ کی پروردا حسینہ واجد کیخلاف ہر محب دین بنگالی مسلمان کی جوابی للکار کی صدا آسمانوں سے لوٹ کر ہندوآتہ کے بتکدوں سے ٹکرا ٹکرا کر کہہ رہی ہے کہ نہ میر جعفر و میر قاسم، شیر بنگال نواب سراج الدولہ کو شہید کر کے اس دو قومی نظریے کو شکست دے سکے اور نہ مکتی باہنی اور مجیب الرحمن کے عوامی لیگی غنڈوں کے ہاتھوں لاکھوں بنگالی مسلمانوں کی شہادت پر اس نے دم توڑا۔ لیکن ان لاکھوں مسلمانوں کے قاتل مافیہ کے سرغنہ،اندرا، راجیو اور سنجے ہی نہیں، سفاک قاتلوں کے گروہ مکتی باہنی کا سرپرست مجیب الرحمن بھی خاندان سمیت قدرت کے انتقام کا شکار ہو کر جہنم واصل ہو چکا ہے۔ مگر ہاں ۔۔ ہاں ۔۔ ہاں۔۔ دو قومی نظریہ زندہ ہے ۔۔ زندہ ہے ۔۔ زندہ ہے۔۔ اور انشاللہ  تا قیامت زندہ رہے گا ۔ ۔

( فاروق درویش ۔۔ واٹس ایپ کنٹیکٹ ۔۔ 03224061000  )

indra.murder1

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

2 Comments

Click here to post a comment

Leave a Reply

  • کیا آپ کی تحریر کا پہلا فقرہ دادا پوتی کا تعلق ظاہر کر رہا ہے ؟ اگر نہیں تو اندرا کے باپ کا نام کیا موتی لال تھا ؟ میں اندرا کو جواہر لال نہرو کی بیٹی سمجھتا رہا

    • برادر افتخار اجمل صاحب، آپ سو فیصد درست ہیں۔ موتی لعل اندرا کا دادا ہی تھا۔ میں غلطی سے جواہر لعل کی بجائے موتی لعل ٹائپ کر گیا تھا۔ آپ کی طرف سے اس غلطی کی نشان دھی کرنے پر مشکور ہوں۔۔۔۔۔۔ سدا سلامت سدا آباد۔

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

Featured

%d bloggers like this: