حالات حاضرہ سیکولرازم اور دیسی لبرل نظریات و مذاہبِ عالم

حسن نثار کی مادر پدر آزاد آزادیء اظہار کے جواب میں


لوگ اعلی تعلیم یافتہ ہوں یا ان پڑھ جاہل، سب کا ماننا ہے کہ کتا باؤلا ہو جائے تو اسے کچلا دے دینا جانوروں سے بے رحمی کے ضمرے میں نہیں آتا۔ کیونکہ ایسا نہ کرنے سے وہ ایک کے بعد دوسرے کو کاٹنے کیلئے مذید ہلکایا ہو کر انسانی زندگیوں کیلئے ایک مسلسل خطرناک بن جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ایسا ہذیان زدہ سگ اپنے پالنے والے کا ہتھیار بن جائے تو سمجھیں کہ ایک دہشت گرد کے ہاتھ میں ایسا آلہء قتل آ چکا ہے، جس کے ذریعے وہ اپنے کسی بھی دشمن کو خود ملوث ہوئے بنا ہی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اور اگر خدانخواستہ ایسے پاگل کتے کا ایک نہیں کئی ایک مالک ہوں تو سمجھیں کہ بس اب پوری انسانی بستی کی خیر نہیں۔ افسوس کہ ہمارے صحافتی معاشرے کی ایک ڈالری برادری کے کچھ ہذیان زدہ انسانوں کی حالت بھی کچھ ایسی ہی خطرناک ہو چکی ہے کہ ان کے ہاتھوں نہ تو اکابرین ملک و ملت کی عزت محفوظ ہے، نہ کسی ملی و قومی نظریات کی حرمت۔ حتیٰ کہ شعائر اسلام اور ناموس رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تختہء مشق بنانے سے پرہیز نہیں کیا جاتا ہے۔ آج  سوشل میڈٰیا سائٹس پرملک و ملت  سے دشمنی اور بغض میں سوختہ کباب ہونے والے قادیانی گروہ  کی طرف سے ایک ہذیان زدہ کالم کی والہانہ تشہیر دیکھی تو پڑھنے سے قبل ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ ضرور کسی بدبخت نے دین برحق کے بارے گستاخی کی جسارت کی ہے۔ تحریر پڑھنے پر پتہ چلا کہ کالم انہی معزز کالم نگار صاحب کا تھا جن کا اب ایک مالک نہیں بلکہ کئی ایک ننگِ ملک و ملت ہستیاں اور کئی ننگِ امن سیاسی دہشت گرد مافیے ان کے آقا و مالک بن چکے ہیں۔  آج  سینکڑوں فون کال اور ایس ایم ایس موصول ہوئے کہ حسن نثار صاحب کی طرف سے اسلامی معاشرت پر صحافتی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے۔ اس حوالے سے میرا پہلا موقف  یہ ہے کہ سیاسی جلسوں کے کنٹینر اسٹیجوں پر لیڈروں کے ساتھ  کھڑے ھونے والے  شو پیس حضرات ،  تجزیہ نگار یا  صحافی کہلانے کے حقدار ہی نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں میں زرا سی بھی جرات و غیرت موجود ہو تو انہیں خود  کو اس پارٹی کے کارکن یا  آفیشل ترجمان کے طور پر پیش کرنا چاہیے ۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ دراصل  وہ اب صرف سونامی لیگ کے نہیں بلکہ بیک وقت متحدہ، فتنہء قادری، حکومت اسرائیل، لندن مافیہ  پینٹاگون، فتنہء قادیانیت، گستاخین قرآن و رسالت  اور قوم لوط برانڈ ماڈرن مافیوں سمیت ہر اس فورم اور تنظیم کے ہم آواز و ترجمان بن چکے ہیں جو انٹی اسلام اور انٹی پاکستان ہے۔ اسلامی شعائر و اقدار کا تمسخر، اسرائیل کو تسلیم کئے جانے کی خواہش، نریندرا مودی کی مریدی کی تمنا، بیٹیوں کو کھلی آزادی دینے کا فلسفہ اور ڈانٹنے والے باپ کو ٹھڈے مارنے کے موقف جیسے لاتعداد  قابل صد لعنت اقوال چیخ چیخ ان کے مذہبی اور اخلاقی انحطاط کا اعلان کرتے ہیں۔ ۔

موصوف لکھتے ہیں ۔۔  ” سر برہنہ عبدالستار ایدھی پریشان بیٹھے ہیں کیونکہ ایدھی صاحب کو ان کے ہیڈ آفس میں یرغمال بنا کر 5 کلو سونا اور کروڑوں روپے کیش لوٹ لئے گئے ۔ ایدھی بابا جیسے درویش کے لٹنے پر مجھے اپنا اک اور درویش بابا یاد آتا ہے جو لاہور کی سڑکوں پر کسی آسیب زدہ سائے کی طرح منڈلایا کرتا تھا “۔

لفظ “سر برہنہ ” سے موصوف کا ایک با اخلاق قول یاد آ گیا کہ عورت سر برہنہ یا بے لباس بھی ہو تو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ شرم و حیا تو اس کی آنکھوں میں ہوتی ہے ” جناب ایدھی صاحب کے لٹنے پر موصوف کو یہ کون باور کروائے کہ کراچی میں نواز شریدف یا عمران خان کی نہیں ان پیر صاحب کی حکومت ہے جن کے بھائی طاہر القادری بھی ہیں۔ صاحب کالم  خود بھی، حکیم سعید مرحوم سے لیکر ہزاروں معصوم و بے گناہوں کے قاتل مافیہ کے کارِ خاص ہیں۔ چونکہ مونہہ کھائے اور آنکھ شرمائے، لہذا انہیں کراچی کے ٹارگٹ کلرز، بھتہ خور اور ڈکیٹ مافیہ کے ” مادر پدر آزاد جرائم ” کبھی نظر نہیں آئیں گے۔ یاد رہے کہ قالم نگار نے آج کے کالم میں بھی ساغر صاحب کا مشہور شعر ” جس دور میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی ” ایک بار پھرغلط  ہی لکھا ہے۔ اپنے استادِ ذی وقار ساغر صدیقی کے بارے انتہائی تھرڈ کلاس الفاظ استعمال کرنے پر انہیں پہلے بھی آئینہ دکھا چکا ہوں۔ لیکن جو گستاخ  اپنے بیان و تحریر میں اکابرین دین اور انبیائے حق کی ناموس کا بھی خیال نہ رکھے، اس صلیبی  زرخرید گستاخِ قلم کو مذید کیا کہا جا سکتا ہے۔ آدب و آداب سے ماورا ان بے ادب صاحب کی طرف سے ایک درویش منش شاعر کے فقیرانہ انداز کیلئے ” آسیب زدہ سائہ ” جیسے الفاظ استعمال کرنے والے کیلئے لعنت افلاک ہی کافی ہے۔ قلم کی بے لگامی سے گمان ہوتا ہے کہ حسن نثار صاحب، درویش صفت بزرگ صحافی جناب مجید نظامی مرحوم کے بارے سر محفل دشنام درازی کرنے پر نوائے وقت کے جرات مند صحافی جناب خواجہ فرخ صاحب کے ہاتھوں آسیب زدہ  دھلائی بھول چکے ہیں ۔

حسن نثار صاحب نے لکھا کہ ” پاکستان کا مسئلہ تباہی سے دوچار اقتصادیات نہیں، اخلاقیات کا وہ جنازہ ہے جس کی نماز پڑھانے والا بھی کوئی نہیں اور یہی وہ معاشرہ ہے جس کے بارے میں مولانا فضل الرحمن کی یہ سطحی سی آبزرویشن پڑھ کر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے کہ ……..’’ دھرنوں کے ذریعہ مادر پدر آزاد معاشرہ تشکیل دینے کی سازش ہو رہی ہے ‘‘۔ جہاں ’’ لیڈروں‘‘ کی سوچ کا یہ لیول ہو، وہاں جتنی بھی بربادی مچے وہ کم ہے کہ یہ بیچارے جانتے ہی نہیں کہ اصل مسئلہ اور مرض کیا ہے؟

خدارا کوئی بزرگ ان بندہء عقل کل کو سمجھائیں کہ اخلاقیات کے بنا زندگی اور معاشرے میں ترقی نہیں، ترقی بنا آسودگی نہیں اور آسودگی کے بنا سکون نہیں بلکہ سکوت ہے۔ اور مابعد  یہی سکوت، ارتقائے معاشرہ کا جمود بن کر سقوط در سقوط کی بنیاد ٹھہرتا ہے۔  ان سے یہی عرض ہے  کہ اخلاقیات کے جنازے دراصل آپ کے صلیبی آقاؤں کے سٹیج کردہ  اس دھرنہ ڈرامہ سے اٹھ رہے ہیں جہاں سرعام چوراہوں پر نوجوان بچیوں کے ہوش ربا رقص و دھمال کے پروگرام، گستاخ قرآن و اسلام  گویوں کے بھڑکیلے گانوں پر مرد و زن کی مخلوط لڈیوں کا اہتمام کر کے جلسوں کی حآضری بڑھانے کا بازاری طریق اختیار کیا جا رہا ہے۔ اخلاقیات کا اصل جنازہ وہ تھا جب غلیل بازوں اور ڈنڈا بردار فورس نے پارلیمنٹ ہاؤس پر دھاوہ اور پی ٹی وی عمارت پر دہشت گردانہ انداز میں قبضہ کیا تھا ۔ یہ کسی طور پر بھی دعوت انقلاب نہیں، بلکہ مبینہ طور پر مذموم دعوت گناہ کا وہ دجالی سلسلہ ہے، جس کی حکمت عملی مغرب میں بیٹھے وہ ابلیسانِ دہر تیار کرتے ہیں جو پاکستانی معاشرے کو اپنی مغربی تہذیب کی طرز پر بھٹکا کر نئی نسل کو مادر پدر آزاد بے غیرت بنانا چاہتے ہیں۔ مادر پدر آزاد دراصل آپ کا وہ گستاخانہ قلم ہے جو مذہب و اخلاق کی تمام پابندیوں سے آزاد ہو کر سلمان رشدی کی تقلیدِ خبیثہ کی طرف مائل ہے۔ مولانا فضل الرحمن میں لاکھ برائیاں ہوں لیکن وہ وہ اس غیر اسلامی روش اور غیر اخلاقی فحاشی و عریانی کی مذمت کر کے عین وہ بات کر رہے ہیں جو قرآن اور شریعت محمدی سے مسنلک ہے۔ آپ کیسے بھول سکتے ہیں کہ ہم اس نبیء آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں جن کی بیٹی سیدۃ النسا فاطمۃ الزہرا کا جنازہ بھی رات کی تاریکی میں صرف اس لئے اٹھایا گیا کہ میت مبارکہ پر کسی غیر مرد کی نظر نہ پڑھے۔ آپ کی نظر میں ہم جنس پرستی کی علبردار ہستیوں اور گستاخیء قرآن و اسلام کے مجرمین کی فتن دوزیوں سے سجا دھرنہ اگر اخلاقیات کا جنازہ نہیں تو معاف کیجئے گا آپ اور قوم لوط و عاد اور شعیب و یسعیا کی بدبخت امتوں کے کم بخت دانشوروں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ میری تشخیص کے مطابق آپ طریق بولہبی کے جان لیوا موذی مرض میں مبتلا  ہو کر ان صلیبی دانشوروں کی تقلید خباثت میں نکل پڑۓ ہیں جو بائبل میں خود ساختہ تندیلیاں کر کے اصلاح معاشرت کیلئے معبث فرمائے گئے سیدنا نوح، جناب شعیب اور حضرت لوط اور داؤد علہ السلام جیسے جید انبیائے حق کی کردار کشی کرتے ہوئے ہاویہ کو سدھارے۔۔

’’حسن نثار صاحب کا فرمانا ہے کہ ” “مادر پدر آزادی‘‘ نہیں حکمران طبقات کی بے غیرتی سے بھرپور لوٹ مار معاشروں کو برباد کرتی ہے کیونکہ ’’خواص‘‘ کی دیکھا دیکھی ’’عوام ‘‘ بھی اسی رنگ میں رنگے جاتے ہیں ۔ اگر موسیقی، رخساروں پر پینٹ کئے گئے جھنڈے، ترانے، نغمے، گیت اور ان پر لڈی، بھنگڑا، دھمال ہی ’’مادر پدر معاشرہ ‘‘ ہے تو سکینڈے نیویا سے زیادہ ’’مدر پدر آزاد‘‘تو دنیا بھر میں کوئی معاشرہ نہیں لیکن وہاں کے لیڈر قبرستانوں کی زمینوں پر قبضے نہیں کرتے، بادشاہ بھی قطار میں کھڑے ہو کر باری کا انتظار کرتے ہیں “۔ ،

حسن نثار صاحب! حکمرانوں کی لوٹ مار اور کرپشن کا سدباب، بے غیرتی کے شوز اورھ عریانی و فحاشی کی تشہیر سے نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے اندر گونج دار صدائے تنقید اور پراگندا نظام کے جمہوری و آئینی احتساب سے ہوتا ہے۔ میں نے دھرنوں میں رخساروں پر جھنڈوں کے پینٹ کئے دھمالیں ڈالنے والی کتنی لڑکیوں کے ساتھ وہ اخلاق سوز سلوک دیکھا ہے کہ ناقابل تحریر و بیاں ہے۔ آپ جن سکینڈے نیوین ممالک کی مثال دے رہے ہیں، وہاں عوام کیلئے معاشی و معاشرتی انصاف کی وجہ ایسے اقتصادیات کش ڈانسنگ شوز، مادر پدر آزاد جنسی ٹھرکیوں کے اجتماع و احتجاج نہیں۔ مت بھولئے کہ سکینڈے نیوین ممالک کے  پراگندا معاشرے میں سولہ سالہ لڑکی کے چار پانچ بوائے فرینڈ بھی ہوتے ہیں۔ آپ کے اس آئیڈیل معاشرے میں ساٹھ فیصد کم عمر لڑکیاں کنواری ہی نہیں ہوتیں اور اگر آپ ان کی معاشی ترقی  کا راز ان  کی  فری سیکس برانڈ ” مادر پدر آزادی ” قرار دیتے ہیں تو آپ کے انتہائی باطل عقیدے، بنی اسرائیل کی بگڑی ہوئی عیاش نسلوں  جیسی پر تعفن سوچ اور شراب کے نشہ میں ڈوبی عقل و فہم پر صرف ماتم نہیں افلاک سے لعنتوں کی برسات کی امید لازم ٹھہرتی ہے۔

موصوف نے لکھا کہ ” میں نے مسلسل دیکھا کہ ان کی عبادت گاہیں خالی ہیں، طویل غوروفکر کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ یہ عبادت اس لئے نہیں کرتے کہ انہوں نے پوری زندگی کو ہی عبادت بنا لیا ہے نہ جھوٹ نہمم خوشامد نہ رشوت نہ ملاوٹ نہ اسراف نہ نمودونمائش نہ غرور نہ تکبر نہ چوری نہ ڈاکہ نہ گندگی نہ غلاظت نہ منافقت نہ مصلحت نہ افراتفری نہ نفسانفسی، نہ جہالت نہ تعصب نہ حرام خوری نہ کام چوری نہ ناجائز منافع نہ ذخیرہ اندوزی نہ کمیشن نہ کک بیک نہ قبضہ گروپ نہ شوگر، پولٹری، پراپرٹی اور کوڈیٹی مافیاز اور نہ زمینی خدائوں کی بھرمار “

انتہائی قابل مذمت ہے کہ آپ مذہب  سے دوری اور بندگی سے فرار کو ترقی اور آسودگی کا راز گردانتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں آپ بھی اپنے انتہائی دین دشمن سیکولر آئیڈیل  کمال اتا ترک کی طرح مسلمانوں کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ اگر وہ مغرب جیسی ماڈرن ترقی اور معاشی آسودگی چاہتے ہیں تو مسجدیں اور اللہ کی عبادات چھوڑ کر، بازار حسن اور نائٹ کلبوں کی یاترا شروع کر دیں۔ آپ کی یہ تحریر کوئی کالم نہیں بلکہ مذہب سے مادر پدر آزادی کے ” مغربی پراڈکٹ ” کی مارکیٹنگ اور ہر لحاظ سے  ترغیبِ گناہ ہے۔ مانا کہ آپ کے آئیڈیل ولائتی معاشرے میں جھوٹ و خوشامد اور رشوت و ملاوٹ نہیں، ناجائز منافع نہیں لیکن اپمنے محبوب مغربی میڈیا ہی کی ویب سائٹس پر آویزاں  حقائق اور اعداد و شمار دیکھئے ، وہاں ناجائز اور ولد الحرام  بچوں کی پیداوار پاکستان کے مقابے میں لاکھوں گنا زیادہ ہے۔ آُپ کہتے ہیں کہ وہاں نمود و نمائش نہیں، جبکہ میں کہتا ہوں کہ سر بازار اور باغ و بہار سے لیکر ساحل سمندر تک تھرکتے ہوئے عریاں جسموں کی جلوہ نمائی اور غلاظت نمائش پر قطعی کوئی پابندی ہی  نہیں  ۔

حسن نثار صاحب نے لکھا ، ” یہ ہے وہ مادر پدر آزاد معاشرہ جو آج انسانیت کے ماتھے کا جھومر ہے ۔ ہو سکے تو ’’مدر پدر آزاد معاشرہ ‘‘ جیسی اصطلاح پر ازسرنو غور کرکے اسے ری ڈیفائن کرنے کی کوشش کرو ” ۔

قابل صد لعنت افلاک ہے ایسی نام نہاد دانشوری جو  مغرب کے اس مادر پدر آزاد معاشرے کو انسانیت کے ماتھے کا جھومر قرار دے کہ جس معاشرے میں ماں اپنے بیٹے اور باپ بیٹی کے ساتھ رنگ رلیوں اور جنسی مراسم پر بھی نادم نہ ہوں۔ حسن نثار صاحب آپ میں اور مغرب کے ان ابلیسی دانش وروں میں کوئی فرق نہیں جو مغرب میں بڑھتی ہوئی ” فیملی سیکس ” کی انتہائے غلاظت کو بھی انسانی جذبوں کا نظریہ ضرورت قرار دیکر قوم لوط و عاد کے بدبخت مفکروں سے بھی آگے عذاب الہی کو دعوت دے رہے ہیں۔ آپ دیسی مرغی ولائتی انڈہ نما اخباری کالموں میں صرف انگریزی ٹرمنالوجیاں لکھ  کر خود کو عالم فاضل ثابت نہیں کر سکتے۔ آج میری فرمائش پر ذرا ( آئی ۔ این ۔ سی ۔ ای ۔ ایس ۔ ٹی ) یعنی فیملی سیکس کی علمبرداری میں مغرب اور سکینڈے نیوین ممالک کے ابلیسی دانشوروں کے تعریفی مضامین ضرور پڑھئے ۔ کہ شاید آُپ کی غیرت مرحومہ  زندہ ہو جائے اور آپ از خود اپنے مونہہ پر زور دار طماچے مارتے ہوئے سفید سے لال ہو جائیں۔

حسن نثار صاحب لکھتے ہیں ، ” مادر پدر آزاد معاشرہ وہ نہیں جس کی طرف مولانا فضل الرحمن اشارہ فرما رہے ہیں اور جو ان کیلئے کسی ’’بوسئہ مرگ‘‘سے کم نہیں ہو گا بلکہ ’’مادر پدر آزاد معاشرہ‘‘ تو یہ ہے جسے تبدیل کرنے کیلئے ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان دھرنے دے رہے اور جلسے کر رہے ہیں۔ مادر پدر آزاد معاشرہ صرف وہ ہوتا ہے جہاں حکمران طبقات ’’آزاد‘‘ اور انصاف ’’قید‘‘ میں ہو” ۔

آپ کے ان کلمات ٹھرک پر صرف اتنا کہوں گا کہ بوسہ مرگ کی ” مرگ” کو الٹا دیں شاید اس ” بوسہء گرم ” سے آپ کی اس ٹھرکیاںہ طبیعت کو کچھ سکون میس آ جائے وہ اسلامی جمہورہ پاکستان میں آپ کے ںطریاتی باپوں کی ” مادر پدر آزادی” کیلئے اس وقت سے بے چین ہے جب سے آپ پانچ مرلے کے گھر سے ایکڑوں کے شاہانہ مزاج محل میں آ کر ” شیش محل میں آئی روح ” کی طرح ہذیان میں مبتلا  ہیں۔ طبقات آزاد کروانے سے پہلے اس انصاف کو رہائی دلائیں جس کے انتظار میں ٹائرن خان مغرب کے ہوش ربا نائٹ کلبوں میں جوان ہو رہی ہے۔ خدارا خاں صاحب کے بیٹوں کو  جمیما خان کی اس بے دین ممتا و آغوش سے آزاد کروائیں جس میں وہ عیسائی اور یہودی بننے کی طرف گامزن ہیں۔ آپ نے دھرنے میں بارہا شرکت اور خان صاحب کے ساتھ  سٹیج  پر جلوہ افروز ہو کر،  جہاں آزاد صحافت کا دعوی رسوا کیا  ہے، وہاں صد شکر کہ آُپ جیسے ایک کھلے گستاخ اسلام مسخرے کی موجودگی نے لاکھوں دین دوست سونامی حضرات کی آنکھیں بھی کھول دی ہیں۔ ۔

حسن نثار صاحب فرماتے ہیں ، ” شاید وہ وقت دور نہیں جب مادر پدر آزاد بہروپئے قید اور انصاف آزاد ہو گا ۔ عمران کے ’’ڈنڈے‘‘ اور ڈاکٹر طاہر القادری کے ’’ایجنڈے‘‘ نے بہت سے سیاسی و مذہبی اجارہ داروں کے حواس چھین لئے ہیں ” ۔

میرا حق الیقین ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب آپ قوم لوط و عاد کے مفکرین اور سلمان رشدی برانڈ مغربی دانشوروں کی تقلید سے تائب ہو کر یہودی ایجنڈے سے دستبردار ہوں گے۔ آپ کی محبوب خوابوں والی سرکار  دو ماہ  کی محنت کی سود سمیت قیمت وصول کر کے دھرنے سے فرار ہو چکی ہے ۔ نام نہادانقلاب کی آڑ میں مادر پدر آزادی کےعلمبردار خان صاحب بھی واپسی کا با عزت راستہ ڈھونڈ رہے ہیں۔  آپ جیسے فتنہ گروں کی ” ڈنڈا برانڈ ایجنڈے ” کے ذریعے انارکی اور خانہ جنگی پھیلانے کی دجالی مہمات ناکام و نامراد ٹھہریں گی ۔۔۔۔۔۔۔ دین برحق اور قوانین قدرت سے آپ کی بغاوت قوم لوط و عاد جیسے عذاب الہی کو دعوت کے مترادف ہے۔  خیال رہے کہ میں آپ کے متحدہ سرپرستوں کی طرح بندوق لئے سامراج و ہندوتوا کا دہشت گرد عطائی نہیں، ہاتھ میں قلم کا پر امن ہتھیار تھامے ناموس دین و رسالت کا سپاہی،  حقیر و ادنی سا غلام مصطفائی ہوں، سو میرے خلاف  زورآوری کی مہم جوئی قدرت کی طرف سے آپ  ہی کو مہنگی پڑے گی۔۔۔ خاک نشیں ہوں مگرعرش نشینوں کے زیرِ نگیں ہوں ۔۔۔۔ حضرت اقبال رح جیسے مردِان قلندرری کی تحقیر اور ساغر صدیقی جیسے مست  و مجذوب لوگوں کا مذاق مت اڑائیں۔ میلی گودڑی اوڑھے فقیر و درویش، آپ جیسے محل والوں کے قصر رعونت، گولی یا بارود سے نہیں، اک آہ اور پھونک ہی سے راکھ  کر دیتے ہیں۔۔۔۔ اللہ کریم آپ کو ہدایت عطا فرما کر مقتول سلمان تاثٰر جیسے عبرت ناک انجام سے  اور پاکستان کو آپ جیسے حواس باختہ فتنہ ہائے دجالی کے شر سے سدا محفوظ رکھے۔۔۔۔ ۔

فاروق درویش ۔ 03224061000

 حسن نثار کے بارے  میرے گذشتہ کالمز کے لنک

علامہ اقبال کی عظمت اور میڈیا کا منافق اعظم

سیاہ پوش ساغر صدیقی اور خوش پوش حسن نثار

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

Featured

%d bloggers like this: