حالات حاضرہ سیکولرازم اور دیسی لبرل

خدا کیخلاف اعلانِ جنگ یا مغرب کی غلام دانشوری؟


 مسلمان ہونے کے دعویدار دانشورں کو بتانا ہو گا کہ کیا وہ  نبیء آخر الزماں  کے رب کو قادرِ مطلق  اور قرآن کو  کتاب الہی مان کر ” ذالک الکتاب لا ریب فیہ ” پر یقین رکھتے ہیں یا نہیں۔ اور اگر کوئی ان بنیادی عقائد ہی کو نہیں مانتا  تو ایسا کوئی بھی شخص  حقیقی  مسلمان نہیں بلکہ انہی حقوق ہی کا مستحق ہو گا جو مالک کائنات کے قانون اور نبیء آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم  کی شریعت میں ” نہ ماننے والوں “ کیلئے ہیں۔ اگر دعویء مسلمانی ہے تو پھر یہ بھی ماننا ہو گا کہ قرآن  اللہ  کا کلام اور  وہ  آئینِ ربی  ہے جسے دل سے سچ  تسلیم کرنا  ہر مسلمان پر فرض  ہے۔ وگرنہ نام کے مسلمان تو ملعون سلمان رشدی، تسلیمہ نسرین اور قادیانی زندیق بھی ہیں۔ لیکن افسوس کہ ہمارے اسلامی جمہوریہ  پاکستان میں میڈیا کا منظر نامہ  نجم سیٹھی، امتیاز عالم اور حسن نثار جیسے اسلام دشمن بازی گروں کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتا۔ دلچسب امر ہے کہ ان تمام ناموں کی ” وجہ شہرت ” ان کا  اعلی و عرفی ” خزینہء  علم ” نہیں بلکہ  قرآنی افکار اور نظریہء پاکستان سے کھلی ضد اور اپنے مغربی و ہندوتوا آقاؤن کے دجالی افکار کی  تشہیر و علمبرداری ہے

ان ناموں میں سرفہرست اسلامی اقدار اور اقبال کے فطری ویری حسن نثار کو ایسی  “خوبصورت منطق ”  بیان کرنے میں بھی کوئی شرم و حیا نہیں کہ “عورت برہنہ بھی گھومے تو کیا فرق پڑتا ہے، اصل پردہ اورشرم و حیا تو آنکھوں میں ہوتی ہے”۔ لیکن ان صاحب کے بیہودہ خیالات کیلئے سورۃ البقرہ کا یہ ارشاد الہی ہی کافی ہے کہ ، ”الشیطٰن یعدکم الفقر ویأمرکم بالفحشاء“ ۔ ترجمہ ” شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے“۔ روشن خیال احباب بتائیں کہ کیا یہ آیت حسن نثار جیسے ان تمام  نیم حکیم دانش وروں پر سو فیصد پوری نہیں اترتی جو معاشرے میں مفلسی اور ناانصافی کے علاج کیلئے روشن خیالی اور  مادر پدر آزاد عریانی و فحاشی کے کیپسول تجویذ کرتے ہیں۔  ان کے پرستار بتائیں کہ  اس قرآنی آیت کی رو  حسن نثار جیسے ” گلابی مسلمان ”  اگر  ”  شیطانی چرخے ” نہیں تو کیا ہیں ؟ مگر قوانین قدرت سے متصادم نظریاتِ باطل کے پرچاریوں کو کون سمجھائے کہ عریانی و فحاشی اور زنا کاری ایک ایسی نحوست ہے، جس سے پورا معاشرتی نظام تباہ و برباد ہوجاتا ہے،  گھر گھر فتنہ و فساد کی نوبت آتی ہے، خون خرابہ ہوجاتا ہے حتی کہ نسلیں تک مشتبہ ہوجاتی ہیں۔

اوریا مقبول جان نے موصوف کے ان دجالی عقائد کا ان خوبصورت الفاظ میں مونہہ توڑ جواب دیا تھا کہ ، ” ستر ،  حیا اور پردہ انسانی تہذیب کی وہ اعلیٰ ترین اوصاف ہیں جو انسان کو جانور سے ممیز کرتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ مغرب میں کوئی عریانی پر نظر بھی نہیں ڈالتا۔ اس سے بڑا جھوٹ تو شاید ہی بولا جائے کیوں کہ مغرب کے جرائم کی اعداد و شمار میں سب سے زیادہ جرائم وہ ہیں جو عریانیت کی وجہ سے وہاں عام ہیں۔ ورنہ مغربی ممالک میں عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی شرح نکال کر دیکھ لیں ” ۔  اسی پاکستان میں ایسے دانشور اور این جی او کنگز اینڈ کوئینز بھی ہیں جو مغربی تہذیب کی تقلید میں ہم جنس پرستی کے بارے بھی ” چلو کوئی بات نہیں ” کے ” پنٹاگونی جذبات ” رکھتے ہیں۔ متحدہ کی کی طرف سے ہم جنس پرست گروپوں کی عیاں پذیرائی اور فوزیہ قصوری کا  کیمرون منٹر جیسے امریکی ہم جنس پستوں کی سرپرستی میں بیکن ہاؤس میں کھلے جنسی مباحثوں کا اہتمام ، قدرت کیخلاف کھلی جنگ نہیں تو کیا ہیں؟  قوم لوط پر نازل عذاب الہی بھولنے والوں کیلئے قرآن میں بیان داستانِ عبرت کے علاوہ یہ حدیث نبوی بھی ایک کھلی چتاؤنی ہے کہ ، ” جن بدترین چیزوں میں سے جس کا مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ خطرہ ہے وہ قوم لوط کا عمل  ہے”۔

نامور کالمسٹ عطا الحق قاسمی صاحب کے صاحب زادے یاسر پیرزادہ بھی اپنے عالم و فاضل آبا و اجداد  کے راسخ العقیدہ نظریات کے برعکس  ” ذرا ہٹ کے ”  سوچ  کے پیغام بر ہیں۔  ان  پر بھی حسن نثار، نجم سیٹھی اور دوسرے سیفما نژاد دانشوروں کی اندھی تقلید کا  جنون طاری ہے۔ لہذا سودی نظام سے مرصع مغربی بینکاری کی تعریف و توصیف میں یہاں تک لکھ دیتے ہیں کہ، ” مجھے زیورخ کی ایک بات سمجھ میں نہیں آئی کہ اس جنت نما شہر کی وجہ شہرت سودی بینکاری نظام ہے۔ ہمارے مذہبی دانشوروں کی  منطق کی رو سے تو اب تک اس شہر کا دیوالیہ نکل جانا چاہیے تھا مگر یہ شہر دنیا کے بہترین شہروں میں شمار ہوتا ہے‘‘ سودی نظام سے فیض یاب شہر کو جنت نما قرار دیکر خدا کیخلاف اعلان جنگ کرنے والے پیرزادہ کے جواب میں اوریا مقبول جان سمیت بہت سارے اہل دانش نے بڑے مظبوط علمی و قرآنی دلائل پیش کئے ہیں ۔  سوال یہ ہے کہ کیا ایک عالم فاضل مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے والا یہ  تعلیم یافتہ نوجوان  سود کے بارے ارشادات الہی سے  واقعی لا علم ہے یا پھر مغرب کے دجالی نظریات کا  جذباتی وکیل  بن کر عذاب الہی کو کھلی دعوت دے رہا ہے ؟

قرآن حکیم  یہ  واضح اعلان کرتا ہے کہ ، ’’ جو لوگ سود کھاتے ہیں،  ان کا حال اس شخص جیسا  ہوتا ہے جسے شیطان نے چھو کر باؤلا بنا  دیا ہو ” پھر ایک اور جگہ ارشاد الہی ہے کہ ،  ” اے ایمان والو! اللہ  سے ڈرو اور سود کا جو بقایا رہتا ہے اسے یک لخت چھوڑ دو، اگر تم  مسلمان  ہو۔ اور اگر تم ایسا نہیں کرتے تو خدا اور اس کے رسول کی طرف سے اعلانِ جنگ سن لو “ ۔ لیکن افسوس کہ  سود کیلئے قدرت کیخلاف جنگ کرنے والوں کو یہ خوف  بھی نہیں کہ جب خدا اور اس کا رسول میدانِ جنگ میں اُتر آئیں گے تو ان منکرین کی بد بختی کا کیا حشر ہوگا ؟  کون ہے  جو ایسے دانشوروں کو ” اُصولِ رُخصت“ کا پروانہ  دے سکتا ہے․؟ سود کے حامی صاحبان کی طرف سے سویٹزر لینڈ کی سودی بینکاری کی توصیف کی ایک وجہ  وہ سوئس سودی بینکر بھی ہیں جن کی بدنام زمانہ تاریخ عشروں کی بجائے صدیوں پر مبنی ہے۔ یاد رہے کہ ان سوئس بینکوں کو دنیا بھر کے چوروں اور کرپٹ  لوگوں کے کالے دھن  کو بہترین تحفظ دینے کیلئے جانا جاتا ہے ۔ اس کی وجہ وہاں کے بینکنگ ایکٹ 1934 ء کا وہ  قانون  ہے کہ جس کی بدولت ان بینکوں کے کھاتہ داروں کے نام اور سرمایہ انتہائی خفیہ رکھا جاتا ہے ۔ اسی لیے غدارین ملک اور دنیا بھر کے کرپشن کنگ انہیں بینکوں میں اپنا ناجائز سرمایہ جمع رکھتے ہیں۔ اور مغربی غلام لوگ اس سودی نظام کے قصیدے لکھ کر اپنے مغربی آقاؤں  اور  وہاں ناجائز سرمایہ محفوظ رکھنے والے قومی  لٹیروں کو بیک وقت خوش رکھتے ہیں ۔

یہ بھی محض ایک اتفاق نہیں کہ ان میں سے اکثر و بیشتر صحافتی ڈانز پاکستان کے عسکری و حساس اداروں کیخلاف مغربی و ہندوتوا پراپیگنڈا مہم کے ہمنوا بھی ہیں اور ان کی جان کو بھی بھارتی برہنموں کی ہی طرح عسکری اداروں سے خود ساختہ خطرات بھی درپیش رہتے ہیں ۔  محفل علم و دانش میں ہندوتوا آقاؤں کی ترجمانی کا بھارتی ترنگا  بلند کرنے والے امتیاز عالم کے بارے ان کی صحافی برادری ہی کا کہنا ہے کہ ان پر ایسی ہی ” صحافتی “ خدمات کے صلے میں ڈالروں کی بارشیں بھی ہوتی ہیں۔ اور اکثر اپنے مغربی آقاؤں کے دیسوں کی مقدس یاتراؤں میں  سیون سٹار ہوٹلوں میں  قیام  و طعام  کا موقع بھی ملتا رہتا ہے۔  ہم  ” جاہل اور دقیانوس ” مسلمانوں کے نزدیک اسلامی نظریات کی تابع  شخصی آزادی اور اخلاقی حدود کی پابند روش خیالی میں کسی تصادم کا امکان نہیں ۔ لیکن اس صدی کے آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ  بے لگام  روشن خیالی اور اسلام کے بنیادی افکار کے پیامیوں میں ٹکراؤ بھی ضرور بڑھتا رہے گا ۔ حجاب اور اللہ اکبر کے نعروں پر سیخ پا ہونے والے مغرب پرست احباب اور  مندر یاتراؤں اور فتنہ گری پر جائز اعتراضات اٹھانے والوں کے مابین  علمی معرکہ آرائی بحرحال رہے گی۔ خدا نہ کرے کہ یہ معرکہ آرائی کوئی جنگ ابن کر س آخری ہولناک جنگ کی صورت اختیار کرلے جو پوری دنیا کو جلا کر راکھ کر دے گی ۔

 ( فاروق درویش — واٹس ایپ — 03224061000 )

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: