حالات حاضرہ ریاست اور سیاست

خواب تو خواب ہیں ٹوٹے تو کدھر جائیں گے ؟ مخدوم صاحب سے معذرت کے ساتھ


جب سے مخدوم جاوید ہاشمی صاحب نون لیگ سے ناطہ توڑ کر تحریک انصاف میں جا بیٹھے ہیں۔ نون لیگ کے خیرخواہوں کی طرف سے طنز و تنقید کی زد میں رہتے ہیں۔ لیکن کم از کم میرے لیے وہ جتنے محترم  پہلے تھے، اتنے ہی واجب الاحترام اب بھی ہیں۔ صرف میری ہی نہیں، سیاست اور صحافت سے جڑے لوگوں کی اکثریت کی یہی رائے ہے کہ وہ ایک راست گو، ایمان دار، شفاف، با اصول اور مخلص سیاست دان ہیں۔ لہذا ان سے کسی ایشو پر سیاسی یا نظریاتی اختلاف تو ہو سکتا ہے لیکن ان کی نیت یا سیاسی کردار پر کسی طرح سے شک کرنا بددیانتی ہوگا۔ کل ایک ٹی وی چینل پر میزبان جاوید چوہدری سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ تحریک انصاف میں یہ خواب لے کرآئے تھے کہ پارٹی میں الیکشن ہوں لوگ ایک دوسرے کو ووٹ ڈال رہے ہوں۔ سو تحریک انصاف کے ان پارٹی الیکشن imran and hashmiسے انہیں اس خواب کی تعبیر مل گئی ہے۔ یہ ان کا بڑا پن ہے کہ انہوں نے اس الیکشن میں پارٹی کارکنان کے درمیان ہنگامہ آرائی کے واقعات، پارٹی کارکنوں کے پریس اینڈ میڈیا سے جھگڑوں اور بالخصوص ایکسپریس نیوز کے کیمرہ مین پر تشدد کی پر زور مذمت اور کھلے دل سے معذرت بھی کی۔ یہ بات تسلیم کرنا ہو گی کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار کسی سیاسی جماعت نے اس طرح کے الیکشن کرائے ہیں۔ ہے۔ ان پارٹی الیکشن سے ایک اچھی اور قابل تقلید روایت قائم ہوئی ہے اوربجا طورپرعمران خان اوران کے ساتھی مبارکباد اورخراج تحسین کے مستحق ہیں۔ بلاشبہ یہ پارٹی الیکشن پاکستان کی سیاست پرانتہائی گہرے اور مثبت اثرات چھوڑیں گے۔ ممکن ہے کہ مستقبل میں نون لیگ بھی ضلعی، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر پارٹی الیکشن کرانے پرمجبور ہوجائے۔ لیکن یہ بات بھی تسلیم کرنا ہو گی کہ تحریک انصاف کے ان الیکشن کے دوران پرتشدد واقعات اور نتائج سے عمران خان کی سالہ سالہ انتھک محنت، مثالی جدوجہد اور تشخص کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ گمان ہوتا ہے کہ عوام کی امنگوں کی ترجمان انقلابی جماعت کو مشرف باقیات، دوغلے لوٹوں اور پیشہ ورانہ سیاست دانوں نے ہائی جیک کرلیا ہے۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ پیپلز پارٹی، نون لیگ اورقاف لیگ کے پیشہ ور بازیگروں، سیاسی تجربہ کار سرمایہ داروں اورنوٹوں کی طاقت سے کامیابی اورشہرت حاصل کرنے کے ماہر ابن الوقت سیاستدانوں نے تحریک انصاف کی انقلابی سوچ کے اصل علمبردار، نظریاتی ورکرز کو سیاسی عیاری اورسیاست میں رائج روائیتی طریق سے شکست دی ہے۔ سیاسی  قلابازیاں کھانے والے پروفیشنل سیاست دانوں نے اپنے مہرے آگے لانے کیلئے جس انداز میں، دولت، دھونس اورطاقت کا بے دریغ استعمال کیا وہ نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ تحریک انصاف کے اینٹی کرپشن، اینٹی لوٹا کریسی، اینٹی مشرف مافیہ برانڈ شفاف سیاسی کلچر پر بدنما دھبہ بھی ہے۔ عمران خان کے ہی منشور کو روندھتا ہوا ایسا الیکشن اورایسے نتائج تحریک انصاف کیلئے کسی طور بھی فائدہ مند ثابت نہیں ہوں گے جن میں جیے بھٹو کے مفرور سپاہی، قاف لیگ کے کرپٹ بھگوڑے، حتیٰ کہ پرویز مشرف کے جوتے سیدھے کرنے والے بدنام زمانہ سیاسی دہشت گرد عبدالعلیم خان جیسے لوٹے بھی دیدہ و نادیدہ طاقتوں کے کرشمات سے لاہور کے ضلعی صدر بن گئے ہوں۔ میں اس حوالے سے اپنی رائے پھر کسی کالم میں لکھنے کیلئے محفوظ رکھتا ہوں کہ ممخدوم جاوید ہاشمی صاحب نے اپنی پارٹی کیوں بدلی اور تحریک انصاف سے جڑے ان کے خوابوں کی تعبیر پوری ہوئی، ہو گی یا نہیں۔ لیکن معذرت کے ساتھ میں ہاشمی صاحب کے اس بیان سے اتفاق نہیں کرتا کہ تحریک انصاف کے یہ الیکشن ان جیسے با اصول سیاست دان کے خواب کی تعبیر ہو سکتے ہیں۔ بلکہ میں تو کہوں گا کہ اس الیکشن نے ثابت کر دیا ہے کہ پیشہ ور سیاست دان اور بہروپیے لوٹے ہمارے سیاسی معاشرے کے ایسے قبضہ گروپ بن چکے ہیں جن سے پیچھا چھڑانا بھی اک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان کی ہر ایک سیاسی جماعت  میں طاقت ور کرپٹ مافیہ کی موجودگی کے صدقے، اب کسی بھی سطح پر ہونے والے الیکشن میں ” سیاسی فیئر پلے” ممکن ہی نہیں رہا۔ شاید عمران خان کے انقلاب کے خوابوں کی تعبیر سے پہلے ہی قوم کے مطلوب کل انقلاب کا سارا حسین منظر چور دروازوں سے تحریک انصاف میں در آنے والے سیاسی دلالوں نے دھندلا دیا ہے۔ جاوید ہاشمی صاحب مجھے خدشہ ہے کہ ایک دن آپ کی یہ نئی جماعت عمران خان کے بنیادی منشور کو بھلا کر صرف شاہ محمود قریشی اور خورشید محمود قصوری جیسے ابن الوقت فصلی بٹیروں اور سامراجی آلہ کاروں کی جماعت بن کر علامہ کرسمس قادری اور پیر الطاف حسین جیسے بدیسی ایجنٹوں کی اتحادی بن جائے گی۔ اور وہ دن پاکستان کےعوام کے خوابوں کے نہاں خون کا دن ہو گا۔ میں عمران خان صاحب کی سیاسی جماعت پر سیاسی وڈیروں اور پیشہ ور سیاست دانوں کا قبضہ ان کی سولہ سالہ بے مثال جدوجہد کا سیاسی اغوا اور پاکستانی قوم کے خوابوں کا قتل سمجھتا ہوں۔ کاش کہ عمران خان صاحب مشرف مافیہ، متحدہ دہشت گرد گروہ اورکرپٹ لوٹوں کیخلاف اپنے دیرینہ موقف پر سدا قائم رہتے۔۔ کاش وہ سمجھ سکتے کہ  انقلاب، طاقت ور سیاسی نوابوں اور کھرب پتی کرپشن کنگز کو ساتھ ملا کر نہیں مفلس اور مظلوم عوام کی طاقت سے برپا ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ با خدا اس قوم کی تقدیربدل جاتی  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فاروق درویش

 qadri-pat-pti-inp-670

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

1 Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

  • صاحب ۔ دوسروں میں کیڑے نکالنے سے زیادہ آسان کام اور کوئی نہیں ہے ۔ خوبی یہ ہے دوسرے کی برائیاں بیان کرنے کی بجائے عوام کو اپنے اچھے عمل سے متاءثر کیا جائے

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: