بین الاقوامی تاریخِ ہند و پاکستان حالات حاضرہ

دہشت گرد بھارت کے عالمی دہشت گرد اتحادی


  افغانستان سے ناکام  فوجوں کے انخلا کے بعد اپنے اگلے فسادی پروگرام ” امریکہ بھارت گٹھ جوڑ ” کی  پلاننگ کیلئے دنیا کے دو بڑے “معتبر امن گرد”  صدر اوبامہ اور مودی دہلی میں جمع ہوئے تو پاکستان کے طول و عرض میں چار سو دہشت گرد کاروائیوں سے “امن کی خوشبو” بکھر گئی ۔ اسامہ بن لادن اور القائدہ کے بے قاعدہ بہانے کے بعد ان دونوں خون آشام روحوں کی بہانہ ساز طبیعت کی سوئی اب حافظ سعید اور جماعت الدعوۃ پر آن ٹکی ہے۔ جبکہ اس تنظیم نے نہ تو کبھی کسی مسجد و درسگاہ پر بم دھماکہ کیا اور نہ ہی کبھی پرتشدد سیاست کا  راستہ اختیار کیا ہے۔ دراصل کشمیر کا حساس موضوع ہی بھارتی دہشت گرد وزیر اعظم کی دیرینہ چھیڑ ہے۔ لہذا جو پاکستانی بھی کشمیر کا نام لیتا ہے وہ دہشت گرد مودی کی ہذیان زدہ طبیعت کیلیے جان لیوا یرقان بن جاتا ہے۔ اور جب ایسا پیلا یرقان  ” جوگیا ” بن جائے تو انسان کا شیطان بن جانا فطری امر ہے۔ کشمیر سے لیکر احمد آباد تک بھارتی مسلمانوں کے قاتل بھیڑیے نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کے  دورے میں پاکستان پر پراکسی جنگ کا  الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بھارت بندوقوں کی گھن گرج نہیں ترقی چاہتا ہے۔ لیکن اس کے بعد نہتے کشمیریوں پر وحشیانہ مظالم اور ریاستی دہشت گردی میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔  بھارتی مسلمانوں کیخلاف ہر برانڈ کی  دہشت گردی میں ترقی کے ہندوتوا پروگرام کی بنیاد پر منتخب ہونے والے دہشت گرد وزیراعظم  مودی کی ” ترقی”، دراصل سرحدوں پر گولی چلائے بنا اپنے کٹھ پتلی دہشت گردوں کی ” خاموش” سپورٹ میں دن دگنی رات چگنی ترقی ہے۔ اور عالمی سکھ رہنماؤں کا یہ بیان بڑا اہم ہے کہ بھارت  اب آزاد ہونے والی روسی ریاستوں کے ان طالب علموں  کو دہشت گردی کی تربیت دے کر پاکستان بھیج رہا ہے جو بھارت میں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے آتے ہیں

عالمی دہشت گرد نریندر مودی کو بڑی احمقانہ غلط فہیمی  ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ باقاعدہ روایتی جنگ کی طاقت اور سکت نہیں رکھتا، اور یہ عیارانہ کذب بیانی ہے کہ پاکستان اسی لیے مسلح دہشت گردوں کی حمایت کر رہا ہے۔ جبکہ کراچی اور بلوچستان میں ایسی  دہشت گردی خود ” چور مچائے شور” کر رہا ہے۔  پاکستان کی عسکری قوت و میزائل پاور اور جنگ کی سکت  کے بارے غلط فہمی میں مبتلا  احمد آبادی قصاب گرد کیلئے عالمی اداروں کے یہ اعداد و شمار کافی ہیں کہ بھارت کے چالیس فیصد کے مقابلے میں پاکستانی میزائیلوں کے کامیاب تجربوں کا تناسب نوے فیصد ہے۔ نرندر مودی کو خیال رہے کہ بھارت کے 100 – 120 ایٹمی وار ہیڈز کے مقابلے میں پاکستان کے پاس بھارتی ٹیکنالوجی سے کہیں بہتر 90 – 110  ایسے دور مار ایٹمی میزائل موجود ہیں جو صرف چند منٹوں میں دہلی سے مدراس اور ممبئی سے کلکتے تک پورے بھارت کو شمشان گھاٹ بنانے کی خونخواری صلاحیت رکھتے ہیں۔ مودی سرکار کو خیال رہے کہ پاکستان نے یہ ایٹمی میزائیل شو کیس میں سجانے کیلئے نہیں ، بصورت خطرہ  اپنے دفاع میں چلانے کیلئے بنائے ہیں۔  شاہین، غوری، غزنوی اور حتف میزائلوں کی موجودگی میں ، 1971 کی نسبت آج پاکستانی فوج کی فائر پاور میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ اب راجھستان میں ون مین شو کے مزے لوٹنے والے بھارتی سورماؤں کو تباہ کن جواب کیلئے صحرائی جنگ کا بہترین ٹینک خالد اور میڈ ان پاکستان ٹینک شکن میزائیل وافر تعداد میں موجود ہیں۔ پاک فضائیہ کے ایف  16 اور پاک چین دوستی کے نشان جے ایف 17 تھنڈر کی تباہ کن رسائی اب بھارت دیش کی دور دراز فوجی چھاؤنیوں اور حساس مراکز تک ہے۔ پاکستان بحریہ میں جدید آبدوزوں اور میزائل بردار جہازوں کی شمولیت نے بھارت کا پاکستانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا خواب چکنا چور کر دیا ہے۔

حقائق بولتے ہیں کہ سرحدوں اور اندرون پاکستان  باندر کلہ کھیلنے والے دہشت گردوں کا بھارت گذشتہ پچاس برسوں سے دہشت گردوں کی مچھلی منڈی بنا ہوا ہے۔ عالمی اداروں کے مطابق کم و بیش ستر کے قریب عسکری تنظیمیں بھارت سے آزادی کیلئے سرگرم ہیں۔ ان میں ماﺅ نواز تنظیم ” نکسل باڑی” سب سے زیادہ متحرک ہے۔ اس تنظیم نے بھارتی  فورسز کو تگنی کا ناچ نچائے رکھا ہے۔ مگر بھارتی میڈیا ان کی سرگرمیوں کو زیادہ اجاگر نہیں کرتا ۔ ان دہشت گردوں کی کاروائیوں کے حقائق چھپانے کی وجہ یہ ہے کہ بہترین اسلحہ سے لیس بھارتی  فورسز کی کثیر تعداد ان ماؤ نواز باغیوں کے ہتھے چڑھتی رہتی ہے۔ اور پھر یہ باغی انہیں ” بہادر سپاہیوں ” سے چھینا ہوا جدید اسلحہ دہشت گردی میں استعمال کرتے ہیں۔ لہذا ہندو پریس شرم کے مارے یہ حقیقت کیسے بیان کر سکتا ہے کہ ان بھارتی دہشت گردوں کے ہاتھوں میں بھارتی فورسز ہی سے چھینا ہوا اسلحہ  ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج تامل ٹائیگرز اور دوبارہ منظم ہوتی ہوئی ببرخالصہ سے لے کر آسام ، ناگا لینڈ اور شمال مشرقی ریاستوں کی ان گنت دہشت گرد تنظیمیں ہنومانی بجاریوں کو روس جیسے حشر نشر کا وہ ڈراؤنا خواب دکھا رہی ہیں کہ سندر بن کے شودر نیند میں بھی لشکر طیبہ اور آئی ایس آئی کے نام بڑبڑاتے ہیں۔

  کشمیر میں آٹھ لاکھ  بھارتی فوج  کے وحشیانہ مظالم ، کشمیری عوام پر  دنیا بھر میں ممنوع  چھروں والی بندوقوں کے سفاکانہ استعمال اور مسلمان خواتین کی عصمت دری پر انسانی حقوق کے نام نہاد ٹھیکیدار اور دو رنگی عالمی برادری خاموش تماشائی ہے ۔ مختاراں مائی کیلئے موم بتیاں جلانے والی این جی او  رام داسیوں کو کشمیری اور احمد آبادی مسلمانوں کی نسل کشی پر سانپ سونگھ جاتا ہے۔ حسن نثار اور نجم سیٹھی جیسی “دور بین نظریں” رنجیت سنگھ جیسی کانی ہو جاتی ہیں۔ امن کی آشا کے گیت چلانے والے میڈیا کو بھارتی فوج کی کارستانی دکھانے پر ” گناہ کبیرہ” کا اندیشہ ہے۔ مگر دنیا تو دیکھ رہی ہے کہ  ریاستی دہشت گردی کے رد عمل میں حریت پسندوں  کی مجاہدانہ کاروائیوں سے مودی سرکار اور بال ٹھاکری مافیہ کے نچلے پیندوں سے تپتا ہوا دھواں اور  اوئی اوئی کی آوازیں برامد ہو رہی ہیں ۔ عریاں حقائق ہیں کہ پاکستان کیخلاف امریکہ بھارت گٹھ جوڑ کا حقیقی سرپرست اسرائیل ہے ۔ بھارت ہر لحاظ سے اسرائیل کا قابل اعتبار نظریاتی، عسکری اور دہشت گرد اتحادی اور اسرائیل سے جنگی سازو سامان خریدنے والا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے۔ صرف دفاعی ٹیکنالوجی ہی نہیں، سائینس اور توانائی کے ساتھ ساتھ پاکستان میں دہشت گردی کے فروغ  کیلئے بھی اسرائیل اور بھارت کا  اشتراک  قتل امن کا ابوالخباثت اور ام الامراض  ہے۔

مودی  کے برسراقتدار آتے ہی پاکستان کے طول و عرض میں دہشت گردی پر بہار اور  قوم کے دلوں میں خزاں لوٹ آئی ہے۔ دہشت گرد وزیراعظم کی اشتراکی ٹیم  را،  موساد اور افغان این ڈی ایس پشاور سے بلوچستان تک کھلی دہشت گردی میں مصروف ہیں۔ بلوچ باغیوں کی مدد کے علاوہ کراچی میں ” نامعلوم افراد ” کی دہشت گردی میں را  کا  کردار دنیا کے سامنے ہے۔ یہ خفیہ ایجنسیاں بلوچ باغیوں کو بھاری مالی امداد کے ساتھ  کابل، نمروز اور قندھار میں قائم تربیتی کیمپوں میں ٹریننگ دی رہی ہیں۔  را کے حکام  دہشت گردوں کو بھارت ، گلف اور مغربی ممالک بھجوانے کیلئے جعلی دستاویزات تیار کرتے ہیں ۔ حال ہی میں بلوچستان میں جاری بھارتی دہشت گردی کیلئے موجود بھارتی را کے ایجنٹ کل بھوشن کی گرفتاری نے ایک بار پھر بھارت کے دہشت گردانہ  عزائم عریاں کر دئے ہیں۔ جبکہ اس سے پہلے ایک  بلوچ باغی  ریاض گل بگٹی کو  افغان بزنس مین احمد جاوید کے جعلی نام سے بھارت بھجوانے کا کیس سامنے آ چکا  ہے ۔ ریاض بگٹی نے نئی دہلی میں بھارتی انٹیلی جنس حکام سے ملاقاتوں میں یہ تجویز پیش کی تھی کہ بلوچ نوجوانوں کی  تربیت کیلئے بلوچی انسٹرکٹر تعینات کئے جائیں۔ جس کے بعد  انڈین را اور افغان انٹیلی جنس کے اہلکاروں کو بلوچی زبان کے کورسز کروائے گئے۔

  ملکی سلامتی کے حوالے  سے اغیار کی این جی او کٹھ پتلیوں  کا کردار ہمیشہ سے خطرناک رہا ہے۔ عالمی برادری میں پاکستان کا تشخص بدنام کرنے کیلئے، دیسی اور ولائتی این جی اوز کے ذریعے پاکستان میں انسانی حقوق کے مسائل کو خوفناک بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ این جی اوز کے ساتھ ساتھ بیرون ممالک میں مقیم سیاسی شخصیات کو بھی مذموم  پراپیگنڈا کیلیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ گذشتہ  برس اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے فورم پر کینیڈین پاکستانی طارق فاتح نے پاکستان کیخلاف کھلی  بکواسیات کا اظہار کیا تھا ۔ اسی طارق فاتح نے بھارت میں را کے افسران وکرم سود اور اے ایس دولت سے ملاقاتیں بھی کیں۔ شواہد موجود ہیں کہ کراچی، بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے والوں کو سی آئی اے ،  را اور موساد  کی طرف سے کروڑوں ڈالرز کی ادائیگیاں کی گئی ہیں۔ پاکستانی حساس اداروں نے سوشل میڈیا اور دیگر ویب سائٹس پر ان سرگرم جعلی اکاؤنٹس کا ڈیٹا بھی تیار کیا ہے جن کے ذریعے انٹی پاکستان سوچ اورعلیحدگی پسندی کے رحجان کو فروغ دینے والی تحریریں اور ویڈیو اپ لوڈ کی جاتی ہیں۔ ہٹلر کا یہ بیان آج بھی ایک زندہ حقیقت ہے کہ دنیا میں قتلِ امن کی  ہر سازش کےآخری سرے پر کوئی نہ کوئی یہودی ضرور ہوتا ہے ۔ آج پاکستان میں یہودی لابی کے زر خرید انگنت مہرے ہر شعبے میں فعال و متحرک ہیں۔ اور حسن نثار جیسے کرداروں کی طرف سے یہودی قتل عام کے شکار فلسطینیوں کی مخالفت اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کا قابل مذمت اصرار اس امر کا مونہہ بولتا ثبوت ہے ۔۔۔۔ کاش کہ سیاسی، مسلکی، لسانی اور علاقائی محاذوں پر منقسم پاکستانی قوم کم از کم  اس  بھارتی دہشت گردی کیخلاف ہی متحد  و  ہم آواز ہو جائے تو ۔ ۔ ۔ ۔  بیڑا پار ہو جائے

اڑا دیتے ہیں ھم طوطے , اڑا کر اک کبوتر کو
اڑے گی خاک بھارت کی ، اڑۓ شاہین جب اپنے

اکہتر کا زمانہ جا چکا ، تیار ہیں ہم بھی
کہاں تھی ہاتھ میں یہ ایٹمی سنگین تب اپنے

(فاروق درویش : واٹس ایپ کنٹیکٹ 00923224061000)

 

 

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: