تاریخِ ہند و پاکستان حالات حاضرہ

راحیل شریف کا انقلاب اور جوگیا دیش کا نیا پاکستان


گذشتہ برس میں نے یہ لکھنے کا  گناہ  کیا کہ ریحام صاحبہ کی ہسٹری اور روابط سے شکوک ابھرتے ہیں وہ مغربی ایجنسیوں کی آلہ کار ہے۔ تو ردعمل میں دشنام درازی کا ایک بے ہنگم سونامی اٹھا تھا۔ مگر صرف دس ماہ بعد ہی حقائق اور زبان العوام بول اٹھے  کہ وہ شبہات عین درست تھے۔ مگر اب یہ بحث بے معنی و فضول ہے کہ خان صاحب نے ہموطن دوشیزاؤں کی بجائے پہلے ایک نیم یہودی نیم عیسائی جمائما اور پھر آدھی تیتر آدھی بٹیر مغرب زدہ ریحام ہی کو پسند کیوں کیا اور طلاقوں کے پس پردہ حقائق کیا ہیں۔ البتہ یہ حقیقت ضرور قابل غور ہے کہ برطانوی پارلیمنٹ میں ہم جنس پرست شادیوں کے حق میں ووٹنگ کے محرک چوہدری سرور اب ریحام کو برطانوی سیاست میں کس کے اشارے پر لانچ کرنے کیلئے سرگرم ہیں۔ میرا دعوی ہے کہ سونامی احباب پر جلد ہی یہ راز بھی کھل جائے گا کہ ان میں گھس بیٹھا چوہدری سرور بھی ایک برطانوی ایجنٹ ہے۔ لیکن  افسوس کہ خان ” میں نہ مانوں” صاحب سیاست کیلئے ضروری ” کمپرومائزنگ مزاج ” اور معاملہ فہمی سے کوسوں دور انتہائی جذباتی اور خود پرست انسان ہیں۔ وہ مغرب سے درامد ہونے والے ہر چمکدار” ہی اینڈ شی ” کو تیغِ انقلاب سمجھ  کر سونامی میان کی زینت بنا لیتے ہیں۔۔۔

قوم اس قدر دکھی اور ظلمت رسیدہ ہے کہ کوئی بھی شعبدہ باز انہیں بڑی آسانی سے بیوقوف بنا دیتا ہے۔ ہم  لیڈروں کا کردار و قلابازیاں اور دنیا میں برپا ہونے والے  انقلابوں کی تاریخ اور حقائق جانے بنا ہی  انقلابی منجن فروشی پر انہیں مسیحا مان لیتے ہیں ۔ ہماری راہنماؤں سے محبت کا یہ عالم ہے کہ ان کی مصدقہ  کرپشنز ،  مذہب سے غداری اور جنسی سیکنڈلوں کا کافرانہ حد تک دفاع کرنا مذہبی فریضہ سے بھی اہم سمجھتے ہیں۔ عوام ہم جنس پرستی کے کسی علمبردار،کسی گستاخِ رسالت یا کسی زانی و فاسق لیڈر کے طرز عمل کا بے ہنگم دفاع کرتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ قرآن و شریعت کا منکر اور بدکردار شخص ملک و قوم کا وفادار کیسے ہو سکتا ہے۔ سورۃ المائدہ میں ارشاد  ہے، ” وَالَّـذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيَاتِنَا اُولٰٓئِكَ اَصْحَابُ الْجَحِيْـمِ ” ۔۔۔ ترجمہ ۔” اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتیں جھٹلائیں وہ دوزخی ہیں”۔ لہذا جو لوگ قوم لوط جیسوں یا قرآنی آیات کو جھٹلانے والوں کے حواری بنتے ہیں انہیں فاروق درویش یا کوئی ملا نہیں بلکہ خود اللہ جل جلالہ دوزخی قرار دیتا ہے۔ لیکن ہم شعبدہ بازوں کی بڑھکوں کو انقلاب کی نوید جان کر اندھے پرستار بن جاتے ہیں۔ نام نہاد انقلابی تحریکوں سے تبدیلی کی امیدیں رکھنے والے ” معصوم احباب ” کی خدمت میں چند حقیقی انقلابوں کا مختصر احوال پیش کر رہا ہوں۔ تاکہ بناؤٹی انقللاب اور معاشروں میں واضع تبدیلیوں کے محرک بننے والےحقیقی انقلابوں میں فرق واضع  ہو ۔

یہ اٹھاریں صدی کے آخری عشرے تھے اور امریکی قوم اپنی آزادی کیلئے پیٹرک ہنری کے نعرے ” آزادی دو یا موت دو ” کا عملی نمونہ بنی جارج واشنگٹن کی قیادت میں اپنے موجودہ اتحادی برطانیہ کی خونخواری و وحشت کا مقابلہ کر رہی تھی۔ یاد رہے کہ اس تحریک کے اکثر لیڈروں کے کاروبار، گھربار تباہ و برباد اور خاندان قتل کر دیے گئے، مگر انہوں نے موت کے ڈر سے نہ کنٹینروں میں پناہ لی اور نہ مجمع اکٹھا کرنے کیلئے انقلابی مٹیاروں کے رقص اور میوزیکل شو منعقد کروائے۔ ان لیڈروں نے ہمارے بناؤٹی لیڈروں کی طرح اپنی اولادوں کو فائیو سٹار ہوٹلوں اور سیکورٹی گارڈز کی پناہ میں نہیں رکھا، لہذا اکثریت کے بیوی بچے برطانوی دہشت گردی کا شکار ہوئے۔ صرف ان دو لیڈروں کا دردناک انجام ہی ماڈرن انقلابیوں کو شرم دلانے کیلئے کافی ہے۔ آزادی کے رہنما جان ہارٹ کو بستر مرگ پر پڑی بیوی سے جدا کیا گیا تو اس کے تیرہ بچے جانیں بچانے کیلئے فرار ہوگئے۔ اس کے کھیت اور فلور مل مکمل تباہ کر دی گئی۔ وہ ایک برس تک جنگلوں میں روپوش رہنے کے بعد گھر لوٹا تو بیوی مر چکی تھی اور سب بچے لاپتہ تھے۔ اور ان صدمات سے خستہ دل وہ خود بھی انتقال کر گیا۔ سزائے موت پانے والے ناتھن ہیل کی حب الوطنی کا اندازہ اس کے ان آخری الفاظ سے لگایا جا سکتا ہے کہ ، ” مجھے افسوس ہے کہ اپنے وطن کو دینے کیلئے میرے پاس ایک زندگی کے سوا کچھ اور نہیں” ۔

جبکہ یہاں قوم سیلابوں میں ڈوبے یا سانحہ پشاور پر نوحہ کناں ہو، انقلاب خان صاحب میوزیکل شوز میں مگن یا نئی شادی کی تیاریوں میں مصروف ہوتے ہیں۔ ادھر ہولناک زلزلے کی تباہ کاریاں کلیجہ جلا رہی ہیں اور ادھر خان صاحب عشق کی بربادی کے غم میں نڈھال ہیں۔ عجیب داستانِ انقلاب ہے کہ یہاں عوامی قتل عام سے بے نیاز حکمرانوں کے کاروبار میں بھی دن دنی رات چگنی ترقی ہوتی ہے اور ان لاشوں پر سیاست کا منافع بخش کاروبار کرنے والے قادری صاحب کے اکاؤنٹس بھی ہر دورے کے بعد ڈالری بچے دیتے ہیں۔ اور شومیء قسمت کہ پہلے ہم انہی شعبدہ بازوں کو اپنے مسیحا اور نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔ اور بالاخر ان سیاسی سانپوں ، سنپولوں اور سپنیوں سے بار بار ڈنگ کھا کر, خود پر شرمسار ہوتے ہیں اور راحیل شریف زندہ باد کا نعرہ لگا دیتے ہیں۔ بھولی بھالی  قوم کو یہ معصوم  توقعات ہیں کہ اب پاک فوج اور آئی ایس آئی جھٹ پٹ میدان میں اترے گی، جنرل راحیل شریف اور جنرل رضوان اختر برسوں سے بگڑے ہوئے بوسیدہ و متعفن نظام جمہور کے خلاف کوئی فوری اپریشن غضب ناک اور کرپشن کنگ پیشہ ور سیاست کی آناً فاناً جراحی کر کے ہمیں پینسٹھ برسوں کے مسلسل دکھوں سے بس چند ہی دنوں میں فوری و دائمی نجات دلا دیں گے۔ ۔اسی دور میں مسلمانانِ ہند سلطان ٹیپو کی قیادت میں صرف برطانوی استعمار نہیں بلکہ ان کے مددگار ننگ قوم میر صادق جیسے غداروں کی ” جوائینٹ فورس ” کیخلاف نبردآزما تھے۔

ملت کے عظیم سپوت ٹیپو سطان نے آج کے ارب پتی حکمرانوں کی طرح گھٹنے نہیں ٹیکے بلکہ دھرتی اور آزادی کیلئے مردانہ وار لڑتا ہوا شہید ہوا۔ جبکہ میر صادق جیسے ننگ وطن کا انجام اور اس کی اجڑی ہوئی قبر پر پرانی جوتیوں کے انبار زمانوں کیلئے عبرت ہیں۔ اسی دور میں فرانسسی عوام ہمارے رنگیلے شاہوں جیسے شاہان مست کے سیاسی و معاشی جبر کا شکار تھے۔ بادشاہوں کے  ضدی رویوں کے ردعمل میں انقلاب آیا تو عوام نے شاہی محل پر حملہ کر دیا۔ پہلے بادشاہ اور ملکہ اور پھر ولی عہد کو سزائے موت دی گئی۔ حتی کہ ان انقلابیوں نے خدائی عبادت کے خلاف قانون پاس کر کے مذہب کیخلاف بھی طبل جنگ بجا دیا۔ سیاسی مجرم اتنے تھے کہ فی منٹ پانچ سو سر کاٹنے والی مشینیں بنانی پڑیں۔ اور پھر فرانس کے تخت پر نپولین بونا پاٹ کی وہ طلسمی شخصیت نمودار ہوئی جو انقلاب خان کی طرح خود کو مرد بخت آور کہتی تھی۔ مگر اسے انقلاب کے عوامی رجحانات یا سیاسی نظریات سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس نے بھی اقربا پرور رائیونڈی شاہان حشمت کی طرح اپنے بہن بھائیوں کو یورپی ممالک کے تاج و تخت بانٹے ۔ لیکن جب وہ مجسمہء تکبر قدرت کے آہنی شکنجے میں آیا تو ہٹلر جیسی ناکام روسی مہم اور واٹرلو کی تاریخی شکست کے بعد سینٹ ہلینا کے جزیرے پر جلاوطنی کے دوران کینسر میں مبتلا بے یارومددگار راہی عدم ہوا۔ لاکھوں جانوں کی قربانی سے برپا ہونے والا انقلاب فرانس بھی اس عوام کو آزادی و انصاف نہ دے سکا جو کئی صدیوں سے ملوکیت اور جبر کے ہاتھوں  ذبح ہو رہے تھے۔ انہوں نے شاہوں سے ظلم کی تلوار چھین کر نظامِ جمہور کے ظالم ہاتھ میں پکڑا دی ۔ اور ہھر گناہ گاروں کے ساتھ  بے گناہ روحیں بھی اس کی زد میں آ کر کٹتی چلی گئیں

اسلام آباد دھرنا اور انقلابی مارچ کو چینی لانگ مارچ جیسا کہنے والے یاد رکھیں کہ ماؤزے تنگ نے چھ ہزار کلومیٹر سفر میں کوئی گاڑی استعمال نہیں کی تھی۔ وہ لانگ مارچ بنی گالہ کے پر تعیش محلات یا کینیڈا کی مخملی گود سے سترہ لاکھ کی ٹکٹ لے کر محشر سیاست میں نہیں پہنچا تھا۔ اُس نے گیارہ صوبوں کے اٹھارہ خطرناک پہاڑی سلسلے اور چوبیس دریاؤں کی طوفانی لہریں عبور کی تھیں۔ شرکا کی سوا لاکھ سے زیادہ تعداد اختتام پر پندرہ ہزار رہ گئی تھی۔ باقی لوگ یا تو قدرتی آفات کا شکار ہو گئے یا مخالف آرمی کے ہاتھوں مارے گئے۔ اس لانگ مارچ کی قیادت خود ماؤزے تنگ نے کی تو نہ تو اس نے اپنے بیٹوں کو خان صاحب کی طرح لندن بھیجا اور نہ ہی علامہ کینیڈوی کی طرح اس کے بیٹے کسی فائیو سٹار ہوٹل میں محفوظ تھے۔ قوم کو حقیقی آزادی اور ترقی کی راہ پر ڈالنے والی اس انقلابی کے دو کمسن بیٹے گمشدہ یا جاں بحق ہو کر ہمیشہ کیلئے کھو گئے

کارل مارکس کے سرخ منشور نے عوام کو ان عناصر کیخلاف بغاوت اکسایا جو مزدوروں سے بیگار کیلئے کوڑے برساتے تھے۔ انقلاب برپا ہوا تو زاران روس کے جبر و استبداد کے ستے عوام نے شہنشاہوں کی قبریں کھود کر ان کی ہڈیاں تک جلا دیں۔ اکتوبر 1917ء میں روس اشتراکی حکومت قائم ہوئی جو سوویت اتحاد میں بدل گئی۔  اور جب روسی بھیڑیے افغانستان اور پاکستان کو روند کر گرم پانیوں تک پہنچنے کی کار صد ہوس میں پاکستانی عسکری و حساس اداروں کے ہاتھوں عبرت ناک شکست سے دوچار ہوئے تو روس کے ساتھ ہی یہ اتحاد بھی ٹوٹ گیا۔ جس کے نتیجے میں آزاد اسلامی ریاستوں کا قیام بھی عمل میں آیا۔ اس کے ساتھ ہی دہریت اور الحاد کے نام پر برپا ہونے والے اس انقلاب اور کیمونزم کا بے چراغ اختتام ہوا۔

اہل علم و دانش کے مطابق انقلاب محشر دوراں اور جبر و استحصال کے دشتِ ظلمت میں طویل سفر اور ظالم قوتوں کیخلاف انتھک جدوجہد کا نام ہے۔ جس میں ظلم کی چکی میں پستی ہوئے انسانوں کی ظلم و جبر سے بغاوت لہو رنگ قربانیوں کی داستان سے آنے والی نسلوں کیلئے تابناک صبح کا پیغام دیتی ہے۔ دینِ برحق ہمیں جس حقیقی انقلاب کی تلقین و ترغیب دیتا ہے وہ  روسی، فرانسیسی اور امریکی انقلابوں سے مختلف، ذہنی و نظریاتی اطاعت الہی ، خود احتسابی، وفائے ملت اور فِکر وعمل کا انقلاب ہے۔ یہ انقلاب کسی خاص فرد و حاکم کے نہیں بلکہ پورے دہریانہ نظام ظلمت و جبر کے خلاف ہے۔ اس میں  دوسروں کی اصلاح سے پہلے خود احتسابی اور قومی و ملی احساس ذمہ داری کا تصور ہے۔ اس انقلاب میں سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہہ جیسا عظیم مقتدر بھی اپنے دور حکومت میں ایک کتا بھوکا مرنے پر خود کو اللہ کے روبرو جواب دہ سمجھتا ہے۔ فرسودہ روایات سیاست اور مادر پدر آزادی کے طلسم میں جکڑے اور اپنے گریبان میں جھانکنے سے عاری مسخرے، ڈانسری جدوجہد سے حقیقی تبدیلی و انقلاب نہیں، صرف چند چہروں کی تبدیلی کا سبب بن سکتے ہیں۔ موروثی حکمرانی اور نظام ظلمت بدلنے کیلئے ذہنی تبدیلی اور غلامیء دہر سے دائمی آزادی کیلئے جہد مسلسل لازم ہے

معاشرے میں تبدیلی، ظلمت شب  سے آزادی اور جستجوئے صبح نو کیلئے بیداریء انسان اور تبدیلیء اذہان ایک مسلسل و صبر آزما عمل ہے جو سالوں نہیں کئی نسلوں تک محیط ہو سکتا ہے۔ آج غریب و سفید پوش طبقات  سیاست دانوں کی بندر بانٹ ، مالیاتی و اخلاقی کرپشن اور ضدی رویوں کے باعث مایوسی کا شکار ہیں۔  لیکن سوال یہ ہے کہ کیا لوگوں کی امیدوں کا مرکز بننے والے جنرل راحیل شریف کسی ایسے حقیقی انقلاب کی قیادت کر سکتے ہیں جس کا آغاز قومی خزانے کے لٹیروں کے پھانسی برانڈ  کڑے احتساب، بیرون ممالک بینکوں سے لوٹے ہوئے دھن کی واپسی اور اختتام ڈرگ اینڈ  لینڈ مافیوں کے عبرتناک انجام پر ہو ۔ کیا قوم ایسے انقلاب کی شروعات میں ٹارگٹ کلر و بھتہ خور مافیوں اور معصوم بچوں کو جنسی درندگی کا نشانہ بنانے والوں کو سرعام لٹکا دیکھ سکے گی۔ کیا جنرل راحیل شریف باچا خانی اور جی ایم سیدی مافیوں کو للکار کر ترقی کے ضامن کالا باغ ڈیم کا سنگ بنیاد رکھ پائیں گے؟ کیا آئی ایس آئی کی  متحرک ٹیم  کے زیرک قائد جنرل رضوان اختر ملک کی نظریاتی سرحدوں پر حملہ آور بھارتی رکھیل اور مغربی غلام این جی او جاسوس مافیوں کا نیٹ ورک توڑ کر بھارتی را کی سرپرستی میں پلنے والی دہشت گردی کو ابدی نکیل ڈالنے میں کامیاب ہو پائے گی۔ ایسا ہو گیا تو انشاللہ  تاریخ میں راحیل شریف کا نام بھی  ماؤزے تنگ اور مہاتیر محمد کی طرح سنہری حروف میں لکھا جائے گا اور پاکستان میں بھی ملائشیا،  عرب امارات، ترکی  اور سعودی عرب جیسا وہ خوشحال اور امن پسند معاشرہ وجود میں آئے گا۔ جہاں نہ کوئی قانون شکنی اور لوڈ شیڈنگ ہو گی اور نہ ہی کوئی بچہ بھوکا سوئے گا۔ اور ہاں میرا یہ مکرر در مکرر دعوی ہے کہ  پھر اس انقلاب کے ساتھ ہی  کوئی ” نیا پاکستان” بھی ضرور برامد ہو گا۔ مگر وہ قائد اعظم اور حضرت اقبال کے اس  ” پرانے پاکستان ” سے نہیں بلکہ امن کے دشمن  بال ٹھاکری مافیہ کے نفرت انگیز عزائم کے رد عمل میں مظلوم بھارتی اور کشمیری مسلمانوں کے بھارت دیش کی جوگیا کوکھ سے جنم لینے والا ایک نیا پاکستان ہو گا ۔ ۔ ۔ ۔

فاروق درویش ۔۔ واٹس ایپ کنٹیکٹ ۔۔ 03224061000

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

Featured

%d bloggers like this: