حالات حاضرہ

را ، موساد اور سی آئی اے کی دہشت گردی کا عجائب خانہ


چین اور پاکستان کے باہمی منصوبوں کی ممکنہ کامیابی سے خوف زدہ سامراج و مغرب اور ان کے یہود و ہنود بغل بچوں کے پیندوں سے دھواں برامد ہو یا نعرہء تکلیف اوئی اللہ کی چیخ و پکار اٹھے، انشاللہ العزیز یہ منصوبے پاک چین دوستی زندہ باد کے نعروں کی گونج میں اپنی منزل با مراد تک پہنچ کر ہی رہیں گے۔ پاک چین معاہدوں سے یہود و نصارٰی اور ہندوتوا کے مذموم عزائم و مقاصد کی جواں مرگی پر کریا کرم کی رسومات میں شرکت کیلئے دنیا بھر کے یہودیوں او مجوسیوں کی بھارت میں آمد کا سلسلہ شروع ہے ۔ خبریں گردش میں ہیں کہ بھارت کے دہشت گرد خفیہ ادارے ’’را‘‘ کی دعوت پر امریکی سی آئی اے اسرائیلی موساد روسی انٹیلی جنس ، افغان خفیہ سروس این ڈی ایس اور برطانوی خفیہ ادارے  ایم آئی  6  کے  درجنوں سینئر حکام  نئی دہلی کے حیدرآباد ہاؤس میں بھارتی میزبانی اور مہا بھارت کے زرد دہشت گرد دیش کی حسین و جمیل ماڈلوں کے تھرکتے اجسامِ گل رنگ کے مزے لوٹ رہے ہیں۔  آج ایان علی اگر اڈیالہ کی  فائیو سٹار جیل میں نہ ہوتی تو ممکن تھا کہ وہ بھی نیو دہلی کے کسی فائیو سٹار ہوٹل میں را یا موساد کے کسی جاسوس اہلکار کی گود میں بیٹھی دھن دھنا دھن دھن ڈالرز گن رہی ہوتی۔

اپنے عالمی دہشت گرد سرپرستوں کی موجودگی میں شیر بننے والے بھارتی گیدڑ وزیر دفاع منوہر پریکر دھمکی دیتے ہوئے اس قدر جذباتی ہو گئے کہ انہوں نے انہوں نے دہشت گردی کرنے کا اعلانیہ اقرار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی بھارت میں دراندازی کرے گا، وہ مارا جائے گا۔  ان کا یہ کہنا اپنی ریاستی اور بین الاقوامی  دہشت گردی اور دہشت گرد پالنے کا کھلا اقرار تھا کہ ” دہشت گرد سے دہشت گرد کے ذریعے سے ہی نمٹا جاسکتا ہے”۔  بھارتی وزیر دفاع کے اس اعلان سے ثابت ہو گیا ہے کہ آزادیء کشمیر کے جانبازوں کیخلاف بھارتی ریاستی دہشت گردی اور بلوچستان یا کراچی سمیت پورے پاکستان میں پھیلے ہوئے دہشت گرد دراصل بھارتی آشیرباد ہی میں پلتے ہیں۔ دیکھنا ہے کہ اب امن کے نام نہاد ٹھیکیدارعالمی ادارے بھارتی وزیر دفاع کی طرف سے دہشت گردی کے مقابلے میں دہشت گرد استعمال کرنے کے اس کھلے اقرار کا کیا نوٹس لیتے ہیں۔ منوہر پریکر کے اس اعتراف جرم کے بعد پاکستان کی ان گونگی بہری سیاسی قوتوں کو بھی لب کشائی کی توفیق اور قومی غیرت کی علمبرداری کا جواز مل چکا ہے جو بھارت کی طرف سے ہر دہشت گردی کے عیاں ثبوت دیکھ کر بھی اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ میں گونگے بہرے اور اندھے رہتے ہیں۔ اس حوالے سے افواجِ پاکستان اور آئی آیس آئی کی اعلی قیادت کی طرف سے جرات مندانہ حقائق بیانی قابل صد سائش اور خوش آئیند ہے۔

بھارت میں تمام اسلام دشمن ، انٹی پاکستان خفیہ ایجنسیوں کا اجتماع اس امر کا  ثبوت ہے کہ سب عالمی دہشت گرد طاقتیں پاک چین منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کیلئے مشترکہ طور پر متحرک ہو چکی ہیں۔ مودی کی ہدایات پر بھارتی خفیہ ادارے ”را“ کے سربراہ راجندر کھنہ کی نگرانی میں پاک چین اقتصادی راہداری کو ناکام بنانے کیلئے  خصوصی ڈیسک بنایا گیا ہے۔ بھارتی خفیہ ادارے کو اس بڑے ٹاسک کیلئے بہت بڑی رقم بھی فراہم کی گئی ہے۔ عالمی مبصرین کے مطابق بنگلہ دیش کی دجالی تخلیق کے بعد یہ ”را“ کا  دوسرا بڑا منصوبہ ہو گا۔ ماضی میں جھانک کر دیکھیں تو بھارتی را ‘‘ اور اسرائیلی ’’موساد‘‘ کے باہمی رابطے اندرا گاندھی کے اس دور سے استوارہیں ، جب اسرائیل کو ممبئی میں قونصل خانہ کھولنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اور پھر این جی اوز اور سیکس سروس ہومز کی آڑ میں تربیت یافتہ یہودی لڑکیوں کا جاسوسی نیٹ ورک ممبئی، چنائی، مدراس ، حیدر آباد اور کلکتہ سمیت پورے بھارت میں پھیل گیا۔ راجیو گاندھی کے دور سے را کے ایجنٹ اسرائیل سے خصوصی تربیت کر رہے ہیں۔ اپریل 2003ء  میں را کے سربراہ بننے والے سی ڈی سہالے سے لیکر موجودہ چیف راجندر کھنہ تک،  را کا ہر ایک سربراہ  اسرائیلی جاسوس اداروں کا تربیت یافتہ رہا ہے ۔

معتبر ذرائع کے مطابق پاکستان کے حساس اداروں نے اس امر کے مستند ثبوت اور شواہد حاصل کر لیے ہیں کہ را نے پاک چین راہداری کے منصوبے کو سبوتاژ کرنے کیلئے کا م شروع کر رکھا  ہے۔ اس حوالے سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ چودھری نثار بھارتی را کے عزائم کے بارے میں مختلف انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے فراہم کردہ  ناقابل تردید ثبوت، جلد ہی قوم کے سامنے پیش کریں گے۔ لیکن ان حقائق کو عالمی اداروں یا قوم کے سامنے لانے میں اب دیری یا تذبذب کے پس پردہ کیا وجوہات ہیں، واللہ علم بالصواب۔ یہ ساری دنیا پرعیاں ہے کہ بھارتی خفیہ ادارے کی ساری توجہ پاک چین منصوبے ناکام بنانے پر مرکوز ہے ۔ اس حوالے سے انہیں سامراجی، اسرائیلی اور مغربی ایجنسیوں کی ہر ممکنہ مدد و حمایت بھی حاصل ہے ۔  را کا بنیادی مشن عسکری انٹیلی جنس معلومات کا حصول ، حریف ممالک کیخلاف نفسیاتی اور ثقافتی  جنگ ،  تخریب کاری اور دہشت گردی کی سرپرستی ، پاکستان اور ہمسایہ ممالک میں سبوتاژ کی کارروائیاں اور بھارتی عذائم کی راہ میں حائل اہم شخصیات کو قتل کرنا ہے۔ مثال کراچی میں این جی او خاتون سبین محمود اور دوسرے اہم لوگوں کے  وحشیانہ قتل ہیں۔ را کی دیگر انٹی مسلم خفیہ ایجنسیوں سے فعال ریلیشن شپ کے پس پردہ حقائق اور ان سب کا مشترکہ مفاد، دراصل ان کی آنکھوں میں چبھنے والا  پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہے۔ اہل نظر اس امر سے بھی واقف ہیں کہ غیر ملکی ایجنسیوں کے بھارتی را سے تال میل کا دائرہ کار افغانستان، برطانیہ، میانمار، ہانگ کانگ اور سنگاپور سے لیکر لندن، واشنگٹن اور تل ابیب و  یروشلم  تک پھیلا ہوا ہے۔ جبکہ پاکستان میں  جاسوسی اور سہولت کاری کا ذمہ عاصمہ جہانگیر و ماروی سرمد برانڈ این جی اوز اور میڈیائی سپورٹ  کیلئے  حسن نثار، نجم سیٹھی اور پرویز ہود بھائی جیسے نام نہاد دانشوروں کی صورت میں ننگِ ملک و ملت سیکولر مسخرے موجود ہیں۔  ان بتانِ ہوس زر اور ننگِ آدمیت مجسموں کے بنا عالمی دہشت گردی کا عجائب خانہ ادھورا ہے۔

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بھارت اسرائیلی ہتھیاروں کی خریداری پر ایک ارب ڈالر خرچ کررہا ہے۔ دوسرے تباہ کن اسلحہ کے ساتھ اسرائیلی ایرو سپیس انڈسٹری سے دو عدد ’’فیلکن‘‘ برانڈ ارلی وارننگ سسٹم کی خریداری کا معاہدہ طے پا چکا ہے ۔ انڈین پریس کے مطابق بھارتی ایئرشو میں اسرائیل کی پندرہ  کمپنیاں اپنے جدید ہتھیاروں کی نمائش کریں گی۔ قارئین اکرام اس امر کے بھی ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ اسرائیل اب بھارتی مدد سے افغانستان کے راستے فاٹا اور بلوچستان کے شدت پسندوں کو ہتھیار فراہم کر کے یہاں اپنے قدم جمانے کیلئے کوشاں ہے۔ ماضی میں افغانستان میں موجود امریکی اور بھارتی عناصر، بلوچ باغیوں اور شدت پسندوں کو اسلحہ اور مالی فنڈز کی فراہمی کے کھلے مرتکب قرار پائے گئے۔ جبکہ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد اب اسرائیلی عنصر اس خطے میں پوری طرح سرگرم و فعال ہو چکا ہے۔ خدا نہ کرے کہ ماضی میں بھارتی را کو مدد کیلئے پکارنے والے متحدہ برانڈ سیاسی دہشت گرد، مستقبل میں اسرائیلی موساد کو مدد کیلئے پکارتے سنائی دیں۔ کراچی میں رینجرز کی طرف سے آپریشن کے بعد اندرون سندھ میں متحدہ کی ظاہری حریف جسقم کی طرف سے متحدہ کیخلاف فوجی آپریشن کی مخالفت کرنے سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہو رہا ہے کہ، تمام بھارتی بغل بچے، اپنے مشترکہ بھارتی آقاؤں کی ہدایات پر، ایک دوسرے کی سیاسی و اخلاقی مدد کیلئے متحد ہو رہے ہیں۔

احباب یہودی قیادت اور عوام ، عرب اسرائیل جنگ میں شام اور مصر کے طیارے اڑانے والے پاک فضائیہ کے شاہینوں کے ہاتھوں اپنے طیاروں کے تابوتوں کی آتش زدگی ابھی بھولے نہیں ہوں گے۔ دوسری طرف بھارتی سورماؤں کیلئے ان کے اپنے ہی وزیر دفاع کا یہ بیان کسی ڈراؤنے خواب جیسا ہی خوفناک ہے کہ ناکام روسی ٹیکنالوجی کے حاامل بھارتی طیارے، گویا  ہوا میں اڑتے ہوئے تابوت ہیں۔ میرے مطابق پچھلے سات برس میں بیس سے زائد بھارتی طیاروں کا کریش ہونا اور چالیس فیصد سے زائد میزائیل تجربات کا مکمل فیل ہونا، بھارتی اسلحہ و میزائیل ٹیکنالوجی کے سب سٹینڈرڈ کا مونہہ بولتا ثبوت ہے۔ جبکہ دوسری طرف دنیا کے بہترین فائٹر پائیلٹ مانے جانے والے پاکستانی شاہینوں کے پاس بہترین جنگی ٹیکنالوجی کے حامل ایف 16 اور جے ایف 17 تھنڈر جیسے تباہ کن طیاروں میں نصب دنیا کے جانے مانے تباہ کن ایٹمی میزائیل دہلی سے مدراس اور ممبئی سے کلکتے تک پورے بھارت کو پلک جھپکتے میں شمشان گھات بنانے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ الحمد للہ آج چونکہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے، لہذا بھارت اور اسرائیل اس مملکت خداداد کے خلاف کسی قسم کی عسکری جارحیت سے لرزاں ہیں، لیکن یہ دشمنانِ اسلام کسی نہ کسی طرح ہماری سلامتی کو نقصان پہنچانے کیلئے ہمہ وقت سازشوں میں ضرور مصروف رہتے ہیں۔ پاکستانی آئی ایس آئی  قبائلی علاقوں اور بلوچستان کی دہشت گردی میں بھارت اور اسرائیل کے ایجنٹوں کے ملوث ہونے کی مصدقہ اطلاعات فراہم کر چکا ہے۔ اور ان انفارمیشنز کی تصدیق اب امریکی اخبار انالسٹ نٹ ورک نے بھی کر دی ہے۔ لیکن افسوس کہ بھارتی دہشت گردی کی سچی داستانوں کو محض الزامات اور پراپیگنڈا قرار دینے والے نام نہاد میڈیا دانشور تو بغیر ختنوں کے مارے جانے والے بھارتی سکھ اور گورکھا دہشت گردوں کو بھی افغان طالبان اور مسلمان دہشت گرد ہی قرار دیتے رہے ہیں۔ مگر ان مسلمان دانشوروں کے خود اپنے ختنے بھی ہوئے ہیں یا نہیں، واللہ علم بالصواب۔ باخدا فاروق درویش کچھ نہیں جانتا، ہاں اگر آپ معزز صاحبان کے پاس کوئی شواہد موجود ہیں تو ضرور بتا دیجئے ۔ ۔ ۔ ۔

( فاروق درویش – 03324061000 — 03224061000)

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: