حالات حاضرہ سیکولرازم اور دیسی لبرل

سبین کا قتل یا حساس اداروں کی ساکھ پر خفیہ وار


قانون کو ہاتھ میں لے کر کسی بے گناہ ہی کا نہیں گناہ گار کا قتل بھی ایک سنگین قانون شکنی اور ناقابل معافی جرم ہے۔ چینی صدر کے کامیاب ترین دورے کے فوری بعد ایک لبرل این جی او خاتون سبین محمود کا سازشی قتل ملک کے تمام طبقات کیلئے قابل صد مذمت ہے۔ لیکن پاک چین دوستی سے خائف امریکہ، برطانیہ اور مغربی ممالک کی طرف سے جس نفرت  خیز انداز اور فتنہ انگیز تنقید کے ساتھ اس مذموم قتل کی مذمت کی جا رہی ہے وہ بھی قابل صد مذمت ہے۔ نامور صحافی صلاح الدین ، عالمی شہرہ آفاق  سماجی شخصیت حکیم سعید اور جرات مند میڈیا پرسن  بابر ولی خان جیسے پاکستانیوں کے سفاکانہ قتل پر سدا خاموش رہنے والے سیکولر طبقات  اور بھارت برانڈ این جی او مافیوں نے سبین محمود کی موت کو ایک عظیم نقصان قراردیا ہے۔ امریکی اور ہندوتوا پریس بڑے زور و شور سے کہہ رہا ہے  کہ اس قتل کیخلاف پاکستان  بھر میں شدید ردِ عمل اور سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ لیکن پاکستانی عسکری اور حساس اداروں کیخلاف زہر اگلنے کیلئے مواقع تلاش کرنے والا غیر ملکی میڈٰیا  اس قتل کے حوالے سے افواج پاکستان اور آئی ایس آئی  پر فتنہ خیز اور کاذبانہ الزامات دھرنے والے ابو الخباثت  قادیانیوں ، مذہب سے بیزار سیکولرز طبقات اور مغربی کٹھ پتلی این جی مافیوں کے اصل عزائم کے بارے خاموش ہے ۔ احباب  یاد رہے کہ گذشتہ دنوں جنرل راحیل شریف نے کئی این جی اوز کی ملکی سلامتی کیخلاف مشکوک سرگرمیوں اور غیر ممالک کیلئے جاسوسی کے شواہد ملنے پر ان کا آڈٹ ، تحقیقات اور کڑی نگرانی کرنے کا عندیہ دیا تھا  ۔ لہذا ننگَ ملک و ملت این جی مافیہ کی طرف سے عسکری اور حساس اداروں کیخلاف شرمناک پراپیگنڈا کر کے دلوں کی بھڑاس نکالنے کی وجہ سب کیلئے قابلِ فہم ہے۔

دوسری طرف فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے سبین  کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے انکے خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ فوجی قیادت کی طرف  سے خفیہ ایجنسیوں کو اپنی تمام معاونت تحقیقاتی اداروں کو دینے کا ٹاسک دیا گیا ہے تاکہ اصل مجرموں کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں لا کر قتل کے اصل محرکات اور حقائق قوم کے سامنے عیاں ہوں۔ چونکہ  سبین کو عین اس وقت نشانہ بنایا جب وہ لاپتہ  بلوچ افراد کی بازیابی کیلیے سرگرم سماجی شخصیت ماما قدیر کے ساتھ  ہونی والی ایک نشست کے بعد اپنی والدہ کے ہمراہ  گھر کیلئےروانہ ہوئی تھیں ۔ لہذا لاپتہ افراد کی گمشدگی کے حوالے سے عسکری اداروں ہر الزامات دھرنے والے عناصر ممکنہ طور پر بھارتی را کے خفیہ ہاتھوں ہونے والے اس قتل کو،  پاک فوج اور آئی ایس آئی کی کاروائی قرار دینے کے شرانگیز پراپیگنڈا میں مصروف ہیں۔ لیکن قابل توجہ امر ہے سامراج اور بھارت کی آشیرباد یافتہ ان بدیسی غلام طبقات نے ایران یا بھارت کی جانب سے بلوچ باغیوں کی بھرپور امداد کے تمام  شواہد سامنے آنے پر بھی زبان نہیں کھولی۔ اور نہ ہی کبھی بھارت دیش میں ہنومان کے مندروں میں پوجا پاٹ کرنے والی گستاخ رسول عاصمہ جہانگیر ، بینا احمد اور ماروی سرمد جیسی نام نہاد  ” مسلمان شہزادیوں ” نے بھارت کی جیلوں میں غیر قانونی پر قید و بند یا بھارت میں لا پتہ ہونے والے بے گناہ پاکستانی افراد کے بارے کوئی آواز بلند کی ہے۔

الطاف حسین نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہوئے کہا ہے  کہ سبین کا قتل انتہائی بہیمانہ ہے، قاتلوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے۔ مگر تعجب ہے کہ جب رینجرز سیکڑوں افراد کے متحدہ قاتلوں کو نائن زیرو سے گرفتار کر کے بھارتی برانڈ اسلحہ برامد کرتی ہے تو بھائی صاحب کے بے قابو بلڈ پریشر کی خوفناک پھنکار ٹیلیفونک خطاب میں بھی محسوس ہوتی ہے۔ بتایا جائے کہ کیا متحدہ  کی خود ساختہ جلاوطن قیادت کیلئے اپنے ٹارگٹ کلرز کے ہاتھوں قتل ہونے والے ہزاروں معصوم شہریوں کا لہو سبین کی طرح مقدس اور قیمتی نہیں ؟ محترمہ سبین کے قتل پر ایک آزاد لبرل مصنفہ کاملہ شمسی نے اپنی ٹویٹ میں لکھا  ہے کہ دو سال قبل میں نے سبین سے کہا تھا کہ اسے احتیاط کرنے کی ضرورت ہے مگر انہوں نے جواب دیا ” کسی کو تو لڑنا ہے ” ۔ الوداع میری دوست آپ ہم میں سے بہترین تھیں۔ ہمیں سبین محمود کے قتل پر انتہائی افسوس ہے لیکن دنوں میں کروڑ سے ارب پتی بن جانے والی دوسری این جی او مافیہ ملکاؤں کی طرح  وہ  ” بہادر خاتون”  کس خاص مقصد کیلئے لڑ رہی تھیں، اس کے بارے جاننے کیلئے ہمیں کچھ  حقائق سامنے رکھنا ہوں گے۔ یاد رہے کہ یہ ان کی بے پناہ کاوشوں ہی کا ثمر تھا کہ پاکستانی معاشرے کو پوری دنیا میں ذلیل و رسوا کرنی والی ڈاکومنٹری فلم بنانے کے صلیبی کارنامے کی بدولت شرمین عبید چنائے کو مغربی ایوارڈز اور انعام و اکرام  سے نوازا گیا ۔ ما بعد سبین محمود نے اپنی مغربی آقاؤں کی کٹھ پتلی شرمین عبید کی تنظیم سٹیزن آرکائیو آف پاکستان کے قیام کیلیے بھرپور مدد بھی کی۔ یوں ان کے اس کارنامے کی بدولت پاکستان بھر کے روشن خیال فتنہ پرور خواتین و حضرات کو شرانگیزیاں پھیلانے کیلئے ایک پلیٹ فارم اور مغربی آقاؤں کو اپنے پروردا این جی او کے ننگِ ملک و ملت عناصر کی اجتماعی بیٹھک کیلئے ایک منظم ادارہ ہاتھ آیا۔

  بی بی سی اور وائس آف امریکہ کے مطابق سبین محمود کو اس سے قبل دھمکیاں موصول ہوتی رہی تھیں جن میں طالبان کی جانب سے ملنے والی سنگین دھمکیاں بھی تھیں۔ مگر یہ عجیب بات ہے کہ انہیں دھمکیاں تو طالبان کی طرف سے مل رہی تھیں مگر حیرت ہے کہ باچا خانی اور  بھارتی غلام  ملک دشمن عناصر کی طرف سے قتل کا الزام طالبان کے سب سے بڑے دشمن پاکستانی عسکری اداروں پر عائد کیا جا رہا ہے۔ چینی صدر کے دورے کے فوری بعد اس اہم  موقع پر بلوچ باغیوں کی مددگار بھارتی را یا موساد  کی طرف سے ایسی مذموم کاروائی کروانے اور پھر اپنے بغل بچہ عناصر کی طرف سے حساس قومی اداروں پر شر انگیز الزامات عائد کرنے کا گھناؤنا مقصد ، پاکستان کے عسکری اداروں کی ساکھ خراب کرنے کی شرمناک کوشش اور شورش زدہ  بلوچستان میں مذید بدامنی پھیلا کر چین کی طرف سے کی جانے والی حالیہ ریکارڈ توڑ سرمایہ کاری کیخلاف  فضا خراب  کرنا ہے۔  اہل بصیرت اور صاحبان دانش کیلئے یہ امر بھی محض ایک اتفاق نہیں کہ ہم جنس پرستی کے فروغ کیلئے جرات مندانہ متحرک  سبین محمود کے بہیمانہ و پراسرار قتل پر افواج پاکستان اور حساس اداروں کیخلاف شرمناک پراپیگنڈا کرنے اور قتل کو غلط رنگ دینے والے سازشی عناصر بھی وہی ہیں جو ماضی سے تا حال بھارتی سرمایے سے بیرون ملک اکاؤنٹ بھر کر کالا باغ ڈیم کیخلاف مہم چلاتے رہے ہیں۔ اور یقینی طور پر ایسے تمام سامراجی و بھارتی بغل بچے،  لازوال پاک چین دوستی کے کامیاب  سفر پر آج  کل خاص طور پر کچھ زیادہ ہی شدید تکلیف  اور جان لیوا  کرب میں مبتلا ہیں ۔

ہر پاکستانی کیلئے سبین محمود یا کسی بھی انسان کا قتل انتہائی قابل مذمت ہے۔ لیکن ان حقائق میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ محترمہ سبین محمود ویلنٹائن ڈیز پر اپنی  گرم جوش کمپین کی وجہ سے معاشرے میں عریانی و فحاشی پھیلانے کی کھلی مرتکب اور ہم جنس پرست گروپس کے ساتھ  آزادانہ روابط  و پروگرامز کے باعث اس قابل نفرت مغربی برانڈ بدفعلی کے فروغ کی حامی  سمجھی جاتی تھیں۔ اس حوالے سے ایم کیو ایم کی زیر سرپرستی ہم جنس پرست ایسوسی ایشن کے قیام میں بھی ان کا بڑا عمل دخل رہا  تھا۔ فوزیہ قصوری اور سابقہ امریکی سفیر کیمرون منٹر نے بیکن ہاؤس اسلام آباد اور دوسرے مقامات پر  ہم جنس پرستی کے غلاظت آلودہ موضوع پر سیمینار اور کانفرنس منعقد کروائی  تو  سبین محمود  بھی ان سیمیناروں اور کانفرنس کی گرم جوش پروموٹر تھیں۔ سبین کے مذموم قتل کی آڑ میں اسلامی اقدار پر تنقید،  بلوچستان میں امن کی فضا مگدر کرنے کی عیارانہ مہم جوئی اور آئی ایس آئی پر تنقید کرنے والے سیکولرو دجالی طبقات یاد رکھیں کہ ہم جنس پرستی یا دوسرے کبیرہ گناہوں کیلئے قدرت کے قوانین ازل سے ابد تک یکساں و  برقرار ہیں۔ قوم لوط کے گمراہین پر عذاب کسی ریاستی یا فوجی طاقت یا  خفیہ ادارے نے نہیں بلکہ مقتدرِ کل، مالکِ کائنات نے نازل کیا تھا۔

اللہ  سبحان تعالیٰ نے شہر سدوم میں قوم لوط کے گمراہوں پر اگر آگ اور پتھروں کی بارش کا عذابِ نازل کر کے عبرت ناک موت طاری کی تو وہ مالک کائنات اپنے متعین کردہ قوانین و حدود پامال کرنے والے کسی گمراہ پر موت کسی اور صورت بھی نازل  کرنے پر قادر ہے۔ بی بی سی کے ایک کالم نگار نے اپنی ” بہادر دوست ” کیلئے تازہ کالم میں سبین صاحبہ کیلئے لکھا کہ ”  سبین ایک دوست سے کہیں زیادہ تھیں۔ وہ روشنی کا ایک مینار تھیں۔ جنون اور دکھوں کے سمندر میں پناہ فراہم کرنے والے ایک جزیرے کے جیسی “۔۔۔۔۔ اب ان صاحب کے جواب میں کیا کہا جائے کہ جبکہ امریکہ اور مغرب میں ہم جنس پرستی کی حمایت میں بولنے والے بھی اس بد فعلی کو جنون اور انسانیت کیلئے دکھوں میں پناہ، سکون اور بھلائی کا دجالی نام ہی دیتے ہیں۔ اور ایسی ہی ابلیسی تحریکوں سے آج امریکہ کی دس ریاستوں اور آدھے یورپ میں ہم جنس پرست شادیوں کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔ لہذا ایسے ماورائے اخلاق حضرات کیلئے سوائے انا للہ و انا الیہ راجعون اور کیا کہا جا سکتا ہے۔ لیکن ایسے حضرات کو یاد رہے کہ کسی این جی او یا دجالی سوچ پھیلانے  والے کرداروں کی ” بہادرانہ جدوجہد ” سے کم از کم پاکستان میں مغرب جیسا ہم جنس پرست غلاظستان بننا  ناممکن ترین امر ہے۔  کاش مذہب سے بیزار بھٹکی ہوئی  قوتیں یہ جان جائیں کہ گناہ کی مزدوری موت اور صرف موت ہے اور یہ صرف اسلامی عقیدہ ہی نہیں بلکہ روشن خیالوں کیلئے عین معتبر مقدس بائبل میں بھی درج ہے  ۔ ۔

( فاروق بٹ درویش  – 03224061000 — 03324061000)

     ہم جنس پرست مافیوں کے حوالے سے میرے دیگر مضامین کیلئے ذیل کے لنک کلک کیجئے

قومِ لوط کی ہم خیال ہم جنس پرستی کی علمبردارمیڈم سونامی

قومِ لوط کے شہرِ سدوم سے پنٹاگون اور سونامی تک

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

Featured

%d bloggers like this: