جواں ترنگ دورحاضر کے شعرا رموز شاعری

سخن کا پیرہن پہنا دیا کس نے خموشی کو۔ از سیدہ سارا غزل ۔ بحر و اوزان

سخن کا پیرہن پہنا دیا کس نے خموشی کو ترستی ہے زباں گونگے دلوں کی گرمجوشی کو ہوئے آرائشِ جاں کی بدولت کو بہ کو رسوا کہ عریانی سمجھتے ہیں ہم اپنی جامہ پوشی کو جب اپنا دم گھٹا ہر دم فصیلِ شہر کے اندر نکل آئے ہیں صحراؤں میں ہم خانہ بدوشی کو شریک ِ جرم بھی اپنا نہیں اپنے سوا کوئی تو پھر کیوں کر برا کہئیے خود اپنی چشم پوشی کو مہک اٹھے گی تنہائی گئے لمحوں کی خوشبو سے مری خلوت میں جب آئیں گے کانٹے گل فروشی کو برستے آنسوؤں سے بھیگتی پلکوں سے آ بیٹھے ستاروں کی گھنی چھاؤں میں شغل ِ بادہ نوشی کو غزل جب محفل ِ یاراں کے گل پرخار ہو جائیں دعائیں دوستوں کو دیں کہ اپنی سخت کوشی کو سیدہ سارا غزل ہاشمی بحر : ہزج مثمن سالم یعنی ہر مصرع میں مفاعیلن ( 2221) چار بار دہرایا جائے ۔ آخری رکن میں مفاعلان ( 12221) بھی درست ہے ہندسی اوزان : 2221 ….. 2221 ….. 2221 ….. 2221 .  تقطیع س ۔۔ خن ۔۔ کا ۔۔ پے ۔۔۔۔ 2221 ر ۔۔۔ ہن ۔۔۔ پہ ۔۔۔ نا ۔۔۔۔ 2221 د ۔۔۔ یا ۔۔ کس ۔۔۔۔ نے ۔۔۔۔ 2221 خ ۔۔۔ مو۔۔۔ شی ۔۔۔ کو ۔۔۔ 2221 ت ۔۔۔ رس۔۔۔ تی ۔۔۔ ہے ۔۔۔ 2221 ز ۔۔۔ باں ۔۔۔۔ گوں ۔۔۔ گے ۔۔۔ 2221 د ۔۔۔ لوں ۔۔۔ کی ۔۔۔ گر ۔۔۔ 2221 م ۔۔۔ جو ۔۔۔ شی ۔۔۔ کو ۔۔۔ 2221 تقطیع کرتے ہوئے یاد رکھئے کہ ۔۔۔۔۔۔۔ “کیا” اور “کیوں” کو دو حرفی یعنی “کا” اور “کوں ” کے وزن پر باندھا جائے گا ۔ گا، گے،تقط گی، کہ، ہے، ہیں، میں، وہ، جو، تھا، تھے، کو، کے ، تے ، رے اور ء جیسے الفاظ دو حرفی وزن پر بھی درست ہیں اور انہیں ایک حرفی وزن میں باندھنا بھی درست ہیں ۔ لہذا ان جیسے الفاظ کیلئے مصرع کیبحر میں جس وزن کی سہولت دستیاب ہو وہ درست ہو گا ۔ ایسے ہی “ے” یا “ی” یا “ہ” پر ختم ہونے والے الفاظ کے ان اختتامی حروف کو گرایا جا سکتا ہے ۔ یعنی جن الفاظ کے آخر میں جے ، گے، سے، کھے، دے، کھی، نی، تی، جہ، طہ، رہ وغیرہ ہو ان میں ے، ی یا ہ کو گرا کر انہیںیک حرفی وزن پر باندھنا بھی درست ہو گا اور اگر دوحرفی وزن دستیاب ہو تو دو حرفی وزن پر بھی باندھا جا سکتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی لفظ کے اختتامی حرف کے نیچے زیر ہو اسے دو حرفی وزن پر بھی باندھا جا سکتا ہے اور یک حرفی وزن پر بھی باندھا جا سکتا ہے۔ ( مثال : دشت یا وصال کے ت یا لام کے نیچے زیر کی صورت میں انہیں دشتے اور وصالے پڑھا جائے گا ۔ ایسے الفاظ کی اختتامی ت یا لام کو بحر میں دستیاب وزن کے مطابق یک حرفی یا دو حرفی باندھنے کی دونوں صورتیں درست ہوں گی ) ۔ تقطیع کرتے ہوئے یہ بات دھیان میں رہے کہ نون غنہ اور ھ  تقطیع میں شمار نہیں کئے جائیں گے یعنی تقطیع کرتے ہوئے ، صحراؤں کو صحراؤ ، میاں کو میا، خوں کو خو، کہیں کو کہی ۔ پتھر کو پتر، آنکھ کو آک اور چھیڑے کو چیڑے پڑھا جائے گا

سخن کا پیرہن پہنا دیا کس نے خموشی کو
ترستی ہے زباں گونگے دلوں کی گرمجوشی کو

ہوئے آرائشِ جاں کی بدولت کو بہ کو رسوا
کہ عریانی سمجھتے ہیں ہم اپنی جامہ پوشی کو

جب اپنا دم گھٹا ہر دم فصیلِ شہر کے اندر
نکل آئے ہیں صحراؤں میں ہم خانہ بدوشی کو

شریک ِ جرم بھی اپنا نہیں اپنے سوا کوئی
تو پھر کیوں کر برا کہئیے خود اپنی چشم پوشی کو

مہک اٹھے گی تنہائی گئے لمحوں کی خوشبو سے
مری خلوت میں جب آئیں گے کانٹے گل فروشی کو

برستے آنسوؤں سے بھیگتی پلکوں سے آ بیٹھے
ستاروں کی گھنی چھاؤں میں شغل ِ بادہ نوشی کو

غزل جب محفل ِ یاراں کے گل پرخار ہو جائیں
دعائیں دوستوں کو دیں کہ اپنی سخت کوشی کو

سیدہ سارا غزل ہاشمی

بحر : ہزج مثمن سالم یعنی ہر مصرع میں مفاعیلن ( 2221) چار بار دہرایا جائے ۔ آخری رکن میں مفاعلان ( 12221) بھی درست ہے
ہندسی اوزان : 2221 ….. 2221 ….. 2221 ….. 2221 .

 تقطیع
س ۔۔ خن ۔۔ کا ۔۔ پے ۔۔۔۔ 2221
ر ۔۔۔ ہن ۔۔۔ پہ ۔۔۔ نا ۔۔۔۔ 2221
د ۔۔۔ یا ۔۔ کس ۔۔۔۔ نے ۔۔۔۔ 2221
خ ۔۔۔ مو۔۔۔ شی ۔۔۔ کو ۔۔۔ 2221
ت ۔۔۔ رس۔۔۔ تی ۔۔۔ ہے ۔۔۔ 2221
ز ۔۔۔ باں ۔۔۔۔ گوں ۔۔۔ گے ۔۔۔ 2221
د ۔۔۔ لوں ۔۔۔ کی ۔۔۔ گر ۔۔۔ 2221
م ۔۔۔ جو ۔۔۔ شی ۔۔۔ کو ۔۔۔ 2221

تقطیع کرتے ہوئے یاد رکھئے کہ ۔۔۔۔۔۔۔ “کیا” اور “کیوں” کو دو حرفی یعنی “کا” اور “کوں ” کے وزن پر باندھا جائے گا ۔ گا، گے،تقط گی، کہ، ہے، ہیں، میں، وہ، جو، تھا، تھے، کو، کے ، تے ، رے اور ء جیسے الفاظ دو حرفی وزن پر بھی درست ہیں اور انہیں ایک حرفی وزن میں باندھنا بھی درست ہیں ۔ لہذا ان جیسے الفاظ کیلئے مصرع کیبحر میں جس وزن کی سہولت دستیاب ہو وہ درست ہو گا ۔

ایسے ہی “ے” یا “ی” یا “ہ” پر ختم ہونے والے الفاظ کے ان اختتامی حروف کو گرایا جا سکتا ہے ۔ یعنی جن الفاظ کے آخر میں جے ، گے، سے، کھے، دے، کھی، نی، تی، جہ، طہ، رہ وغیرہ ہو ان میں ے، ی یا ہ کو گرا کر انہیںیک حرفی وزن پر باندھنا بھی درست ہو گا اور اگر دوحرفی وزن دستیاب ہو تو دو حرفی وزن پر بھی باندھا جا سکتا ہے۔

اسی طرح اگر کسی لفظ کے اختتامی حرف کے نیچے زیر ہو اسے دو حرفی وزن پر بھی باندھا جا سکتا ہے اور یک حرفی وزن پر بھی باندھا جا سکتا ہے۔ ( مثال : دشت یا وصال کے ت یا لام کے نیچے زیر کی صورت میں انہیں دشتے اور وصالے پڑھا جائے گا ۔ ایسے الفاظ کی اختتامی ت یا لام کو بحر میں دستیاب وزن کے مطابق یک حرفی یا دو حرفی باندھنے کی دونوں صورتیں درست ہوں گی ) ۔

تقطیع کرتے ہوئے یہ بات دھیان میں رہے کہ نون غنہ اور ھ  تقطیع میں شمار نہیں کئے جائیں گے یعنی تقطیع کرتے ہوئے ، صحراؤں کو صحراؤ ، میاں کو میا، خوں کو خو، کہیں کو کہی ۔ پتھر کو پتر، آنکھ کو آک اور چھیڑے کو چیڑے پڑھا جائے گا

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

4 Comments

Click here to post a comment

Leave a Reply

  • غزل جب محفل ِ یاراں کے گل پرخار ہو جائیں
    دعائیں دوستوں کو دیں کہ اپنی سخت کوشی کو
    ——————————
    غزل جب محقلِ یاروں کے گل پُر خار ہو جائیں

    سارہ بہن بیٹی سے سوال ہے کہ کیا یہ مصرعہ کسی اور غزل میں بھی استمعال ہواہے؟
    لگتا ہے کہ آپ ہی کی ایک اور غزل میں یہی مصرعہ پڑھنے کو ملا تھا ۔ اگر ایسا نہیں تو میری اشتباہ پر محمول فرماکر معاف کریں۔

    مزیدیکہ اصول بحر وتقطیع آپ کی جانب سے ہیں یا کہ استاد فاروق صاحب کے؟

    کلام کے چند اشعار تو بہت ہی بھائے۔ بہت شکریہ اور سلسلہ جاری رکھئیے گا۔

  • سر ٹنکر خان بھیا
    میں نے یہ غزل اردوو محفل کے لئے لکھی تھی جو بعد ازاں تمام اردو فورمز پر پبلش ہوئی تھی۔ ممکن ہے آپ نے کسی فورم پر یا میری فیس بک پروفائیل پر یہ غزل پڑھی ہو۔ اس کا مقطع میری کسی اور غزل میں شامل نہیں ہے۔ نہ میں کسی کی شاعری کی نقل کرتی ہوں نہ اپنےمصرعوں کو دہراتی ہوں۔ ذیل میں لنکس دے رہی ہوں ۔
    http://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%90-%D8%A7%D9%93%D8%AE%D8%B1-%D8%8C-%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85-%D9%90-%D8%A7%D9%93%D8%AE%D8%B1%D8%8C-%D8%A8%D8%B1%D9%88%D8%A6%DB%92-%D9%85%D8%AD%D9%81%D9%84.48741/#post-806437

    https://www.facebook.com/photo.php?fbid=252614164794954&set=pb.100001391178606.-2207520000.1351076636&type=3&theater

    اان کے علاوہ یہ غزل پاک نیٹ فورم، اردو نامہ فورم، منظر نامہ فورم، ہماری اردو فورم اور اردو مجلس فورم پر بھی شائع ہو چکی ہے۔

    • معاذ اللہ سیدہ سارہ بیٹی

      میرا کی بورڈ ٹوٹ جائے، سکرین کرچی کرچی ہو جائے اور کمپیوٹر سے آک کے شعلے اور دھوویں بلند ہوں جو میں آپ کے بارے غلط گمان کروں۔

      آپ نے یہ کیوں تھریر کیا کہ آپ کسی کی شاعری کی نقل کرتی ہیں یا اپنے مصرعوں کو دہراتی ہیں۔ جبکہ میں واضح کر چکا تھا کہ اگر یہ میرا اشتباہ ہے تو معاف کریں۔ یقیناً یہ میر امغالطہ ہی تھا جس کی مجھے تصحیح درکار تھی۔ دراصل میں یہ سمجھ رہا تھا کہ ایک شاعر اپنے کسی بہترین مصرعہ کو اپنے ہی کسی دوسرے کلام میں بھی استعمال کر سکتا ہے چونکہ یہ ان کی تخلیق ہوتی ہے اور وہ ان کے مالک ہوتے ہیں۔

      مجھے یہ تحریر کرتے ہوئے انتہائی مسرت محسوس ہو رہی ہے کہ آپ کا کلام بہت پسند آیا جس میں بلا کی پختگی جھلک رہی ہے۔ اور ہم آپ کی مسلسل کامیابی کے لئے دعا گو ہیں۔
      میں جلد ہی آپ کے اب تک شائع ہوئے کلام کا دوبارہ مطالعہ کروں گا اور محفوظ بھی۔ جو قبل ازیں بوجوہ نہ ہو پایا تھا۔

      بہت خوش، جیتی اور سدا سلامت رہیں ۔آمین

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

Featured

%d bloggers like this: