دورحاضر کے شعرا

سرنامۂ وحشت ہوں مہجورِ رفاقت نئیں : سخنور۔ میم ۔ میم ۔ مغل


سرنامۂ وحشت ہوں مہجورِ رفاقت نئیں
میں عشق کا بندہ ہوں مزدورِ محبت نئیں

سن صوم و صلوٰةِ عشق کب مجھ سے قضا ہے تو
تجھ نین وضو سے ہوں مفرورِ عبادت نئیں

دل سینے میں چیخ اُٹھّا اے دستِ غزال آثار
میں زخم نہیں دل ہوں مقدورِ مسیحت نئیں

محتاج کہاں ہوں اب دُکھ درد کے درماں کا
تجھ ہونے سے ہنستا ہوں مسرورِ اذیت نئیں

جو تیری طبیعت ہے وہ میری طبیعت ہے
اس لوحِ تدارک میں منشورِ وضاحت نئیں

بہتی ہوئی آنکھوں میں ہے جلوہ گہہِ جاناں
صد شوق چلے آؤ یہ طُورِ خجالت نئیں

رَم بھرتے ہوئے آہو دَم بھرتی ہوئی آہیں
اے دشتِ تعلق میں رنجورِ مسافت نئیں

منصور اناالحق است ، محمود انالعشقم
جب چاہے غزل کہہ لوں مجبورِ طبیعت نئیں

( میم۔میم۔مغل)

اپنی رائے سے نوازیں

%d bloggers like this: