بین الاقوامی حالات حاضرہ

سوشل میڈیا پریہودی ومغربی پریس کا اجارہ داری پلان یا لاہورمیں کراچی برانڈ خونی فسادات کا منصوبہ؟


 امریکی جھوٹ کو سچ میں چھپا کراورسچ پرجھوٹ کا پردا ڈال کر بولتے ہیں، ہندو جھوٹ کو اس قدر فنکارانہ انداز میں بولتا ہے کہ جھوٹ پر سچ کا گمان ہو۔لیکن ان سب سے جدا ایک قوم جاپانی ایسی بھی ہے جو ہیروشیما اور ناگاساکی پر چلے امریکی ایٹم بموں اور شہری قتل عام کو عین سچ اورظلم مگراپنے ہاتھوں چین کے لاکھوں شہریوں کے سفاکانہ قتل عام کو جھوٹا الزام اورخود حفاظتی اقدام قرار دیتی ہے۔ سو پندرہ بیس برس جاپان میں مقیم رہنے کے بعد کوئی پاکستانی خامخواہ بھی اپنی آقا و مالک جاپانی مخلوق کی طرح بندہء ابلیس بن کر سفید جھوٹ بولتے ہوئے ذرا بھی شرم محسوس نہیں کرتا۔ آخر کتے بلے، خنزیر اور سانپ مینڈک کھانے والی جاپانی قوم کا برسوں تک جھوٹا پانی پینے کا کوئی نہ کوئی طلسمی اثرتو ہوتا ہی ہے۔ ایک مدت حلال میں حرام مکس کرکے کھائے۔ ہروقت شراب کے نشے میں ٹن رہےتو دل کےساتھ ساتھ ضمیر بھی کالاسیاہ ہو جاتا ہے۔ ایسے ہی ایک سیاہ ضمیرمسٹر یاسرجاپانی عرف خامخواہ نے اپنے بلاگ پرسفید نہیں بلکہ شیطانی اور مضحکہ خیز جھوٹ بول کر اپنا پراگندا چہرہ بچانے کی بھونڈی اوراحمقانہ کوشش کی ہے۔ اس سارے قصے سے پہلے وہ سچ بات بھی سن لیں جس کو ہضم کرنے کیلئے کوئی بیوقوف مارکہ عقلمند تیارہی نہیں۔۔۔۔ احباب کینیڈا میں مقیم ایک پاکستان نژاد صاحب بی بی سی اوریہودی سرپرستی میں قائم وینکووور رائٹرفورم کینیڈا سمیت بیسیوں اسلام دشمن پاکستان مخالف مغربی اخبارات کیلئے لکھتے ہیں۔ امن کی آشا برانڈ یہ معزز صحافی مسٹر محسن عباس اپنے ذاتی خرچ پرپاکستان اردو بلاگنگ کے فروغ کے نام پرپاکستانی بلاگرزکانفرنس لاہورمیں کروانے چاہتے ہیں۔ ان کی معاونت کیلئے کینیڈا اور لندن میں مقیم قادیانی گروہ اور پاکستان میں سیکولر تنظیموں سے منسلک بلاگرز کے ساتھ ساتھ کچھ اہل ایمان بلاگر برادران بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے نکل پڑے ہیں۔ کوئی یہ بات سوچنے کی تکلیف اٹھانے کیلئے تیار ہی نہیں کہ آخر ایک کینڈین صحافی کو کیا ضرورت پڑی کہ وہ پاکستانی بلاگرز پر لاکھوں روپے خرچ کر کے پاکستان سوشل میڈیا کی خدمت کر رہا ہے۔ کوئی یہ بات ماننے کیلئے تیار ہی نہیں ہے کہ جناب محسن عباس صاحب کینیڈا مین پاک بھارت دوستی کے نامور پیغامبر مانے جاتےہیں ۔ انسانیت کے نام پر قادیانیوں، ھندو سکھ برادری سےعظیم تر دوستانہ تعلقات کے کیلئے کوشاں ہیں۔ ملالہ جی کی مہان سرپرست بی بی سی کے قابل اعتماد ورکرھیں۔ایک شہرہ آفاق سیکولر صحافی جناب محمد حنیف صاحب کے کارخاص ہیں۔ امن کی آشا اوربھارت کے ساتھ دوستانہ مراسم کےعلمبرادر ہیں۔ میں نے اردو بلاگر گروپ میں یہ حقائق سب معززبرادرز کے سامنے رکھے تو ایسا طوفان بدتمیزی اٹھا کہ رہے رب دا ناں۔ ظاہر ہے کوئی روشن خیال یا بنا سوچے سمجھے اس یہودی کم قادیانی سازش میں چاہتے یا نا چاہتے ہوئے بھی شریک بننے والا مجھ جیسے تاریک خیال “اسلامی دھشتگرد” کی بات کیوں سنے گا ۔کون نیٹ پر ان کی پروفائیل میں درج یہ انفارمیشنز قبول کرے گا کہ وہ ایک عرصہ سے جن بدیسی اخبارات اور سائیٹس کیلئے لکھ رہے ہیں وہ تمام روشن خیال اور امریکن برانڈ لبرل اسلام کی کی داعی اور قرآن و شریعت کے تابع اسلام یعنی”بنیاد پرستی” کی زبردست مخالف رہی ہیں۔۔۔ ان مغربی اخبارات اور رسائل کی تفصیل ان کی ہی نیٹ پروفائیل کے مطابق یہ ہے
New York Post, Toronto Star, BBC World Services,The Hamilton Spectator, Prince Albert Daily Herald (SK), Canadian Broadcasting Corporation (CBC), Frontline, Sunday Times, New Internationalist, DW World Services
حضرات اگرآپ صرف کینیڈا کے وینکوووررائٹر فورم کی ہسٹری دیکھیں تو اس فورم پر ہمیشہ سے کینیڈین یہودیوں اور اسلام مخالف قوتوں کی ہی اجارہ داری رھی ھے اور اسی فورم سے محترم محسن عباس صاحب بھی منسلک یا ممبرہیں۔۔ قابل غور ہے کہ اس فورم کا پرچار بدنام زمانہ گستاخ قرآن و رسالت رفیع رضا اورشاتم قرآن جمیل الرحمن جیسے قادیانی لوگ اکثراپنے فیس بک گروپوں میں بھی کرتے رہےہیں۔ جناب محسن عباس صاحب پاک بھارت دوستی کے حوالے سے دوستی کی تحریروں سےشہرت یافتہ سکھ رگھوبیر سنگھ کے ساتھ “پاک بھارت دوستی” کے فنکشنوں میں بھی دیکھے جاتے ہیں ۔۔۔ اور ان کے پرچار کیلئےبی بی سی میں بھی لکھتے ہیں۔

jew1
اب آتے ہیں ان سچ اور جھوٹوں کی طرف جو مجھ سے یا میرے رفقاء سے جوڑنے کی کہانیاں لکھی جا رہی ہیں ۔۔۔ جبکہ صورت حال یوں ہے کہ کانفرس بلاگ چلانے والے یا کانفرنس کی آئی ڈی سے مخاطب حضرات کئی احباب کے استفسار کے باوجعد اپنا نام یا اتہ پتہ تانے سے گریزاں ہیں لیکن زبان و تحریر سےعیاں ہے کہ یہ وہی سیکولر/ قادیانی گروہ ہے جو فیس بک پر ایک ایسا اسلام دشمن پیج” روشنی” اور اسلامی شعائر کی تطہیر کا بلاگ چلا رہا ہے جس پر قرآن و شریعت اور ملک و ملت کی توہین و تذلیل کا مذموم اور مکروہ دھندا جاری ہے
اب کچھ احوال اسلام اور پاکستان س بیزار ان حضرات کا جو اس بلاگر کانفرنس کے انعقاد کی وکالت میں ہرحد پار کرنا اپنی عزت اور غیرت کا معاملہ سمجھتے ہیں۔ سب پہلے جب میں نے یہود و نصاری اور قادیانی زندیقوں سے دوستی کو خلاف قرآن ثابت کرنے کیلئے قرآنی آیات اور ترجمہ لکھا تو گروپ ایڈمن جعفرصاحب نے کہا۔۔ کہ درویش صاحب آپ موچی دروازہ کے جلسے میں خطاب نہیں کر رہے ، یہ اردو بلاگر گروپ ہے۔ یعنی کسی مسلمان بلاگرز فورم پر کتاب الہی قرآن حکیم کا حوالہ دینا بھی منع اورخلاف ضابطہ ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

jaffer15

پھر خواجہ کے گواہ ڈدو بلاگر یاسرخامخواہ جاپانی کی باری آئی۔ بتاتا چلوں کہ ان کی آئی ڈی اور بلاگ ہی اسی خامخواہ کے نام سے ہے سو یہ مت سمجھا جائے کہ میں نے ان کا اسم گرامی بگاڑا ہے۔ جب میں نے یہ عرض کیا کہ میں جماعت دعوۃ، دینی و سیاسی جماعتوں کے سینئرز سےمشاورت کروں گا۔ اور اس حوالے سے ان کی خدمت میں پر امن طریق سے روکنے کی اپیل لیکر رجوع کر رہا ہوں توسب کے نام لے کر جواب آیا کہ ہم لشکر طیبہ کے ان سب ناموروں کو بھی کھٹے مٹھے چاول کھلا چکے ہیں ان سے پوچھ لیا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

YASIR5x
بات مذید آگے بڑھی تو جاپانی خمخواہ بکواس فرمانے لگے کہ “مذہبی کنجروں” سے تو روشن خیال کنجر اچھے ہیں ۔

YASIR2x

دوسرے دن گروپ میں دیکھا تو کھلی دھمکی ملی، لکھا تھا کہ مولبی صاب آج اگر آپ سامنے ہوتے تو اتنے چھتر مارتاکہ اماں نے بھی نہ مارے ہوں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب بتائیں میں ہنسوں یا چارپائی کے نیچے چھپ جاؤں ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈر لگتا ہے بابا ان شریف غنڈوں اور بدیسی ملکوں میں بیٹھے طاقتوروں کے چھتروں سے ۔۔۔۔۔ ہاہاہاہا۔

YASIR14

اور بالآخر شرافت کے اس عظیم پیکر نے یہ لکھ کر ازخود اپنی اصل اوقات دکھا دی کہ جناب میں آج کل بڑا بے شرم ہو گیا ہوں انتہائی گندی گالیاں نکالتا ھوا شرم نہیں کرتا ( اس شخص کے بارے تمام پڑھے لکھے اوردانشور بلاگر برادران مجھے بارہا یہ پیغامات دے چکے تھے کہ یہ پاگل اور بھانڈ میراثی ٹائپ کا بندہ ہے اس سے دوری اختیار کئے رکھیں) اب ایک جاپانی خامخواہ صاحب سے اس والہانہ اقرارِ انتہائی فحش زبانی و بے شرمی کے بعد ماسوائے لاحول واللہ کے کچھ کہنا فضول ہے۔ افسوس صد افسوس ۔۔۔۔۔ بتاتا چاہتا ہوں کہ برادر گرامی جاوید گوندل، برادر محترم راجہ افتخار، برادرجناب عبدلرؤف، برادرڈاکٹردانیال جیسے کئی شریف النفس اوراچھی شہرت رکھنے والےبلاگربرادران نے مجھے خیرسگالی کے جذبے کے تحت اسی یاسر جاپانی کے بارے میرے پیج کی ایڈمن سیدہ سارا غزل کی طرف سے لگائی گئی پوسٹ ڈیلیٹ کرنے کا کہا تھا میں نے ان اعلی ظرف احباب کے اصرار پر مذکورہ پوسٹ فوراً ڈیلیٹ کر دی۔ سو نیکی کا بدلہ گناہ لازم ٹھہرا اور۔۔۔۔۔۔ لہذا صلہ یہ ملا کہ اس کےبعد اس گالی باز بےشرم، پاگل اورخبطی شخص سمیت اس کے تمام بچونگڑے حواریوں، تمام دجالی ذہن سیکولرزنے طوفان بدتمیزی کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہے

YASIR1x

اورپھر اردو بلاگرزشرفا کی شرافت کا پول اس وقت کھلا جب ایک خاتون بلاگر سارا غزل نے اشتعال میں آ کر یہ لکھا کہ مولویوں اورعلما اکرام کو کنجر کہنے والے خود طوائف زادے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ تو تمام شریف زادے بلاگرز کی طرف سے فحش اور بازاری انداز میں فحش جغتوں اور طنزوں کی بارش کردی گئی ۔۔۔ یہاں تک کہ کاشف نصیر نامی ایک بدبخت شریف زادے نے اسے مولانا فضل الرحمن سے نکاح تک کیلئے پروپوز کردیا۔۔۔۔۔۔۔ میں گالی کا جواب گالی دینا انتہائی معیوب اورغلط سمجھتا ہوں لہذا اس خاتون کی بھی مذمت کرتا ہوں مگر کسی نوجوان مسلم خاتون کے ساتھ اس قدربیہودہ طنز و دشنام کرنے والےشریف زادے بلاگروں کو بھی لعنت زدہ مادر پدرآزادسوچ کی پیداوار اورغلاظت آلودہ فحش خیال خاندانوں کی بگڑی ہوئی نئی نسل سمجھتا ہوں

KASHIF1x
خیر میری چھتر پریڈ کرنے کی کھلی دھمکیوں اورلشکر طیبہ کےمحب وطن سینئر احباب کو کھٹے میٹھے چاول کھلانے کے دعووں کے بعد میں نے اپنا فون نمبر اور ایڈریس دے دیا کہ بھائی جس نے مجھے چھترمارنے ہیں آ کرمار لیں یا مجھے فون کرے میں خود چھتر کھانے حاضر ہو جاتا ہوں ۔۔۔۔میں نبیء آخر الزمان کا امتی ہوں اللہ سے ڈرتا ہوں، حق الایمان ہے کہ موت کا وقت، مقام اور وجہ متعین ہے۔  اس وطن پاکستان کا جانثار ہوں سو میں اس بات پرقائم تھا اورقائم رہوں گا۔ اب جو بدبخت اور ملعون کاذب یہ کہے کہ میں نے کسی کو دھمکی دی ہے تو اس کا ثبوت لائے اور ہاں کہ جو اس حساس نوعیت کےمعاملے کو اس ملک و ملت کی خیرخواہ جماعت الدعوہ، جماعت اسلامی، دوسری محب وطن سیاسی و مذہبی جماعتوں یا اس ملک کی محافظ و وفادار سیکورٹی ایجنسیوں کی خدمت میں پیش کرنے کو دھمکی سمجھتے یا قرار دیتے ہیں وہ بزدل اور ہجڑے نما لوگ قوم کے بہادر سپوتوں مجاھدین اسلام یا جماعت الدعوۃ کیلئے بھارتی برانڈ زبان بولتے ہوئے انہیں کھٹے میٹھے چاول کھلانے( اس محاورے کا مطلب پٹائی کر کے بھگاناہے) جیسی بڑھک نما چوولیں نہ ماریں ۔۔۔۔ لعنت اللہ علی الکاذبین والمنافقین ۔۔۔

ہماری نظرمیں یہودی مغربی پریس کےپروردا ایک کینیڈین صحافی کا ایم کیو ایم اورقادیانی کمیونٹی کی آشیرباد سےلاہور میں متنازعہ بلاگرز کانفرنس کروانا سوشل میڈیا کو تقسیم کرنے،اردو بلاگرزکی منڈی لگانے یا خدا نخواستہ لاہورمیں فتنہ فساد برپا کروانے کی سامراجی سازش کا حصہ ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ اس بلاگر کانفرنس کے بیشترمنتظم یا تو کینیڈین شہری ہیں یا کراچی کے مقیم بلاگرز لیکن کانفرنس صرف لاہور میں ہی کروانے کیلئے اتنےبضد کیوں؟ کیا یہ علامہ طاہر القادری اورپیرآف لندن شریف الطاف حسین کا کوئی مشترکہ لاہور پلان ہے یا کچھ اور؟ دال میں کچھ تو کالا ہے لہذا سوچنا ہو گا کہ یہودی و مغربی اخبارات کیلئے لکھے والے کینیڈین صحافی اورکینیڈا و انگلستان میں بیٹھےاسلام دشمن پاکستان مخالف نظریات کے پرچاری گروہ قادیانت کی طرف سے اس بلاگر کانفرنس کو کروانے کے پیچھے اصل عزائم و مقاصد کیا ہیں۔ بدیسی فتنے اوربدیسی طاقتوں کے پروردا بی بی سی اور یہودی پریس برانڈڈ لوگ پاکستان اور پاکستانی بلاگرز کے اتنے سگے اور خیرخواہ کیسے ہو سکتے ہیں ۔۔۔ بات میری سمجھ میں نہیں آتی۔۔۔ اگر کسی معزز بلاگریا دانشورکی سمجھ میں آتی ہے تو مجھے بھی ضرور سمجھائے میں کان کھول کر با ادب سننے کیلئے منتظر رہوں گا ۔۔۔۔۔۔ سو ہم سب محب وطن پاکستانی، بے خبر وزیر اعلی پنجاب، دفاع پاکستان کونسل،جماعت اسلامی سمیت تمام مذہبی جماعتوں، سیاسی راہنماؤں، اس ملک کی محافظ سیکورٹی ایجنسیوں اورقانون نافذ کرنے والےحساس اداروں سے معاملات کی مکمل چھان بین اورتحقیقات کرنے اوراسے پاکستان اورسوشل میڈیا کے خلاف گھناونی سازش ثابت ہونے پر، پرامن طریقے سے روکنے کیلئے ہرمثبت اقدامات کی اپیل کرتے ہیں ۔

۔(نوٹ ” ایم کیو ایم مافیہ کی طرزپرسائبرغنڈہ گردی کرنے والےان نام نہادشریف سائبرغنڈوں کے کومنٹس کےحوالے سے اگرمیری اس تحریرمیں چسپاں کوئی سکرین شارٹس جھوٹا یا ان کے الفاظ میں ایک لفظ کی بھی رد و بدل یا بے ایمانہ تدوین ثابت ہو جائے تو مجھے قانون کے مطابق سے بھی دس گنا سزا دی جائے۔ مذید تفصیلات ملنے پراس بلاگ تحریر کو اپ ڈیٹ کیا جاتا رہے گا)۔

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

15 Comments

Click here to post a comment

Leave a Reply

  • حضرت جب ایک بات ختم ہوگئی تو ختم ہوگئی، میں نے یاسر صاحب سے بھی درخواست کی تھی کہ اس قالین کو ایسے ہی لپیٹ دیا جائے، اور وہ بھی مان گئے کہ اب ایسا نہیں ہوگا، احباب کے درمیان نوک جھوک ہمیشہ کسی چھوٹی یا بڑی غلط فہمی نتیجہ ہوتی ہے، آپ مان گئے ، یاسر بھائی بھی مان گئے اور معاملہ ختم ہوگیا، ابھی یہ پھر سے پوسٹ لکھنے کی ضرورت نہیں تھی، یاسر کو میں عرصہ 8 برس سے جانتا ہوں اور ہم نے بلاگنگ کے شروع کے برس ایک ساتھ گزارے، جب کیا لکھنا مسئلہ نہیں تھا بلکہ اردو میں لکھنا مسئلہ تھا، انہوں نے ہمیشہ قادیانی،یہودی اور جدیت پسند پر تنقید کی، اور ہمارے ساتھ مذہب کے نام پر چکر چلانے والوں کو بھی، ان پر قادیانی، اور مذہب کے خلاف ہونے کی میں سختی سے تردید کرووں گا، اور آپ سے پھر التماس کروں گا کہ اس معاملہ کو مذید نہ بڑھایا جائے، آپس کے اختلافات ہمیشہ کمزوری و ضعف کا موجب ہوتے ہیں، اللہ تعالی کا حکم ہے، کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلو اور آپس میں تفرقہ مت کرو، اللہ ہم سب پر رحم کرے،

    • برادر زی وقار راجہ صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے آپ، جاوید گوندل صاحب ، جناب رؤف صاحب، دانیال صاحب کے محبت بھرے پیغامات کے بعد پوسٹ ڈیلیٹ کر دی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور آپ کو میسیج بھی کر دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن افسوس صد افسوس کہ آج اس جاپانی خبطی اور دھمکی باز غنڈے نے اس کا صلہ میرے بارے انتہائی جھوٹ اور بدنیتی پر مبنی بلاگ شائع کر “خیر سگالی جواب” دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے اس ” وارث برانڈ” زیادتی اور منافقت کے بارے آج آپ کو میسیج بھی کیا کہ گروپ میں اور چاروں طرف اب یہ کیا ھو رھا ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد یہ کہ میری دو آئی ڈیز کو اردو بلاگ فورم پر بلاکڈ کر دیا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج سارا دن غلیظ الفطرت سیکولرز اور کچھ قادیانیوں کے بغل بچے گروپس میں بھی اور اپنی اپنی آئی ڈیوں پر بھی میرے اور میرے رفقا کے بارے مغلظات بکتے رھے ۔۔۔۔۔۔۔ میں نے کسی کو جواب نہیں دیا ۔۔۔۔۔۔۔ تعجب ھے کہ اردو بلاگر گروپ مسلمان بلاگرز کا ھے مگر وھاں قرآنی آیات کا حوالی دینا غلط ھے ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے مخالفت کرنے اور یہود و قادیان گروہ کے خلاف صدائے حق کے کارن بلاکڈ کر کے انہوں نے منافقت کا کھلا اور گھٹیا ترین مظاھرہ کیا ھے ۔۔۔۔۔۔ وجہ یہ کہ وہ لوگ میرے دلائل اور حقائق کے بیان سے خوف زدہ ھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوغلا پن دیکھیں کہ میرے نام میسیج لکھ رھے ھیں اور ساتھ مجھے بلاڈ بھی کر رکھا ھے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ زمانہ شناس اور اہل علم ھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خود فیصلہ کیجئے کہ میں ان منافقین اور عقل کے اندھوں کے یکطرفہ خیرسگالی کا جذبہ رکھوں اور دھمکیاں اور گالیاں بھی سنوں جو اندھی تقلید اور فیسن میں ایک یہودی اور مغربی پریس کے آلہ کار کے پیچھے چل پڑے ھیں۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ ہی بتائیے کہ میں کیوں اپنے ایمانی اور ملک دوست موقف ۔۔۔۔۔سے دستبردار ھوں؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ برادر محترم انہیں اپنا پیسہ اور دالرز کمانے دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے اپنا ایمان اور ملک و قوم سے وفا جان سے بڑھ کر عزیز ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والسلام۔

    • اس فتنہ و فساد کی جڑ اور اب سب مسخروں کے پیچھے قادیانی گروہ کا ازلی دوست اور اسلام کا تمسخر اڑانے والے شاتمیں قرآن و شریعت سیکولر ٹولے کا سب سے بڑا سپورٹر ابوالمنافقین وارث سیالکوٹی ہے

    • برادر محترم سلمان صاحب جنہیں آپ گالیاں کہہ رہے ہیں وہ جاپانی خامخواہ اور اس کے حواریوں کی طرف سے دی گئی گالیوں بھرے پیغامات کے سکرین شاررٹ اور ان کے فحش کلامی کے عکس بطور ثبوت دئے گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ آکھیں کھول کر پڑھیں اور دیکھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری طرف سے نہ کوئی گالی دی گئی نہ میں دیتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لعنت اللہ علی الکاذبین والمنافقین۔۔۔

  • پہلے بھی بصد احترام عرض کیا اور ایک بار پھر عرض کرتا ہوں کہ غیر ملکی ادارے یا غیر ملکی فرد یا بالفرض غیر ملکی ایجنڈا رکھنے والے صاحبان بھی اگر کسی کانفرنس کا انعقاد کرتے ہیں تو الحمد للہ ہم اتنا شعور تو رکھتے ہی ہیں کہ حقیقت پہچان سکیں۔ دوسری بات یہ کہ ہمارا مقصد نہ پیسوں کا حصول نہ شہرت کا، ہم نے بات کرنی ہے اردو بلاگنگ کی۔ اس میں قادیانی برانڈ اور کراچی فساد اور یہودی سازش۔۔۔ یہ سب کہاں سے آگیا؟ برا نہ مانیں تو ایک بات کہوں کہ اس معاملے کی کوریج بالکل ہیرو ٹی وی کے معیار کی لگ رہی ہے۔
    اردو بلاگرز کی جانب سے اس کانفرنس کی حمایت کا مقصد کیا ہے، اس بارے میں آپ میرے بلاگ پر تحریر بہ عنوان اردو بلاگرز باشعور ہیں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔
    جعفر نے جو موچی دروازے پر خطاب والی بات کہی، جہاں تک میں سمجھا ہوں، وہ آپ کی جانب سے آیتِ کریمہ کے حوالے پر نہیں، بلکہ اُس سے قبل جو آپ نے پُرجوش مقررانہ انداز میں جو تمہید باندھی تھی، اُس حوالے سے ذکر کیا تھا۔ باقی، انما الاعمال بالنیات۔

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا
    اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، بعض گمان یقینا گناہ ہیں اور تجسس بھی نہ کیا کرو
    (الحجرات)

  • وڈیو یہ کانفرنس تو اب ہو کے رہے گی. کینیڈا والے بندے نے نہ کرائی تو ہم اپنے خرچے پر چندہ کر کے کروا لیں گے. دیکھتے ہیں کونسی سازش ہوتی ہے اس میں.

    • برادر دوست یہ کانفرنس آپ نوجوان پاکستانی بلاگرز اپنے خرچ اور پراسرار بدیسی کرداروں سے آزاد کروانے جاتے تو مجھ سے فقیر بھی اپنی نیک کمائی سے حصہ ڈالتے اور آپ احباب کی کرسیاں لگانے والے ہوتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کاش کہ ایسا ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔

  • جناب درویش صاحب،
    میں نے آپکی گذارشات وقار بھائی کے ذریعے سے پڑھی ہیں اور میں ان سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔ میں نے یہ بھی دیکھا کہ آپکے دلائل کے جواب میں کس طرح کا رویہ اپنایا گیا۔ میں اس انتظار میں ہی رہا کہ مکمل دلائل سے آپکی گذارشات کا رد کیا جائے مگر بے سود جواب ۔۔۔ اس حد تک تو میں آپ سے مکمل اتفاق کرتا ہوں کہ بیرونی ہاتھوں کو پاکستانی پانیوں میں پتھر پھینک کر ہلچل مچانے سے روکنا چاہیے کیونکہ اس طرح سوائے بیرونی ایجنڈے کی تکمیل کے کچھ ہونے والا نہیں ہے۔ اس طرح کی کانفرنسوں اور اجتماعات کے بارے میں یہ ایک بات تو طے ہے کہ جس کا پیسہ ہوگا بات اسی کی ہوگی۔
    مگر افسوس کہ پاکستان میں نادان دوست اس چیز کو دیکھنے کی صلاحیت سے قطعی عاری ہیں۔ وہ صرف ایکٹوٹی کے دلدادہ ہیں اور کچھ کرنا چاہتے ہیں یہ جانے بغیر کے اس کا فائدہ کس کو ہوگا۔
    مگر میں ایک بات اور بھی کہنا چاہتا ہوں کہ آپ نے ضرورت سے زیادہ بدگمانی سے کام لیا ہے۔ خاص طور پر سیدہ صاحبہ نے جس طرح کی زبان استعمال کی ہے وہ شرمندہ اور بے چین کردینے والی تھی۔
    میرا گمان عمر بنگش ، بلال خان، یاسر جاپانی اور کاشف نصیر کے بارے میں اس تیقن کا حامل ہے کہ یہ اصحاب نیک نیت ہیں اور یہ بات میں مختلف مواقع پر انکی تحاریر اور تبصروں کی روشنی میں مکمل اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں۔
    کاش آپ اپنی گذارشات کو محسن عباس صاحب اور انکے ایجنڈے تک ہی محدود رکھ پاتے۔

    • برادر ذی وقار ڈاکٹر جواد خان صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ساراہ بیٹی نے مسٹر کامخواہ کی طرف سے ” کنجر مذہبی غنڈوں ” جیسے بازاری الفاظ کے رد عمل میں اشتعال کھا کر اگر علما اکرام کی تذلیل کرنے والوں کو طوائف زادے کہا تو میں نے اس کی بھی مذمت کی ہے۔ لیکن تعجب ہے کہ آپ کو کاشف نصیر جیسے ” نیک نیت” اور دوسروں کی طرف سے ایک خاتون کو مولانا فضل الرحمن سے شادی اور دوسری بازاری جغتیں اور گھٹیا ترین انداز نہیں آیا ؟ افسوس ہے حضور اتنی ڈنڈی نہ ماریں ۔۔۔۔ سارا کی طرف سے طوائف زادے کہنا قابل اعتراض اور قابل مذمت ہے سو میں بھی اس مذمت کرتا ہوں کہ گالی کا جواب گالی نہیں ہونا چاہئے تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن آپ کے نیک نیتوں کی طرف سے علما کو یا دین کی بات کرنے والوں کو “مذہبی کنجر” کہنا ، خواتین کو سیاسی لیڈروں کی پروپوزلیں اور اور گالیاں دینے والوں کے بے شرمانہ اقراربدزبانی پر انتہائی ڈھٹائی سے اقرار جرم ؟؟؟؟ ۔۔۔ کیایہ سب آپ کے نزدیک قابل مذمت نہیں ۔۔۔۔۔ کیا ہے یہ دوہرا معیار انصاف ۔۔۔۔۔ مائی ایکسیلنسی ۔انصاف کا ترازو ایک طرف لٹک گیا ہے۔۔۔۔ محترم؟

  • فاروق صاحب
    میں نے یاسر صاحب کا کالم بھی پڑھا اور پھر جواب میں آپکا کالم بھی۔

    اس بات سے بے حد خوش ہوا کہ آپ نے اس کانفرنس کے انعقاد کے مالی وسائل کی جانچ پڑتال کی۔سچ یہ ہے کہ مجھے بھی اس کے مالی وسائل کا علم نہ تھا؟ایک دوست نے پوچھا بھی تھا لیکن میں جواب نہ دئے سکا۔

    دوسری بات یہ کہ عمار ابن ضیاء اور ابو شامل صاحب اس سے پہلے بھی اغیار کے منعقد کردہ کانفرنسوں میں گئے ہیں۔اور انہوں نے وہاں اپنی ہی کہانی سنا کر واپس آئے ہیں۔

    اس کانفرنس کے حوالے سے جو خدشات ہیں ،تو اگر اس کا فی الحال کوئی سد باب موجود نہیں ،تو کیوں نا اسی کانفرنس کے دوران ہی ختم نبوت اور یہودی مشنز کا سد باب کیا جائے۔ میرئے خیال میں تو مزہ اس وقت آئے گا کہ کانفرنس قادیانیوں کی ہو اور اسمیں آواز ختم نبوت کی لگے۔

    بہت زیادہ مخالفت کا یہ بھی نقصان ہوتا ہے کہ بات پہلے سے زیاہ پھیلنے لگتی ہے۔

    باقی ان ساتھی بلاگرز ک ہم میں سے اکثر اتنا ضرور جانتے ہیں کہ یہ لوگ قادیانی یا یہود کے آل کار تو چھوڑ ،الٹا اسکے مذمت بیان کرنے والے ہیں۔

    اور اخر میں یہ کہ آپکے بلاگ پر کمنٹس کا رنگ ڈارک ہے، لھذا کافی مشکل سے اسکو پڑھتا ہوں۔

  • کچھ دیر پہلے اس کانفرنس کا پتہ چلا اور کچھ ہی دیر بعد تصویر کا یہ رخ بھی دیکھنے کو ملا۔ میں نے درویش صاحب کی دلیلیں پڑھی ہیں، واقعی قابل غور ہیں، میرے خیال میں احباب کو ذاتیات کے بجائے اس کو حل کرنے کی کوشش کرنا چاہیے تھا۔ ایک خاتون کے بیچ میں آجانے سے گوکہ انہوں نے غلط الفاظ استعمال کیے، ایک مسلم کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ خاتون کے لیے ایسے الفاظ استعمال کرے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
    خدا نہ کرے کمنٹس کوئی غیر مسلم پڑھ لے۔
    کانفرنس کا انعقاد کون کمبخت چاہتا ہے نہ ہو۔ اردو کی بقا ہماری بقا ہے، لیکن میں نے نہیں چاہتا کہ کانفرنس کے انعقاد کے بعد ہم پر انگلیاں اٹھیں، آج ہم جو آزادی سے لکھتے ہیں، کل کلاں پابند نہ ہوجائیں۔ کیوں کہ چوٹ کھانے کے بعد علاج کروانے سے بہتر ہے چوٹ نہ کھائی جائے۔
    میں درویش صاحب کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں، کہ باہم مل کر یہ کانفرنس منعقد کی جائے تو ایک بے مثال روایت قائم ہوجائے گی۔ اسراف سے اجتناب برتا جائے تو شاید ممکن ہو۔ ورنہ اخراجات کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ بہت زیادہ ہوں گے۔

  • قادیانی اسلام دشمن ہیں، یہود و نصاری کے ایجنٹ ہیں۔ ان پر اللہ کی لعنت ہے۔ اور ایسا شخص جو ان قادیانوں کا حمایتی یا مدد گار ہو گا، تو وہ بھی انہیں میں سے شمار کیا جاءے گا۔

    محترم فاروق درویش بھاءی صاحب قادیانییوں جو صیہونی غنڈوں کے زر خرید غلام ہیں ان کی مکاری کو طشت از بام کر کے نہ صرف عوام کو خبردار کر رہے ہیں بلکہ اس حوالے سے اپنا مذہبی فریضہ بھی ادا کر رہے ہیں۔ ہم اپنے بھاءی کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں، ان کا شکریہ ادا کرتے ہوءے اللہ ربالعزت سے سے ان کی نصرت کی دعا کرتے ہیں۔سانچ کو آنچ نہیں اور ان شا اللہ حق کا بول بالا ہوگا۔ اللہ بد زبانوں کو ذلیل و رسوا اس دنیا اور آخرت میں بھی فرماءے۔ آمین

  • محترم فاروق درویش صاحب میری ریپلاءی کے ساتھ نظر آنے والی تصویر کو فوراً ہٹا دیں۔ یہ تصویر نہ جانے کیسے لگی میری ریپلاءی میں۔
    از حد شکریہ

Featured

%d bloggers like this: