حالات حاضرہ ریاست اور سیاست

سونامی خان اور کرسمس قادری کا مشترکہ احتجاج


میں ایک عرصہ سے میاں نواز شریف کی ست رنگی اور ناقابل فہم سیاسی پالیسیوں کا کھلا نقاد اور خاص طور پر ان کے سیفما برانڈ سیکولر مشیروں کی طرف جھکاؤ کا زبردست مخالف ہوں۔ انہوں نے اپنی ماضی کی ان غلطیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا جن کی وجہ سے وہ ایک عرصہ تک زیر عتاب بھی رہے اور اوائل سیاست سے آج تک تنقید کا نشانہ بھی بن رہے ہیں۔ میں ان کی اکثر ناکامیوں اور سیاسی حماقتوں کو ان کے ارد گرد ہمہ وقت موجود خوش آمدی ٹولے کی موجودگی اور پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے پروردہ عاصمہ جہانگیر اور نجم سیٹھی جیسے مشیروں کی کافرانہ صحبتوں کا شاخسانہ سمجھتا ہوں۔ لیکن افسوس کہ عقل و فہم سے عاری کچھ سیاسی کارکنان میری طرف سے، عمران خان اور طاہر القادری کی پالیسیوں کے بارے حقائق گوئی پر اسے نواز شریف کی حمایت قرار دیتے ہیں۔ ایسے احباب کی سیاسی بلوغت پر سوائے افسوس کے اور کیا کہا جا سکتا ہے جو نواز شریف  اور ان کے کسی سیاسی حلیف پر مثبت تنقید کو عمران خان کی حمایت کرنا اور عمران خان یا ان کے کسی سیاسی رفیق پر تنقید کو نواز شریف کی حمایت قرار دیکر حقائق کو جھٹلانے اور کوا سفید قرار دینے کے ضدی طریق پر قائم رہتے ہیں۔ جب تک ہم سب لوگ اپنے اپنے سیاسی قائدین کی غلط پالیسیوں، قول و فعل میں کھلے تضادات، وعدہ خلافیوں اور قومی و ملی مفادات سے متصادم سامراجی برانڈ نظریات پر تنقید نہیں کریں گے، ان اکابرین سیاست کا قبلہ کبھی درست نہیں ہو گا۔ میں جانتا ہوں کہ تحریک انصاف کے احباب ضرور اختلاف کریں گے مگر میں گیارہ مئی کو عمران خان کی طرف سے اعلان کردہ احتجاج سے قطعی متفق نہیں ہوں۔ میرا موقف ہے کہ الیکشن میں مبینہ دھاندلی کیخلاف ایسے احتجاجوں سے سیاسی نظام اور امن عامہ تو ضرور متاثر ہو گا مگر مصیبت زدہ عوام الناس کو کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا۔ اس بے مقصد احتجاج کی بجائے بدرجہ بہتر ہو گا کہ اب نواز شریف حکومت پر زرداری کی لوٹی ہوئی قومی دولت واپس لانے کا دباؤ ڈالنے کیلئے ایک باقاعدہ قومی تحریک شروع کی جائے۔ حکومت پر بدترین قومی ڈکیٹوں کیخلاف قومی خزانے کی لوٹ مار کے مقدمات قائم کرنے اور لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں کمی جیسے انتخابی وعدے پورے کرنے کیلئے سیاسی دباؤ بڑھایا جائے۔ تاکہ زرداری گینگ کی لوٹی ہوئی قومی دولت قومی خزانے میں واپس آنے سےعوام الناس کو معاشی ریلیف بھی ملے اور اپنے وعدے بھلانے والی حکومت ہنگامی بنیادوں پر لوڈشیڈنگ کے عذاب میں فوری کمی کرنے کی حکمت عملی اپنانے پر بھی مجبور ہو۔ عمران خان ایک مظبوط عوام دوست اپوزیشن کا کردار ادا کرتے ہوئے حکومت پر مثبت دباؤ بڑھا کر ایسے اقدامات پر مجبور کرے جن سے ملکی معیشت کو استحکام اور عوام الناس کو معاشی ریلیف اور سکھ کا سانس نصیب ہو۔

      ازل سے ہے یہ طریق ِ قلندر و درویش  :  زبان و دل سے رواں ، لا الہ الاللہ
اگرچہ دہر کے پالے ہیں مقتدر میرے  :  مری اساس ِ بیاں ، لا الہ الاللہ

q1

حسب توقع ایک بار پھر ماضی کے شکست خوردہ کینیڈین قادری صاحب کی “عوام دوست” تحریک درانداز ہو رہی ہے۔ متوقع فرق صرف اتنا ہو گا کہ اس بار حسینی فوجوں کے نام نہاد سپہ سالار گرمائش دینے والے ہیٹروں کی سہولت سے فیض یاب کنٹینر سے نہیں بلکہ کینیڈا سے اپنے یہودی اور صلیبی آقاؤں کی ائرکنڈیشن گود میں بیٹھے مظلوم سیاسی مجاہدین کی قیادت فرمائیں گے۔ ان کی طرف سے تازہ بیان آیا ہے کہ گیارہ مئی کو ہونے والا احتجاج ہماری تحریک کا آغاز ہے۔ خدا جانے کہ  اگر یہ آغاز ہے تو کیا ماضی کی کنٹینری ریلی محض ریہرسل تھی یا ان کی سیاہ ست کا کھیل ننانوے پر ڈنگ کھا کر  زیرو پر پہنچانے والی لڈو جیسی دلچسب گیم ہے۔ بینظیر شہید جیسے سیاسی انجام سے خوف زدہ، کینیڈا کی مخملی گود میں پناہ حاصل کرنے والے” بہادر مرد مومن ” نے فرمایا کہ میری آنکھوں کا آپریشن ہوا ہے جس کی وجہ سے ابھی میں فوری طور پر تو نہیں آرہا لیکن بہت جلد پاکستان آؤں گا اور اس انقلابی تحریک کو پایہ تکمیل تک پہنچاؤں گا۔ اللہ کرے کہ ان کی آنکھیں آپریشن کے بعد ارد گرد کا عیاں سیاسی منظر دیکھ کر اس حقیقیت کا اندازہ لگا لیں کہ اس بار عمراں خان جیسے مظبوط لیڈر کی ہمنوائی کی بیساکھیوں کا سہارا اور اتفاقی یا سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اسی ایک دن میں رکھا گیا یہ ” مشترکہ احتجاج” بھی ان کا سیاسی قد نہیں بڑھا پائے گا۔ میرے مطابق ایک متنازعہ اور کاذب البیان سیاسی کردار طاہرالقادری کی طرف سے عمران خان کے احتجاجی پروگرام کا ساتھ دینے کا انفرادی یا مشترکہ فیصلہ تحریک انصاف کی سیاسی ساکھ کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس احتجاجی تحریک کے مشترکہ ہونے کا فائدہ پاکستان کے سیاسی نظام اور اداروں کو ناکام بنانے کیلئے کوشاں وہ گورے سرپرست تو اٹھا سکتے ہیں جو ہمیشہ سے فتنہء قادری  اور فتنہء قادیانیت جیسے دجالی گروہوں کے سرپرست ٹھہرے ہیں، لیکں ایک بدنام زمانہ مذہبی  شعبدہ باز کی سیاسی سنگت بحرحال تحریک انصاف کیلئے سود مند ثابت نہیں ہو گی۔ منہاج القرآن کے معزز احباب ان سوالات کے منطقی اور علمی جوابات سے کلی قاصر ہیں مگر خان صاحب کے تحریکی ساتھیوں کو یاد رہے کہ روز اول سے کذب بیانی اور مذہبی فراڈوں کیلئے مشہور طاہر القادری نے اپنے ایک خطاب میں شان نبوت اور عہدہ و مقام رسالت کی کھلی توہین کرتے ہوئے یہ گستاخانہ دعوی بھی کیا تھا کہ نبیء برحق ص نے ایک خواب میں انہیں پاکستان میں قیام و طعام، ہوائی ٹکٹ اور سفری سہولتوں کی فراہمی کی خواہش و فرمائش کا اظہار فرمایا تھا۔  چونکہ یہ ویڈیو ریکارڈ پر موجود ہے، لہذا قادری صاحب اور ان کے مریدین اس ویڈیو بیان سے مکرنے سے قاصر ہیں۔ انقلابی حضرات کو یاد رکھنا ہو گا کہ الطاف حسین اور طاہر القادری جیسے ننگ وطن اور دین فروش دیس بھگوڑے نہ کبھی کسی کے قابل اعتماد سیاسی حلیف ثابت ہوئے ہیں، نہ ہوں گے۔ مہناجین احباب کو کون سمجھائے کہ یہ ایمان مسلمان ہے کہ نبیء آخر الزماں ص کی بعد از خدا بزرگ ہستی، پاکستان میں قیام و طعام اور سفری سہولیات کیلئے معاذ اللہ ، طاہر القادری جیسے کاذب یا کسی بھی انسان کی محتاج ہرگز نہیں ہو سکتی۔ گذشتہ تیس برس سے قادری صاحب نے ذاتی شہرت اور مذہبی دوکانداری کیلئے سادہ لوح مسلمانوں کو جس نوسربازانہ انداز میں ورغلایا اور جس دجالی طریق سے امت  کو تقسیم در تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے وہ جھوٹ، فریب اور مذہبی نوسربازی کی بدترین مثال ٹھہرا ہے۔

    پوشاکِ قلندر میں ہیں احرار کہ میخوار  :  ایوانِ مسلماں ہیں کہ مندر کے نگہباں
جائے گا کہاں بھاگ کے اس قیدِ قفس سے  :  صحرا کے مسافر ترا خیمہ بھی ہے زنداں

d2

مشہور ضرب المثل ہے کہ ذات کی چھپکلی اور شہتیریوں کو جپھے، قادری صاحب کے اس بڑھک نما بیان پر ہٹلر اور مسولینی جیسے کسی طاقتور فوجی جرنیل ہونے کا گمان ہوتا ہے کہ ” میں ذاتی طورپر تو نہیں آرہا لیکن بہت جلد پاکستان آکر اقتدار سے چمٹے مافیا سے اقتدار چھین کر عوام کو منتقل کردوں گا “۔ اپنے سیاسی حلیف الطاف حسین اور درپردہ ہم نوا زرداری گینگ کی طرح انہوں نے عدلیہ کی کردار کشی اور اداروں کے ساتھ محاذ آرائی سے سیاسی مولا جٹ بننے کی پالیسی اپنائی ہے۔ خبر و اخبار اور میڈیا سے باخبر احباب کو یاد ہے کہ قادری صاحب عدالت عظمی میں کسی بھی سوال کا جواب دینے سے قاصر رہ کر ذلیل و رسوا ہو چکے ہیں۔ لہذا کسی شکست خوردہ ” عزت دار مسخرے ” کی طرح کہتے ہیں کہ ” میں سمجھتا تھا کہ سپریم کورٹ کی اعلیٰ کرسی پر بیٹھا شخص واقعی جج ہے لیکن مجھے بعد میں پتہ چلا کہ وہ اس کرپٹ سسٹم کا حصہ ہے اس نے میرے ساتھ دھوکہ کیا اس مرتبہ ہم نے کسی عدالت میں نہیں جانا ہم عوام کی عدالت میں جائیں گے”۔ ایک کہاوت ہے کہ ٹڈی اس لئے ٹانگیں اٹھا کر سوتی ہے کہ اسے احمقانہ گمان ہے کہ سارا آسمان اسی نے اٹھا رکھا ہے، سو اگر وہ سوتے ہوئے آسمان کو اپنی ٹانگوں کا سہارہ نہیں دے گی تو وہ زمیں پر گر پڑے گا۔ خود کو جرنیل اعظم سمجھنے والے طاہر القادری نے بھی ایک ایسا ہی مسخرانہ دعوی کیا ہے کہ، ” اب ہم نے کسی سے مذاکرات نہیں کرنے ایک کروڑ نمازی جب اکٹھا ہوگا تو ہم اس وقت تک اپنا پرامن احتجاج ختم نہیں کریں گے جب تک ان ظالموں سے اقتدار چھین کر عوام کو منتقل نہ کردیں اقتدارپر قابض لوگوں کو سزا ملے گی اور یہ جیل جائیں گے”۔ لیکن جھوٹ اور سیاسی فراڈ کے عالمی ماہر طاہر القادری یاد کریں کہ گذشتہ کنٹینری جہاد کے اختتامی شو میں انہوں نے یزیدی حکمرانوں سے” مزاق رات” کر کے از خود اپنی خود ساختہ حسینیت کا لبادہ چاک کیا تھا۔ احباب یاد رہے کہ دس برس قبل طاہر القادری صاحب نے یہ جرات مندانہ اعلان کیا تھا کہ وہ پاکستان ہی میں مرنا پسند کریں گے لیکن کسی صورت بھی پاکستان چھوڑ کر بیرون ملک نہیں جائیں گے۔ مگر صد افسوس کہ مابعد وہ بھی الطاف حسین جیسے نام نہاد حسینی سپہ سالار کی طرح بھگوڑے ہو کر گوروں کی محفوظ پناہ میں یہودی اور صلیبی سرپرستوں کے خاص مہمان بن کر کینیڈا میں مقیم ہو چکے ہیں۔ قادری صاحب کا یہ کہنا بڑا معنی خیز ہے کہ، ” ہم نے گیارہ مئی کے احتجاج کی کال بہت پہلے دی تھی یہ اتفاق ہوگیا ہے کہ عمران خان بھی اسی روز احتجاج کررہے ہیں اور یہ بھی اتفاق ہے کہ ان دنوں حکومت اور فوج کے درمیان کچھ تناؤ ہے”۔ قادری صاحب کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ عمران خان اور طاہر القادری کے احتجاجی پروگرام کی ہنڈیا کافی عرصہ سے مشترکہ چولہے پر رکھی تھی جسے مخصوص قوتوں کے اشارے پر اس وقت پر آگ دی جا رہی ہے جب ایک طرف حکومت اور فوج میں قدرے تناؤ موجود ہے اور دوسری طرف کچھ میڈیا گروپس پاکستان کے حساس اداروں کی کردار کشی میں مصروف ہیں۔ قادری صاحب کا یہ کہنا بھی کسی لطیفے سے کم نہیں ہے کہ، ” میری جدوجہد 2004 سے جاری ہے میں کسی کے ایجنڈے پر نہیں، عوام اور پاکستان کی خدمت کے ایجنڈے پر ہوں جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مجھے عوام پسند نہیں کرتے کیونکہ میں یہاں نہیں رہتا تو میں بتا دوں اگر عوام مجھے پسند نہیں کرتے تو وہ میری کال کو مسترد کردیں گے ، پولیس میرے ساتھ ہوگی اورانشاء اللہ وہ وردی اتارکر میرے حوالے کردینگے،عوام ادارے میرے ساتھ ہوں گے اورعوام پرامن طریقے سے اقتدار لے لیں گے”۔ پولیس کی وردیاں اور اداروں کی فرمابرداری کا خواب دیکھنے والے شیخ چلی، سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم سے جوڑے گئے گستاخانہ من گھڑت خوابوں کے جرائم کی ربی سزا پانے کی تیاری کریں۔

q3

احباب قابل توجہ معاملہ ہے کہ میں نے  قادری صاحب کی مالی کرپشن کے حوالے سے ایک کالم  میں لکھا تھا کہ جب میں گورنمنٹ کالج لاہورکا طالب علم تھا تو سنتوں بھری شریعی داڑھی اورقراقلی ٹوپی والےمولوی طاہر القادری لا کالج کے باہر پرانی سوزوکی موٹر سائیکل کو ناکام ککیں مارتے یا دھکا لگوا کرسٹارٹ کرواتے دکھائی دیتے تھے۔ اورپھرمیں نے ہی حبیب بینک کے آفیسرکی حیثیت سے منہاج القرآن میں واقع حبیب بنک برانچ میں ان کے پچیس ہزار روپے والے اس انعامی بانڈ نمبر 007800۔ کی انعامی رقم ڈھائی کروڑ روپے کے ووچرکو ان کے ذاتی اکاؤنٹ میں کریڈٹ کیا تھا جو بانڈ ان کی ملکیت نہیں بلکہ کالا دھن سفید کرنے کیلئے بلیک مارکیٹ سے خریدا گیا گیا تھا۔ وہ انعامی بانڈ انعام نکلنے کے چھ ماہ بعد کہاں سے آیا اور مابعد ان کے اکاؤنٹ سے وہ رقم کہاں ٹرانسفر ہوئی، اس حوالے سے تحقیقات کی جائیں تو ان کی فراڈی خصلت اور نوسربازانہ جبلت کا پردہ چاک ہو جائے۔ ( میرا دعوی ہے کہ کوئی اعلی عدالت یا عدل و انصاف کا سیاسی فورم میرے اس دعوی اور بیان کو غلط ثابت کر دے تو میں ادارہ مہناج القرآن کے دروازے پر پھانسی کی سزا پانے کیلیے تیار ہوں) حیرت ہے کہ آج وہی سفید پوش طاہر القادری اب کینیڈین شہریت والا سامراجی مہمان اور کھرب پتی مجتہدِ ملت  بن کر میڈم ملالہ کی طرح وزیر اعظم بننے کے خواب دیکھ رہا ہے. بحرحال تازہ ترین خبر یہ ہے کہ ادارہ منہاج القرآن میں ان کیلیے زیر تعمیر عالی شان  مزار مقدس اب اپنی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ اور ان کے سرپرست گوروں  کے دوسرے بغل بچے مرزا غلام احمق قادیانی کے ولائتی فرشتے ان کے والہانہ استقبال کیلیے کربِ انتظار میں ہیں۔

    چشم گریاں بھی ہے پیاسی کوئی دریا دیکھیں  :  شہر جلتے ہیں تو دشت ِِ شب ِ لیلی دیکھیں
موم کی چھتری تلے دھوپ میں گھر راکھ ہوئے  :  اب کے مرنے کیلئے قیس کا صحرا دیکھیں

 فاروق درویش ۔ 03224061000

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

1 Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: