حالات حاضرہ ریاست اور سیاست

سونامی خان یہودی شکنجے میں یا ۔ ۔ ہر شکل ہے صد چہرہ مگرعکس ندیدہ؟


شومئی قسمتِ امت مرحومہ کہ دنیائے کرکٹ کا عظیم کھلاڑی عمران خان منظر سیاست پر ایک بہادر مسلمان بنیاد پرست کے روپ میں چھایا جا رہا تھا کہ فتنہء یہودیت کے اہلکار گولڈ سمتھ خاندان کے جال میں پھنس کر اُچک لیا گیا۔ یہودی لابی نے اس وقت کے مردِ مومن کو اپنے مکر کے آہنی شکنجے میں جکڑنا وقت کی عین ضرورت جانا تھا۔ انہیں شدید خدشہ تھا کہ یہ مقبول ترین خوبرو کرکٹ اسٹار ایک پرکشش مسلمان لیڈر بن کر میدانِ سیاست میں مقبول ہوا تو مسلم معاشرے میں مغرب سے نفرت کی سلگتی آگ کو جذبہء ملی کے آتشیں بارود سے بھڑکتی آگ میں بدل ڈالے لگا دے۔ لہٰذا یہود و نصاریٰ نے اس کو اپنے قابو میں لانا اشد ضروری سمجھا تھا۔عمران خان کی ایک یہودی خاتون جمائمہ گولڈ سمتھ سے شادی کے موقع پر ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم نے کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا تو تحریک انصاف کے اہل جنوں جیالوں نے انکے خلاف انتہائی سخت زبان استعمال کی تھی۔ آج بھی جذبہء جنوں سے سرشار، عمران کے جذباتی پرستار، ان کی یوٹرن پالیسیوں، پیشہ ورلوٹوں کو ٹکٹیں بانٹنے یا تحریک کے جلسوں میں ایک گستاخِ قرآن گویے سلمان احمد کے میوزک شوز کروانے پر جائز تنقید کرنے والوں کو غلیظ گالیوں اور فحش کلمات سے نواز رہے ہیں۔ ایسے لوگ اس بات کا کھلا اشارہ دے رہے ہیں کہ تحریک انصاف پر اپنی حامی و اتحادی متحدہ اور مشرفیوں کا ہو بہو رنگ چڑھ چکا ہے۔

میرے مطابق سیاسی غنڈہ گردی، دھونس اور مائل بہ تشدد ایسی متحدہ برانڈ روش پورے ملک کو خانہ جنگی اور کراچی کی طرح خون آشام دہشت کے ماحول کی طرف دھکیل رہی ہے۔ صد حیف کہ تحریک انصاف کے جیالوں کے ڈنڈوں اور مکوں سے نہ تو صحافی برادری محفوظ ہے اور نہ ہی اپنی پارٹی کے بزرگ ممبر اورصاف گو احباب۔ آج  سوشل میڈیا پر متحدہ اورعمرانیوں کی غنڈہ گردی کا یہ عالم ہے کہ آپ عمران خان پر کسی بھی حوالے سے کوئی مثبت تنقید کریں، چند ہی لمحوں میں فحش گالیوں اور ماڈرن طبروں سے لیس عمرانی جیالے آپ پر جھنڈوں کی شکل میں حملہ آور ہوں گے۔ آپ بزرگ ہیں یا نوجوان، آپ کو ماں بہن کی گالیوں، فحش القابات اور دھمکیوں سے نوازا جائے گا۔ آپ عمران خان یا الطاف حسین کے خلاف ایک لفظ بھی لکھ کر دیکھیں،  الطافیوں اور انقلابیوں کی طرف سے آپ کو  نواز شریف یا جماعت اسلامی کا زر خرید لکھاری۔ اور چمچہ قرار دیکر بازارِ حسن کی پیداوار کے مقدس سرٹیفیکیٹ عطا کئے جائیں گے۔ پچھلے چند ماہ میں عمران خان کی مقبولیت میں شدید کمی آنے کے بعد جھنجھلاہٹ اورمایوسی نے تحریک انصاف کے سیاسی کیمپوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ آئیندہ الیکشن میں کلین سویپ کے خواب دیکھنے والے تحریکی کارکنوں نے الیکشن سے پہلے الیکش کے حقیقی ممکنہ نتائج پڑھنے شروع کر دیے ہیں۔ مگر افسوس کہ عمراں خان کے پرستار انہیں وزیر اعظم سے کم کسی عہدے پر دیکھنے کیلئے تیار ہی نہیں ہیں۔

سونامی حضرات کو  وہ پاکستان ہی قبول نہیں جس کا وزیر اعظم عمران خان نہ ہو ۔ سو فحش کلامی اور سائبرغنڈہ گردی اب سیاست سے نابلد، عقل سے پیدل اور دین کی فہم سے کوسوں دور سونامی کے ” فرسٹریٹڈ انقلابیوں” کا خاص ہتھیار بن چکی ہے۔ احباب یہ حقیقت ہے کہ شروعات میں عمران خان کو چند بڑے ناموں اور کہنہ مشق IK7سیاستدانوں نے اپنے اپنے مفادات کے حصول کیلئے سونے کا سکّہ سمجھ کر کیش کرانے کی سرتوڑ کوششیں کیں۔ اس حوالے سے پرویز مشرف کے حواری فوجی جرنیلوں نے اُس وقت بھی فائدہ اٹھایا اور اس کے بعد سے آج بھی اپنے پسندیدہ پیشہ ور سیاسی مہروں کو تحریک انصاف کے کیمپوں میں داخلا دلوا کر اپنے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے سرگرم ہیں۔ میرا خیال ہے کہ پاکستانی سیاست میں فعال یہودی گماشتوں کی ہر ممکن کوشش تھی کہ عمران پاکستانی عوام سے دور رہے اور کسی نہ کسی طرح مغرب سے کسی گوری مٹیار سے شادی رچائے، اور اس میں وہ کامیاب بھی ٹھہرے تھے۔ لوگ آج بھی لکھتے ہیں کہ عمران خان کی رگوں میں ضدی پٹھان خون ہے اور قیاس کیا جاتا ہے کہ وہ کسی صورت بھی اپنے مقصد سے پیچھے ہٹنے والے نہیں مگر مؤرخین نے یہ بھی لکھا ہے کہ پٹھانوں میں لاکھ خوبیاں سہی مگر یہ عین موقع پر جذباتیت اور جوش میں پاگل پن کا شکار ہو کر جیتی ہوئی بازی بھی ہار جاتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ عمران کے ساتھ ایسا ہو چکا ہے۔ کیونکہ یہی وہ یہودی سازش تھی جس کے شکار وہ ہو چکے ہیں۔ زمانہ گواہ ہے کہ انہوں نے امریکہ کو اپنا چہرہ طالبان دوست کے طور پر دکھا کر بنیاد پرست مسلمانوں کو اپنی طرف کھینچا ا مگر درون خانہ امریکی حکام اور یہودی لابی سے بیک ڈور تعلقات رکھ کر امریکی ہدایات پر عمل پیرا ہو گیے۔ کہا جاتا تھا کہ یہودی لابی کی طرف سے، عمران خان کی ذات کو خفیہ والوں کیلئے جذباتی و ناقابل اعتبار اور عوام کے روبرو ان کی پارسائی کو مشکوک بنانے کی کوشش ہوگی۔ انہوں نے از خود جذباتی انداز اختیار کر کے وہی کچھ کیا جس کی یہودی لابی کو خواہش تھی۔ آج ان حقائق کی روشنی میں دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اب وہ دونوں طرف سے بری طرح پھنس چکے ہیں۔ الطاف حسین کے خلاف صدائے حق و جہد کے حوالے سے ان کا یوٹرن اور مشرف کی باقیات یا لوٹوں کو اپنے ساتھ شامل نہ کرنے کے وعدوں سے انحراف کے بعد شاید عوام اب ان کی باتوں میں نہیں آئیں گے۔

میری نظر میں عمران کے پاس اب دو ہی راستے بچے ہیں۔ اول یہ کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کے سامنے جھک کر زرداری اور اس کے اتحادیوں کے خلاف سیاسی اتحاد بنائیں یا پھر اپنی بچی کھچی سیاسی قوت جمع کر کے یہودی لابی سے بھی ظالم تر درندوں یعنی ان جاگیرداروں کے خلاف ڈٹ جائیں جو پینسٹھ برس سے پاکستان کے سیاسی میدان پر چھائے ہوئے ہیں۔ اب اس انتہائی اہم وقت میں دیکھنا ہو گا کہ عمران خان میں کتنی سیاسی ذہانت اور دوربینی ہے۔ وہ یہودیوں کی جمائمہ گولڈ سمتھ برانڈ سازش سے نکل کر پاکستان کا خون چوسنے والے جاگیردار طبقے کی سازش کا مقابلہ کرتے ہیں یا یہودی لابی کے کماشتہ بنکر امریکی مفادات کے تحفظ کے صدقے ایوان اقتدار میں پہنچتے ہیں۔ ان دونوں آپشنز میں ناکامی کی صورت میں نتیجہ انکی سیاسی موت ہو گی۔ تیسری صورت یہ ہے کہ وہ الطاف حسین کی طرح ہمیشہ پندرہ بیس سیٹس جیتیں اور سیاسی پریشر گروپ بن کر ہمیشہ حکومت کا حصہ بنتے رہیں۔ آج عمران خان کے پاس متحرک نوجوانوں کا جنونی طبقہ تو ہے مگر بے ادب اور مذہب و اخلاق سے عاری صرف زند باد کے نعرے لگانے والا گروہ بن کر رہ گیا ہے۔ ان کے ساتھ ایسے ذہین دانشوروں اور قابل ٹیکنوکریٹس کا وہ طبقہ بھی ہونا چاہیے تھا جو عنانانِ حکومت، عوامی مسائل اور دستیاب وسائل سے پوری طرح آگاہ ہوتا۔ مگر افسوس کہ ان کی صفوں میں ایسے لوگوں کی بجائے سامراجی غلام شاہ محمود قریشی اوریہودی بغل بچے خورشید محمود قصوری جیسے ننگِ دین و ملت مشرفیوں نے لے لی ہے۔

طلاق کے بعد ہم جنس پرستی اور جنسی عیاشی کی دلدادہ، جمائمہ گولڈ سمتھ نے سعودی عرب کا دورہ کیا تولندن واپسی پر مسلم خواتین کیلئے موجودہ سعودی قوانین پرخالص یہودی برانڈ دجالی تنقید کرتے ہوئے انہیں غیراسلامی قوانین اور سعودی عرب کو پاگل خانہ قراردیا ۔ تو یہ بات لوگوں کی سمجھ میں آ گئی تھی کہ ایک یہودن کے اندر کی اسلام دشمنی کھل کر باہر آ رہی ہے۔ مگر عمران خان کی طرف سے کوئی جواب نہ دینا بڑی معنی خیز بات تھی۔ ناقدین استفسار کرتے ہیں کہ شریعت کے مطابق ایک مسلمان مرد کا طلاق کے بعد عورت سے ہر رشتہ ختم ہوجاتا ہے، تو جمائما اپنے نام کے بعد خان کیوں لگاتی رہی ہیں اورعمران خان اس فعل پر اعتراض یا تنقید کیوں نہیں کرتے۔ آج ” بنیاد پرست اور جاہل ” مسلمان یہ سوال بھی پوچھتے ہیں کہ ڈررون حملے کرنے والے امریکہ کی حامی ایک فاحشہ یہودی جمائمہ گولڈ سمتھ عمران خان سے طلاق کے بعد بھی عمران کی طرف سے ڈرون حملوں کے خلاف مظاہروں میں شریک کیوں اور کس لیے ہوتی ہے؟ پھر جب ان کے جلسوں میں ایک  کھلے گستاخ قرآن گویے ملعون سلمان احمد کے میوزک پروگرامز کے حوالے سے ان پر تنقید کی گئی تو انہوں نے اس کا جواب دینے کی بجائے کسی ضدی بچے کی طرح دوبارہ اس  گستاخ اسلام سنگر کا اپنے سٹیج پر میوزک پروگرام کروا کر تنقید کرنے والوں کو یہ خاموش جواب دیا کہ توہین قرآن و اسلام ان کیلئے کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں اور نہ ہی وہ اس بارے مسلمانوں کی طرف سے کی گئی کسی تنقید سے اپنے گستاخ قرآن حواریوں اور اسلام دشمن روشن خیال دوستوں کو چھوڑ سکتے ہیں۔

 یاد رہے کہ پوری دنیا میں توہین رسالت اور توہین قرآن کی مذموم کاروائیوں کے پس پردہ یہودی لابی کارفرما ہے۔ سو سلمان احمد جیسے گستاخین قرآن و اسلام کا عمران خان کے ساتھ ہونا بھی عمران کی صفوں میں یہودی گماشتوں کی موجودگی کی طرف اشارہ کر کے ان کے تعلقات کے یہودی لابیز سے جڑے ہونے کے شکوک کو تقویت دیتا ہے۔ احباب یاد رہے کہ عمران خان نے اپنی  سوایخ حیات  میں یہ حیران کن انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اپنی سابقہ  بیوی جمائمہ خان کے یہودی بھائی بین گولڈ اسمتھ کے ساتھ مل کر انگلینڈ اور ساؤتھ افریقہ کے درمیان ہونے والے ایک میچ پر جواء کھیل کر ہزاروں پاؤنڈ کمائے تھے جو اس نے بعد میں اپنی پارٹی کے اوپر واجب الادا قرض اتارنے کیلئے استعمال کیے۔ سوال یہ ہے کہ اس اقرار جرم کے بعد بھی الیکشن کمیشن کی طرف سے اس جوا کھیلنے والے کو نااہل قرار کیوں نہیں دیا جا رہا۔ لوگ سوچتے ہیں کہ ۔کیا واقعی ایک جواریا انقلاب لائے گا؟ احباب یہ میرے نہیں عمران خان کے، ان کی اپنی کتاب میں لکھے ہوئے الفاظ ہیں کہ ” جب میں اٹھارہ برس کی عمر میں انگلینڈ جا رہا تھا تو میری ماں کے آخری الفاظ یہ تھے کہ” گوری بیوی مت لانا”۔ میری ماں کا یہ یقین تھا کہ ایک مغربی لڑکی کے لیے ہمارے مذہب اور کلچر کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا ناممکن ہوگا ۔ تاہم میری زندگی میں فیصلوں میں عقل و دانش کی بجائے ، اپنے خوابوں، خواہشوں اور جذبوں کو حاصل کرنے کی جبلت کا زیادہ ہاتھ رہا ہے “۔ تو پھر میں کیوں نہ کہوں کہ ایک ضدی اور جذباتی پٹھان،عقل و دانش کی بجائے جذباتایت کے دھارے میں بہہ کر خواہشات کی تکمیل کرنے کی فطرت و جبلت رکھنے والا عمران خان اس قوم کا مسیحا نہیں ہو سکتا۔ جو شخص قرآن و شریعت سے وفا بھلا کر گستاخین قرآن سنگرز کے ساتھ ملکر نام نہاد انقلاب لانے نکلا ہے۔ جو شخص اللہ اور اپنی ماں کا نافرمان ہے وہ میرا آپ کا اور میری قوم کا راہنما کیوں کر ہو  سکتا ہے؟ ؟۔

( فاروق درویش ۔۔ واٹس ایپ۔۔ 00923224061000)

IK6

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

6 Comments

Click here to post a comment

Leave a Reply

  • Ye Darwesh nahi Kanjar ka Bacha hey jis ney likha,, ye Paison k lia APni Maaa bhi Sale kardey, inke SISTER ka complete profile hamarey pas or or daughter by name ka bhi,,, Jald release kardeinge but waiting for green signal from KHAN,, Theek kaha Hamarey teacher ney,, Zana ki Paidawar Farooq Darwesh jesi Batain karegi.

    • احباب فحش گالیاں نکالنے والا اور فحش نام سے میری فیک ویب سائٹ بنانے والا یہ طوائف زادہ مجنوں بھائی ‘ پی ٹی آئی راولپنڈی کا ذمہ دار اہلکار ہے۔ اس میسیج کے ساتھ ظاہر ہونے والی اس کا آئی پی ایڈریس دوبئی کا ہے اور یہ پی ٹی آئی گلف کی سائٹ پر اکثر بھونکتا رہتا ہے۔۔۔ یہ بدبخت انسان پی ٹی آئی کے ذانی خان کلچر کی بہترن مثال ہے ۔۔ یاد رہے کہ اس کے اس ھاٹ میل اکاؤنٹ سے پہلے جو فیس بک آئی ڈی ہے اس سے یہی شکص پہلے الطاف حسین کیلئے کمپین کرتا تھا اب عمران خان کیلئے کر رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میسسج کے ساتھ ظاہر ہونے والے اس طوائف زادے کے کوائف یہ ہیں۔۔
      farooqkanjardarwesh.pig.com
      ptitenchbhatarwp@gmail.com
      86.99.196.91

  • کالم نگار نے زیادہ تر تصوراتی باتیں کی ہیں ۔۔۔ لیکن میں ایک بات سے ضرور اتفاق کرتا ہوں کہ گستاخ قرآن گویے سے عمران خان کو لاتعلقی کیا اظہار کرنا چاہیے ۔۔۔ ورنہ عمران خان کے بارے میں بھی عوام الناس میں شکوک و شبہات پیدا ہونگے ۔۔۔ لہذا ایسے لوگوں سے جو اپنے آپ کو سیکولر بنانے کی خاطر اللہ، رسول اور قرآن کی گستاخی سے بھی باز نہیں آتے ۔۔۔ وہ پاکستان کی عوامی تحریکوں میں نہیں ہونے چاہیے ۔۔

  • farooq sahab .Allah app ko jazaey khair dey . app ki sab post pad raha hoon aur app k leay duaa karta hoon k app esi tarha en logoon ko expose kartey rahain . baki wonderful post . we like it very much . keep going on . wasalam

Featured

%d bloggers like this: