حالات حاضرہ

اہلِ شعر و ادب اور صاحبانِ دانش کا بازارِ حسن و عشق


ہر معاشرے کے اپنے معاشرتی قوانین اورمزاجِ ادب ہیں۔ مغرب کے برعکس ہماری مشرقی تہذیب میں جنسی حدیں مذہب و اخلاق کی متعین کردہ ہیں۔ اور انہی کی پاسداری سے اصنافِ مخالف کے درمیان رشتوں کا تقدس اور احترام قائم ہے ۔ اہلِ مغرب میں ” جس کے ساتھ چاہو شب گزارو ” کا رواج عام ہے تو مشرق میں بھی عشق کی ابدی سچائیاں اور دائمی محبت کی تلاش میں سرگرداں عشاق کی کمی نہیں ۔ یہاں بھی محلات شاہی، ایوانان صحافت ، ادبی بیٹھکوں اور یارانِ محفل و غزل تک کے کوئی کسی کے تیرِ نظر کا کھائل، کوئی ہجر میں سینہ چاک اور کوئی سچے عشق یا گرم بستر کی طلب میں سرگرداں نظر آتا ہے ۔ اس معاشرے میں قوتِ اظہار کے سبب عام آدمی سے مختلف سمجھا جانے والا ” قلمکار ” بھی واردات عشق سے محفوظ نہیں ہے۔ مگر خیال رہے کہ شاعر ، ادیب یا صحافی بھی دیوتا نہیں، ایک انسان ہی ہوتا ہے ۔ وہ بھی عام انسان کی طرح گوشت پوست کا جسم اور دھڑکتا دل رکھتا ہے۔ وہ بھی رنگین دلوں کی طرح خواب دیکھتا اور پھر انہی خوابوں کا اسیر بن کر کسی معشوق کی آغوش یا بے مراد ہو کر بازارِ حسن تک جا پہنچتا ہے۔ حدود و اور اخلاق کی سلاخوں میں قید مشرقی معاشرے میں معاملات حسن و عشق پر قلم اٹھانا معیوب سمجھا جاتا ہے ۔ لیکن یاد رہے کہ جس مغربی تہذیب میں مرد اور عورت کے سماجی روابط یا جنسی تعلقات معاشرے کا خاصہء عام اور ناقابل تنقید ہیں وہاں بھی جان کیٹس، فینی بر جیسے عظیم شعرا و ادیب عشق کے مرض الموت میں مبتلا ہو کر خون تھوکتے مر جاتے ہیں۔

poets1

معروف فلسفی اونا مونو کا کہنا تھا کہ ” جسم اگر لذت کا ذریعہ ہوتا ہے تو روح درد کے رشتے کی بدولت متحرک ہوتی سے ” ۔ مگر سچے عشق کے ساتھ ساتھ  معاملہ مشک یعنی ” سچے فلرٹ ” کا بھی ہے جسے نظیر اکبرآبادی نے یوں بیان کیا ہے ” دل شاد کیا، خوش وقت ہوئے اور چل نکلے “۔ شاید مرزا غالب نے عاشقوں کو اسی لیے یہ مشورہ دیا تھا کہ “مصری کی مکھی بنو، شہد کی مکھی نہ بنو “۔ ان شعرا  کی عشق کہانیاں دیکھیں تو کسی مردِ دانا کا یہ قول یاد آتا ہے کہ عشق کرنا آسان ہے مگر چھوڑنا مشکل ہے۔ مجروح سلطان پوری کہتے ہیں، معاشقہ انسان کی فطرتِ ثانیہ ہے جب یہ حسن پرستی کی حد سے نکل کر لذت پرستی کی حد میں آجائے تو عیب بن جاتا ہے، یہ بڑے بڑے تاریخی واقعات کے ظہور کا سبب بھی بنا ہے اور بڑی چھوٹی تخلیقِ فن کا سبب بھی، معاشقہ برگزیدہ ہستیوں سے لے کر ہم جیسے معمولی انسانوں کیلیے کوئی حیرت ناک ورثہ نہیں۔ قدیمی قول ہے کہ مکمل عورت وہی ہے جو صبح کی پوتر پوجا کی طرح ماں ہو، شام کے سائے میں جامنوں اور آموں کے باغ میں ساتھ کھیلنے والی بہن، دھوپ کے کھیتوں میں ساتھ تپنے والی جیون ساتھی اور رات کی سیج پرویشیا ہو۔ اس مکمل اور ” آئیڈیل عورت” کی تلاش میں انسان کہاں کہاں پہنچتا ہے وہ کبھی کبھی ناقابل یقین ہوتا ہے. دیکھا جائے تو آج کے جدید دور کے شعرا،  ادیب  و صحافی  بھی اسی روش پر گامزان  ہیں جو صدیوں سے اس لکھاری برادری کا جذباتی خاصہ رہا ہے۔

جوش ملیح آبادی اور ہری چند اختر کا بازار حسن کے کوٹھے پر جانا ہوا تو نائیکہ نے دعوت دی کہ اپنی پسند کی لڑکیاں چن لیں ۔ ہری چند  بولے کہ محترمہ ہم تو یہاں صرف گانا سننے کیلئے آئے ہیں۔ تو جواب میں ان لڑکیوں میں سے ایک تیز طرار شوخ حسینہ بولی، ” اچھا تو آپ ” انسپریشن” یہاں سے لیں گے اور “تخلیق” گھر پر جا کر کریں گے ” ؟ ہم اردو ادب کی ” تاریخِ عشق ” کا جائزہ لیتے ہیں تو قطب شاہ کی بھاگ متی، غالب کی ستم پیشتہ ڈومنی، مومن کی اُمت الفاطمہ صاحب جی ، داغ کی منی بائی حجاب ، فانی کی نور جہاں اور تفن جان، اختر شیرانی کی سلمی، اسرار الحق مجاز کی نورا، میرا جی کی میراسین جیسے نسوانی کرداروں کی اہمیت سے ہم نا آشنا نہیں یہاں شراب و شباب کے رسیا شعرا کے علاوہ صوفی اور قلندر کہلوانے والے لوگ بھی عشق کے قاتل جراثیموں سے محفوظ نہیں رہے۔ ولی دکنی جیسے صوفی شاعر کے کلام میں امرد پرستی اور عشق صنفِ نازک دونوں کی بو آتی ہے۔ منی بائی حجاب کا عشق مرزا داغ کیلئے زخمِ محبت ناسور بنا کہ انہوں نے فریادِ داغ لکھنے کے بعد بھی حجاب سے تعلقات قائم رکھے۔ جنگ آزادیء ہند 1857ء میں انگریزوں کا ساتھ دینے والے مرزا غالب کی شادی شدہ زندگی میں ازدواجی بے وفائی کے کئی واقعے ایسے ہیں جن کا اقرار خود غالب نے بھی کیا ہے اور ان کی بیوی امراؤ بیگم بھی اس سے با خبر تھیں۔

poets2

نظیر اکبرآبادی قلندر منش تھے مگر روزانہ بازار حسن سے گزرتے اور طوائفوں سے پان بیڑے وصول کرتے جاتے تھے۔ مومن نے اپنا پہلا عشق نو برس کی عمر میں پڑوسن کی لڑکی سے کیا ۔ اور پھر اس کی اچانک موت سے ایک عرصہ ” تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے، ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا ” کی تصویر بنے رہے ۔  انکے نام کے ساتھ ایک طوائف اُمت الفاطمہ کا نام بھی وابستہ ہے۔ علامہ شبلی نعمانی نے پہلی بیوی کی وفات کے بعد  تیس برس چھوٹی خاتون سے شادی رچا لی ۔ ان کے کلام سے جس نوعیت کے عشق کا اندازہ ہوتا ہے اس کی نوعیت کم وبیش جنسی ہے۔ مولانا حالی فرماتے ہیں کہ کوئی کیسے مان سکتا ہے کہ یہ اس شخص کا کلام ہے جس نے سیرۃ النعمان ، الفاروق اور سوانح مولانا روم جیسی مقدس کتابیں لکھی ہیں۔ ان کا عطیہ فیٖضی سے عشق بھی ایک داستان حسرت ہے لیکن مابعد جب عطیہ فیضی نے ایک یہودی آرٹسٹ سے شادی کر لی تو یہ عشق اپنی اہمیت کھو بیٹھا میرا جی نے بنگالی لڑکی میرا سین کے عشق میں اس درجہ دیوانے ہوئے کہ اپنی ہیئت ہی بدل ڈالی اور پھر نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستہ بھول گیا۔ فراق گورکھپوری عشق کے معاملے میں جنسی تفریق کے قائل نہیں تھے۔ وہ ہم جنس پرستی کو بھی قابلِ اعتراض نہیں سمجھتے تھے۔ جگر مراد آبادی نے پہلا عشق مراد آباد کی حسین پنجابن طوائف سے کیا ۔ مابعد روشن فاطمہ نامی خاتون سے عشق کے سلسلے میں انہیں جیل بھی جانا پڑا.

معاشقوں کے جادوگر ساحر لدھیانوی کے معاشقوں کی طویل لسٹ میں سب سے اہم نام امرتا پریتم ہیں جنہوں نے بعد میں اپنے اس معاشقے پر ” رسیدی ٹکٹ” بھی چسپاں کردیا تھا تاکہ سند رہے، امرتا پریتم کے ایک بیٹے کی شکل ہو بہو ساحر جیسی تھی۔ ن م راشد کی پہلی شادی ان کی مرضی کے خلاف ہوئی، بیوی نہایت صابر اور سلیقہ مند خاتون تھیں، دوسری شادی ان کے ایک عشق کے نتیجے میں ایک یورپی خاتون سے ہوئی جس نے انہیں ناقابلِ بیان اذیتوں میں مبتلا کیے رکھا۔ جانثار اختر شراب نوشی اور شاعری کی طرح عاشقی میں بھی مشہور رہے۔ عصمت چغتائی ایک بار فلم اسٹوڈیو گئیں، بھائی نے گھر سے نکل جانے کو کہا تو اتفاق سے شاہد لطیف عصمت سے ملنے آئے تھے۔ وہ اس رات شاہد لطیف کے گھر رہیں اور پھر کچھ عرصہ بعد عصمت چغتائی سے مسز شاہد لطیف بن گئیں۔ جوش ملیح آبادی کی “یادوں کی بارات ” میں شامل اٹھارہ معاشقوں کا تذکرہ ناقدین کی سخت تنقید کا نشانہ بنا رہا۔ جوش نے امرد پرستی سے لیکر ہر طرح کے ناقابلِ یقین واقعات کا ہالا اپنے اطراف یوں بُنا ہے کہ ان کا چہرہ دھندلا جاتا ہے۔ ان کے معاشقوں میں مس میری رومالڈ، مس گلیسنی سمیت بہت سے ناموں کی ایک طویل فہرست ہے۔ شاعر مزدور احسان دانش بھی اپنی سوانح حیات میں ایک رقاصہ “شمعی” کا ذکر خود ہی کر بیٹھے  ۔ ۔

 روس کے کیمونسٹ تاجداروں کی آنکھ کے تارے فیض احمد فیض گورنمنٹ کالج کے زمانہء طالب علمی کے دوران ہی سینے میں عشق کا تیر کھا بیٹھے۔ لیکن بقول فیض ” انجام وہی ہوا جو ہوا کرتا ہے، اس کی شادی ہوگئی اور ہم نوکر ہوگئے “۔ پہلے عشق کی ناکامی کا غم ابھی تازہ تھا کہ امرتسر میں ڈاکٹر رشیدہ جہاں سے ملاقات ہوئی ۔ فیض نے کارل مارکس کی کتاب “کمیونسٹ مینی فیسٹو” دی اور پھر ” مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ ” کا گیت سنا دیا۔ ایلس فیض کی رفاقت بھی انہی عاشقانہ خصوصیات کے سبب نصیب ہوئی. شورش کاشمیری بازار میں اس کوثر نیازی کا پیچھا کرتے رہے جو مسلم لیگ ہائی سکول میں پہلا پیریڈ لینے کے بہانے وہاں آتا جاتا تھا۔ صوفی غلام مصطفی تبسم اپنے گھر کا ڈرائینگ روم چھوڑ کر ہیرا منڈی کے بازار شیخوپوریاں میں حقہ کشی کر کے ٹوٹ بٹوٹ کی نظمیں لکھتے رہے۔ منٹو بھی اسی علاقے میں تانگہ بانوں کو نمبر الاٹ کرتے رہے۔ پروین شاکر اور ثروت حسین کی داساتانِ محبت بھی بڑی عجیب و تلخ ہے۔ پروین شاکر کی بے وفائی سے دل برداشتہ ثروت حسین 1993ء میں ٹرین تلے خودکشی کی کوشش میں دونوں پاؤں سے محروم ہوا اور پھر 3 برس بعد میں ایسی ہی ایک کوشش میں اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ شکاگو میں مقیم پاکستانی شاعر افتخار نسیم مرحوم اردو ادب کے پہلے ” ہم جنس پرست ” شاعر کہلاتے ہیں۔ وہ اپنے اس راز کا انکشاف کرنے کے بعد مرتے دم تک دوسرے شاعروں کو بھی اپنے جیسا بنانے کیلئے کوشاں رہے۔ آج کل ان صاحب کے قریبی رفقا حضرات  قادیانی  حلقوں کے تعاون سے امریکہ اور مغربی ویزوں کی خیرات بانٹے نظر آتے ہیں۔۔

poet3

بدیسی شعرا و ادیبوں میں نوبل انعام یافتہ رابندر ناتھ ٹیگور کی پہلی محبوبہ نالنی تھی ۔ اور پھر مس مول، مس لانگ، مس ویوئیاں، وکامپوو، لوسی اسکاٹ کے علاوہ اپنی بھابھی کاومبری سے بھی انہیں مثالی عشق رہا ۔  جارج  برنارڈ شا نے شارلٹ سے شادی کے بعد بھی اپنے انگنت معاشقوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ اداکارہ ایلن ایلس لاکیٹ، جینی پیٹرسن، فلورنس فار، ایننی بیافٹ، مے مورس، کارل مارکس کی بیٹی ایلز مارکس، ایڈتھ اسٹیلا بیرس سے ان کا تعلق رہا ۔ شادی کے بعد ان کی بیوی شارلٹ کا کہنا تھا کہ ” کوئی بات نہیں وہ یہ ضرورت کہیں اور پوری کر سکتا ہے”۔ روشن خیالوں اکے محبوب کارل مارکس کو سولہ سالہ عمر میں ایک امیر زادی جینی وان ولٹیفائن سے عشق ہوا تو آٹھ سال بعد اسی سے شادی کی۔ پھر ایک سبز آنکھوں والی محبوبہ جینی سے عشق ہوا تو اس سے بھی شادی رچالی۔ مارکس نے ایک شادی شدہ اطالوی خاتون اور انیس برس بڑی کزن انتو فلیس سے بھی عشق فرمایا۔ مارکس کی طبیعت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ  شہوانی شاعری، عریاں تصاویر اور جنسی لطائف کا زبردست رسیا تھا۔ عشق کے چکر میں عمر بھر کنوارے رہنے والے گورے شعراء میں کالرج، پوپ ، کوپر، کالنس، گرے، گولڈ اسمتھ اور عظیم فلسفی نیتشے کے نام نمایاں ہیں۔ نامراد عشق کی بدولت جن شاعروں کی شادی شدہ زندگی ناکام وناشاد رہی، ان میں شیکسپیئر، بائرن، ملٹن، شیلے وغیرہ قابلِ ذکر ہیں ۔ ۔ ۔ میں جانتا ہوں کہ پاکستان کے شہنشاہان قصر، ڈانانِ صحافت اور دنیائے شعر و ادب کی عظیم ہستیوں کی کرپشن ، غداریوں یا رنگ رنگیلی عشق کہانیوں کے قصے لکھنے کا نتیجہ ” نامعلوم افراد ” کے ہاتھوں پراسرار موت بھی ہو سکتا ہے ۔۔۔۔ لیکن پھر بھی ضرور لکھوں گا کہ اب پچپن سالہ عمر کے بعد  تو یہ زندگی  ویسے بھی ایک ” بونس” ہی ہے۔۔۔

( فاروق درویش – 03224061000 – 03324061000 )

نوٹ : اس مضمون کیلئے محترم تنویر شاہد اور دوسری ادبی کتابوں سے مدد لی گئی ہے

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

Featured

%d bloggers like this: