بین الاقوامی حالات حاضرہ

شاہِ ست رنگ نے اک حشر سجایا ہے نیا


یوم تکبیر آتا ہے اور یہ خاموش سوال چھوڑ جاتا ہے کہ آخر وہ کیا وجوہات ہیں کہ تمام عالمی طاقتوں کے سامنے سینہ تان کر ایٹمی دھماکے کرنے والا نواز شریف تین بار برسراقتدار رہنے کے باوجود، شاہ فیصل یا مہاتیر محمد جیسا ہردلعزیز قومی و ملی راہنما نہیں بن سکا۔ میرے مطابق اس کی وجہ اسلامی تاریخ اور عظمت رفتہ کےحکمرانوں کے بارے  مطالعہ کی کمی یا مغربی اور بھارتی مفادات کے چاکر دانشوروں کی طرف جھکاؤ رہا ہے۔ وہ دوستوں کے روپ میں عیار دشمن پہچاننے کے گُر سے ناواقف ہیں اور اپنے ارد گرد موجود خوشامدی ٹولے کو اپنا حقیقی دوست سمجھ کر خود اپنے دشمن بن بیٹھے ہیں۔ انہیں یاد رہے کہ تاریخ کبھی کسی کو معاف نہیں کرتی اورعالمی سیاست ہمیشہ سے ہی چوں چوں کا عجیب و غریب مربہ بنی رہی ہے۔ یہاں اپنے ملکی و قومی مفادات کا تحفظ کرنے والے لیڈر کامیاب ہوں تو قومیں بامراد اور آنکھوں دیکھ کر فریب کھانے والے رنگیلے حکمرانوں کی قومیں نامراد ٹھہرتی ہیں۔ کچھ تعجب نہیں کہ جہاں بھارت کے ایران جیسے مسلم ممالک کے ساتھ اٹوٹ تجارتی اور ثقافتی رشتے ہیں، وہاں نریندر مودی کو اسرائیل کا نزدیک ترین دوست اور منظور نظر بھی سمجھا جاتا رہا ہے۔ مسلمانوں کے سفاک قاتل اور ارض فلسطین کے خونی بھڑیے کے نام سے مشہور ایريل شیرون وہ پہلا اسرائیلی لیڈر تھا جس نے ہندو انتہا پسند سیاسی گروہوں راشٹریہ ہندو پرشاد اور بی جے پی کی سابقہ حکومت میں بھارت کا باقاعدہ سرکاری دورہ کیا تھا۔ حالیہ برسوں میں اسرائیل نے اسی نریندر مودی کی صوبائی سرکار میں مسلمانوں کی قتل گاہ بننے والے بھارتی صوبہ گجرات میں بڑے پیمانے پر صنعتی سرمایہ کاری بھی کی ہے۔

نریندر مودی کی جیت پر اسرائیلی پریس، عوامی حلقوں اور مرزائیت جیسے یہودی بغل بچہ گروہوں کا زبردست جوش مودی سرکار اور اسرائیل کے درمیان اٹوٹ رشتوں کا عکاس تھا ۔ اسرائیلی اخباروں نے شہ سرخیوں میں لکھا  کہ نریندر مودی ہمیشہ سے اسرائیل اور یہودی کمیونٹی کے بہترین دوست رہے ہیں، لہذا قوی امید ہے کہ وہ خطے میں اسرائیلی مفادات کیلیے بہترین بھارتی وزیر اعظم ثابت ہوں گے۔ قوم اس بات کا اندازہ لگا سکتی ہے کہ جنوبی ایشیا کے اس خطے میں اسرائیلی مفادات کن امور سے جڑے ہیں اور پاکستان کی ایٹمی تنصیبات اہل یہود و سامراج  کو کسی آسمانی عذاب جیسے خوف میں کیوں مبتلا کئے رکھتی ہے۔ حالات سے باخبر رہنے والےاہل علم اس امر سے بھی واقف ہیں کہ ماضی میں اسرائیل کے جدید جیگوار اور ہائی پروفائیل میراج لڑاکا بمبار طیارے، بھارتی فضائیہ کے رنگ و ڈیزائین اور یہودی پائیلٹ بھارتی فضائیہ کے ہوابازوں کی یونیفارم میں پٹھانکوٹ اور سری نگر کے جنگی ہوائی اڈوں پر پاکستانی ایٹمی تنصیبات پر حملوں کیلئے موجود رہے ہیں، مگر انہیں پاکستانی شاہینوں کا سامنا کرنے کی جرات تک نہ ہو سکی یا انہیں اس سازش کے بینقاب ہونے پر پاکستانی عقابوں کا نشانہ بننے سے پہلے ہی واپس اسرائیل بلا لیا گیا تھا۔ بھارت اور اسرائیل کی ازلی دوستی اور مودی کے حوالے سے امریکہ اور مغربی دنیا کا پریس میڈیا بھی اسرائیلی میڈیا کا ہمنوا و ہمخیال ہے۔ معروف مغربی میگزین انٹرنیشنل بزنس ٹائمز نے نریندر مودی کی جیت سے پہلے ہی یہ پیشین گوئی کر دی تھی کہ، ” مودی جنوبی ایشیا کے خطے میں اسرائیل کے بہترین دوست ہوں گے” ۔

 قومی سلامتی اور ملکی مفادات پس پشت رکھ کر خونخوار بھیڑیوں سے یک طرفہ “امن کی آشا” کے خواب دیکھنے والے حکمرانوں اور شاہ رخ، سلمان خان اور ترینہ کیف کی پرستار نئی نسل کو یاد رکھنا ہو گا کہ تقسیم ہند کے بعد وشوا ہندو پرشاد ، شیوسینا، بجرنگ دل اور بی جے پی نے فرقہ پرستانہ اور ہندوتوا ذہنیت کی بنیاد پر مسلمانوں کے وجود کو بھارت میں تسلیم ہی نہیں کیا۔ قیام پاکستان کے موقع پر بھارت اور جموں و کشمیر میں بی جے پی، شیو سینا، بجرنگ دل نے مذہب کے نام پر مسلمانوں کے سفاک قتل عام میں ہندوتوا کے عسکری دستہ کا رول ادا کیا تھا۔ انتہائی خطرناک امر ہے کہ حالیہ الیکشن میں مسلم مخالف بی جے پی اتحاد نے تین سو سے زائد نشستیں حاصل کی ہیں ، مگر مسلمانوں کے دشمن ہندتوا گروہوں کی طرف سے پیدا کی گئی اسلام دشمنی کی اس پراگندا فضا میں پورے بھارت سے صرف چوبیس مسلمان لوک سبھا تک پہنچ سکے ہیں۔ حیران کن طور پر چند ایک ریاستیں ایسی بھی ہیں جہاں سے کوئی ایک مسلمان بھی کامیاب نہیں ہوسکا۔ دنیا کی آنکھوں کے سامنے بابری مسجد شہید کرنے کا دلخراش واقعہ بھی بال ٹھاکرے مافیہ اور اسی بی جے پی کے مقدس دہشت گردوں ہی نے انجام دیا۔ بھارتی گجرات میں تین ہزار مسلمانوں کو قتل کرنے اور زندہ جلانے کا بدترین واقعہ بھی اسی بی جے پی نے دہرایا۔ سمجھوتہ ایکسپریس میں سینکڑوں مسلمانوں کو زندہ جلا دینے میں ملوث مجرم کرنل پروہت اور دوسرے قاتلان بھی اسی نریندر مودی کے پروردا، ہندوتوا کے مقدس جہادی تھے۔ ان کے علاوہ بیسٹ بیکری اور عشرت جہاں انکاؤنٹر جیسے بیسیوں کیسز بی جے پی کی متعصب و فرقہ پرست ذہنیت کے حقائق فشاں ثبوت ہیں۔ اسلام کی عظمت رفتہ کی نشاں سلطنت ہسپانیہ کے زوال اور سقوط غرناطہ کے بعد مسلم تہذیب و ثقافت اور علمی ورثہ کی بربادی، مساجد کی گرجا گھروں میں جبری تبدیلی اور اذانوں پر پابندی کی دلدوز داستانوں کے قارئین کے ذہنوں میں ایک ہندوانتہا پسند جماعت کو واضح اکثریت ملنے کے بعد یہ خدشات ابھر رہے ہیں کہ اب بھارت میں مسلمانوں کا مستقبل کیا ہوگا

modi1

دس ہزار مسلح کمانڈوز اور دنیا کے جدید ترین حفاظتی و جاسوسی نظام کی فول پروف حفاظت میں نریندر مودی کی تقریب حلف برداری  کے غیر معمولی حفاظتی اقدامات سے ظاہر ہوتا تھا کہ گویا یہ تقریب لشکر طیبہ کے ہیڈ کواٹرز کے آس پاس منعقد ہو رہی تھی جس پر پاکستان سے لشکر طیبہ اور کشمیر سے حریت پسند کسی بھی لمحہ حملہ آور ہوسکتے تھے۔ مودی نواز شریف ملاقات کے فوری بعد بھارتی پریس کے مطابق بھارتی وزیراعظم نے نواز شریف کے سامنے پاکستان سے ہونے والی دہشت گردی کا معاملہ اٹھایا اور ان کے سامنے جو فوری مطالبات رکھے، ان میں سے ایک مطالبہ ممبئی حملوں کے منصوبہ سازوں کو انصاف کے کٹہرے میں لا کر سزا دینے اور دوسرا ممبئی کے حملہ آوروں اور ان کے منصوبہ سازوں کی فون پر ہونے والی بات چیت کے وائیس سمپلز یعنی آواز کے نمونے فراہم کرنے کا ہے۔ نریندر مودی نے نواز شریف پر زور دیا کہ ممبئی کے حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ پر کاروائی کا عمل تیز کیا جائے۔ بھارتی اخبارات نے مودی کے قریبی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت بڑھانے پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔ لیکن خدشات یہی ہیں کہ تجارت بھڑانے کے والہانہ جذبات کے تحت سیمنٹ جیسی اہم پراڈکٹس کے بدلے آلو اور پیاز لینے والے فلاسفر حکمرانوں کی اس مفاد پرستانہ دانشوری کی بدولت بیس روپے سے اسی روپے فی کلو تک پہنچ جانے والا آلو بھی اب دوسری اشیائے خورد و نوش کی طرح مفلسان وطن کی دسترس سے دور نکل جائے گا۔ لیکں ہاں پاکستانی فیکٹریوں کے بنے سیمنٹ سے بھارت میں جدید کارخانے اور سرحدوں پر بنکرز ضرور تعمیر ہوں گے۔

modi2 نریندر مودی کے بارے میں ہمارے پالیسی ساز اداروں اور بھارتی آقاؤں کے بغل بچہ مشیروں کی انمول مشاورت کے زیر اثر حکمرانوں کو جو امیدیں تھیں وہ دم توڑ گئی ہوں گی۔ جن نام نہاد زیرک سیاست دانوں کو امید تھی کہ مودی بھی واجپائی کی طرح پاک بھارت تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے کوئی بڑی پیشرفت کر سکتے ہیں ان کی خوش فہمی مودی کے ” امن پسند مطالبات” سن کر دور ہو گئی ہو گی۔ اکیسویں صدی کو بھارت اور ہندوتوا کی صدی بنانے کا نعرہ لگا کر انتخابات جیتنے والے نریندرا مودی اپنے بھارت دیش کیلئے تو ہندوتوا برانڈ مخصوص امن اور اپنی ملکی ترقی کے منصوبے بھی رکھتے ہوں گے۔ لیکن وہ پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے پڑوسی ملکوں کے بارے میں کیا منصوبہ بندی رکھتے ہیں، اس حوالے سے آہستہ آہستہ سب کچھ سامنے آتا جائے گا۔ آج پاکستان کا ہر محب وطن قلم کار درست اندازہ لگا رہا ہے کہ مودی اپنی شدت پسند فطرت کے مطابق پاکستان پر دہشت گردی کے حوالے سے مزید الزامات لگا کر اس کا امیج خراب کرنے کی کوشش کریں گے، لیکن کوئی ” امن کی آشا” برانڈ پاکستانی حکمران اقوام عالم یا ان بھارتی ہم منصبوں کے سامنے بلوچستان میں کھلی بھارتی مداخلت اور کراچی کے امن کے قاتل گروہوں کی مبینہ پشت پناہی کے سنگین معاملات نہیں اٹھائے گا۔ نواز شریف صاحب کو یاد رکھنا چاہیے کہ نریندر مودی کا دیرینہ تعلق راشٹریہ سیوک سنگھ نامی انتہا پسند مسلم دشمن تنظیم سے رہا ہے اور اسی آر ایس ایس کا تازہ ترین بیان یہ ہے کہ پاکستان سے خطرہ لاحق ہو تو اس کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے میں قطعی بھی دیر نہ کی جائے۔

پاکستانی قیادت کو اس بات کا خیال رہے کہ بی جے پی نے آر ایس ایس کے اسی جارحانہ موقف ہی کی تقلید میں اپنے تازہ انتخابی منشور میں بھارت کے مفاد میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل کرنے کا ڈاکٹرین بھی دیا ہے۔ احباب ذرا سوچیے کہ بھارت ماتا کو دنیا کی عظیم طاقت اور اکیسویں صدی کو ہندوتوا کی صدی بنانے کا خواب دیکھنے والے نریندر مودی اور ان کی اسلام دشمن انتہا پسند جماعت پاکستان کے ساتھ امن اور دوستی کی پالیسی کیسے برداشت کر سکتی ہے۔ جو ہندوتوا پاکستان کو بھارت ماتا کے راستے کا پتھر سمجھتی ہے اس سے ” امن کی آشا” کیا معانی رکھتی ہے۔  ممتاز کالمسٹ محترمہ طیبہ ضیا چیمہ نے انکشاف کیا ہے کہ نریندر مودی کی کابینہ میں چودہ ایسے لیڈروں کو وفاقی وزیر بنایا گیا ہے جن کے خلاف قتل وغارت اور مذہبی تنازعات پھیلانے جیسے سنگین مقدمات درج رہے ہیں۔ ایسے غنڈہ گرد عناصر اور مذہبی دہشت گرد بھارت کے مسلم معاشرے کیلئے کیا مشکلات کھڑی کریں گے، یہ  آنے والا وقت پی بتائے گا۔ بحرحال بھارتی زبان برداری کے ماہر سیفما دانش وروں کی بھارت برانڈ مشاورت کے طلسم ہوش ربا کے قیدی میاں نواز شریف صاحب کی آنکھیں کھولنے کیلئے انتہائی اہم خبر یہ ہے کہ نریندر مودی کے منصب سنبھالنے کے پہلے دن کا آغاز جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والی دفعہ 370 کو ختم کرنے کے مشن سے ہوا، سو پاکستان کے زیر کنٹرول آزاد جموں و کشمیر کو بھی ہمیشہ سے بھارت کا حصہ قرار دینے والے نریندر مودی کے اگلے اقدامات کیا ہوں گے، ان کے حوالے سے ایوان حکومت کے لوگوں کی آنکھیں بند بھی ہوں تو امید رکھنی چاہیے کہ کم از کم افواج پاکستان اور ملکی سلامتی کے ضامن حساس اداروں کی آنکھیں کھلی اور دماغ روشن ہیں. تازہ ترین افسوس ناک خبر یہ ہے کہ ہندتوا کے شدت پسندوں نے نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے صرف چند دن بعد ہی بھارت میں اذان فجر پر پابندی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ خونخوار آدم خور درندوں سے امن کی آشا رکھنے والوں کے دماغوں کی بتی کب جلتی ہے۔ ۔ ۔

modi3
ملکی سیاست میں امن کے علمبردار حافظ سعید، آزادیء کشمیر اور بھارتی جارحیت کے حوالے سے اٹل موقف اور صدائے حق کا درجہ رکھتے ہیں۔

شاہِ ست رنگ نے اک حشر سجایا ہے نیا
بندگی دہر کی اب حکمِ رواں ٹھہرے گی

( فاروق درویش ۔ 03224061000  )

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

1 Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

Featured

%d bloggers like this: