تاریخِ ہند و پاکستان حالات حاضرہ سیکولرازم اور دیسی لبرل نظریات و مذاہبِ عالم

مسندِ عشق پہ بیٹھے ہیں محمد کے گدا ہیں


بہت کم لوگ واقف ہوں گے کہ 31 اکتوبر مجاہد ناموس رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم غازی علم دین شہید رحمۃ اللہ علیہ کا یوم شہادت ہے۔ حرمت رسالت مآب ص پر اپنی جان نچھاور کرنے والا یہ فقیر منش سفید پوش عاشق رسول موچی دروازے لاہور کے علاقے کوچہ چابک سوارں میں پیدا ہوا. والد طالع محمد پیشے کے اعتبار سے معمولی ترکھان تھے. غازی علم دین آکسفورڈ یا کیمرج یونیورسٹی کا اعلی تعلیم یافتہ ماڈرن مسلمان تھا نہ پاکستان کے کسی سیکولر میڈیا پرسن کے دجالی نظریات کا حامی میڈم ملالہ جی کا ایسا پرستار کہ جو توہین رسالت کو معمولی نوعیت کا فعل قرار دیکرانسانی حقوق کے نام پر خاموشی اور منافقانہ درگذر کا دجالی نظریہ رکھتا ہو۔ وہ امریکی برانڈ اسلام کا پیروکار روشن خیال نہیں بلکہ اپنے محلے کے مدرسے تعلیم حاصل کرنے والا ایک عام سا مسلمان تھا۔ لیکن اس کا ایمان کامل تھا کہ کسی بھی مسلمان کیلئے نبیء برحق کی ناموس کی بڑھ کر کچھ بھی عزیز نہیں۔ اسے معلوم تھا  کہ نبی کریم ص نے فتح مکہ کے موقع پر تمام مشرکینِ مکہ  کو عام ghazi4معافی کا اعلان فرمایا تھا لیکن ذات نبوی و شان رسالت کے بارے شاتمانہ کلمات کہنے والے گستاخین کو معاف نہیں کیا گیا تھا۔ ان شاتمین قرآن و رسالت کے بارے میں خود آپ ص کے احکام تھے کہ اگر یہ گستاخین غلافِ کعبہ میں بھی چھپ جائیں تو وہاں بھی قتل کر دیا جائے۔  غازی علم دین کا تعلق ایک مزدور ترکھان گھرانے سے تھا سو بنیادی تعلیم کے بعد اپنے آبائی پیشہ کو ہی اختیار کیا اور اس فن میں اپنے والد اور بڑے بھائی میاں محمد امین کی شاگردی اختیار کی۔ روزگار کی تلاش میں کچھ عرصہ بعد کوہاٹ کے بنوں بازار میں اپنا فرنیچر سازی کا کام شروع کیا. احباب تاریخ شاہد ہے کہ نبیء آخر الزماں صلی اللہ علیہ کے کسی گستاخ نے جب بھی ان کی توہین میں زباں کھولی یا قلم اٹھایا، شمع رسالت کے پروانے اس ملعون کو عبرت ناک سبق سکھانے کیلئے بے چین و بے قرار ہوگئے۔ دنیا کے کسی گوشے میں ناموس شہہِ دیں صلی اللہ علیہ وسلم پر شاتمانہ حملہ ہو،عاشقانہ مصطفے کا خون کھول اٹھتا ہے اور پوری امت مسلمہ سراپا احتجاج بن کراٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں انگریزوں کی کھلی سرپرستی کے باعث متعصب ہندوﺅں نے متعدد بار ایسی ناپاک جسارت کی مگر سرفروشان اسلام نے شاتمانہ حرکت کے مرتکب کسی ملعون کو جہنم رسید کرنے میں دیر نہیں کی ۔ ایسے ہی جانبازوں اور سرفروشوں میں میرٹھ سے قاضی غازی عبدالرشید شہید ، صوبہ سندھ سے غازی عبدالقیوم شہید اور سید علی ہجویری کی نگری سے غازی علم دین شہید ہماری تاریخ کے وہ درخشاں ستارے ہیں جنہوں نے اپنی لہو کے نذرانے پیش کرکے چراغ رسالت کی ضوفشانی کا عظیم فریضہ ادا کیا ۔

1923ء میں لاہور کے ایک ہندو پروفیسر چمو پتی نے ملعون سلمان رشدی کی طرح ایک گستاخانہ کتاب رقم لکھی جس میں حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی  ذات بابرکات پر ناروا حملے کئے گئے ۔ اس شاتمانہ کتاب کے چھپنے پر مسلمانان برصغیر میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ۔ ہر جانب بے چینی و اضطراب کی کیفیت طاری تھی اور ہندو مسلم فسادات کا ماحول بنتا جا رہا تھا ۔ کتاب کے پبلشر راجپال پر فرقہ وار منافرت پھیلانے کے جرم میں مقدمہ چلا اور عدالت نے مجرم کو دو سال قید با مشقت اور ایک ہزار جرمانے کی سزا سنائی مگر پنجاب ہائی کورٹ کے چیف جسٹس متعصب ہندو سر شادی لال نے راج پال کو بری کر دیا ۔ اس فیصلے سے مسلمانان ہند میں بری طرح اشتعال و اضطراب نظرآنے لگا ۔ لہذا مسلمانوں کے ہر طبقہ فکر میں اس ملعون کو نابود کرنے کی کشمکش بڑھ گئی ۔ احباب یہ دنوں کی بات ہے کہ جب آج کل جیسے ولائتی بغل بچے روشن خیالوں کا کوئی وجود نہ تھا۔ وگرنہ عین ممکن ہے کہ اس وقت بھی عاصمہ جہانگیر جیسی بال ٹھاکری داسیاں حقوق انسانیت کے نام پر اس گستاخ رسالت کے حق میں مظاہرے کرنے نکل پڑتیں۔ گورنر سلمان تاثیر جیسے ولائتی بغل بچے اس ملعون راج پال کو ساتھ بٹھا کر پریس کانفرنسیں کرتے۔ یا پھر کوئی خصوصی انگریزی طیارہ اسے لیکر سیدھا انگلستان روانہ ہو جاتا۔ جہاں اسے عالیشان بنگلہ اور عزت و احترام والی بہت بڑی ملازمت بھی دے دی جاتی۔ اور بعد ازاں اس کا نام مغربی لاڈو میڈم ملالہ کی طرح نوبل انعام کیلئے بھی نامزد ہو جاتا۔  لیکن ان دنوں امریکی برانڈ اسلام کے علمبردار مافیے آج جیسے سرگرم نہیں تھے،غیرت مسلم جاگ رہی تھی۔ سب سے پہلے 17 ستمبر 1927ء کو ایک جری جواں خدابخش نے ملعون راجپال پر حملہ کیا مگر وہ بال بال بچ گیا۔ 19 اکتوبر ایک دوسرے جانبازعاشق رسول اللہ ص عبدالعزیز نے راج پال کو واصل جہنم کرنے کی کوشش کی مگر ملعون پھر بچ نکلا ۔ دو مجاہدوں کی عظیم مقصد کے حصول میں ناکامی کے بعد اب  نوجوانان ملت کا جذبہء جنون اور آتشیں ہو رہا تھا، گستاخ رسول اللہ ص کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے، بلا تفریق مسلک تمام مسلمانوں کے دل و دماغ میں گستاخ راجپال کا قتل عظیم ترین مشن سمجھا جا رہا تھا۔ ایسی ہی مجاہدانہ و عاشقانہ کیفیات مسلم اشرافیہ، سیاسی  قائدین اورعلماء اکرام میں بھی برپا تھیں ۔ موچی دروازہ لاہورکے جلسہ ء عام میں مجاہد ختم نبوت سید عطاءاللہ شاہ بخاری نے عشق رسول سے لبریز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک ہفتہ کے اندر کوئی نوجوان میرے نانا کے اس ملعون گستاخ کو ہلاک نہ کرپایا تو حرمت رسول اللہ کی قسم یہ بوڑھا سید زادہ خود اپنے ہاتھوں سے یہ مقدس فریضہ سرانجام دے گا ۔ اس جلسہ میں شامل ہزاروں لوگوں میں سریا والا بازار لاہور کا ایک عام سا ترکھان نوجوان علم دین بھی موجود تھا ۔ شاہ جی کی اس پر اثر تقریر نے اس کے دل و دماغ میں بارود بھر دیا لہذا اس نے دل ہی دل میں ٹھا ن لی کہ کسی بھی قیمت پر اس گستاخ رسول کا کام تمام کرکے رہوں گا ۔ اوربالآخر وہی عام سا بندہء فقیر پان گلی انارکلی میں واقع ملعون راج پال کے دفتر میں پہنچ کراس لعین کو سرعام جہنم رسید کرکے مسلمانان ہند میں سرفراز و سر بلند مقام حاصل کرنے میں کامیاب و کامران ٹھہرا ۔ پورے ہندوستان میں گستاخ رسول ملعون راجپال کے قتل کا تہلکہ مچ گیا۔ خیبر سے راسکماری تک علم دین کی بہادری و سرفروشی کا ڈھنکا بج گیا ۔ عاشقان نبوی کے جذبات کا یہ عالم تھا کہ اس ہندو گستاخ کے قتل کا عہد کرنے والے باقی تمام نوجوان روتے اور ہاتھ ملتے رہ گئے ۔

جب علامہ اقبال رح تک یہ خبر پہنچی تو بے ساختہ فرمایا، ” اسیں گلاں کردے رہ گئے تے ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا “۔ غازی علم دین شہید گرفتار ہوئے اور  سیشن عدالت میں مقدمہ چلنے کے بعد انہیں سزائے موت کا حکم سنا دیا گیا جس کے خلاف عدالت عالیہ میں اپیل دائر کی۔ علامہ اقبال اور دوسرے مسلم رہنماؤں نے غازی علم دین کی وکالت کیلئے قائداعظم کو ممبئی سے لاہور بلوایا ۔ پندرہ جولائی 1929ء کو سماعت کے دوران قائداعظم نے اپنے مخصوص انداز میں دلائل کے انبار کھڑے کردیے جس سے مقدمہ بے جان نظر آنے لگا ۔ قائد کے مدلل اور پر مغز وکالت کا اگلے دن اخبارات نے تذکرہ کیا مگر ہندو  ججوں  نے لوئر کورٹ کا فیصلہ بحال رکھا جو ناقابل فہم اور متنازعہ  تھا ۔ روایات یہ بھی ہیں کہ غازی علم دین شہید نے جناب قائد اعظم کے مشورے کے مطابق اپنے اقرار جرم سےانحراف  کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ گویا ایک عاشق رسول ص کو اپنے مقدس جرم کے اقرارسے مکر جانا قبول ہی نہ تھا۔ کہ وہ تو  ہر سچے عاشق رسول ص کی طرح شہادت عظمی کا دلی طلب گار تھا۔  اٹھارہ اکتوبر کو رحم کی اپیل مسترد ہوئی تو غازی علم دین شہید نے لاہور میں تدفین کی وصیت کی ۔ 31  اکتوبر 1929ء کو شہر لاہورکا یہ عظیم فرزند اور ناموس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ غازی سپاہی پھانسی کا پھندہ چوم شہادت کے منصب عظمی پر فائز ہوکر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے زندہ و جاوید ہوگیا ۔ افسوس کہ پاکستان میڈیا بھارتی اداکار راجیش کھنہ اور راج کپور کی برسی پر پروگرام دکھا کر امن کی آشا برانڈ ہندوآتہ سے وفا ضرور نبھاتا ہے مگر غازی علم دین شہید کے یوم شہادت کے حوالے سے پروگرام نشر کر کے اپنے مغربی آقاؤں  کو ناراض کرنے کا خطرہ کبھی مول نہیں لے گا۔

ghazai2

شہید کو میانوالی جیل صبح سات بجے تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ شہسوارِ شہادت کو آٹھ بجے پھانسی گھاٹ سے اتا رنے کے فوراً بعد بہیمانہ انداز میں نو بجے بغیر نماز جنازہ ہی دفن کر دیا گیا ۔ قانونی و اخلاقی بد دیانتی کی یہ دل آزار خبر شام ڈھلے تک پورے ہندوستان میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی تھی ۔ پوری امت مسلمہ ہیجان کی کیفیت سے دو چار تھی، ہر مسلمان کا مطالبہ تھا کہ شہید کی میت کو اس کی وصیت کے مطابق لاہور میں دفن کیا جائے ۔ مسلمانوں نے برکت علی محمڈن ہال میں علامہ اقبال کی زیر صدارت جلسہ کا پروگرام بنایا ۔ یکم نومبر کو علامہ اقبال کے گھر جلسہ منعقد ہوا ۔ اگلے روز دو  نومبر کو پروفیشنل مسلم لیگ کی کونسل کے اجلاس میں علامہ اقبال کی تحریک پر یہ قرار داد منظور ہوئی کہ علم الدین شہید کی لاش نہ دے کر حکومت نے حماقت کی ہے۔ سو حکومت اب بھی اس غلطی کی اصلاح اورمسلمانوں کے غیض و غضب کو ٹھنڈا کر سکتی ہے ۔ پانچ نومبر کو علامہ اقبال ، سرمحمد شفیع اور ڈاکٹر خلیفہ شجاعت الدین پر مشتمل مسلم وفد نے گورنر سے ملاقات کی ۔ سو مسلمانوں کے جوش و بے چینی کو مد نظر رکھتے ہوئے انگریز حکومت کی طرف سے شہید کی لاش لاہور لانے کا اہتمام کیا گیا ۔ بزرگ بتاتے تھے کہ شہادت کو پندہ دن گزر چکے تھے، لاہور آنے سے قبل شہید کی لاش دو ہفتے تک قبر میں دفن رہی ۔ لیکن سبحان اللہ کہ شہید عاشق مصطفے کی لاش ترو تازہ اور کسی بھی تعفن سے پاک تھی۔ قارئین یاد رہے کہ اس موقع پر مسلمانوں نے اپنےمطالبے میں جس کامل اتحاد کا ثبوت دیا وہ ہمیشہ یاد رہے گا ۔ اس کا سہرا مولانا ظفرعلی خان جیسے متحرک رہبر اور کارکنان علم دین کمیٹی کے سر ہے۔ مورخ لکھتے ہیں کہ برصغیر میں ہونے والے کسی جنازہ میں عوام الناس کی اتنی بڑی تعداد میں شرکت بہت کم موقع پر نظر آئی، جتنی غازی علم دین شہید کے جنازے میں تھی۔ 14نومبر 1929 کو غازی علم دین شہید کی وصیت کے مطابق انہیں بہاولپور روڈ کے قریب قبرستان میانی صاحب لاہور میں دفن کیا گیا۔

مسندِ عشق پہ بیٹھے ہیں محمد کے گدا ہیں
مرحبا اپنے مقدر کہ سکندر سے سوا ہیں 

ghazi3

اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے میرا اور آپ کاعشق مکمل ہی نہیں جو میرے اور آپ کے درون دل سے یہ صدا نہ نکلے۔ کہ  ہمارے آبا واجداد، ماں باپ، آل اولاد اور آنے والی تمام نسلیں ان کی ناموس پر قربان ہوں۔ مالک کائنات کی عطا کردہ  یہ زندگی سو بار بھی ملے تو ہر بار، ہزار بار ان کی ناموس پر قربان ہو۔ حسن اتفاق سے غازی علم دین شہید کے مزار کے قریب ہی میرے والدین کی بھی قبریں ہیں۔ میں جب بھی ان کی فاتحہ خوانی کیلئے جاتا ہوں تو کچھ گھڑیاں غازی علم دین شہید کے مزار پر بھی ضرور رکتا ہوں۔ اپنے خالق حقیقی سے یہ التجا کرتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر روتا ہوں۔ کہ یا رب العالمین میرے نصیب میں بھی اس شہیدِ عشقِ  خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم جیسی شہادت عظمیٰ لکھ دے کہ میں بھی پھانسی کا پھندہ چوم کراپنے گلے میں ڈالنے سے پہلے یہ یقین کر لوں کہ میرے آقائے نامدارصلی اللہ علیہ وسلم اور میرا رب مجھ سے راضی ہیں۔ مجھے موت سے پہلے یقین ہو جائے کہ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے قدموں میں بٹھا کر میرا ماتھا چومیں گے۔

فقر کشکول نہ مسند کی گدائی ہے میاں
عشق قیصر کا نہ کسریٰ کا مجازی ہے میاں

میں ہوں درویش مرا عشق بھی عالم سے جدا
میرا محبوب بھی محبوبِ الہی ہے میاں

فاروق درویش.. واٹس ایپ کنٹیکٹ.. 03224061000

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: