حالات حاضرہ

شہدائے ماڈل ٹاؤن کا جشن مرگ یا خانہ جنگی پلان


مغربی طاقتوں نے کہیں ابن الوقت مسلم امرا و اربابِ سیاہ ست اور کہیں اپنے کارندوں کو مسلمانی کا بہروپ دے کربڑی مہارت و عیاری  سے عالم اسلام کے خلاف استعمال کیا ہے۔ سلطنت ہسپانیہ کے یورپی غلام غداروں نے سقوط غرناطہ کے مغربی سکرپٹ کی تکمیل میں جو مذموم کردار ادا کیا وہ تاریخِ مسلم کی سیاہ ترین سطور ہیں ۔ عباسی خلیفہ معتصم باللہ کے غدارِ امت وزیر العقمی جیسے مسلمان ناموں کا ہلاکو خان جیسے قاتلینِ مسلم کی ہولناک مہمات میں معاونت کا کردار قابلِ صد لعنت ہے۔ جدید دور کی رنگینیوں اور مغربی غلام جمہوریت کے پرستار بن کر تاریخ کے اسباق بھول جانے والوں کو یاد کروانا ہے کہ  جب پہلی جنگ عظیم میں عرب اپنے ترک مسلم بھائیوں پر گولیاں چلا رہے تھے تو اس وقت امت مسلمہ کا عظیم مسیحا مانا جانے والا نام نہاد مسلمان لارنس آف عریبیہ اپنے لندن ہیڈ کواٹرز کو یہ پیغام دے رہا تھا کہ ” منصوبے کے عین مطابق آگ لگ چکی ہے”۔ افسوس کہ آج کے پاکستانی حالات کی طرح اس وقت بھی مرنے والے بھی مسلمان تھے، مارنے والے بھی مسلمان اور شومئی قسمت ِ امت کہ مروانے والے عیار بدیسی فتنے بھی مسلمان ہی سمجھے جا رہے تھے۔ اور پھر وہی ہوا جو فتح بیت المقدس کا انتقام لینے کیلئے صدیوں سے سرگرم مغربی فتنہ گروں کا ابلیسی منصوبہ تھا، خلافتِ عثمانیہ کا روشن چراغ گل ہوا اور امت مسلمہ کا شیرازہ تاش کے پتوں کی طرح بکھر گیا۔ اور افواج برطانیہ کے جاسوس کرنل لارنس کو امت کا درد مند و خیر خواہ نو مسلم سمجھنے والے لوگ اس بہروپیے کی حقیقیت کا پردا چاک ہونے پر سرپیٹ کر رہ گئے۔ گوروں کا خصوصی بغل بچے مرزا غلام قادیانی نے ابتدا میں صرف ایک محدث و مجدد ہونے کا دعودار بن کر کچھ فاطر العقل لوگوں کو اپنے ساتھ اکٹھا کیا اور پھرنبوت کا کاذب دعویدار بن کر ملت اسلامیہ کا بدترین فتنہ اور یہود و نصاریٰ کا سدا بہار پسندیدہ کردار بن گیا۔

sn101

ان تمام تاریخی یاداشتوں کی روشنی میں دیکھیں تو آج کے کئی  نام نہاد شیخ الاسلام  اور انقلابی منجن بیچنے والوں کے گھناؤنے چہرے عریاں نظر آنے لگیں گے۔ ذرا غور کریں تو توہین قرآن و رسالے کے حوالے سے پاکستان اور ڈنمارک میں متضاد فتوے دینے والے ایک صلیبی کردار طاہر القادری کو پہچاننے میں قطعی کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی۔ آنکھوں سے نام نہاد انقلاب کی ساحرانہ عینک اتار کر جائزہ لیں  تو منہاج القرآن کے خیراتی فنڈز پر شاہ خرچیاں اور سولہ سترہ لاکھ کی ٹکٹ کے ساتھ بزنس کلاس میں سفر کرنے والے دورنگی عیار کے غریب دوست منشور و کذب بیانی سے پردا اٹھ جائے گا ۔ تھوڑا سا اور پیچھے جائیں تو اسمبلی سے استعفی دے کر تا قیامت پاکستان کی سیاست پر تھوک کر سدا کیلئے چھوڑنے کا اعلان کرنے والے کاذب کے سیاست میں واپس درانداز ہونے کے پس پردہ مذموم مقاصد سمجھ آ جائیں گے۔ پھر مرتے دم تک پاکستان نہ چھوڑنے اور موت سے نہ ڈرنے کے جھوٹے دعووں کا پول کینیڈا کی شہریت اور بم پروف کنٹینروں کے خول سے گونجنے والے شوق شہادت کے نعرے کھول دیں گے۔ نوسرباز شیخ الاسلام کی بلٹ پروف گاڑی کو خواتین کے حفاطتی حصار میں دھرنہ گاہ کی طرف بڑھتا دیکھیں گے تو موصوف کی جرات و بہادری کے سارے دعوے از خود ماتم کریں گے۔ لیکن کیا کیجئے کہ افلاس، بے روزگاری اور معاشی  بدحالی کا شکار اس قومِ مجروح کے عقل سے عاری ان سب لوگوں کی دماغی حالت کا جو انقلاب کے خوش رنگ نعروں سے متاثر ہو کر ایک مذہبی شعبدہ باز، صلیبی ایجنٹ اور دین فروش فتنہ گر کو ہی اپنا مسیحا اور کسی انقلاب کا داعی سمجھ بیٹھی ہے۔ افسوس کہ ان لوگوں کو ایک صلیبی آلہ کار کیلئے ایک دوسرے صلیبی ہتھیار الطاف حسین کی ہمدردیوں اور بھڑکوں کے پس پردہ ” دو بدیسی بغل بچوں کے اتحاد” کی گھنٹیاں بھی سنائی نہیں دیتیں۔ احباب نواز شریف کی سیفما برانڈ مشیروں اور احمقینِ دانش کے ساتھ بھڑتی ہوئی پینگوں اور خلافِ دین و نظریہء پاکستان مذموم بیانات سے آپ سب محب وطن پاکستانیوں کی طرح میرا دل بھی شدید دکھی ہے۔ میں بھی سانحہ ماڈل ٹاؤن کے اصل مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کو انصاف و عدل اورعین حق مانتا ہوں۔ لیکن حصول انصاف کی جدوجہد  اور احتجاج کا طریق ڈنڈے،غلیلیں اور آہنی دروازے کاٹنے والے آلات لیکر دہشتگردانہ انداز میں ریاست کی علامت گردانی جانے والی عمارات پر حملے ہرگز نہیں ہے۔ یاد رہے کہ ریاستی ادارے اور قومی املاک نواز شریف یا نون لیگ کے آبا و اجداد کی جاگیر نہیں، یہ ریاستِ پاکستان کی علامت اور قوم کی ملکیت ہیں۔ کیا طرفہ تماشہ ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے اندوہناک قتال پر عدل و انصاف مانگنے کیلئے جاری احتجاجی دھرنوں میں بہنوں اور بیٹیوں کے رقص اور میوزیکل شو کروا کر ایسے بھنگڑے ڈالے جا رہے ہیں کہ گویا مرنے والوں کا جشن مرگ منایا جا رہا ہو۔ پاکستان کے اسلامی تشخص کو داغدارکرنے والے سیاست دانوں پر انقلابی لیڈروں سے زیادہ کسی میلے کے مجرہ گھر کے ٹھیکیداروں کا گمان ہوتا ہے۔ کنٹینروں میں بیٹھے بھڑکیں مار کر پورے ملک کے امن کو برباد کر کے انارکی پھیلانا اورریاست کی رٹ کی چیلنج کرنا جمہوری طریقِ احتجاج نہیں ہے۔ دنیا کے رونما ہونے والے انقلابوں کی تاریخ گواہ ہے کہ قیادت کرنے والوں نے انقلابی قافلوں کی سب سے آگے چل کر قیادت کی ہے۔ چینی انقلاب کے بانی ماؤزوتنگ  ہزاروں میل کے سفر میں دس دریا اور بیسیوں پہاڑی سلسلے عبور کرنے کے بعد منزل مراد پر پہنچے تو ان کے دو کمسن بیٹے ہمیشہ کیلئے کھو چکے تھے۔ جبکہ ہمارے انقلاب خان کے دونوں بیٹے انقلابی سفر پر نکلنے سے پہلے ہی لندن بھیج دئے گئے تھے۔ جہاں وہ اپنی آدھی عیسائی آدھی یہودی ماں کے ساتھ یہودی معبدوں او گرجوں میں نئے مذہب کی روحانی تعلیم و تربیت لے کر اپنے باپ کے مذہب میں تبدیلی لا رہے ہیں۔ شہادت کے شعبدہ باز متمنی کنیڈین شیخ کے دونوں بیٹے بھی اسلام آباد کے فائیو سٹار ہوٹل میں بیسیوں فارن باڈی گارڈز کی حفاظتی تحویل میں بیٹھے ٹی وی چینلوں پر باپ کے کنٹینری انقلاب کی ” آگ لگاؤ مہم ” کا آنکھوں دیکھا حال دیکھ کر اپنے تابناک سیاسی مسقتبل کیلئے سیاسی مکاری کے گر سیکھ رہے ہیں۔

sn2

صد شکر کہ مخدوم جاوید ہاشمی صاحب کی پریس کانفرنس نے عین وقت پر خان صاحب اور ملا قادری کے مشترکہ انارکی پلان کا بھانڈا سر راہے  پھوڑ دیا ہے۔ مشرف طوائفی مافیہ کے اقراری زناکار شیخ رشید جیسے بھانڈ میراثی کرداروں کے ذریعے ملنے والے پراسرار پیغامات پر راہبرینِ انقلاب کس خاص مجبوری کے تحت  ڈی چوک سے وزیراعظم ہاؤس کی طرف ڈنڈا برباد مارچ پر مجبور ہوئے، اس کا جواب پوری قوم کو مطلوب ہے۔ میرا موقف  ہے کہ جب ڈی چوک میں پڑاؤ ڈالے احتجاج میں تمام حالات پرامن اور سیاسی مقاصد پورے ہو رہے تھے، دھرنے کی ساری کاروائی پوری دنیا کے پریس اینڈ میڈیا کی مکمل رسائی میں تھی ، پوری دنیا میں انقلابی احتجاج کی آواز بنا کسی رکاوٹ کے پہنچ رہی تھی تو پھر آخر وہ کیا خاص وجہ اور پراسرار مجبوری تھی کہ اس احتجاج کو ملا فتنہ گر اور ضدی خان کی طرف سے ” اللہ کے نام پر” وزیر اعظم ہاؤس کے سامنے منقتل کرنے کی مہم جوئی کی گئی؟ میں یہ سوال نہیں کروں گا کہ جامعیہ حفصہ اور لال مسجد سانحہ کے دو سو سے زائد ڈنڈا بردار شہدا کے قاتل شیخ چلی، چوہدری برادران اور الطاف مافیہ کے پاس فتنہہء قادری اور سونامیوں کی پارلیمنٹ پرحملہ آور ہونے والی ڈنڈا بردار فورس کی حمایت کا کیا اخلاقی اور سیاسی جواز ہے۔ میں یہ سوال بھی نہیں کروں گا کہ چوہدری برادران، لال حویلی کے پلے بوائے اور پیر آف لندن شریف جیسے سب مغربی گماشتوں پر مشتمل پرویز مشرف کی ٹیم کن قوتوں کے اشارے پر پاکستان کے معصوم لوگوں کو مروا کر ملک میں خون ریزی و خانہ جنگی کروانے کیلئے سرگرم ہے۔ ایسا کوئی بھی سوال کرنے کا مطلب مشرفی سائبر گینگ کے طعن و دشنام، فتنہء قادیانیت و فتنہء الطاف کے بچونگڑوں کی غلیظ گالیوں اور فحش کلامی کے سونامئ غلاظت کا سامنا کرنا ہو گا ۔ بہنوں اور بیٹیوں کو شاہراہ دستور پر سرعام نچوانے والے “عزت دار”  ست رنگی گالیوں کے تیروتلوارلیکر پوری طاقت سے حملہ آور ہوں گے۔ باخدا اپنی پروفائل پر قرآن حکیم کے وال پیپرز آویزاں کئے، شرعی داڑھی کے ساتھ ساتھ عمامہ باندھے ہوئے فتنہء قادری کے ” دین دار منہاجی ” بھی ایسی ایسی ذات کی فحش اورجدید گالیاں دیں گے کہ چاروں طبق ہی نہیں منہاجیوں کی کینیڈا برانڈ “اسلامی تربیت” کے سبھی خطوط بھی روشن ہو جائیں گے ۔ کوئی ہزار اختلاف کرے لیکن میرے مطابق عمران خان اپنی کوتاہ سیاسی بصیرت، انتہائی ضدی اور خود سر روش کے باعث کم از کم سیاست کے میدان میں ایک کلی نا اہل شخصیت ہیں۔ عنان سیاست و حکومت کو کرکٹ کا میدان سمجھنے والے ” بس میں کپتان”  کا خود کو ہر معاملے میں آل ان آل اور عقل کل سمجھنا، ناقابل یقین حد تک تکبرانہ انداز اور رعونت و غرور سے لبریز ” ضعم کپتانی”  نہ بدلا ہے ، نہ کبھی بدلے گا۔  لیکن دوسری طرف ابھی امید کی جا سکتی ہے کہ میاں صاحب اپنی حالیہ غلطیوں، کوتاہیوں اور ناقابل قبول غفلتوں سے ضرور سبق سیکھیں گے۔ امید ہے کہ وہ اپنا اندازِِ شاہانہ، سخت گیر ضدی رویہ اورعاصمہ جہانگیر و نجم سیٹھی جیسے دین دشمن عناصر کی کافرانہ  صحبت کی بجائے دوسرے قومی رہنماؤں اور وطن دوست سیاسی مشیروں کی مشاورت سے اس بحران کے جلد از جلد حل کیلئے انتہائی عجز و انکساری کے ساتھ مثبت رویہ اختیار کریں گے۔ انہیں خیال رہے کہ حالیہ بحران اور بدامنی کے نتیجہ میں ملکی معیشت کو جو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے اسے پورا کرنے کیلئے اب مذید قرضوں کی بجائے زرداری اینڈ کمپنی کی طرف سے لوٹی گئی قومی دولت واپس لانا اشد ضروری ٹھہرا ہے۔ لہذا زدرادی کو سڑکوں پر گھسیٹنے کے وعدے کرنے والوں کو کم از کم اس قومی ڈاکو زرداری کی لوٹ مار کے حوالے سے اپنے وعدے بہر صورت پورے کرنے ہوں گے ورنہ وہ اب دس ہزار نئے پل اور پچاس ہزار نئی سڑکیں بھی بنا لیں تو قوم انہیں کسی بھی صورت کبھی بھی معاف نہیں کرے گی۔ احباب یہ افواجِ پاکستان کا اس ملک و قوم پر ایک احسان عظیم ہے کہ وہ مشرف جیسے جرنیلوں کی طرح اقتدار پر غاصبانہ قبضے کے گناہِ کبیرہ سے دور رہنا چاہتی ہیں۔ مگر فوج کے اس قابلِ صد ستائش جذبے کو ان کی کمزوری بھی نہ سمجھا جائے۔ پرائیویٹ میڈیا چینلوں اورقومی نشریاتی اداروں پر غیر ملکی تربیت یافتہ ” سیاسی احتجاجیوں” کے قبضہ جیسے تازہ ترین واقعات سے کسی غیر ملکی سکرپٹ پر عمل پیرا منہاجی و سونامی سیاسی دہشت گردوں کے ” انارکی و خانہ جنگی” منصوبے اور مغرب برانڈ عزائم اب پوری طرح بینقاب ہو چکے ہیں۔ امید ہے کہ جلد ہی اس بدیسی ملک دشمن سازش کے سبھی کردار قوم کے سامنے پر آ جائیں گے۔ پی ٹی وی بلڈنگ خالی کروانے کے بعد قبضہ کرنے والے تخریب کار عناصر کو عزت و احترام سے رہا کر دینے سے عوامی اور سیاسی حلقوں میں ایسے شکوک و شبہات ابھر رہے ہیں جن کی بنیاد پر کچھ ننگِ ملک و ملت فوج مخالف چہروں  اور بھارتی لابی کے زیر سایہ پلنے والے بال ٹھاکری دانش وروں کو پاک  فوج جیسے ہر دلعزیز قومی ادارے  پر  منفی تنقید کا موقع ملے گا۔ اگر افواج پاکستان اور حساس ادارے یہ سمجھتے ہیں کہ اب ان سیاسی بلوائیوں کی طرف سے ایسے ماورائے سیاست پرتشدد اقدامات نام نہاد انقلاب یا سیاسی احتجاج کی بجائے ، امن عامہ، ملکی سلامتی اور ریاست کی بقا کیلئے ایک کھلا چیلنج بن رہے ہیں تو انہیں اس پرتشدد بدیسی فتنے کو روکنے کیلئے ریاست کا بھرپور ساتھ دینا ہو گا۔  سیاست دانوں کو بھی خیال رہے کہ اب قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ریاست کی علامت پارلیمنٹ اور وزیر اعظم ہاؤس یا ایوان صدر پر کسی  فتنہ ساز مہم جوئی کا مطلب وہ انارکی اور ملک گیرخانہ جنگی ہو گا جو ملکی سلامتی کے ضامن عسکری اداروں کو کسی بھی ماورائے آئین اقدام پر بھی مجبور کر سکتی ہے۔ احباب حرف آخر یہی ہے کہ جب تک پاکستانی سیاست میں غیر ملکی شہریت رکھنے والے اور صلیبی گود میں پناہ گزین مذہبی فتنوں اور خود ساختہ جلا وطنوں کا عملی کردارموجود ہے، فتنہء قادیانیت، فتنہء الطاف اور فتنہء قادری جیسے تمام صلیبی برانڈ عناصر علاقائی، لسانی، مذہبی اور سیاسی منافرت پھیلا کر میدانِ سیاست کو پراگندا اور ممکی سلامتی کو للکارتے رہیں گے۔ لہذا گو نواز گو اور گو عمران گو کے نعروں کی بجائے گو فارن سٹیزن گو کا نعرہ وقتِ حاضر کا اولین تقاضا اورعین دینی و ملی فرض ہے۔

اترے ہیں مرے دیس صلیبوں کے درندے : بند آنکھیں کئے بیٹھے کبوتر ہیں ابھی تک

فاروق درویش ۔ 03224061000

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

Featured

%d bloggers like this: