حالات حاضرہ ریاست اور سیاست

شہرِ آشوب سے اٹھی ہے صدائے منصور ۔۔ جنرل حمید گل


 جو قوم اور ریاست قوانین قدرت اور آئینَ مملکت سے انحراف و غداری کرتی ہے، وہ سدا خسارے میں رہتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دوسری صلیبی جنگ میں فرانس، جرمنی ، اٹلی اور جزائرسسلی کے نامور جنگجو سرداروں اور ریاستی شہزادوں کا متحدہ لشکر طوفانی پیش قدمی کرتے ہوئے اپنے اصل حدف بیت المقدس کی طرف بڑھا ، تو آئین و نظریات اسلام کی منحرف مغرب نواز فاطمی خلافت کی طرف سے بیت المقدس کے دفاع کا کوئی خاطر خواہ انتظام نہ تھا۔ حکمران اصنام مغرب کے حریموں میں اپنے خود ساختہ ” آئینِ جواں مرگی ” اور سیاسی مفادات کے تحفظ میں مصروف رہے۔ اور پھر چشم مسلم پھوٹ پھوٹ کر روئی کہ فاطمی خلافت کا دجالی آئین اور کافرانہ طرز حکومت تو سلامت رہا،  لیکن 15 جون 1099ء کو ان مذہبی جنونی “ امن پسندوں ” نے مسلمانوں کے قبلہء اول پر قبضہ کر کے صدیوں سے سلگتی ہوئی انتقام کی آگ لاکھوں معصوم  شہریوں کے خون سے بجھائی۔ پھر عالم اسلام میں سلطان صلاح الدین ایوبی کی وہ عظیم شخصیت نمودار ہوئی جس کی داستانِ سرفروشی ملت اسلامیہ کیلیے درس عمل اور صلیبی طاقتوں کیلیے ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ اس ایوبی سلطان نے مصر میں آئینِ مغرب کے غلام  فاطمیوں کی دجالی خلافت کا خاتمہ اور بغداد کی عباسی خلافت کا خطبہ جاری کر کے مصر کو پھر سے سنت مصطفوی پر کھڑا کردیا۔ مصر کا خود مختار حکمران بنتے ہی اس نے صلیبی جارحین کے خلاف جہاد کو اپنی زندگی کا نصب العین قرار دیکر بیابانِ دہر میں ” آئین جواں مردی حق گوئی و بیباکی ” کا نعرہ لگایا تو پھر اللہ کے ان شیروں نے صدیوں تک کسی روباہی کا منحوس چہرہ نہیں دیکھا۔

احباب بلاشبہ اپنے ملکی آئین و قانون کی پاسداری و احترام ہر محب الوطن شہری کا اولین فرض  ہے۔  اسلامی فلاحی ریاست کے آئین و قوانینَ عوام کی جان و مال کے تحفظ اور خوشحالی کے ضامن بھی ہوا کرتے ہیں۔ لیکن جب آئین کی یہ مقدس تلوار ، اشرافیہ اور کرپشن کنگز کیلئے تحفظ اور مفلسانِ وطن کیلئے گردن زنی کا ہتھیار بن جائے، تو پھر دشتِ کرب و بلا میں جنرل حمید گل جیسے محبانِ ملک و ملت کی گونجنے والی للکار سے ایوانانِ یزیدی پر لرزہ و ہیبت طاری ہوتی ہے۔ آج  آئین پاکستان کو امیر پروری اور غریب دشمنی کیلئے استعمال کرنے والی سیاسی قوتوں اور مفلس شکن نظام جمہور پرکڑی تنقید کرنے والے جنرل حمید گل کیخلاف پارلیمنٹ میں تحریک پیش کرنے کی خبریں گرم ہیں۔ آج اس ملک کو دونوں ہاتھوں سے بے دریغ لوٹنے والے صاحبانِ سیاست اپنی مسندیں اور سیاسی بندر بانٹ کا نظام بچانے کیلئے میدانِ سیاہ ست میں ست رنگی قلا بازیاں لگاتے نظر آتے ہیں۔  لیکن ایک لائن مین سے کھرب پتی سیاست دان بن جانے والے کرپشن کنگ وڈیرا خورشید شاہ جیسا کوئی جیالا  یہ نہیں بتا پائے گا کہ اس نے کس آئین کی پاسداری میں اربوں کی جاگیریں بنائیں اور کس ملکی یا بین الاقوامی قانون  کے تحت بیرون ممالک بینک اکاؤنٹس میں کھربوں ٹرانسفر کئے۔

افسوس کہ اس آئین کے خورشید شاہ برانڈ کسی محافظ کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہو گا کہ ان کی جاگیروں کے ویران سکولوں میں طلبا کی بجائے بھینسوں کو داخلہ کس آئین کے تحت دیا جاتا ہے۔ کوئی وڈیرا سرکار بتائے کہ کیا یہ آئین بھوک اور پیاس سے مرتے ہوئے ہاریوں کے دکھ درد اور المناک اموات پس پشت ڈال کر سندھ فیسٹیول کے نام پر شراب و شباب کی رنگین محفلیں سجانے کا درس دیتا ہے؟ کون سا آئین ان قومی لٹیروں اور وڈیروں کیلئے شاہی دستر خوان کا اہتمام کرتا ہے، جن کے آج کے میزبان کل تک ” قومی دولت لوٹنے والوں کو لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹ کر دولت واپس لائیں گے” کے انتخابی وعدے کیا کرتے تھے؟ افسوس کہ آج اس کرپٹ اور سیاسی بندر بانٹ کے ظالمانہ نظام کیخلاف صدائے حق بلند کرنے والوں کیخلاف ہرزہ سرائی کرنے میں سینٹ کے وہ چیئرمین رضا ربانی بھی شامل ہیں۔ جن کی بازاری گالیوں اور فحش کلامیوں سے بھرپور شاہکار تقریروں کا ناشر و گواہ پاکستان کا میڈٰیا اور پریس بھی ہے۔ حیرت ہے کہ رضا ربانی جیسے وہ اہل سیاست کہ جو اپنی زبان اور حیا بندی کی بھی حفاظت نہیں کر سکتے، وہ آئین کی دھجیاں اڑا کر بھی اس آئین کے محافظ ایوان بالا یعنی سینٹ کے چیئرمین بنے بیٹھے ہیں۔ تو پھر کیا جنرل حمید گل جیسے محب وطن دانشوروں کا یہ کہنا عین  درست نہیں کہ جو آئین امیران وطن اور کرپشن کنگ اشرافیہ کو شاہی خلعتیں اور پرشکوہ مزارات عطا فرما کر، مظلوم غریبوں کیلئے جلے ہوئے کفنوں اور ٹوٹی پھوٹی قبروں کا اہتمام کرے،  اسے وقتی طور پر کوٹھری بند کر کے جمہور کا یہ نظام عارضی معطل کر دیا جائے۔

صد افسوس کہ سامراج و مغرب کے دیاروں میں مقدس ترین آئین ِخداوندی،  قرآن حکیم سرعام  جلائے گیے ، لیکن کسی سامراجی غلام وڈیرے میں احتجاج کرنے یا پارلیمنٹ میں تحریک پیش کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔ لندن کی گوری گود میں بیٹھے ماڈرن مکتی باہنی ڈان الطاف حسین نے اعلانیہ طور پر بھارتی دہشت گرد خفیہ ادارے سے مدد طلب کرنے کی بات ہی نہیں ، ریاست کے حساس اداروں اور افواج پاکستان کی اعلی قیادت کیخلاف ہرزہ سرائی بھی کی، مگراس ٹارگٹ کلر  گروہ کے مرکز نائن زیرو کو سر بمہر کرنے کی طاقت کسی ” شیر دل سیاست دان ” میں نہیں ہے ۔ لیکن ہاں آج تشدد کی سیاست اور قتل و غارت کے بادشاہ اس بھتہ خور گروہ کی آماجگاہ  نائن زیرو مرکز کیخلاف کڑا آپریشن کرنے والے پاکستان رینجرز کی با کردار قیادت ضرور تنقید کا نشانہ بنائی جا رہی ہے۔ انتہائی قابل مذمت اور شرمناک امر ہے کہ یہ جاگیردار سیاست دان برما کے قتل عام اور را کی دہشت گردی کیخلاف بولنے کی جرات نہیں کرتے ۔ لیکن ان ننگِ اسلاف عناصر کی طرف سے برما میں مسلمانوں کے قاتل بدھ مافیہ کے یار خاص، بھارتی بجاری سوامی روی شنکر کو ماہ رمضان میں یوگا کے نام پر پلیدگی پھیلانے کیلئے اسلام آباد آنے کی دعوت ضرور دی جاتی ہے۔ یہ کس  آئین و قانون کا تماشہء عجب ہے کہ ایان علی جیسی کرپشن کوئین کو جیل میں بھی فائیو سٹار ہوٹل سے رنگین تر سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں؟

ہم اس آئین پاکستان کی صدق دل سے عزت و تحریم کرتے ہیں مگر اس وڈیروں اور ظالمان سیاست کے خود ساختہ ایسے ” قاتلِ عوام آئین ” کی تکریم ہم پر قطعی فرض نہیں جو امیر سے امیر تر ہوتے ہوئے کرپشن کنگز اور غدارانِ وطن کیلئے تحفظ کی علامت اور غریب سے غریب تر ہوتے مفلسان قوم کیلئے فقط  موت اور بربادی  کا پیغام بنا دیا جائے۔ میری نظر میں پاکستان آئین کی موجودہ شکل اس کھٹارا بس جیسی ہے جس کا انجن تو درست حالت میں ہو لیکن باڈی بوسیدہ ہو چکی ہو۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بس کو عوام کیلئے قابل استعمال بنانے کیلئے عارضی طور پر کسی ورکشاپ میں منتقل کر دیا جائے۔ اب لازم ٹھہرا ہے کہ اس بوسیدہ اور کھٹارا بس کو قومی تعمیر اور مفلس عوام کو آسودگی فراہم کرنے کے نیک جذبے کے تحت مکمل اوور ہال کر کے دوبارہ سے سڑکوں پر لایا جائے۔ بلاشبہ ہم اس آئین کے محافظ ہیں ، لیکن ہماری دلی خواہش ہے کہ اس آئین کو فقط کرپشن کنگ سیاست دانوں اور سیاسی حلیفوں کا ہی نہیں عوام الناس کے حقوق کا بھی محافظ بنایا جائے۔

ایک اسلامی مملکت کے آئین کے تحت سیاسی نظام ، ریاست مدینہ اور اس خلافت راشدہ جیسا ہونا چاہئے، جس میں ایک عام بدو کو بھی خلیفہء وقت  سے یہ سوال کرنے کا حق حاصل ہو کہ اے عمر! ریاست کی فراہم کردہ مقررہ پیمائش کے کپڑے سے آپ کی پوشاک کیسے سلی ہے؟ تو اس  فاروق اعظم کا بیٹا اٹھ کر جواب دے کہ میں نے اپنے حصے کا کپڑا اپنے والد کو دیکر ان کی پوشاک کا مکمل ہونا ممکن بنایا ہے۔ لیکن ہمارے یہاں حکومتی عہدوں کی تقسیم میں اقربا پروری اور سیاسی حلیفوں کی کرپشن کی پردہ داری و اعانت خاصہء سیاست ٹھہرا ہے۔ بھارتی دہشت گرد را اور سی آئی کی پاکستان دشمنی کیخلاف تحریک چلانے اور برما کے مظلوم شہیدوں کیلئے صدائے حق بلند کرنے والے ایک مرد مومن جنرل حمید گل کیخلاف ہرزہ سرائی اور پارلیمنٹ میں تحریک لانے کی باتیں ہوتی ہیں۔ اسی ملک میں تحریک پاکستان میں اپنا تن من دھن قربان کرنے والے مسلم لیگی خاندان کے ادنی فقیرِ مصطفوی، راقم التحریر فاروق درویش پر سچ لکھنے کے جرم میں قاتلانہ حملے کئے جاتے ہیں، اسی آئین و قانون کے محافظ خادم اعیلی کی پولیس کی موجودگی میں وحشیانہ تشدد کیا جاتا ہے۔ میڈیا اور پریس کو بروقت اطلاع دی جاتی ہے مگر بریکنگ نیوز کیلئے کسی قتل و لاش کے منتظر میڈیائی احباب  صرف خاموش رہتے ہیں۔  قابل توجہ ہے کہ لوگوں کی جان و مال کے درپے مافیہ ٖعناصر لاہور جم خانہ کلب جیسے اشرافیہ اداروں میں بیٹھے ہیں۔

ہاں اگر یہی ہمارے متکبر وڈیروں ، سامراجی غلام  جاگیرداروں اور ابن الوقت سیاست دانوں کا نام نہاد آئین  ہے تو پھر میں یہ کہنے کے جرم میں سولی پر بھی چڑھنے کیلئے تیار ہوں کہ جمہور کا جو نظام اور آئین ایک عام شہری کو جان و مال کا تحفظ ، دو وقت کی روٹی اور انصاف  فراہم نہیں کر سکتا ، اس نظام کی بساط عارضی طور پر لپیٹ کر اس ملک و قوم کی قیادت  کسی محب وطن جرنیل کے محفوظ ہاتھوں میں دے دینا ہی اب سیاسی و عوامی مسائل کا واحد حل  ٹھہرا ہے ۔ آج پاکستان کے سیاسی حالات اور عوام کی حالت زار مصر کی  فاطمی خلافت اور آخری عباسی خلیفوں کے دور جیسی ہی  ہے۔ سو آج پاکستان کو بھی صلاح الدین ایوبی جیسے ہی کسی مرد مومن جرنیل کی ضروت ہے۔ لیکن صد حیف کہ ہمارے سیاست دانوں نے پاکستان کے مقدس آئین کو اپنے سیاسی نظریہ ء ضرورت کی کتاب بنا کر رکھ دیا ہے۔ لہذا اس آئین سے بندر بانٹ کے ماہر سیاست دانوں کا پہنایا ہوا ” کرپشن دوست ،  عوام دشمن غلاف ” اتار پھینکنا ہم سب کا اہم قومی فریضہ ہے۔ اس ظالمانہ نظام سیاہ ست کے مارے مفلس و مجبور عوام جان چکے ہیں کہ قرارداد مقاصد بھولے اور نیتوں سے ہارے سیاست دانوں کے تلوں میں اب تیل کی کوئی بوند باقی ہے نہ ان سے کسی بھلائی کی آس امید ہے ۔ بحرحال انہیں قوی امید ہے کہ سیاست دانوں کے ہائی جیک کردہ اس مجروح آئین اور فرسودہ نظام  کو عوام دوست غلاف پہنانے کا مقدس فریضہ بھی اب ملکی سلامتی کی ضامن افواجِ پاکستان ہی کو ادا کرنا ہو گا ۔ حروف آخر اہل اقتدار و سیاست کی نذر  میرے دو اشعار اور ہدایت کیلئے ڈھیروں دعائیں ۔۔۔

       دل کے زندانوں سے آئے گی اناالحق کی صدا — شہرِ آشوب سے اٹھے کوئی منصور میاں
مر گئے شاہ سدا جینے کی حسرت لے کر — ہم فقیروں نے لکھا مرنے کا منشور میاں

( فاروق درویش — واٹس ایپ کنٹیکٹ– 03224061000 )

 اس حوالے سے میرے دیگر مضامین ذیل کے لنکس پر ملاحظہ کیجئے

خدارا کوئی مارشل لا لگا دو ۔ عشق زندہ باد ہے

جنگی ڈاکٹرائن، راحیل شریف اور صلاح الدین ایوبی

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

Featured

%d bloggers like this: