تاریخِ ہند و پاکستان حالات حاضرہ ریاست اور سیاست

شہید لباس اور شہید بی بی کی کرامت ۔ ولائتی بوتل کا مزا


 کیا آپ انہیں جانتے ہیں؟ گو کہ آج کل یہ  چہرہ عارضی طور پر منظرِ سیاہ ست سے غائب ہے۔ مگر جی ہاں آپ نے بالکل صحیح پہچانا اور بھلا کیوں نہ پہچانتے کہ گوگل سرچ سمیت ہرسرچ انجن پر ہرخاص و عام کو مطلوب شعلہ بدن حسن گلرنگ اور ایوانان اقتدار کو مسحور و مسخر کرنے والے جلوہء ہوشربا سے “مسلح” اصل ست رنگی سرکار یہی تو ہیں۔ یہی ہیں پاکستان سٹیل ملز کے سابق چیئرمین اور کھاؤ پیو مکاؤ گروپ کے سرغنہ عثمان فاروقی کی لاڈلی صاحبزادی، مقتول بینظیر،، شہید،، کے بہیمانہ قتل سے لیکر زرداری کرپشن کنگز کی ہر ایکس وائی زیڈ فروشی کی قابل اعتماد رازدان، پی پی پی لوٹ مار پروگرام کے چیف ماسٹرمائنڈ سلمان فاروقی کی بھتیجی، شہرہء آفاق قومی ڈاکو صدرزرداری کے سب جرائم کی شریک کار، سابق وزیر بلیک واٹرز رحمان ملک کی من چاہی ملکہء حسن و شباب اور سندھ کے صاحبان جام و مے وڈیرہ گروپ کے میکدہء خرمست کی ولائتی بوتل برانڈ دیسی رقاصہ محترمہ شرمیلا فاروقی ہیں۔ معذرت چاہتا ہوں کہ تعارف کچھ لمبا ہو گیا۔ لیکن ایسی ہمہ گیر شخصیت کے تعارف کیلئے شاید ہزار صفحی کتاب بھی کم ہو گی۔ سو اگر یہ ست رنگہ تعارف مذید طول پکڑ جائے تو  از راہ کرم برداشت کیجئے گا۔

یہ اسی جیالا فورس کی ڈائی ہارڈ مجاہدہ ہیں جو سپریم کورٹ کی تحقیقات کو جھٹلانے، رینٹل پاور کو جائز قرار دلوا کراربوں روپے کی کمیشن کھری کرنے کیلئے قوم کو خود ساختہ لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں مبتلا کر کے اپنے اصلی ساجن کے گھرجانے والی ہے۔ یہ خوش قسمت ہیں کہ  بھاگتے چوروں نے لنگوٹی کستے ہی اپنی باجی کے ہاتھوں پر مہندی اور سر پر ست رنگی دوپٹہ رکھنے کا بندوبست کر دیا تھا۔ جی ہاں وہی مقدس دوپٹہ جو پہلے سیف الرحمن کے بیڈ روم  کے افسانہء محبت اور پھرعدالت کی داستان حقیقت کا مرکزی کرداربھی رہا اور ایوان صدر سے لیکر وائٹ ہاؤس امریکہ کی خوابیدہ خلوتوں کی “رازداریوں” کا گواہِ خاص بھی ٹھہرا۔ اگر اپ کو یاد آ رہا ہو تو میں تصدیق کیے دیتا ہوں۔ کہ یہ وہی مظلوم حسینہ ہیں جہنوں نے عدالت کے کٹہرے میں باقائدہ حلفیہ بیان دیا تھا کہ  سٹیل غبن کیس کی عدالتی تحقیقات کے دوران اس وقت کے وفاقی محتسب سیف الرحمن نے ان کےعزیزوں کی رہائی اورکرپشن کیسز ختم کرنے کی سودے بازی میں انہیں جنسی بلیک میل کیا۔ اس دوران انہوں نے سیف الرحمن پرمسلسل آبرو ریزی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے، ثبوت کے طور پر عدالت میں اپنا پھٹا ہوا “شہید لباسِ” بھی پیش کیا تھا۔ مگرافسوس کہ انہیں ان کا اصلی جیون ساتھی ہی نہیں، بلکہ بھٹو صاحب کے سیاسی وارثین سے وفاؤں کا ہر انعام بھی بہت دیر بعد ملا۔ خیردیر آید درست آید، انہیں اپنی محبوب لیڈر بی بی  شہید کی “شہادت” کا شکر گذار ہونا چاہیے کہ وہ شہادت ہی ” ان کے زرادری” کی صدارت، ایوان صدر کی خلوتوں تک رسائی اور مابعد اس دیومالائی حسن  پر برسنے والی انگنت نوازشات کا سبب بنی۔ قارئین کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ 12 مارچ 1998 کو چیئرمین سٹیل مل عثمان فاروقی گرفتار ہوا تو ساتھ اس کی شریک جرم بیوی انیسہ فاروقی اور بیٹی شرمیلا  بھی گرفتار ہوئی۔ یاد رہے کہ شرمیلا صاحبہ کی ایف آئی اے کے لاک اپ میں بند ہونے کی یہ تصویر جب تمام قومی اخبارات میں چھپی تو ملک کی انسانی حقوق کی تنظیموں اور قومی لوٹ مار میں سیاسی بھتہ وصول کرنے والی ایم کیو ایم نے آسمان سر پر اٹھا لیا، عظیم صحافتی مسخرے حس نثار نے ” ناچتی شرمیلا” اور ” بلیک میلر شرمیلا” کے نام سے اخباری کالم لکھے ۔ اور پھر حسب سابق و معمول پاکستان کا عظیم تر سیاسی مفاہمت  اور  روائتی سیاسی بندربانٹ برانڈ انصاف جلوہ گر ہوا ۔  لوٹا گیا  قومی خزانہ اور بھوکے ننگے مفلس عوام ہار گئے اور یہ سب عزت دار نوسر باز ” باعزت بری” ہو گئے۔ یہ شرمیلا جی  اور ان کے پیشہ ور نوسرباز خاندان کی بھٹو صاحب خاندان سے والہانہ محبتوں اور وفاؤں کا ہی صلہ تھا کہ ان کے باپ، تایا، چاچا، ماموں، بہن بھائی اورکزنز سمیت، وہ  سب ہیشہ ور لٹیرے عزیز و اقارب زرداری حکومت میں اہم اور کلیدی عہدوں پر فائز رہے، جنہیں ملک کی اعلی عدالتوں نے پاکستان سٹیل مل میں غبن اور دوسرے اہم اداروں کو لوٹنے کا مجرم قرار دیا تھا۔ بحرحال لوٹ مار فورس کے سب جیالوں کو مبارک ہو کہ زرداری صاحب کی محبوب ہستی اور پی پی پی کے ولائتی بوتل مارکہ سندھ کارڈ گروپ کی “روحانی محبوبہ”  کسی احتسابی ولیمے کی بجائے ناگہانی شادہ خانہ آبادی کی کا شکار ہو کر سچی مچی کے بینڈ باجے کی نذر ہوچکی ہیں ۔

جیالوں سے معذرت چاہتا ہوں مگر کیا کروں،  ان ننگ ملک و قوم گروہوں کے حوالے سے حقائق لکھ کر دل کی بھڑاس نہ نکالوں تو جگر تپتا ہے۔ یہ خوش قسمت ہیں کہ میاں صاحب نے قومی مفادات سے بھی عظیم تر بھائی چارے اور سیاسی مفاہمت کے نام پر زرداری کرپشن کنگز اینڈ کوئینز کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے انتخابی نعرے اور قومی وعدے پر عمل درامد کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔ احباب یہ اس قوم کی انتہائی بدقسمتی ہے کہ لاکھوں نہیں کروڑوں سفید پوش ہموطن مہنگائی کے طوفان ِجاں شکن سے تنگ و عاجز  ہیں، کروڑوں مفلس و مزدور فاقوں سے بے حال اور لوڈ شیڈنگ سے بے روزگارہیں۔ جبکہ دوسری طرف ملک و قوم کی دولت لوٹنے والے گروہ کی پھولن دیویاں شراب کی ولائتی بوتلیں لیکرآغاسراج درانی  جیسے  اوباش تماش بینوں کی بانہوں میں جھولتی اور شراب و شباب کی محفلوں میں ہوش ربا رقص کرتی دکھائی دیتی رہی ہیں۔ مفلس قوم کی اس خادمہ کا رؤسانہ انداز دلربائی یہ ہے کہ باخدا ستر لاکھ کی رولیکس ڈایمنڈ گھڑی، پانچ لاکھ کا بھارتی شاہکار سوٹ، دو لاکھ کی کینالی برانڈ اٹالین جوتی، کم از کم سات کروڑ روپے مالیت کا ساؤتھ افریقی ہیروں کا ہاراور پانچ لاکھ کا فرانسیسی پرفیوم  لگائے ایوان صدر اور وزیر اعظم ہاؤس میں غیر ملکی گورے مہمانوں کے درمیان یوں مستانہ وار گھومتی  پھرتی تھیں  کہ گویا ہر روز  اپنے خوابوں کا نیا نکور شہزادہ شکار کرنے ہفت افلاک کے کسی کوہ قاف سے اتری ہوں۔

کہتے ہیں کہ خدا جب حسن دیتا ھے، نزاکت آ ہی جاتی ہے۔ مگر یہ نزاکت، کن کن ایوانوں سے ہوتی ہوئی کہاں کہاں پہنچتی رہی ہے اس کے بارے پاکستانی خفیہ ایجنسیوں سے بہتر وائٹ ہاؤس واشنگٹن اور سی آئی اے کے وہ مقدس اہلکار جانتے ہیں جو اسی دوپٹے کی رنگینیوں سے بارہا فیض یاب ہو چکے ہیں ۔ بحرحال انہیں اوران کے جیالے بھائیوں کو ایک بار پھر مبارک ہو کہ “ان کے زرداری ” نے ان کیلئے دولہا بھی ایسا کرپشن پرنس تلاش کیا کہ خوب لوٹیں  گے جو مل بیٹھیں گے گھر والے دو۔ سنا ہے کہ ان کے  مجازی خدا جناب ہاشم ریاض شیخ، زرداری کرپشن گینگ کے مین گیم  پلانر، سابق ڈی جی، ایف آئی اے ریاض اے شیخ کے صاحبزادے ہیں۔ نیب کے قانونی ماہرین بھی اقرار کرتے ہیں کہ ریاض اے شیخ صاحب کرپشن کیسز اورثبوت مٹاؤ ٹیکنالوجی کے شعبے میں رحمن ملک سے بہتر ایکسپرٹ ہیں۔ لہذا جیالے بھائیوں کو امید رکھنی چاہئےکہ ان کی نرم و نازک بہن کو مستقبل میں کوئی احتسابی یا سیف الرحمانی سانحہ درپیش نہ ہو گا ۔   ہم  دعا گو ہیں کہ اللہ ان کے ست رنگی دوپٹے کو عدالتی رسوائیوں اور سیف الرحمن جیسوں کے ہر شر سے سدا محفوظ رکھے ۔۔ افسوس صد افسوس  کہ جب حالیہ قحط سالی کا شکار معصوم بچے تھر کے صحراء کرب و بلا  میں  بھوک اور پیاس سے دم توڑ رہے تھے، تو سندھ  دیس کی یہ شہزادی  سندھ  فیسٹیول کے کلچر اینڈ فیشن شوز میں  پی پی پی کے وڈیرے دوستوں اور بلاول زرداری بھٹو کے ساتھ محو رقص تھی ۔ محترمہ کا دعوی ہے کہ انہوں نے اپنی رخصتی کے دن سینٹ کا ووٹ کاسٹ کر ایک منفرد عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔ جبکہ  سیاہ ست و عدالت میں جو انوکھے ریکارڈ وہ  قائم کر چکی ہیں، وہ قیامت تک ٹوٹتے نظر نہیں آتے۔ کسی عدالت کو کسی ” مظلوم سیاسی حسینہ” کا ” شہید  لباس ” دیکھنا کبھی نصیب نہ ہو گا ۔۔۔ مگر یہ سب کرپشن کنگز اینڈ کوئینز ۔۔۔”شہید بی بی” زندہ باد ۔۔۔ کا نعرہ لگا کر عوام کو بیوقوف بناتے رہیں گے۔۔

( فاروق درویش ۔ 03224061000 )

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

7 Comments

Click here to post a comment

Leave a Reply

  • محترم جناب درویش فاروق صاحب، عوام الناس کے بھی کچھ ایسے ہی خیالات ہوتے ہیں اس طبقہ اشرافیہ کیلئے، فرق صرف اتنا ہے کہ وہ اپنے دل کی بھڑاس بیٹھکوں اور چوراہوں میں بیٹھ کر نکالتے ہیں اور آپ نے یہ زبان اپنے قلم کو دیدی ہے۔ میری رب ذوالجلال سے دعا ہے کہ آپ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور دنیا کے ہر شر اور فساد سے بچائے۔

    • برادر سلیم صاحب! آپ کی دعاؤں اور نیک تمناؤں کیلئے ممنون ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ سبحان تعالیٰ آپکو دیار غیر میں ہر بلا و آفات سے محفوظ رکھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سدا خوش آباد

    • آپ اور ہم جیسے سفید پوش تو صرف زندگی کی بنیادی ضروریات کیلئے رزق حلال کی تلاش میں رہتے ہیں سو آپ کو ایک پرفیوم کی قیمت پانچ لاکھ واقعی جھوٹ لگتی ہو گی لیکن رؤسا اور امرا کیلئے پانچ دس لاکھ ، اوہ نو پرابلم ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں صرف ایک پرفیوم کلائیو کرسچین امپیریل میجسٹی کی مصدقہ قیمت لکھ رہا ہوں اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ پانچ لاکھ کا اس کے آس پاس کی قیمت میں تو بہت ہوں گے۔۔۔
      Clive Christian’s Imperial Majesty: Price $215,000
      مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک بھارتی چینل کے پروگرام میں ایشوریا اور اس کے شوہر بچن سے اینکر نے پرفیوم کی تعریف کرنے کے بعد قیمت پوچھی تو جواب ملا تھا کہ یاد نہیں دس گیارہ ہزار ڈالرز کا لیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ ویسے تو آپ کو نیٹ پر دی گئی پرفیومز کی قیمتوں سے دو تین ہزار ڈالرز کی قیمت کے تو بیسیوں ایسے برانڈ مل جائیں گے جنہیں ” امیر لوگ” بس سٹینڈرڈ سمجھتے ہیں۔۔۔ یاد رہے کہ پاکستان کی دو ہستیاں دنیا کے مہنگے ترین لباس ، جیولری اور پرفیومز استعمال کرنے کیلئے مشہور ہیں۔ اور وہ ہیں شرمیلا فاروقی اور حنا ربانی کھر ۔۔۔۔۔۔۔یں

    • برادر خراسانی! فتنہء قادیانیت کے زندیقوں اور دجالی دہر کے ننگ قوم و ملت غداروں کیلئے مومن کا کردار بھی اور قلم بھی ننگی تلوار ہونا چاہئے ۔۔۔۔۔ آپ اسے قینچی کہیں یا جو بھی ۔آپ کو کوئی ذومعنی بات، طنز یا پھر کسی بھی نوعیت کا کومنٹ کرنے کا پورا حق حاصل ہے ۔خوش آباد

Featured

%d bloggers like this: