حالات حاضرہ

صبحِ سامراج ، شام ِ داعش اور شب ِ مظلوم کی آخیر


بے شک اسلام امن کا دین ہے اور ملت اسلامیہ  شدت پسندی کی نہیں، پوری دنیا میں امن اور منصفانہ معاشرے کی خواہشمند ہے۔ غیر جانبدار و امن پسند عالم انسان کیلئے تشویش ناک اور عالم اسلام کیلئے سنگین خطرات کی گھنٹیوں جیسے حالات بتا رہے ہیں کہ فرانس کا تھرٹین الیون امریکی نائن الیون سازش کا تسلسل ہے۔ چارلی ایبڈو کی توہین آمیز اشاعتوں کی فتنہ گری کے نتیجے میں پیرس دہشت گردی پرساری مسلم دنیا کی طرف سے کھلی مذمت کا اظہار کیا گیا ہے ۔ حتی کہ اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کا نشانہ بننے والے نہتے فلسطینیوں ، ایران اور بشار الاسد کے کیمیائی و کلسٹر بم حملوں سے معصوم عراقی و شامی شہریوں کی ہلاکتوں، بھارت کی ریاستی دہشت گردی سے کشمیری مسلمانوں کی لاشوں اور برما کے سفاک درندوں کے ہاتھوں زندہ جلائے جانے والی بے یار و مددگار مسلم کمیونٹی کے سانحوں پر خاموش تماشائی بننے والے مسلمانوں نے بھی سوشل میڈیا پر مظلوم فرانس کے جھنڈے لہرا کرمسلمانوں کے فطری امن پسند ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ لیکن صد افسوس کہ جہاں چارلی ایبڈو نے توہین آمیز خاکوں کے ردعمل میں شدت پسندی کے جواب میں اسی توہین آمیز مواد کی سینکروں گنا ضدی مکرر اشاعتیں کیں وہاں فرانس نے اس شدت پسندی  کا بدلہ لینے کیلئے شام پر بلاجواز وحشیانہ بمباری کر کے داعش کے چند شدت پسندوں کے ساتھ ساتھ سینکڑوں بے گناہ مسلمان شہریوں کو موت کی نیند سلا کر بدلے کی آگ کو ٹھنڈا کیا کر لیا ہے۔ جبکہ سامراج و مغرب نے  روس جیسے ازلی دشمنوں کو بھی اس ” کار خیر” میں شریک کرنے کیلئے ، ہاتھ ملا کر پوری دنیا کو ہولناک جنگ کے تندور میں جھونکنے کی تیاریاں شروع کر دیں ہیں۔ میں نے  چارلی ایبڈو برانڈ توہین رسالت کے حوالے سے اپنے کالم میں  دو تہذیبوں کے ٹکراؤ  کے قیامت خیز عالمی جنگ میں تبدیل ہونے کے خدشات کا اظہار کیا تھا۔   اس ہولناک دجالی کھیل کے سٹیج کی تیاری آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔ لیکن اس خونی ڈرامے کے سامراجی ہدایتکار اس امر سے ناواقف ہیں کہ عالم انسان کے امن کے ساتھ ساتھ خود فتنہ گر بھی اس آتش میں جل کر راکھ ہو جائیں گے

پیرس واقعے  کے حوالے سے انتہائی پراسرار امر ہے کہ ایک برطانوی اخبار کی سائٹ پر پی زیڈ ای بکس نامی ٹویٹر آئی ڈی سے دو دن قبل یعنی 11 نومبر ہی کو حملے میں 120 ہلاکتوں اور 270 سے زائد زخمیوں کی اس تعجب خیز بریکنگ نیوز کی اشاعت کا ذکر کیا گیا،جو  پیرس حملے کے فوری بعد غائب ہوگئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا پیشگی بریکنگ نیوز دینے والے کوئی جادوگر و نجومی تھے یا کسی ” پری پلان ” خودساختہ واقعہ کی خبر کسی ” ہیومن ایرر ” کی وجہ سے وقت سے پہلے شائع ہوئی تھی؟ اور پھر سامراج و مغرب کیلئے سونے پر سہاگے جیسے داعش کی طرف سے  ذمہ داری قبول کرنے کے بیان پر امریکہ اور نیٹو کے ازلی مخالف روس کا امریکی مفادات کا محافظ بن کر میدانِ جنگ میں کودنا آخر کس ہولناک عالمی سازش کی طرف اشارہ کر رہا ہے؟ اس سوال سے جڑی پراسراریت تک پہنچنے کیلئے داعش کا ماورائے عقل اور ایران و شام کی دو چہرہ  قیادتوں کا پراسرار کردار دور حاضر کی ہفت رخی و  صد رنگی بھول بھلیاں جیسا ہے

جہاں  ترکی نے قومی غیرت میں  روسی طیارہ مار گرایا ،  وہاں روس کی طرف سے انتقام کی دھمکیاں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ جس سامراج کیلئے ترکی میں احیائے اسلام اور ملت اسلامیہ کا درد رکھنے والی قیادت نا پسندیدہ ہے ، ان کیلئے موقع پرست روس کا منافقانہ استعمال بہترین حکمت عملی ہے ۔ اہل علم کیلئے عالم اسلام کی سرکوبی کیلئے امریکی اور روس جیسے دیرینہ دشمنوں کی یہ دوستی کوئی نئی بات نہیں ۔ اس سے پہلے صدیوں تک ایک دوسرے کے  دشمن رہنے والے یہود و نصاری بھی عالم اسلام کے قتل عام کے مقدس ایجنڈے پر یک جان ہو چکے ہیں۔ قبل از اسلام سے سولہویں صدی تک یہود و عیسائیت کے درمیان کشت و خون اور باہمی نفرت کا ماحول رہا ۔ کلیسائے روم کے پوپ پولوس چہارم کا کہنا تھا کہ یہودی صرف غلامی کی زندگی گذارنے کیلیے پیدا کیے گئے ہیں، جبکہ آج پوری عیسائی دنیا مسلمانوں کے قتل عام کیلئے انہی یہودیوں کی ابدی غلام بن چکی ہے۔ اب اسی سازش کے تسلسل میں امریکہ اور روس جیسے حریف بھی حلیف بن رہے ہیں تو کوئی تعجب نہیں ۔ امریکہ اور نیٹو پچھلی صدی سے روس کے مقابل دشمنی کی  فضا میں ہیں ۔ نیٹو نے میزائل شیلڈ نصب کرنے کا آغاز کیا تو روس نے جنگ کی دھمکی دے دی۔ یوکرائن کے معاملے پر روس اور نیٹو  تصادم کے قریب پہنچ گئے ۔ مگر شام میں مسلمانوں کے قتل عام اور تیل کی دولت پر قبضہ کیلئے صلیبیوں کی دیرینہ دشمنیاں، اتحاد و اخوت میں میں بدل گئی ہیں ۔ دوسری طرف روس نے اپنے میزائیل سسٹم اور تباہ کن بحری بیڑے  اسی نیٹو کے ایک رکن برادر اسلامی ملک  ترکی کے قریب و جوار میں اکٹھے کرنا شروع کر دئے ہیں۔ لیکن روس بھی اس امر سے خوب واقف ہے کہ تین سو ایف سولہ طیاروں اور دنیا کے جدید ترین تباہ کن اسلحے سے لیس ترکی کو عراق یا شام کے ترازو میں تولنا دن میں تارے دکھا سکتا ہے۔ عبداللہ سہیل نے اپنے حالیہ کالم میں خوبصورت جملے کسے ہیں کہ، ” داعش نے یورپی ٹھیٹر کی شکل ہی بدل دی ہے ۔ روس، امریکہ، یورپ سب ایک ہی ملت بن گئے ہیں ۔ اس سے پہلے ایران اور امریکہ ایک ملت بن چکے ہیں۔ یہ عالمی ملی یکجہتی کونسل شام اور عراق کے بعد کہیں اور بھی گل کھلائے گی ” ۔ لیکن فاروق درویش کے مطابق اسلام دشمن قوتوں کے ایسے قصابی اتحاد ہی عالم اسلام کو ” نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر ” جیسے ملی  اتحاد و اخوت کی راہ بھی دکھائیں گے

پوری دنیا اور بالخصوص عالم اسلام کیلئے ایک پراسرار معمہ بننے والی داعش کی حقیقت کا اندازہ شام کے اندرونی ذرائع کی روشنی میں تیار کی جانے والی تحقیقاتی نیوز رپورٹس سے لگایا جا سکتا ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق داعش اس قدر مظبوط مافیہ بن چکا ہے کہ بشار الاسد کی حکومت بھی اس سے بجلی اور تیل جیسی ضروریات زندگی خریدنے پر مجبور ہے۔ فنانشل ٹائمز میں یہ ہوش ربا انکشاف کیا گیا ہے کہ بشار الاسد اور داعش عوام کو بجلی فراہمی کیلئے مل کر کام کر رہے ہیں۔ برطانوی اخبارات فناننشل ٹائم اور ڈیلی میل کے مطابق متعدد اہم تنصیبات کو بشار الاسد اور داعش کے مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ جبکہ دوسری طرف عالمی منظر پر دنیا کو یہی دکھایا جا رہا ہے کہ داعش اور سامراج و ایران کا خونی بغل بچہ بشارالاسد ایک دوسرے کیخلاف حالت جنگ میں ہیں ۔ داعش کی حقیقت کے بارے مختلف تجزیہ نگاروں کی مختلف رائے ہے۔ کچھ دانشوروں کے مطابق داعش ایک ایسا شدت پسند اسلامی گروپ ہے جو اسلام دشمن طاقتوں کو کسی صورت معاف کرنا نہیں چاہتا اور دشمنوں کے ذہنوں میں اپنا خوف و ہیبت بٹھانے کیلئے خوفناک سزائیں دیتا ہے۔ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ بظاہر ایک اسلامی عسکری گروپ ہے لیکن اسے امریکہ، اسرائیل اور مغربی ممالک کی اندرونی حمایت حاصل ہے اور وہ ان ہی کے اشاروں پر ایسی ظالمانہ سرگرمیاں انجام دیتا ہے۔ مگر جو کچھ عیاں نظر آ رہا  ہے، دراصل وہ نظر کا دھوکہ اور مغربی میڈیا کی شعبدہ بازی  ہے۔

میرے مطابق داعش سامراج و مغرب کے تھنک ٹینک کی تیارہ کردہ وہ  جدید ترین پزل مشین ہے۔ جس کا اولین مقصد منقسم و مرحوم امت مسلمہ کی  تقسیم در تقسیم ہے۔ اتحاد و وحدانیت کیلئے سوالیہ نشان بننے والے داعش پروگرام کے ذریعے اسلام دشمن طاقتوں کے خلاف لڑ مرنے کا جذبہ رکھنے والے نوجوانوں کو جمع کر کے اپنے ہی ان مسلمان بھائیوں کیخلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ جو سامراج کے دوسرے بغل بچوں یعنی فتنہء ایران اور فتنہء بشار الاسد کی سپاہ کے سپاہی ہیں۔ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد افغان طالبان تک کو تقسیم کر دینے والی داعش جادوگری کے ذریعے یہ دو طرفہ مسلم نسل کشی، سامراج کے یہودی بغل بچوں کے کمالِ عیاری کا نہاں کرشمہ ہے۔ اس حوالے سے اسرائیل کے انڈر گراؤنڈ اتحادی بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کے داعش سے جڑے خفیہ لنکس کا افشا اور ہندوستان میں داعش کی موجودگی کے مصدقہ ثبوت اس سارے گورکھ دھندے کو عریاں در عریاں کر رہے ہیں۔عالمی میڈیا کی تحقیقاتی رپورٹ اور روسی صدر پیوٹن کے مطابق داعش تیل کی فروخت سے سالانہ اربوں ڈالرز کما رہی ہے۔ اس کے زیر انتظام علاقوں سے تیل کی روزانہ پیداوار ہزاروں بیرل تک پہنچ چکی ہے۔ جسے شامی حکومت اور امریکہ سمیت دنیا بھر کو بلیک مارکیٹ میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ ماضی قریب میں برطانوی خفیہ اداروں کی رپورٹس کے حوالے سے یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ شامی حکومت داعش اور النصرہ فرنٹ کو تیل کی خریداری کی مد میں بھاری رقوم کی ادائیگی سے زندہ رکھے ہوئے ہے۔ تعجب خیز و پراسرار کھیل ہے کہ بشار الاسد حکومت انہی شدت پسند تنظیموں کو مالی تعاون فراہم کر رہی ہے جو اس کے دارالخلافہ دمشق پر حملے کیلئے پرتول رہی ہیں۔ میرے مطابق داعش امریکہ و مغربی دنیا کا وہ خفیہ ٹول ہے جس کے ذریعے سامراج و مغرب اس خطے میں تیل کی دولت تک رسائی و قبضہ چاہتا ہے۔ اس ست رنگی خونی کھیل کے پس پردہ شام و عراق کے تیل اور دیگر وسائل کی بندر بانٹ یا اسرائیل کی حفاظت اور چین کی بڑھتی ہوئی عسکری طاقت کو چیلنج کرنے کیلئے عالم عرب کے عین وسط میں نئے اڈوں کا حصول ہے۔ جبکہ ماضی سے سبق نہ سیکھنے والا نامراد روس اس خونی کھیل میں چھلانگ لگا کر اپنے عیار دشمن امریکہ کی چال کا شکار ہو چکا ہے۔ گویا امریکہ کیلئے ابھی تک ایک تیر میں دو شکار اور آم کے آم اور گٹھلیوں کے دام والی موافق و منافع بخش صورت حال ہے۔

ماضی میں گرم پانیوں تک پہنچنے کیلئے افغانستان اور پاکستان کو روندنے کے چنگیزی خواب دیکھ کر اوندھے مونہہ گر کر ٹوٹ جانے والے روسی بھیڑیوں میں بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے اور صحرائے عرب کے تیل کی دولت کی بندر بانٹ میں اپنا حصہ وصول کرنے کی ہوس جاگ اٹھی ہے۔ امریکہ کے ازلی حریف روس  نے اسلام  دشمنی کے مقدس صلیبی جذبے کے تحت امریکہ کا اتحادی بن کر داعش کے اڈوں پر کروژ میزائلوں کی جو بارش شروع کی ہے اس میں نوے فیصد سے زیادہ ہلاکتیں معصوم اور نہتے شہریوں کی ہوئی ہیں ۔ روسی حملوں سے الرقہ شہر کا پورا شہر کھنڈر بن چکا ہے۔ شہر کے ہسپتال، سکول، مسجدیں، رہائشی مکانات اور بازاروں سمیت ہر شے تباہ و برباد ہو چکی ہے۔  روس کی طرف سے حلب اور ادلیب کے ان شہروں پر بھی کروز میزائیل داغے گیے ہیں جہاں داعش کا کوئی وجود ہی نہیں۔ ان حقائق سے عین عیاں ہے کہ یہ مسلم کش  ڈرامہ داعش کی سرکوبی کیلئے نہیں ، محض بے گناہ مسلمان شہریوں کے قتل عام کیلئے سٹیج کیا جا رہا ہے۔  خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال سے عالم اسلام کی قیادت کیلئے  ” ابھی نہیں تو کبھی نہیں ” کی صدائے مکرر در مکرر اتحاد ملت کا مسلسل پیغام دے رہی ہے ۔ پاکستان، ترکی ، سعودی عرب، مصر اور متحدہ عرب امارات سمیت تمام مسلم ریاستوں کی قیادت پر خطے کے سنگین حالات کی دوربینی اور سامراج و مغرب کی عیارانہ سازشوں کیخلاف نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغرعرب و عجم کا عسکری و ملی اتحاد عین لازم ٹھہرا ہے۔ آنے والے وقت کا مورخ بشار الاسد جیسے فتنہ گروں اور ایران جیسے خفیہ سامراجی آلہ کاروں کے دو رنگی کرداروں کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔ زمانے میں تیزی سے ابھرنے والے دجالی فتنوں کا ظہور اور علامات ِ صغری جیسے حالات واضع اشارات دے رہے ہیں کہ ظہور مہدی اور سیدنا عیسی علیہ السلام کے نزول ثانی کا زمانہ اب زیادہ دور نہیں ۔ شاید اب امن کا وہی دور شب ِ مظلوم کی آخیر اور امن کیلئے ترستے ہوئے زمانون کیلئے ابدی سلامتی کی صبحِ نو  ہو گا ۔۔

فاروق درویش ۔۔ واٹس ایپ ۔۔۔ 03224061000

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

Featured

%d bloggers like this: