حالات حاضرہ

طارق بن زیاد اور صاحبِانِ فتنہ و فساد کا ڈانگ مارچ


میرا یہ مضمون پڑھے سے پہلے یہ یاد رہے کہ بھول کر بھی اس تحریر کی تائید یا خاں صاحب کی فرعونی مزاجِ سیاست پر تنقید میں ایک لفظ بھی مت لکھیے گا۔ خیال رہے سونامی حضرات کے انقلابی فلسفہ و جدید نظریہء خود پرستی کی رو سے یہ توہین عمرانی و سونامی اور توہین قرآن و رسالت سے بڑھ کر ناقابل معافی جرم ہے۔ اگلے ہی لمحے اپنی معزز و محترم ماؤں بہنوں کو اسلام آباد کے چوراہوں پر سرعام نچوا کر بے غیرتی برانڈ نیا پاکستان بنانے کیلئے کوشاں سب عزت دار انقلابی جوان آپ کی ماں بہن ایک کرنے کیلئے گروہ در گروہ میدانِِ خباثت میں کود پڑیں گے۔  خانہ جنگی و انارکی پھیلانے کیلئے سرگرم ، نت نئے انقلابی ڈراموں کے سرپرست بین الاقوامی فتنے، عوام بمقابلہ عوام اور عوام بمقابلہ ریاست تصادم کروا کر ملک میں خونی خانہ جنگی کروانے پر تلے ہیں۔  صرف تین درجن سیٹوں کے ساتھ پاکستان میں صرف خود کو ہی وزارت عظمی کا اہل سمجھتے والے خان صاحب کی طرف سے  ، عوامی فلاح سے کوسوں دور شاہان ِ رائیونڈ  کو مذید ایک سال دیکر انہیں کلی ایکسپوزڈ کرنے کی بجائے تشدد کی سیاست کا راستہ اپنانا بحرحال غلط تھا اور غلط ہے۔ سرحدوں پر بھارتی دہشت گردی سے بے نیاز اور سیاست سے کلی نابلد خان صاحب  ہر موڑ پر کسی روٹھی ہوئی بیوی کی طرح ” میں نہ مانوں ” کا نعرہ لگا کر ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ ان کے سر پر کسی بھی قیمت پر وقت سے پہلے ہی وزیر اعظم بننے کا جنون سوار ہو چکا ہے۔ لیکن مجھے کبھی بھی اقتدار کا ہما کم از کم ، سیاسی بصیرت سے خالی ان خان صاحب کے سر پر بیٹھتا نظر نہیں آتا۔ انہیں سوڈے کی بوتل میں نمک   ڈال جیسے استعمال کرنے والے انہیں اس بار بھی استعمال کریں گے اور پھر ڈسٹ بن میں پھینک دیں گے۔

انتخابات میں شکست کھانے کے بعد سے خان صاحب یہ روزمرہ فتوی دیتے رہے ہیں کہ وہ دھاندلی زدہ ناجائز حکومت تسلیم نہیں کرتے۔ دراصل ان کا یہ فتوی ان کی ” اصول پرست فطرت و انصاف پسندعادت” کے عین مطابق ہے کہ وہ کسی بھی ناجائز چیز کو کبھی بھی تسلیم ہی نہیں کرتے۔ یاد رہے کہ انہوں نے اپنی اس ناجائز بچی کو بھی آج تک اپنی اولاد تسلیم نہیں کیا جس کے بارے لاس اینجلس کی عدالت کا واضح فیصلہ موجود ہے کہ وہ عمران خان کی ہی ناجائز بچی ہے. قابل غور ہے کہ پاکستانی عدالتوں کو بکاؤ اور ضمیر فروش قرار دیکر عدالتی فیصلے ٹھکرانے والے صاحب نے نہ تو کبھی امریکہ کی عدالت کے اس فیصلے کو چیلج کیا ، نہ اس کے خلاف کبھی کوئی اپیل کی ہے اور نہ ہی کبھی اس ناجائز بچی کا باپ ہونے سے انکار کیا ہے۔ اس حوالے سے خاں صاحب کے پرستار اس خود ساختہ روشن خیال فلسفے کے علمبردار ہیں کہ تحریک انصاف سے وابستہ تمام سیاسی کرداروں کے سنگین جرائم اور بدکرداریوں کا حساب اللہ پر چھوڑ دینا چاہئے۔ لہذا یہ معاملہ اٹھانے والے ناقدین کو عدالت کی طرف سے ثابت شدہ ناجائز بچی کا حساب اللہ پر چھوڑ دینے کی تلقین ہے۔

خاں صاحب کو  ہم جنس پرستی کے دجالی فروغ کیلئے فعال میڈم فوزیہ قصوری  کی طرف سے قومی اسمبلی میں باقاعدہ درج شدہ بیکن ہاؤس سکول میں ہم جنس پرستی کے مباحثے کروانے کا ذکر کا جائے، تو اسے سیاسی کردار کشی کہہ کر معاملات اللہ پر چھوڑنے کا درس دیا جاتا ہے۔ خاں صاحب کے ساتھ ہر پل منسلک سونامی شریف کے آفیشل گویے  ملعون و بدبخت  سلمان  احمد کی طرف سے بی بی سی پر نشر کردہ سنگین ترین توہین قرآن و اسلام  کا ذکر کر کے دینی غیرت جگانے کی کوشش کی جائے تو بھی معاملات اللہ پر چھوڑنے کی ہی بات کی جاتی ہے۔ لیکن جب چار سیٹوں پر دھاندلی کی تحقیقات سپریم کورٹ میں دینے کی بات کی جائے تو معاملہ اللہ پر چھوڑنے کی بجائے عقل کل خان صاحب کی طرف سے بزور طاقت حل کرنے کی بات ہوتی ہے۔ خاں صاحب کی طرف سے نواز شریف پر سیاسی اور معاشی الزامات اور حکومتی معاملات میں نااہلی کی بات ہو تو معاملات اللہ پر چھوڑے جاتے ہیں اور نہ ہی اعلی عدالتوں پر، اور اگر سیاسی بحران کے حل پر ڈائیلاگ کیلئے دوسرے قومی سیاست دان آگے آئیں تو ان سے ملنے سے حقارانہ انکار کر کے سیاسی و شخصی فرعونیت کا ثبوت دیا جاتا ہے ۔ خاں صاحب کے نخرے بتا رہے ہیں کہ انہیں اور ان کے حواریوں کو پاکستان میں ایک ایسا سیاسی نظام درکار ہے جس میں وہی صدر ہوں، وہی وزیر اعظم ہوں، وہی چاروں صوبوں کے گورنر و وزرائے اعلی اور وہی تمام عدالتوں کے سپریم آف دی سپریم جسٹس بھی ہوں۔ خاں صاحب اینڈ کمپنی کے مطابق اس ملک میں اب صرف وہی نظام چلے گا جس میں انتظامیہ، عدلیہ اور مقننہ سمیت افواج پاکستان اور تمام حساس ادارے صرف اس فردِ واحد کے کنٹرول میں ہوں جس نے کرکٹ کا عالمی میدان فتح کیا تھا۔

اور جب کپتان صاحب یہ تاریخی نعرہ لگا دیں کہ وہ کشتیاں جلا کر آئے ہیں اب واپسی کا کوئی راستہ ہی نہیں تو پھر اسلام آباد کے در دیوار کے ساتھ خود خان صاحب بھی ان دل ربا نغموں سے جھوم اٹھتے ہیں جن کی دھن پر اسلام آباد کے چوراہوں پر فجر یا عشا اور عشا تا فجر سونامی مٹیاروں کا والہانہ رقص و مجرہ جاری رہتا ہے۔ رقص کرنے والی معزز مائیں بہنیں بیٹیاں بھی یہ نہیں جانتیں کہ وہ یہ تماشائے بے حیائی کر کس فتح کے جشن میں رہی ہیں۔ اس ہزیمت ناک شکست کی خوشی میں کہ وزیر اعظم سے ایک دن میں استعفے لینے کا دعوی کرنے والے خود اپنےاستعفے دینے پر مجبور ہو کر محشرِ سیاہ ست کے اس ذلت آمیز یا خونی ڈراپ سین کی طرف گامزن ہیں جس کے بعد عوام الناس کی نظر میں یہ صرف سیاسی مسخرے یا معصوم لاشوں کے معمار ٹھہریں گے۔ کیا شرم و حیا سے عاری ایسے مجرہ نما شو صرف اس امید پر کیے جا رہے ہیں کہ پاکستان کے سب ٹھرکی نوجوانوں کو خاں صاحب کے مجرہ شوز کا رخ کرنے کی تحریک ملے گی ۔ یا مغربی بادشاہ گروں کی ہمدردیاں حآصل کرنے کیلئے انہیں یہ یقین دلانا مقصود ہے کہ ہاں ہم پاکستان میں بھی آپ کی پراگندا مغربی تہذیب کے ہر گند کے فروغ کیلئے عملی طور پر میدان میں میں موجود ہیں۔ یاد رہے کہ کشتیاں جلانے والے طارق بن زیاد نے مجرے کروا کر لشکری اکٹھے نہیں کئے تھے اور نہ ہی وہ اقتدار کے حصول کیلئے افریقہ سے اسپین تک کا سمندری لانگ مارچ کر کے وہاں پہنچا تھا۔

میں تحریکی احباب کو طارق بن زیاد کی اس تاریخی تقریر کے الفاظ یاد دلانا ہوں جس کے بعد اس لشکر کے کسی مجاہد نے آخری فتح کے حصول تک پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اس مرد مجاہد نے اپنے سپاہیوں سے کہا تھا کہ ” میں تمہیں کسی ایسے خطرے میں نہیں ڈال رہا جس میں کودنے سے میں خود گریز کروں۔ اس جزیرہ نما ملک میں اللہ سبحان و تعالی کا کلمہ بلند کرنے اور اس کے دین برحق کے فروغ کیلئے اس جد و جہد کے بدلے اسی مالک کائنات کی طرف سے اک اجر عظیم تمہارا عین مقدر بن چکا ہے۔ یہاں کے غنائم خلیفہ اور مسلمانوں کے علاوہ خاص تمہارے لئے ہوں گے۔ میرا حق الیقین ہے کہ میرے اللہ نے کامیابی و کامرانی تمہاری قسمت میں لکھ دی ہے اور اس فتح کے حوالے سے دونوں جہانوں میں تمہارا ذکر احترام اور محبت کے ساتھ ہوگا “۔ میرے مطابق تو خاں صاحب نے اسمبلیوں سے استعفوں کی ہزیمت سے فیس سیونگ اور بد دل ہوئے کارکنان کو بیوقوف بنانے کیلئے ” ہم نے کشتیاں جلا ڈالی ہیں اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں ” کا بیان دیکر خود کو اپنی ہی بنائی ہوئی دلدل میں اور بھی جس گہرائی میں پھنسایا تھا ، ابھی تک اس سے نکل نہیں پا رہے ۔۔۔۔۔۔ طارق بن زیاد جیسے مرد مومن کی تقلید کی شیخی بکھارنے سے قبل وہ تاریخ کی یہ چند سطور ہی پڑھ لیتے۔ کہ اس تاریخی جنگ وادیء لکہ میں جن دس بارہ ہزار مسمانوں نے کشتیاں جلا کر روڈرک کے ایک لاکھ کے صلیبی لشکر کو صرف ایک دن فیصل کن شکست دی تھی ان میں کوئی ایک مسلمان بھی ان کے خصوصی تحفہء فتن اور سدا بہار مردِ نحوست شیخ رشید جیسا مصدقہ اور اقراری زانی نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔ اس لشکر اسلام میں خوابوں والی سرکار جیسا کوئی ایسا مذہبی شعبدہ باز صلیبی ایجنٹ نہ تھا جو بم پروف کنٹینر میں بیٹھ کر نام نہاد حسینی لشکر کی قیادت کرتا ہے ۔۔۔ اور نہ ہی ان میں آپ کو بربادی کی راہ دکھانے والے اصل فتنہ گر شاہ محمود قریشی جیسا ہنری کلنٹن کے ساتھ شراب و شباب کی محفلوں کا خصوصی شو پیس غدار مسلم تھا ۔۔۔۔۔۔

طارق بن زیاد آدھے یہودی آدھے عیسائی سسرالیوں کا آدھا تیتر آدھا بٹیر نمائیندہ نہیں بلکہ اس عظیم مرد مجاہد موسی بن نصیر کا نائب تھا جس کا نام اس کے ملی کارناموں کی بدولت تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا ہے۔ ان صاحبان کردار مسلمانوں نے اسپین فتح کر کے یورپ کی سرزمین پر اس اسلامی مملکت کی بنیاد رکھی تھی جو اگلے آٹھ سو برس تک زمانے میں دین اسلام کی حقیقی عکاس و نمائیدہ رہی ۔۔۔۔۔ طارق بن زیاد فتح اسپین کی تکمیل تک دو دن اور دو رات ایک لمحے کیلئے نہیں سویا تھا اور آپ جلسے کے نام پر جاری رقص و سرور کی محافل میں سارا دن گزارتے ہیں، کنٹینر کی چھت پر ساتے ہوئے تصویر بنواتے ہیں۔ اور پھر کارکنوں کو طوفانی بارش کے سپرد کر کے خود بنی گالہ کے شاہانہ محل میں سوجاتے ہیں۔ خان صاحب خیال رہے کہ وہ کشتیاں جلانے والا جرنیل صاحبان کردار مجاہدوں کے ساتھ صرف دین حق کی سربلندی کیلئے نکلا تھا۔ خدا جانے کہ آپ پیشہ ور لوٹوں، اقراری زانیوں، پانچ وقت کے شرابیوں اور مادر پدر آزاد ڈانسروں کی برگری فوج لیکر اسلام آباد فتح کرنے نکلے ہیں یا ایک صلیبی ملاوے کے ساتھ ملکر معصوم اور بھولے بھالے لوگوں کے قتل وعام کیلئے کسی ہولناک خانہ جنگی مشن پر ہیں ۔۔۔۔۔

خدارا نام نہاد و پراسرار انقلاب کے نام پر قوم کو بیوقوف بنانے کیلئے سیاسی و دینی شعبدہ بازی سے اجتناب کیجیے۔ عوامی فلاح سے بے نیاز حکمرانوں کو پھر سے سیاسی مظلوم بننے کی راہ ہموار کر کے اپنی راہ میں کانٹے مت بیجیں۔ کشتیاں جلانے والوں کی تقلید سے پہلے خود میں ان سرفروشوں جیسا مثالی کردار تو پیدا کیجئے۔ آپ کرپشن کنگز اور سیاسی لوٹوں سے پاک، صاحبانِ کردار عناصر کی سونامی لیگ بنا لیں گے تو نواز شریف اور زرداری جیسے سب موروثیت پسند عناصر خود بخود اس انقلابی سیلاب میں بہہ جائیں  گے۔ خاں صاحب عمر فاروق جیسا فلاحی ریاستی نظام لانے کے دعووں اور انصاف کی فراہمی کے دعووں سے قبل اپی اس معصوم بچی کو حقیقی انصاف دیجیے جو ایک باپ کی شفقت کیلئے ترس رہی ہے۔ ایک مسلمان باپ ہونے کے ناطے اپنے ان دو بیٹوں کو بھی حقیقی مسلمان بنائیے جو اپنی آدھی عیسائی آدھی یہودی والدہ صاحبہ کے ساتھ گرجوں اور یہودی معبدوں کے چکر لگا کر آپ ہی جیسے آدھے تیتر آدھے بٹیر بن رہے ہیں ۔۔۔ مت بھولیے کہ انہیں دین اسلام اور مسجد کا راستہ دکھانا بھی آپ پر فرض ٹھہرا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ آپ تو اپنی بچی اور بچوں کو انصاف نہ دے سکے پوری قوم کو کیا خاک دیں گے؟ نواز شریف اور ووٹ نہ دینے والی عوام سے انتقام لینے سے پہلے کاش آپ رسل برانڈ جیسے بیسیوں عاشقینِِ جمائمہ سے اپنی غیرت کا انتقام لیتے۔ کاش کوئی صاحبِ علم و فضل خان صاحب کو یہ بات سمجھا دے کہ کامیاب سیاست ڈانگ اور ڈنڈے کے زور پر نہیں بصیرت کے زور پر کی جاتی ہے۔ اللہ سوہنا خیر کرے خان صاحب کو اپنے صلیبی حلیف ملا فسادی اور شاہ محمود قریشی مافیہ کو خان صاحب کی سیاسی شہادت کی اشد ضرورت ہے۔ ہم دعا گو ہیں کہ خان صاحب سمیت سب سیاست دانوں، عوام اور اس ملک کی سدا سلامتی ہو ۔ وزیر اعظم کوئی بھی ہو  پاکستان زندہ و پائیندہ باد، کہ یہ ملک ہے تو ہم ہیں۔۔۔۔

حالات  و  صد آشوبیء صحرائے وطن پر  : درویش ہر اک آنکھ ہے نم دل ہیں دریدہ

( فاروق درویش  ۔۔ 03224061000 )

 

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: