تاریخِ عالم و اسلام تاریخِ ہند و پاکستان حالات حاضرہ

طالوت اور جالوت سے انصاف اور فوجی سلیوٹ تک


 ماڈرن سیاست میں خود ساختہ سیاسی افکار و نظریات کے تحفظ کیلئے مذہب اور قوانین قدرت سے روگردانی کی روش کے بانی دراصل عالم انسان کے ازلی و ابدی  فتنہ گر بنی اسرائیل کے وہ یہودی ہیں، جن کی فتن دوزیوں سے نہ تو انبیائے حق محفوظ رہے نہ صالحین اور نہ  ہی  ان سے کسی حوالے سے وابستہ عوام و خواص کو سکھ کا سانس نصیب ہوا۔ یہ دنیا کے اہل سیاست کا ان اہل یہود سے درپردہ یا عیاں تعلقات  ہی کا اثر ہے کہ حصول اقتدار اور طوالت اقتدار کے پراگندا کھیل میں مذہب اور ملک و ملت سے غداریوں کی طویل داستاں زمانہء قدیم سے اب تک جاری ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے لیکن  دنیا کے ہر ایک غدارِ ملک و مذہب کی کوئی نہ کوئی کڑی ان سے ضرور ملتی ہے۔  قدیم بائیبل اور قرآن حکیم کے مطابق بھٹکے ہوئے بنی اسرائیل اپنی بدکرداری و بد اعمالی کی بنا پر بار بار عذاب الہی کے مستحق ٹھہرے۔ مگر یہ لوگ زمانہ قدیم میں انبیاء و صاؒحین کیخلاف سازشوں اور آج دور جدید میں بھی ملت اسلامیہ و فلسطین پر ظلم و بربریت سے کبھی باز نہیں آئے۔ مبصرین کے مطابق ہٹلر کے ہاتھوں ان کا قتل عام بھی ان کی عالمی دہشت گردی اور عالمِ انسان کا امن و سکون تباہ کرنے کی سازشوں کے بدلے اللہ کا عذابِ شدید ہی تھا۔ حضرت موسیٰ کے ساڑھے تین سو سال بعد تک بنی اسرائیل میں نہ کوئی بادشاہ ہوا اور نہ ہی وہ خود سر لوگ کسی کو اپنا حاکم ماننے کیلئے تیار تھے۔ نتیجاً یہ بے نظم و بے قائد لوگ، ہمسایہ قوموں کے ہاتھوں ظلم و جبر کا شکار بن کر پٹتے رہے۔ اور جب نبوت کا سلسلہ رکنے کے بعد، لادی کے خاندان میں صرف ایک حاملہ خاتون رہ گئی تو ربِ کائنات نے اپنے حکم کُن سے اسے وہ  بیٹا  شموئیل عطا کیا، جسے بڑا ہونے پر نبوت عطا کر کے بنی اسرائیل کی اصلاح کی ذمہ داری سونپی گئی ۔

احباب اسلامی نظریہ ریاست و حکومت اگر موروثی نظام حکمرانی کے تصور کی نفی کرتا ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ انبیاء و صالحین کی اولادیں بھی راہِ حق سے بھٹکی ہوئی پائی گئیں ۔ شموئیل علیہ السلام کے دو بیٹے جیوئیل اور ابیاہ شہر میں قاضی کے اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے لیکن یہ دونوں ہی ذاتی طمع اور ہوس زر کے باعث  راہ راست سے کوسوں دور عدل و انصاف کے قاتل تھے ۔ اس حقیقت کی گواہی بائیبل میں کتاب سیموئیل کے پہلے باب میں کچھ یوں درج ہے۔ ’’اس کے بیٹے اس کی راہ پہ نہ چلے، وہ نفع کے لالچ سے رشوت لیتے تھے اور انصاف کا خون کر دیتے تھے‘‘۔ اس حوالے سے خلیفہ ہارون رشید کے نا عاقبت اندیش جانشینوں، ہسپانیہ کے نامور حکمرانوں کی رنگیلی اولادوں، اورنگ زیب عالمگیر کی محمد شاہ رنگیلا برانڈ نسل اور جدید دور میں بلاول زرداری  جیسی پلے بوائے سیاسی نسل کا احوال سامنے ہے۔ شموئیل علیہ السلام کے دور میں مصر اور فلسطین کے درمیان بحر روم پر آباد عمالقہ کے حکمران جالوت نے بنی اسرائیل کے علاقوں پر قبضہ کر کے ایک بڑی آبادی کو غلام بنا لیا۔ وہ سرداروں، معززین اور نوجوان عورتوں کو ساتھ  لے گیا ۔ جبکہ مغلوب و محکوم افراد پر خراج مقرر کر دیا گیا۔ جالوت کے مظالم سے تنگ آ کر بنی اسرائیل کے سرداروں نے حضرت شموئیل کی خدمت میں ایک بادشاہ کے تقرر کی درخواست پیش کی ۔ وہ کسی حکمران کی قیادت میں منظم ہو کر جالوت سے آزادی اورعزت و وقار کی زندگی چاہتے تھے۔ حضرت شموئیلؑ  قوم  کی سازشی طبیعت سے  واقف تھے۔ آپ نے ان کی فطرت اور حق سے نافرمانی کی روش کو مدنظر رکھتے ہوئے فرمایا، ’’مجھے خوف ہے اللہ کی طرف سے جہاد تم پر فرض ہوجائے اور تم جہاد نہ کرو۔‘‘ قوم نے کہا کہ، ’’ہم پر ظلم ہوا ہے اور ہم دشمن سے حساب لینا چاہتے ہیں۔ ہم اپنی عورتوں اور بچوں کو آزاد کرانے کیلیے ان سے لڑیں گے۔‘‘ سو لوگوں کے اصرار اور یقین دہانی پر آپ نے طالوت کو ان کا بادشاہ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ۔

طالوت  کا تعلق بیت لحم کے قریب وادی زیفام میں آباد بن یمین قبیلے سے تھا۔ وہ نہایت وجیہہ اور قد آور شخصیت کے مالک مگر ایک غریب خاندان سے تھے۔ شجاعت، دلیری اور عقل و فہم میں بھی ان جیسا کوئی دوسرا نہیں تھا۔ سب سے بڑھ کر ان میں قیادت اور راہ نمائی کے تمام تر جوہر موجود تھے۔ لیکن بنی اسرائیل نے اللہ کی رضا پر راضی ہونا اور  ہدایت پر چلنا سیکھا ہی نہیں تھا۔ سو انہوں  نے طالوت کی بادشاہت پر یہ اعتراض کیا کہ وہ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے پاس کبھی کوئی جاہ و حشم نہیں رہا۔ لہذا ایسے شخص کو بادشاہت کا منصب نہیں دیا جا سکتا۔ احباب اس گستاخانہ بیان کیلئے پیشگی معافی چاہتا ہوں کہ آج ہماری سیاسی قیادت ہی نہیں بلکہ پوری قوم ہی اسی بھٹکی ہوئی قوم بنی اسرائیل جیسی بد طریقت اور جاہلانہ روش پر گامزن ہے جن کیلئے قیادت کا معیار دولت،  امارت اور جاہ و حشم تھا۔ افسوس کہ آج سیدنا عمر فاروق جیسی اسلامی فلاحی ریاست اور معاشرتی ظلم و معاشی جبر کیخلاف حسینیت کی جہد کا نعرہ لگانے والے قائدین کے پاس، الیکشن کیلئے رزق حلال کمانے والے لوگ اور سفید پوش صالح امیدوار نہیں ۔ آج ہر سیاسی جماعت اور انقلاب و انصاف کے نام نہاد دعویدار کی پہلی ترجیح  اور پراسرار مجبوری، اہل ثروت و حشمت وڈیرے، زور آور جاگیردار،جدید اسلحہ سے مسلح قبضہ گروپ، مافیہ ڈان اور ڈرگ مافیہ کے ارب پتی امیدوارِ ہیں۔

حضرت شموئیلؑ نے قوم کو سمجھایا کہ اللہ نے طالوت کو فضیلت اور علم و حکمت عطا کی ہے۔  انہوں نے قوم کو بشارت دی کہ طالوت کے من جانب اللہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ تمہارا وہ مقدس  تابوتِ سکینہ جو دشمن لے گئے تھے، وہ فرشتے اٹھا کر تمہارے پاس لائیں گے، تو تم طالوت کی بادشاہت تسلیم کرلو گے۔ اس بارے سورۃ البقرہ میں ارشاد  ہے، ترجمہ ’’ اور کہا ان کو ان کے نبی نے، نشان اس سلطنت کا یہ ہے کہ آئے تم کو صندوق، جس میں ہے دل جمعی تمہارے رب کی طرف سے، اور کچھ بچی چیزیں جو چھوڑ گئے موسیٰ ؑ اور ہارونؑ کی اولاد، اٹھا لائیں اس کو فرشتے۔ اس میں نشانی پوری ہے، تم کو اگر یقین رکھتے ہو۔‘‘۔ یاد رہے کہ ” تابوت سکینہ ” بنی اسرائیل عہد کا وہ مقدس صندوق تھا جس میں سیدنا موسی کا لکھوایا ہوا تورات کا  اصل نسخہ محفوظ تھا ۔ اس میں پتھر کی وہ تختیاں بھی تھیں جو اللہ  نے موسیٰ علیہ السلام  کو طور سینا میں عطا کی تھیں۔ اس میں جناب موسیٰ کا عصا، حضرت ہارون کا پیرہن اور آسمانی غذا ’’من‘‘ بھی محفوظ تھی۔  مابعد یہ صندوق یروشلم پر بخت نصر کے حملے اور ہیکل سلیمانی کی تباہی کے دوران ہمیشہ کیلئے لا پتہ ہو گیا۔ حضرت شموئیل کے مطابق صندوق کے واپس ملنے پر قوم کا ایمان کسی حد تک پختہ ہوا اور انہوں نے طالوت کو اپنا بادشاہ تسلیم کر لیا ۔ اسی دوران فلسطین کی اشدودی قوم نے جالوت کی قیادت میں بنی اسرائیل کو پھر سے تاراج کرنے کی تیاری کی۔ تو طالوت اسی ہزار بنی اسرائیلی  لشکر لے کر دریائے اردن کی طرف بڑھے۔ اس موقع پر اللہ نے اپنے نبی کے ذریعے طالوت کو حکم دیا کہ جنگ سے پہلے لشکریوں کے ایمان اور حوصلوں کی آزمائش کریں۔

طالوتؑ نے ہدایت کی کہ دریا پار کرتے ہوئے کوئی شخص ایک چلو سے زیادہ پانی نہیں پئے گا۔ مگر شدید تشنگی کے عالم میں بہت کم لوگوں نے ایک گھونٹ پانی پیا۔ جن لوگوں نے نافرمانی کی ، عذابِ الہی میں مبتلا ہو کر ہونٹ سیاہ اور پیاس اس قدر بڑھ گئی کہ وہ لشکر کے ساتھ چلنے کے قابل نہ رہے۔ بنی اسرائیل نے جالوت کی جنگی تیاری اور سامان حرب دیکھا تو تھکاوٹ کا عذر پیش کر کے لڑنے سے انکار کر دیا. طالوت نے ہمت بندھائی اور  آلات حرب اور ساز و سامان کی تعداد کے بجائے اللہ کی قدرت و قوت پر یقین رکھنے کی تلقین کی۔ لشکر میں موجود اللہ کے بندوں نے انہیں سمجھایا کہ جنگ میں عددی برتری کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اللہ کے نبی کا ساتھ، مردان حق کا حوصلہ اور طالوت کی  دلیرانہ قیادت نے جنگ کا پانسہ پلٹ دیا۔ جالوت سیدنا دائودؑ کے ہاتھوں واصل جہنم ہوا تو اس کا لشکر میدان جنگ سے بھاگ کھڑا ہوا۔  بنی اسرائیل اپنے آبا واجداد کی سرزمین فلسطین میں انتہائی عزت و وقار کے ساتھ داخل ہوئے اور اللہ نے اپنا وعدہ سچا کردکھایا۔  طالوت نے اپنے وعدے کے مطابق داؤد علیہ السلام کو اپنا داماد اور آدھی سلطنت کا بادشاہ بنا دیا۔ چالیس برس کے بعد طالوت کا انتقال ہوا، تو حضرت داؤد پوری سلطنت کے بادشاہ بن گئے۔ حضرت شمویل  کے وصال کے بعد اللہ نے انہیں نبوت سے بھی سرفراز فرمایا ۔ یاد رہے کہ حضرت داؤد سے پہلے بادشاہت اور نبوت کے دونوں اعزاز ایک ساتھ کسی نبی کو نہیں ملے۔ آپ  وہ پہلے انسان تھے جو دونوں عہدوں پر فائز ہو کر ستر برس تک حکومت اور نبوت کے منصبوں کے فرائض پورے کرتے رہے۔ مابعد اللہ نے آپ کے فرزند سلیمان علیہ السلام کو بھی سلطنت اور نبوت کے مرتبوں سے سرفراز فرمایا۔ سورہ البقرۃ کی آیت 251 میں بیان ہے کہ، ” اور قتل کیا داؤد نے جالوت کو اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت عطا فرمائی اور اسے جو چاہا سکھایا “۔

سیدنا داؤد علیہ السلام نے ایک عظیم سلطنت کے بادشاہ ہونے کے باوجود تمام عمر اپنے ہاتھوں اور محنت کی کمائی سے اپنے قیام و طعام کا سامان کیا۔ اللہ نے آپ کو یہ معجزہ عطا فرمایا تھا کہ آپ لوہے کو ہاتھ میں لیتے تو موم کی طرح نرم ہوجاتا ۔ آپ اس سے زرہیں بنا کر فروخت کرنے کو اپنا حلال ذریعہ معاش بنائے رکھا۔ احباب ذرا تاریخ کا جائزہ لیجئے  کہ وہ کون سے چند ایک مسلم حکمران تھے جنہوں نے سنت پیغمبری و تقلید نبوت میں حکمرانی کی اور زندگی گزاری ۔ خلفائے  راشدہ کے بعد اگر کسی نے یہ سنت پیغمبراں ادا کی تو وہ درویش صفت بادشاہ التمش کا بیٹا ناصر الدین محمود اورنگ زیب عالمگیر تھے۔ جنہوں نے اپنے ہاتھوں سے ٹوپیاں سی کر اور قرآن حکیم کی کتابت سے اپنے ذاتی اخراجات  کیلئے رزق حلال کمایا۔ جبکہ آج ہمارے کھرب پتی حکمرانوں اور مافیہ ڈان سیاست دانوں کے  وطیرہ و کردار اور دجالی نظریات پر اس بھٹکی ہوئی قوم بنی اسرائیل کی تقلیدِ مذمومہ کا گمان ہوتا ہے جو اپنے اعمال اور فتنہ پروری کے باعث ہمیشہ عذاب الہی کی سزاوار ٹھہری۔

 بے گناہوں کا خون مسجد و مدرسہ میں بہے یا کسی سکول میں نونہالوں کا سفاک قتل عام  ہو، دل مسلم گریاں اور قوم کا جگر لہو لہو ہوتا ہے ۔ لیکن کبھی لال مسجد اور کبھی سانحہء پشاور پر دو رنگی سیاست اور مسلک کی دوکان چمکانے والے ملک و قوم کے وفادار ہرگز نہیں۔ مساجد سے بازاروں اور مدارس سے  درسگاہوں تک معصوم بچوں اور بے گناہوں کے جنازے اٹھانے اور پچاس ہزار شہیدوں کی قربانی دے کر بھی اگر ہم مذہب کا منجن بیچنے والے فرقہ پرست ملاؤں کی طرح ” تیرا شہید اور میرا شہید ” کے مناظروں اور ” تیرا جرنیل اور میرا لیڈر ” کے مباحثوں میں پاگل بنے اور مجنوں بناتے، تقسیم در تقسیم ہوتے رہے تو با خدا ہمارے ساتھ بھی وہی ہوگا جو ہلاکو خان نے اہل بغداد، ملکہ ازابیلا نے ہسپانوی مسلم اور مکتی باہنی نے ڈھاکہ کے محبانِ پاکستان کے ساتھ کیا۔ میرا دعوی ہے کہ آج ہمارے ایوانوں میں بھی بغدادی غدار وزیر العلقمی جیسے وہ عناصر موجود ہیں جو کسی سامراجی ہلاکو خان کو پاکستان آنے کی دعوت دینے کیلئے تیار بیٹھے ہیں ۔ مشتری ہوشیار باش کہ آج بھی ہماری صفوں میں کئی مجیب الرحمن موجود ہیں۔  میں آئین پاکستان کی حدود میں رہتے ہوئے فوجی عدالتوں کے ایسے قیام کا حامی ہوں جس میں بلا تفریق ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے ہر خاص و عام کے ساتھ عین انصاف ہو۔ شفاف انصاف کیلئے ضروری ہے کہ ہر تھانہ انچارج کے ساتھ ایک فوجی آفسر  بٹھایا جائے۔ اور فوری سماعت کی فوجی عدالتوں میں دہشت گردی کےعلاوہ، قومی خزانے کی لوٹ مار، سیاسی کرپشن اور دھرتی  سے سنگین غداریوں کے مجرم  بھی پیش کئے جائیں۔ تاکہ را اور موساد کے پروردا دہشت گردوں کے انجام کے ساتھ  ، کراچی کے امن کے مجرموں اور قاتلین مفلس سیاسی عناصر کا بھی کڑا احتساب اور انصاف ممکن ہو۔ لمحہ فکریہ ہے کہ آج ہماری نوجوان نسل دھرنوں کے ست رنگی میوزیکل کنسرٹس، سندھ فیسٹیول شوز اور پنجاب  کلچرل پروگراموں میں ویسے ہی ہوش ربا رقص میں نظر آتی ہے جیسے بھٹکے ہوئے بنی اسرائیلی سنہری بچھڑے کے گرد کیا کرتے تھے۔ ہم اس منافقانہ سیاسی  معاشرے میں زندہ ہیں کہ جہاں ہر چہرہ ہی صد چہرہ ماسک پہنے اک بہروپیا ہے۔ یہاں رحمانی طالوت اور دجالی جالوت کے کرداروں میں تمیز اور پہچان ناممکن ہے۔ خدا نہ کرے کہ کل عوام ان سیاست دانوں کی باپمی چپقلش اور بندر بانٹ سے پیدا ہونے والے اعصاب شکن حالات سے تنگ و مجبور ہو کر یہ پکار اٹھیں کہ ایسی مفلس کش جمہوریت سے خدانخواستہ کوئی غریب پرور مارشل لا بدرجہ بہتر ہو گا ۔ ۔ ۔ ۔

(فاروق درویش – واٹس ایپ – 03224061000)

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: