حالات حاضرہ

طیبہ ضیاء چیمہ کے پاگل اورجاوید چوہدری کا آئینہ


قصص القرآن گواہی دیتے ہیں کہ جس قوم نے قوانینِ قدرت اور احکامات خداوندی سے بغاوت کی تو مالک کائنات کی طرف سے ان کے چہرے مسخ کر دئے گئے۔ آج مسلمان دین محمدی سے وفا بھلا کر حضرت اوبامہ کی مریدی اختیار کر کے ننگِ دین و ملت بن رہے ہیں تو گمان ہوتا ہے کہ قدرت نے ان کے دماغ مسخ کر دیے ہیں۔ قائد انقلاب خان صاحب کی طرح خود کو ہر فن مولا سمجھنے والے قادری صاحب کے علاوہ تقریباً تمام پڑھے لکھے پاکستانی اس امر سے واقف ہیں کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اٹھ برس قبل سے کرنسی نوٹوں کے حوالے سے ایک اہم اعلانیہ جاری کر رکھا ہے۔ اس اعلانیہ کے مطابق جس کرنسی نوٹ پر بھی قائد اعظم کی تصویر کو بگاڑا یا کسی بھی نوعیت کا سیاسی یا غیر سیاسی نعرہ درج کیا جائے گا وہ نوٹ بینکوں اور کاروباری اداروں کیلئے قابل قبول نہیں رہے گا۔ لیکن کیا کہنا ان ” صاحبانِ عقل و شعور انقلابی مریدوں ” کا جنہوں نے اپنے انقلابی پیر صاحب کے ” غریب پرور حکم ” پر نہ صرف اپنے کرنسی نوٹوں پر گو نواز گو کے نعرے لکھ کر اپنے جاہل ہونے کا اعلان کیا۔ بلکہ پورے ملک میں قادری صاحب کے اس “انقلابی پیغام” کی تشہیر کر کے عقل سے پیدل ہزاروں عقلمندوں کو” نوٹوں والے کنگلے” بنا دیا۔ میں نہیں جانتا کہ پاگل حکم دینے والے وہ پیر صاحب تھے جو مذہب سے لیکر فلسفہ اور ابلاغیات سے لیکر معیشت کے مہان سکالر ہونے کے دعوی دار ہیں ، مگر افسوس  کہ وہ سٹیٹ بینک کےعمومی قوانین ہی بھی کلی ناواقف ہیں۔ یا پھر اصل پاگل اندھی تقلید کا شکار وہ انقلابی مرید ہیں جو پاکستانی کرنسی کی قوانین سے زیادہ امریکی اور کینیڈین ڈالرز کی معلومات رکھنے والے ” خود ساختہ خواب، خطرہء انقلاب ” برانڈ نیم حکیم کو مسیحائے کل الامراض” مان کر اپنی دنیا و عاقبت سنوارنے چلے ہیں۔ حیرت ہے کہ عالم ارواح کی ہستیوں سے گفتگو کرنے والے صاحبِ کشف و ولایت قادری صاحب کو خوابوں میں زیاراتِ پیر کامل صلی اللہ علیہ وسلم اور علوم غیب و ولایت تو مل جاتے ہیں مگر اس ملک کے کرنسی نوٹوں کے عمومی قوانین سے آگاہی نہیں ملتی جس ملک میں معاشی و معاشرتئ انقلاب کا تماشہء فتن لگانے وہ عالمِ صلیباں سے ہدایات لیکر بار بار اترتے ہیں۔

پیر صاحب اور مریدوں کے پاگل پن سے کالم نگار طیبہ ضیاء چیمہ صاحبہ کے ایک کالم کا خوبصورت  لطیفہ یاد آ رہا ہے۔ کہ بیوی نے خاوند سے پوچھا کہ میں مر گئی تو آپ کیا کرو گے۔ خاوند نے اپنی والہانہ محبت جتانے کیلئے فوری جواب دیا کہ میں تمہاری موت کے صدمے سے پاگل ہو جاؤں گا۔ بیوی بولی دوسری شادی تو نہیں کریں گے۔ خاوند بولا، ” پاگل تو کچھ بھی کر سکتا ہے”۔ میں معزز بہن طیبہ ضیا چیمہ کے اس موقف سے اختلاف رائے کا حق رکھتا ہوں کہ قادری اور خان صاحب پاگل پن کا شکار ہو چکے ہیں۔ ہاں لیکن میں ان کی اس دلیل سے کلی متفق ہوں کہ ” پاگل خاوند” کی طرح پاگل کچھ بھی کر سکتا ہے۔ میرے مطابق خاں صاحب اور قادری صاحب خود پاگل نہیں بلکہ پڑھے لکھے جاہلوں کو پاگل بنانے والی وہ “عقلمند مشینیں” ہیں جن کو جن کو پاکستان کے فوجی جرنیلوں کی نہیں بلکہ واشنگٹن و لندن میں بیٹھے سکرپٹ رائٹروں کی فرمابرداری اور شارٹ کٹ سے حصول اقتدار کی ہوس و امید نے پاگل بنا رکھا ہے۔ اور پاگل بنانے والی یہ مشینیں بھی ایسی باکمال ہیں کہ بازاری بھونڈی کے ماہر کڑیاں منڈے ہی نہیں، تعلیم یافتہ احباب، سنتوں بھری داڑھی مبارک اور عمامہ باندھے ہوئے حضرات بھی ایسے ماورائے خیال پاگل بنا رہی ہیں کہ آپ ان کے ” انقلابی قائدین” کے بارے ہلکی سی بھی تنقید کر کے دیکھیں۔ ایسی ست رنگی طبریٰ بازی کریں گے کہ حضرات ابلیس کے مریدین  بھی ان کی غلاظت زباں پر رشک کریں گے۔

 خان صاحب  پاگل ہوتے تو اپنی معصوم بیٹی ٹائرن خان کی محبت میں پاگل ہو کر اپنے سینے سے لگا چکے ہوتے۔ لیکن ہائے انصاف ہائے انصاف کی مالا جپنے والے خان صاحب پاگل نہیں کہ امریکی عدالت انصاف کی طرف سے ” ان کی ڈکلیر کی گئی بیٹی ” کو اپنے ساتھ رکھ کر سیاسی مخالفین کو یہ شگوفے چھوڑنے کا موقع فراہم کریں کہ خاں صاحب نے ایک ناجائز بیٹی ساتھ رکھی ہوئی ہے۔ عقلمند خان صاحب جانتے ہیں کہ  وہ ناجائز بیٹی پاکستان سے دور ہے تو پاکستانی عوام اور مخالف سیاسی طبقوں کی آنکھوں سے” کوہ ٹائرن خان” بھی اوجھل ہے۔ لہذا بھلے ہی وہ بیٹی سوتیلی ماں جمائمہ کی صحبت میں ماڈرن گرل بننے کے گر سیکھتی رہے، خان صاحب کو امریکی عدالت انصاف کے فیصلے کی کوئی پروا نہیں ہے۔ جبکہ خان صاحب کے دونوں بیٹے بھی اپنی آدھی یہودی اور آدھی عیسائی ماں کے ساتھ یہودی معبدوں اور گرجا گھروں کی یاترا کرتے اور یہودی اتالیقوں سے مذہبی تعلیمات کا درس لے رہے ہیں۔ اگر خان صاحب سلمان احمد جیسے  ایک گستاخ قرآن و اسلام کے ساتھ کھڑے خطاب کرتے ہیں تو بھی انہیں پاگل نہ سمجھا جائے۔ دراصل ایسا کر کے وہ مذہب سے بیزار حضرات اور مغربی تہذیب کے دلدادہ طبقوں کو ہر قیمت پر اپنے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے ساتھ ہم جنس پرستی کی علمبردار فوزیہ قصوری اور  چعہدری سرور صاحب کا ہونا  بھی ان کا پاگل پن نہیں بلکہ عین سیاسی عقلمندی ہے۔ وہ  یہ جانتے ہیں کہ وہ ان جیسے مغرب برانڈ لبرل عناصر کو ساتھ رکھ کر ہی دھرنوں میں رونقیں اور مغرب اور سامراج کی ہمدردیاں حاصل کر سکتے ہیں۔

خاں صاحب پاگل نہیں  لہذا دھرنوں میں میوزک شو اور زنانہ مردانہ رقص کروا کر پاکستان کے مادر پدر آزاد نوجوانوں کو تماشہء جوانی کی ” مصالحہ دار چاٹ ” دکھا کر ” ساڈھے نال رہو گے تے عیش کرو گے” کا پیغام دیتے  ہیں۔  پاگل تو دراصل وہ لوگ ہیں جو ان دھرنوں میں کھلی عریانی اور فحاشی کے رقص و میوزک شوز دیکھ کر بھی ان کے ” پاکستان میں لا الہ الاللہ کا انصاف اورانقلاب لاؤں گا” جیسے نعروں پر پاگلوں کی طرح اعتبار کرتے ہیں۔  طیبہ ضیا چیمہ صاحبہ کو خیال رہے کہ قادری صاحب بھی پاگل نہیں، انتہائی عقلمند  شعبدہ باز ہیں۔  اللہ سبحان و تعالی نے امت مسلمہ کو جن بے بہا نعمتوں سے نوازا ہے، اس میں عقل و فہم بھی شامل ہے۔ لیکن کچھ  دین فروش جعلی علماء اور قادری صاحب جیسے نام نہاد سکالرز نے اپنی اغراض کی خاطر قوم کی عقل مسخ کر کے رکھ دی ہے۔ پاگل قادری صاحب جیسے ذہین و شاطر نہیں دراصل وہ لوگ ہیں جو یہ بھی نہیں سوچتے کہ قادری صاحب کے پاس آخر ان دھرنوں کیلئے اربوں کے فنڈز کہاں سے آ رہے ہیں۔ پاگل تو وہ احباب ہیں جنہیں اس بات کا بھی ادراک نہیں کہ منہاج القرآن کے خیراتی فنڈز سے ڈیڑھ لاکھ کی اکانومی کلاس کی بجائے سترہ لاکھ کی بزنس کلاس میں سفر کرنے والا شاہ خرچ کینیڈین شہری پاکستان کے مفسلوں کا ہمدرد اور خیرخواہ کیونکر ہو سکتا ہے۔ پاگل  وہ لوگ ہیں جو بم پروف کنٹینر اور خواتین و نونہالوں کے حفاظتی حصار میں محفوظ پناہ تلاش کرنے والےنام نہاد حسینی کے شوق شہادت پر قربان ہونے کو تیار بیٹھے ہیں۔  پاگل خان صاحب نہیں دراصل اس جاہل قوم کے وہ ننگِ فہم حضرات ہیں جو سونامی  کی والہانہ گردان کرتے ہوئے سونامی کے معانی و مطالب بھی بھول بیٹھے ہیں۔ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ سونامی زندگی و خوشحالی کی علامت نہیں بلکہ تباہی و بربادی اور موت کا پیغام ہوا کرتا ہے۔ پاگل وہ سب معزز احباب ہیں جو جامعہ حفصہ کے قتل عام میں مشرف مافیہ کے دست راست اور اقراری زانی شیخ رشید جیسے سامراجی گماشتوں کو بھی انقلابی فورس کا ڈائی ہارڈ مجاہد سمجھتے ہیں۔

یہ قصہ  پاگل پن اور حماقت کی بدترین مثال ہے کہ دوسرے کالم نگاروں کی طرح سونامی حضرات کی فحش کلامیوں سے عاجز آئے کالم نگار جاوید چوہدری صاحب نے خان صاحب پر تنقید میں کالم کے آخر میں یہ پیغام لکھا کہ میں عمران خان سے اختلاف کر کے توہین خان کا مرتکب ہو چکا ہوں‘ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں سے درخواست ہے کہ آپ مجھے غلط نمبر پر گالیاں دے رہے ہیں‘ آپ مجھے اس کالم کے بعد گالی دینے کیلیے 03005555590 اور 03335553747 پر رابطہ کریں ۔۔۔۔ سونامی مہم جوؤں نے موقع غنیمت جانا اور جاوید چوہدری صاحب کی طرف سے دئے گئے ان دونوں نمبروں  ہر لمحہ ہر منٹ تھوک کی تعداد میں گالیوں اور فحش کلامی کے ایس ایم ایس اور عریاں ایم ایم ایس جاتے رہے ۔۔۔۔ اور جب تک سونامیوں پر یہ تلخ حقیقیت کھلی کہ جاوید چوہدری نے ان کے ساتھ ایک ” تباہ کن اور ہولناک مذاق ” کیا ہے۔ اوراس کالم میں اپنے نمبرز کے بجائے دراصل عمران خان کے ہی ذاتی نمبر دے دیے ہیں ۔۔۔۔۔ یہ راز کھلنے تک اگلے اڑتالیس گھنٹے بیچارے خان صاحب اپنے ہی لاڈلے سونامیوں سے ماں بہن کی غلیظ گالیوں اور ٹرپل ایکس طنزوں کے شرمناک میسج موصول کرتے رہے ۔۔۔۔۔ آخر کار کالوں پر غلیظ ترین گالیاں سن کرغیرت کا سونامی اٹھا تو۔۔۔ خاں صاحب چیخ کر بولے ۔۔۔۔ اوئے بس کر دو بس ۔۔۔۔ یہ جاوید چوھدری کا نمبر نہیں ۔۔۔۔ اوئے یہ میرا نمبر ہے ۔۔۔۔۔ اور میں کپتان ہوں ۔۔۔ اوئے مجھے گالیاں نہ دو ۔۔۔۔  محترمہ طیبہ ضیاء چیمہ صاحبہ جیسے کئی صحافیوں کی طرف سے پاگل کا خطاب پانے والے ” عقل کل” حضرات  تو پاگل نہیں لیکن ہاں ان انقلابیوں کی چرب زبانی اور اندھی تقلید کا شکار ہو اپنے ہی ” نوٹ جلانے والے ” یا فحش کلامی اور غلاظت زبان کی تمام حدود عبور کر جانے والے وہ حضرات  ضرور پاگل ہیں جنہیں جاوید چوہدری صاحب نے عین ضروری آئینہء حقیقت دکھا دیا ہے۔  مشتری ہوشیارباش کہ کسی مرحوم  بیوی کے ” پاگل شوہر” کی طرح یہ پاگل بھی کچھ بھی کر سکتے ہیں جبکہ ان امن پسند انقلابیوں کے ہاتھوں میں محبت بانٹنے والے ڈنڈے اورغلیلوں کے ساتھ ساتھ اب کریڈٹ پر پارلیمنٹ ہاؤس اور دوسری عمارات پر جارحانہ دھاووں اور پی ٹی وی  پر قبضے کا عملی تجربہ بھی ہے۔۔۔۔۔

میری اس مودبانہ توہین سونامی کے جرم میں فحش القابات اور فحش کلامی کیلئے بیتاب منچلے سونامی و منہاجین احباب میرے اس نمبر پر دل کھول کر مشقِ تبری کر سکتے ہیں۔ یاخدا  نہ میں  نے جاوید چوہدری صاحب کی طرح  کوئی شرارت  کی  ہے اور نہ ہی اپنا  فیک نمبر دیا ہے۔۔۔۔ لیکن گالیاں دینے سے قبل یہ ضرور سوچ لیجئے گا کہ اس سے میرے گناہوں میں کمی اور آپ کے ان گناہوں میں ملٹی پل اضافہ ضرور ہو گا جن کا حساب  مجھے اور آپ کو عمران خاں، طاہر القادری یا نواز شریف کو نہیں، روز محشر اپنے پروردگار کے روبرو دینا ہو گا ۔۔۔۔ آئیے گالیوں اور تبری بازی کا نفرت آمیزاور غلاظت آلودہ سیاسی کلچر ختم کر کے دلیل اور منطق کے شگفتہ  اندازِ گفتگو کو رواج دیں ۔۔۔۔

فاروق درویش ۔۔۔ واٹس ایپ ۔  03224061000

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

1 Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

Featured

%d bloggers like this: