تاریخِ ہند و پاکستان حالات حاضرہ

عالم برزخ سے حضرت قائد اعظم کا انٹرویو


احباب خیال رہے کہ یہ تحریر، عالم تصور و وجدان کی ایک تخیلاتی تحریر ہے، لہذا دینی اور ادبی فہم سے نصف نابلد  نیم ملا خطرہء ایمان حضرات فتوی سازی سے قبل اپنا علم وسیع کریں۔ معترض حضرات  برصغیر کے نامور مصنف چوہدری افضل حق رحمۃ اللہ کی عالم ارواح میں اکابرین دین و ملت  اور عوام و خواص  سے تخیلاتی ملاقاتوں پر مبنی شہرہ آفاق کتاب ” زندگی ” کا ضرور مطالعہ کریں۔ جس میں  روح کے  بعد از موت سفر کو انتہائی خوبصورت  تمثیلی انداز میں بیان کیا گیا ہے

دنیائے جنون و فسوں کی آزمائش و امتحان اور جہان روز و شب کے مصائب و آلام کی قید سے رہائی پائی تو احباب کے کندھوں پہ سوار قبر تک رسائی پائی۔ معاملات منکر و نکیر سے فارغ ہوئے تو روحوں کے اس جہان، عالم برزخ میں آن پہنچے۔ ہمارا خیال تھا کہ یہاں بسنے والے لوگ دنیاوی سیاست سے بے پروا و بے نیاز اپنے محشر کی فکر میں ہوں گے۔ لیکن مملکت خداداد پاکستان کیلئے اہل حق کو یہاں بھی فکر مند ہی دیکھا۔ وطن عزیز کے حالات و احوال کیلے عالم رویا کے لوگوں کی پریشانی دیکھ کر اندازہ ہوا کہ حجاز مقدس کے بعد پاکستان واقعی اللہ کا خاص انعام اور اس کے نیک و برگذیدہ بندوں کا محبوب دیس ہے۔ کیا کہیے کہ اس عالم ارواح میں آ کر بھی سیاسی شخصیات کے انٹرویوز اور کالم نگاری کے شوق و جنوں نے پیچھا نہ چھوڑا۔ سوچا  کہ چونکہ اس جہان افلاک میں لفافہ لینے دینے کا رواج و روایت نہیں، لہذا پہاں سے لکھا ہوا سچ نامہ معزز سونامی بھائیوں اور محترم منہاجی احباب کی مادر پدر آزاد تنقید اور بے لگام طعن و دشنام سے محفوظ رہے گا۔ اور یوں اسی بہانے فرشتوں سے راستہ پوچھتے پچھاتے حضرت قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے نامور تحریکی ساتھیوں سے ملنے کی دیرینہ تمنا پوری ہو گئی۔

سبحان اللہ کیا پروقار اکابرینِ تحریک آزادی اور  پر شکوہ و عالمانہ اندازِ محفل تھا، حضرت قائد اعظم سمندر سے گہری سوچ میں ڈوبے، خان لیاقت علی خان، مولانا ظفرعلی خان، سردار عبدالرب نشتر اور مولانا الطاف حسین حالی جیسے قریبی رفقا کے ہمراہ کلام اقبال بزبان اقبال سنتے ہوئے اشکبار و آبدیدہ تھے۔ میں نے مجاہدین تحریک پاکستان کے خانوادے سے اپنے تعلق اور مختصر تعارف کروا کر انٹرویو کی خواہش کا اظہار کر کے اجازت بلب کی  تو فرمانے لگے، درویش میاں پاکستان کے حالات و احوالے کے بارے تمہارے ہر سوال کا جواب، ہماری آنکھوں سے رواں ان آنسوؤں کی نہر میں تیرتا ہوا ملے گا۔ پھر اس سے پہلے کہ میں کوئی سوال کرتا وہ خود ہی بول اٹھے کہ، ہم بہت دکھی ہیں کہ گذشتہ پچیس برس سے ہمارے مزار و شہر پر قابض غنڈہ مافیے اور گاندھی جی کے فکری وارث سیاسی گروہ کبھی ہمیں سیکولر، کبھی شعیہ اور کبھی مغرب پسند قرار دے کر ہمارے دین اور وطن عزیز کے دشمنوں کی ہمنوائی میں مصروف ہیں۔ خدا گواہ ہے کہ کہ ہم نہ سیکولر ہیں ، نہ شیعہ اور نہ ہی سنی بلکہ صرف اور صرف مسلمان تھے اور مسلمان ہیں۔ ہم نے اپنی دنیاوی زندگی میں بار ہا اسلامی نظام ریاست اور دینی فکر کے تابع ہونے کی بات کی ۔ ہم پر سیکولر ہونے کا الزام لگانے والے لوگ یہ کیسے بھول گیے کہ یکم جولائی 1942 کے دن ایسوسی ایٹ پریس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ہم ہی نے کہا تھا کہ، ” ہم مسلمان اپنی تابندہ تہذیب اور تمدن کے لحاظ سے ایک قوم ہیں ، زبان و ادب ، فن تعمیر ، شعورِ اقتدار و تناسب ، قانون و اخلاق ، رسم و رواج ، تاریخ و روایات ، اوررجحان و مقاصد، ہر لحاظ سے ہمارا زاویہ نگاہ اور فلسفہ حیات موجود ہے اور بین الاقوامی قانون کی ہر تعریف ہماری قومیت کو سلامی دینے کیلئے تیار ہے ” ۔۔۔۔۔ ایسے لوگوں کو یاد رہے کہ میں مغرب میں تعلیم حاصل کرنے کے باوجود اسلامی نظریات ہی کو نظام ریاست کی بنیاد اور دینی و دنیاوی فلاح کا واحد ذریعہ بھی سمجھتا ہوں۔

حضرت قائد بولے کہ مجھ پر اسلام سے دوری اور مغربیت پسندی کا خود ساختہ بہتان لگانے والے ان لوگوں کے ساتھ ساتھ ، ہندو، سکھ اور مسلمانوں کو ایک ہی رب کے پجاری قرار دینے کی قابل مذمت بات کرنے والے نواز شریف کو بھی باور کرانا چاہتا ہوں کہ ہندو سکھ اور مسلمان، مذہب، ثقافت اور تہذیب سمیت ہر لحاظ سے الگ الگ قومیں ہیں۔ خود کو مسلم لیگی کہنے والے بھی یاد رکھیں کہ ہم نے اور ہمارے تحریکی ساتھیوں نے مسلمان اور ہندوؤں کے مذہبی، نظریاتی اور فکری طور پر مختلف قومیں ہونے کے حوالے سے یہی وہ دو قومی نظریہ دیا تھا جو الحمد للہ مابعد مملکت خداداد پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا تھا۔ یہ سب لوگ نام نہاد نئے پاکستان کی تاریخ لکھنے لکھانے سے قبل سرسٹھ سال پرانے اس پاکستان کی تاریخ تحریک آزادی کا مطالعہ کریں جو مسلمانان ہند نے ہماری قیادت میں تاریخی قربانیاں دیکر بنایا تھے۔ گیارہ جولائی 1946 کے روز حیدرآباد دکن میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی ہم ہی نے کہا تھا کہ، ” اِس وقت ہندو اور مسلمان کی جنگ ہے ، لوگ پوچھتے ہیں کون فتح یاب ہوگا ، علمِ غیب خدا کو ہے لیکن میں ایک مسلمان کی حیثیت سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر ہم قرآن مجید کو اپنا آخری اور قطعی رہبر بنا کر شیوہء صبر و رضاِ خداوندی پر کاربند رہیں اور اِس ارشاد الہی کو فراموش نہ کریں کہ تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں تو ہمیں دنیا کی کوئی طاقت یا کئی طاقتوں کا مجموعہ بھی مغلوب نہیں کر سکتا ۔ ہم تعداد میں کم ہونے کے باوجود فتح یاب ہونگے جس طرح مٹھی بھر مسلمانوں نے ایران و روم کی سلطنتوں کے تختے اُلٹ دئیے تھے “۔ ۔۔۔۔ درویش میاں ہماری یہ تقریر اس بات کا  ثبوت ہے کہ ہم مغربی تعلیم یافتہ اور جدید روایات کے داعی ہونے کے باوجود اسلام کی عظمت رفتہ اور اسلاف کے ان عظیم کارناموں سے بھی واقف تھے جس پر عالم اسلام کوآج بھی فخر ہے۔۔

میرے اس سوال پر کہ پاکستان میں عوام کی معاشی بدحالی، معاشرتی نا انصافی اور نظام حکومت کی ناکامی کی کیا وجوہات ہیں؟ حضرت قائد اعظم نے برملا جواب دیا، ” سیاست دانوں اور حکمرانوں کی دین محمدی سے بے وفائی، فرائض سے بد دیانتی، کرپشن، اقربا پروری اور اسلامی نظریات سے انحراف عوامی زبوں حالی کے اسباب ہیں”۔ اس سے پہلے کہ میں اگلا سوال کرتا وہ خان لیاقت علی خان کی طرف اشارہ کر کے بولے، ” محمد علی جناح نے قوم کو ان جیسے جو دیانت دار اور جرات مند لیڈرز دئے انہیں دشمنانِ پاکستان نے قتل کروا کر ثبوت تک باقی نہیں چھوڑے۔ یہ لیاقت علی خان صاحب بھی آکسفورڈ یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ تھے، ریاست کرنال میں اپنی جاگیریں قربان کر کے آزاد وطن میں آزادی کی زندگی گزارنے کیلئے پاکستان آئے تھے۔ یہ بھی پاکستان کے وزیر اعظم رہے لیکن جب انتقال فرمایا تو بنیان اور جرابیں پھٹیں ہوئی تھیں۔ جبکہ آج کل کے وزیر اعظم کا اردلی بھی دو لاکھ روپے کی مالیت کا اٹالین برانڈ سوٹ پہنتا ہے۔ پھر وہ پنجاب کے پہلے گورنر سردار عبدالرب نشتر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگے، ” درویش صاحب انہیں دیکھئے ہمارا یہ تحریکی رفیق ، اوائل پاکستان کا یہ سیاست دان، تحریک آزادی کا وہ مجاہد ہے جس نے مسلمانوں کیخلاف زبان درازی کرنے والے نامور ہندو لیڈر اور گاندھی جی کے قریبی ساتھی دلبھ بھائی پٹیل کو شملہ کانفرس میں بھری مجلس میں ایسا زور دار طمانچہ رسید کیا تھا کہ پھر اسے ساری زندگی مسلمانوں کیخلاف زبان کھولنے کی جرات نہیں ہوئی۔ جبکہ آج کے سیاست دان اور میڈیائی دانشور بھارت کی طرف سے کشمیری اور گجراتی مسلمانوں پر مظالم پر صرف خاموش ہی نہیں بلکہ ہندوتوا کی غلامی کے ترجمان امن کی آشا کے گیت گا رہے ہیں۔

ہم نے ایسا کب کہا تھا کہ بھارتی مظالم کے جواب میں پھولوں کے گلدستے پیش کرنا اسلامی طرز سیاست اور باہمی رواداری کا عکاس ہوتا ہے۔۔۔ اس کے بعد میں نے ان سے قادیانی چوہدری ظفر اللہ کو پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ بنائے جانے کے حوالے سے تلخ سوال کیا تو پوری مجلس میں سناٹا چھا گیا۔ وہ کچھ دیر مغموم اور خاموش رہے اور پھر بھرائی ہوئی آواز میں کچھ یوں مخاطب ہوئے، ” درویش میاں ہم یہ بات تسلیم کرتے ہوئے اپنی قوم ہی سے نہیں بلکہ پوری امت اور اللہ کریم سے بھی معافی کے طلبگار ہیں کہ ہم نے کچھ اسلام دشمن چہروں کو پہچاننے میں واقعی بڑی غلطی کی تھی۔ مغربی دوستوں کے اصرار اور ظفر اللہ کی تعلیمی قابلیت دیکھتے ہوئے، ہمیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ اس قادیانی شخص کی اسلام دشمنی اور عالم اسلام سے بغض اس کی قابلیت پر بھاری رہے گا۔ جب اس  قادیانی نے یہ کہہ کر ہماری نماز جنازہ پڑھنے سے انکار کیا کہ اس کے مذہب کے مطابق ہم ایک کافر ہیں اور وہ مسلمان ہونے کے ناطے کسی کافر کی نماز جنازہ نہیں پڑھ سکتا تو ہمیں اس زندیق کے انتخاب پر بیحد پچھتاوا ہوا تھا۔ ہم یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ ہم قادیانیوں کی فطری اسلام دشمن غداری سے کافی حد تک بے خبر تھے لیکن افسوس کہ نواز شریف نے ان قادیانیوں کی تاریخ جاننے کے باوجود انہیں بھائی قرار دیا۔ کاش میاں صاحب قادیانیوں کے پراگندا عقائد و نظریات یا کم از کم ہمارے جنازے پر اس قادیانی کے وہ کلمات ہی یاد رکھتے جو انہیں کائنات کا بدترین زندیق ثابت کرتے ہیں۔ مجھے یقین  ہے کہ اس حوالے سے مجید نظامی جیسے حق گو صحافیوں اور مسلم عوام کی کڑی تنقید کے بعد وہ اپنے باطل موقف کیلئے توبہ کر چکے ہیں۔۔

ہم نے پاکستان کے حالیہ سیاسی بحران، خاں صاحب اور قادری صاحب کے آزادی و انقلابی مارچ کے حوالے سے ان کی رائے دریافت کی تو وہ خاموش رہے۔ ہم نے مکرر استفسار کیا تو محترم قائد اعظم فرمانے لگے ، ” درویش میاں اس سوال کے جواب میں خاموشی ہی بہتر ہے، ہم نہیں چاہتے کہ کل دھرنوں میں ہمارے خلاف بھی گو جناح گو یا قائد اعظم مردہ باد کے نعرے لگنے شروع ہو جائیں۔ نحریک انصاف اور منہاج القرآن کے کارکنان کیلئے صرف ان کے لیڈروں کی عزت اور ہمیں اپنی عزت بہت عزیز ہے۔ ہم ان سیاسی گروہوں کے بارے کچھ نہیں کہیں گے جنہیں فوزیہ قصوری کی توہینِ اخلاقیات اور ایک سنگر سلمان احمد کی توہین قرآن و اسلام کی تو قطعی کوئی پروا نہیں لیکن ہاں اپنے سیاسی لیڈر پر کی گئی ذرا سی تنقید بھی توہین رسالت سے بڑا گناہ  لگتی  ہے۔ لہذا ہم اپنی زبان کھول کر فحش گالیوں کی گردانیں سننا نہیں چاہتے”۔۔۔ میں نے پاکستان میں انقلابی تحریک کے حوالے سے ان کی رائے جاننا چاہی تو حضرت قائد نے فرمایا، ”  اس حوالے سے ہم صرف اتنا ہی کہیں گے کہ وہ فرانس میں برپا ہونے والا نپولین بونا پاٹ کا انقلاب ہو، چین میں ریڈ آرمی اور ماؤزے تنگ کا انقلاب یا کوئی اور انقلابی تحریک ، کسی بھی انقلاب کے لیڈروں نے آج کے انقلابیوں کی طرح کنٹینروں میں بیٹھ کر قیادت کی اور نہ ہی اپنی آل اولاد کو انقلابی تحریک سے ہزاروں میل دور لندن اور امریکہ کی محفوظ  پر تعیش اقامت گاہوں پر بھیجا تھا۔ ماؤزے تنگ نے انقلابی مارچ کے دوران اپنے دو معصوم کمسن بیٹے تک ہمیشہ کیلئے کھو دیے۔

آپ اسلامی تاریخ ہی دیکھ لیں کہ سلطان صلاح الدین ایوبی اور سلطان ٹیپو شہید نے سب سے آگے بڑھ کر لشکروں کی قیادت کی، سلطان محمد فاتح جیسا عظیم  حکمران خود جنگ میں عیسائی لشکر کیخلاف لڑتا ہوا شدید زخمی ہوا۔ تاریخ تحریک آزادیء پاکستان گواہ ہے کہ خود ہم نے اور ہمارے رفقاء نے تحریک آزادی کے جلسے اور جلوسوں میں سب سے آگے قیادت کرتے ہوئے انگریز سپاہیوں کے ظلم و تشدد اور لاٹھی گولی کا سامنا کیا ۔ ہمارے جلسے اور جلوسوں میں نوجوان اور عمر رسیدہ خواتین باوقار اور مہذب انداز میں شرکت کرتی تھیں۔ قومی جوش و ولولہ ہر طرف موجزن تھا لیکن جلسے جلوسوں میں لوگوں کی تعداد بڑھانے کی حکمت علمی کے تحت جنسی رغبت کیلئے میوزک شوز یا خواتین و حضرات کے قابل اعتراض رقص نہیں کروائے جاتے تھے۔ بلکہ ساری قوم پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کے نعرے کے ایمان افروز طلسم اور مسلم لیگ کے پرچم تلے ہماری قیادت میں متحد و متحرک تھی۔ اہل وطن کو یاد رہے کہ آزادی اور انقلاب بدیسی رنگ کی تہذیب و معاشرت یا ہوس کاری کی غلامی سے نہیں رہنماؤں کے شفاف کردار اور جرات قیادت سے مشروط ہوتے ہیں۔ پھر وہ مولانا محمد علی جوہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے کہ دیکھو ہمارا وہ تحریکی ساتھی تمہارے سامنے بیٹھا ہے، جس نے گوروں کے دیس کی شہریت حاصل کیلئے نہیں بلکہ گوروں سے اپنے وطن کی آزادی کی ضد میں جلا وطنی اختیار کی۔ مرحبا کہ اس مرد مومن نے اپنی وصیت میں آزادی حاصل کئے بغیر ایک غلام وطن ہندوستان میں دفن ہونے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ اور پھر اللہ نے اسے انعام بھی انتہائی قابل رشک یہ دیا کہ اسے بیت المقدس میں قبر نصیب ہوئی.

ابھی میں عالمی سیاست کے حوالے سے اپنے اگلے سوال کے بارے سوچ ہی رہا تھا کہ یکایک عالم ارواح  کی ساری فضا ایسی معطر و مشکبار ہو گئی کہ روح کے دریچے بھی مہک اٹھے۔ حورانِ خلد و ملائک نے ماحول پر سایہ تن ہو کر گلباری کرتے ہوئے درود و سلام کی تسبیح شروع کر دی۔ فضا سے فرش پرگرتے ہوئے پھولوں کی پتیاں بھی صلو علیہ و آلیہ کے ورد والہانہ میں مگن تھی۔ میں اس ماورائے یقیں و روح پرور ماحول میں اس سوچ میں گم تھا کہ اخر اس اہتمام بے مثال کا سبب کیا ہو سکتا ہے. کہ اچانک پیچھے سے کسی نے میرے شانے پر اپنا نرم و نازک ہاتھ رکھ دیا، مڑ کر دیکھا تو وہ ہستی میری اپنی ماں مرحومہ تھیں۔ اس سے قبل کہ میں آنکھوں کے اشارے سے ان سے اس پر وجد ماحول کے بارے کچھ دریافت کرتا، وہ  محبت بھری سرگوشی کے انداز میں بولیں، ” فاروق بیٹا ابھی کچھ دیر میں ہمارے پیارے نبیء آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری یہاں سے گزرنے والی ہے. انہیں ہمارے وطن اور ہم پاکستانیوں سے بڑی محبت ہے۔ وہ ادھر سے گذرتے ہیں تو ہم سب پاکستانی  قائد اعظم کی قیادت میں انہیں درود اور سلام کے ہار  پیش کرتے ہیں، تم بھی اپنی روح کی ہر سانس کے ساتھ بس درود و سلام پڑھتے رہو۔ اور پھر اسی اثنا دور بہت دور جبرائیل امین کی قیادت میں ملائکہ نے  انبیائے حق کے اس قافلے پر گل پاشی کرتے ہوئے درود و سلام کے نغمے چھیڑ دئے جس کی قیادت تاجدار نبوت، محبوب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے۔ ان کی سواری ابھی دور تھی ، حضرت قائد اعظم اور حضرت اقبال تحریک پاکستان کے اکابرین و کارکنان کے ہمراہ دست بستہ نظریں جھکائے درود و سلام پڑھ رہے تھے۔

میری روح رخ مصطفے کے نورانی دیدار کی امید و تمنا میں دیوانہ وار رقصاں اور ہونٹوں پر صلی اللہ کے نغمے مگر نگاہیں مقامِ سجدہ سے اوپر اٹھانے کی ہمت نہ تھی ۔۔۔۔ سوچ رہا تھا کہ میں گناہ گار و سیاہ کار اپنے دین اور وطن سے وفائے حقیقی ہی نہ نبھا پایا تو اپنے نبیء برحق صلی اللہ ولیہ وسلم کو ایک مسلمان اور پاکستانی کی حیثیت سے اپنا داغدار چہرہ کیسے دکھا پاؤں گا۔ ان کی سواری قریب سے قریب آ رہی تھی اور میں عشق محمدی کا مریض اس خوف سے لرزاں تھا کہ نظریں اٹھیں تو ان کے رخ پرانوار کے دیدار کی تاب کیسے لا پاؤں گا اور پھر ماں کے اسی دست شفقت نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ہولے سے کہا ۔۔۔۔۔۔ ہمارے نبی جی ہم پاکستانیوں پر خصوصی طور پر بڑے ہی مہربان ہیں،  ابھی میرے سید و سرکار صلی اللہ علیہ وسلم یہاں سے گذریں گے تو  پاکستان کیلئے لاکھوں دعائیں کرتے ہوئے گزریں گے۔۔۔۔ میں سوچ رہا تھا کہ یقیناً پاکستان اسی لئے ابھی تک سلامت و آباد ہے ۔۔۔۔ مولانا الطاف حسین حالی نے التجائیہ انداز میں اپنا شعر ” اے خاصہء خاصان رسل وقت دعا ہے ۔۔ امت پہ تری آ کے عجب وقت پڑا ہے” پڑھا تو حضرت قائد و اقبال  سمیت سب احباب زار و  قطار رو پڑے ۔۔۔۔  بس اس سے آگے کچھ  بھی لکھنے کی ہمت  نہیں کہ آنکھوں سے بے اختیار اشک جاری اور روح پر کپکپی طاری ہے ۔۔۔۔ اللہ سبحان و تعالی  میرے پاکستان کو تا قیامت سلامت و خوش آباد رکھے ۔

( فاروق درویش۔۔۔۔ واٹس ایپ۔۔۔۔ 03224061000)

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

Featured

%d bloggers like this: