حالات حاضرہ سیکولرازم اور دیسی لبرل

علامہ اقبال کی عظمت اور میڈیا کا منافق اعظم


فتنہ گرعناصر کی شرپسندی اور کچھ نام نہاد دانشوروں کی نفاق پرور قلم دوزی کے باوجود پوری قوم افواج پاکستان کیساتھ کھڑی آپریشن ضرب عضب کی جزوی کامیابی کے بعد مصیبت زدہ متاثرین اور بے گھر مہاجرین کی زندگیوں میں خوشیوں کی بحالی کیلئے فکر مند و دعا گو رہی ہے۔ ادھر امید کی کرن پھوٹتی ہے کہ قوم کے شہیدوں کا لہو رنگ لائے گا، امن کی بہاریں ارضِ پاکستان پر اورامریکی و نیٹو افواج افغانستان سے اپنے دیسوں کو واپس لوٹیں گی۔  اُدھر ایسی تباہ کن صورت حال میں سیلاب سے تباہ حال عوام کے مصائب سے بے نیاز سیاست دانوں قومی معشیت اور عوامی زندگی کو مفلوج بنا دینے والے دھرنوں میں میوزک شو اور ناچ گانے ایسے منعقد کرائے جاتے ہیں، جیسے ماڈل ٹاؤن کے شہداء کا جشن مرگ منا رہے ہوں۔

ایسی صورت احوال میں حسن نثار جیسے  کچھ بنارسی ٹھگ ایسے احمقانہ موقف پیش کر رہے ہوتے  ہیں کہ دلِ مسلم لہو کے گھونٹ پی کر تلملا اٹھتا ہے۔ ان کو اسلامی نظریات اور نظریہء پاکستان سے خدا واسطے کا اس قدر بیر ہے کہ ان کی گفتگو و تحریر کا محور ہمیشہ مسلمانوں کو جاہل اور دہشت گرد ثابت کرنا رہتا ہے۔ ان کے ایمانِ امریکہ اکبر کے مطابق مسلمان بنی نوع انسان کیلئے زہر قاتل اور مغرب کے امن گرد انسانیت خے حق میں آب حیات و تریاق کا درجہ رکھتے ہیں۔ موصوف کی تحریر و گفتگو میں اکثر یہی کلمات ملتے ہیں کہ کہ فلاں مسلم نے فلاں قتل عام کیا ،فلاں مسلم خلیفہ نے اتنے معصوم لوگوں کو مارا،  فلاں نے بلا جواز خون کے اتنے دریا بہائے۔ اور اگر دوران گفتگو کوئی موضوع سخن مغرب و سامراج کی دہشت گردیوں یا ان کے لاڈلے بغل بچے اسرائیل کی سفاکیت کی دل آزار تاریخ کی جانب موڑنے کی کوشش کرے تو صاحب کی چار آنکھوں میں بلا کا غضب اور بدلتے ہوئے طیور خورشید کی تابناکی و ادائیں جینا لولو برجیڈا کی کلاسیکل اور کترینہ کیف کی ماڈرن فلموں کے ہوش ربا رقص کے مناظر جیسی قابل دید ہوتی ہیں۔ اسرائیل کی دہشت گردی سے بے گناہ فلسطینی شہید ہوں مگر مجال ہے کہ حسن نثار جیسے کسی صاحب نے ان سے  ہمدردی میں ہی کوئی جملہ بھی کہا ہو۔ البتہ اسرائیل کی حمایت میں یہ بیان دیکر وہ  پہلے پاکستانی صحافی کا اعزاز پانے میں ضرور کامیاب رہے کہ” اگرغزا والے راکٹ پھینکیں گے تو کیا اسرائیل انہیں پھولوں کے گلدستے بھجوائے گا “۔ لیکن ان کی اسرائیل دوستی کی دجالی ٹرین یہی نہیں رکی اور وہی ہوا جس کا کسی کو وہم  بھی نہیں تھا۔ خدا جانے کہ اس دن وہ حالتِ نشہ میں ٹُن تھے یا آبِ پنٹاگون سے باوضو ہو کر آئے تھے کہ انہوں نے پاکستان کی بہتری کیلئےاسرائیل کو تسلیم کرنے کی حمایت میں اول فول کلمات فرما کر کروڑوں پاکستانیوں کے دلوں کے زخموں پر سرخ مرچیں چھڑک ڈالیں باخدا ان جیسے ابو الہوس مداریوں کو روکا نہ گیا تو یقیناً کل یہ تھوڑی اور زیادہ پی کر آزاد جموں و کشمیر کو بھارت کے حوالے کرنے، پرسوں بلوچستان کو آزاد کرنے اور پھر کسی روز قادیانیوں کو مسلمان قرار دینے کی بھی فرمائش کر گذریں گے۔

قومی اتحاد اور ملی اخوت کے درپے ایسے  قلمکاروں کو تاریخ یاد دلانا چاہتا ہوں جو اسلام کی عظمت رفتہ اور فتح بیت المقدس کا نقطہءآغاز ٹھہرا تھا۔ جرمنی کا شاہ کونر اور فرانس کا شاہ لوئی دس لاکھ مقدس جنگجوؤں کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ آور ہونے کیلیے یورپ سے روانہ ہوتا ہے۔ اس لشکر کاایک بڑا حصہ اپنے طویل سفر کے دوران پہلے ہنگری اور پھر مسلمان سلجوقیوں کے ہاتھوں تباہ و برباد ہونے کے بعد انطاکیہ پہنچتا ہے۔ تو اس صلیبی فوج کی بدقسمتی ہے کہ اس نے شہر دمشق کا محاصرہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ خیال رہے کہ اس وقت دمشق کی حکومت، صلیبی ریاستوں کی حلیف اور حلب کے زنگی حکمرانوں کی سخت حریف تھی ۔ مگرکوئی بھی مسلم حکمران موجودہ دور کی مثل، عالمِ اغیار کا آلہ کار اوراپنے نورتنوں کی مشاورت کا غلام نہیں بلکہ امت کا درد لیے فیصلے کرنے میں خود مختارتھا لہذا خون مسلم جوش مارتا ہے اور ایک مرد مجاہد نورالدین زنگی اپنے مخالف دمشق کے حکمرانوں سے سارے ذاتی اختلافات وعداوت بھلا کرموت کے بھنورمیں پھنسے ہوئے مسلمان بھائیوں کی مدد کا فیصلہ کرتا ہے۔ جذبہءاتحادِ ملت سے دمشق اور حلب کی مسلم امارتوں کے مابین تمام فرق مٹ جاتے ہیں۔ رقابتیں، قربتوں اورعداوت، اتحاد و اخوت میں بدل جاتی ہیں۔ اور نورالدین زنگی اور سیف الدین زنگی صلیبی محاصرے میں گھرے ہوئے مسلم برادر معین الدین انر کی فوجوں کی مدد کو پہنچ کر جنگ کا پانسہ پلٹ دیتے ہیں۔ جدید سامان حرب سے لیس عظیم الشان لشکر بری طرح پسپا ہونے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

اس اتحادِ امت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس دورمیں عالم اغیار کے زرخرید منافرت پھیلانے والے مسخروں کا کوئی وجود نہیں تھا۔ سو پورے یورپ کا صلیبی اتحاد مسلم اخوت کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے۔ اگر آج ہم اس دور کا مقابلہ اپنے اس دور سے کریں تو آج اتحاد امت کا شیرازہ بکھرنے اور قوم مسلکی، لسانی اورنظریاتی محاذوں پر منقسم ہونے کی ایک وجہ عالم اسلام میں اسلام دشمن دانشوروں کا فتنہ انگیز کردار بھی ہے۔ صد شکر کہ حسن نثار جیسے ڈالری نورتن نورالدین زنگی یا صلاح الدین ایوبی کے دورمیں موجود ہی نہیں تھے۔ وگرنہ دوسری صلیبی جنگ کے دوران اتحاد مسلم کا پارہ پارہ اور ملت اسلامیہ کا مشکلات کا شکار ہونا عین یقینی تھا۔ صبح عمران خان، شام قادری صاحب اور رات الطاف صاحب کی خدمت میں لندن پہنچ کر سیاسی آگ بھڑکانے کے ماہرِ منافرت، نورالدین زنگی اور معین الدین انر کے درمیان عسکری اتحاد کبھی نہ ہونے دیتے۔ موصوف فتح بیت المقدس کے دور میں موجود ہوتے تو شہر نبوی پر یلغار کرنے والے لشکر پر آتشی مواد پھینک کر بھڑکتے شعلوں میں جنگِ حطین کا تاریخی معرکہ سر کرنے والے صلاح الدین ایوبی کو بھی ظالم اور دہشت گرد قرار دے دیتے۔ مدینہ منورہ پر حملہ کی جسارت کرنے والے بدبخت جرنیل رینالڈ کا سرقلم کرنے کے جرم پر سلطان کصلاح الدین ایوبی کیخلاف اس قدر آگ بگولہ کالم اور ہولناک ٹی وی ٹاک شوز ہوتے کہ اتحادِ امتِ مسلمہ کی پوری عمارت لرز کر رہ جاتی اوربیت المقدس کی عظیم الشان فتح کا مرحلہ دشوارتر ہو جاتا۔

ان کی تحریر و تقریر گواہ ہے کہ جید اکابرین ملت سے لیکر حضرت اقبال جیسے مردانِ قلندری تک، شاید ہی کوئی ہستی ان کے قلم کے  وار سے محفوظ رہی ہو۔ یو ٹیوب اوردوسرے سوشل میڈیا پر اب بھی وہ ویڈیوز موجود ہیں جن میں موصوف نے حضرت اقبال کے بارے توہین آمیز ہرزہ سرائی کی ہے۔ خود کو نظریہءپاکستان اور اقبال کے مخالفین کا پیروکار و وفادار ثابت کرنے کیلئے،ا گر انہوں نے اقبال کے بارے یہ کہہ دیا کہ ” اقبال کو شاعر مشرق کہتے ہوئے انہیں شدید کوفت محسوس ہوتی ہے” تو اس سے حضرتِ اقبال کی عزت و شہرت کی صحت پر تو کوئی اثرنہیں پڑتا لیکن ہاں چاند پر تھوکا سدا مونہہ پر ہی گرتا ہے۔  کاش وہ کرپٹ سیاست دانوں  کی قیمتی  رولیکس کی گھڑیوں کا ذکر کرنے سے پہلے خود اپنی کلائی سے کسی گورے سفیر کی طرف سے عنایت کی گئی رولیکس ڈائمنڈ ہی اتار لیا کریں ۔ وہ یاد رکھتے کہ وہ خود بھی اس قدر خوش پوش واقع ہوئے ہیں کہ ان کا کینالی برانڈ پینٹ کوٹ، ٹائی شرٹ، بوٹ اورجراب پیکج پانچ لاکھ سے کم نہیں بنتا۔ یہ اس قیمتی لباس لباس کا ہی کمال ہے کہ وہ ٹی وی سیٹ کی روشنی میں روشن خیال ہو کر اس سیاہ فام روشنی کی طرف چل نکلتے ہیں جہاں انسان کبھی حضرت اقبال اور کبھی ڈاکٹرعبدالقدیرجیسے روشن مہتابوں پر تھوکنے لگتا ہے۔

اقبال پر طنز کرتے ہوئے فرماتے ہیں، ” اقبال کیونکہ ”شاعر مشرق “ بلکہ ” شاعر مشرق و مغرب “ ہیں اس لئے پہلے ان کا شعر ہو جائے، الٹنا پلٹنا پلٹ کرجھپٹنا۔ لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ۔ یعنی مقصد مرغن غذاوں اور مشروبات پرجھپٹنا وغیرہ نہیں … لہو گرم رکھنے کا تھا اک بہانہ کے بارے میری عاجزانہ سی لاجک یہ ہے کہ اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کہ لہو ٹھنڈا ہے یا گرم، اصل بات یہ کہ لہو سفید نہیں ہونا چاہئے”۔۔۔۔۔ میں ان کے لہو کے رنگ و نسل اور مزاج سے تو واقف نہیں ، لیکن اقبال کے اس شعر میں ان کیلئے بڑاگہرا پیغام چھپا ہے کہ ” مسلماں کے لہو میں ہے سلیقہ دلنوازی کا”۔ حکیم الامت کے حوالے سے ان کے قابل مذمت بیان اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے گئے بے وزن اشعار کو پڑھ کر احباب پر یہ راز آشکار ہوتا ہے کہ موصوف اقبال کو مشرق کہتے ہوئے شدید کوفت کا شکار کیوں ہوجاتے ہیں. ظاہر ہے کہ جن کو اکابرین قوم و ملت کے ادب و آداب اور شاعری کی بحر و اوزان ہی کا علم نہ ہو۔ بھلا وہ اقبال جیسے بندہءمومن کے سخنِ اعلی کو کیا سمجھ پائےگا۔ خودساختہ “صاحب علم” کیلئے اقبال جیسے مرد قلندرکی شاعری بھینس کے آگے بین بجانے جیسی ہی ہے۔ الٹا لٹک کر سیدھا دیکھنے کی عالمانہ رائے دینے والے صاحب کی اس “خوبصورت منطق” پرکسی علمی ابطال یا تبصرے کی ضرورت نہیں کہ “عورت برہنہ بھی گھومے تو کیا فرق پڑتا ہے، اصل پردہ اورشرم و حیا تو آنکھوں میں ہوتی ہے”۔ کسی فرسودہ خیال کو ان کے اس توہین آمیز بیان پر بھی کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ ” داڑھی اورامامہ وغیرہ عرب کے کلچراورماحول کی ضرورت ہیں”۔  یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔ یقینی طور پر وہ ایسے بیانات و کلمات کے ذریعے خود کو اپنے مغربی آقاؤں اور اپنی سرپرست یہودی لابی کی نظر میں سب سے فعال و سرگرم وفادار مہرہ ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ ایک ملازم کیلئے نوکری کا پہلااصول بھی یہی ہے کہ جس کا کھاؤاسی کے گن گاؤ اور اسی کا راگ الاپو۔۔۔۔۔۔

صاحب کو یاد رکھنا ہو گا کہ ابھی تک انہوں نے صرف دو شادیان ہی کیں ہیں، لہذا مذید دو ابھی باقی ہیں۔ دعا گو ہوں کہ باقی دو بیویوں کے حصول تک ان کی جسمانی و دماغی صحت بحال اور عمر دراز ہو۔ میری دلی دعا ہے کہ اپنی ان سنگین اسلام دشمنیوں کی بدولت کہیں وہ بھی سلمان تاثیر کی طرح کسی سر پھرے ممتاز قادری کے ہتھے نہ چڑھ جائیں۔۔۔ ان کی عالمانہ بصارتوں کی نذر میرا اک شعر مکرر۔ ۔ ۔ ۔
شہر آسیب میں کچھ اہلِ نظر بھی ہیں جنہیں
الٹا لٹکے بنا سب سیدھا نظر آتا ہے

( واٹس ایپ کنٹیکٹ ۔ فاروق درویش)
0092322-4061000

 

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

Featured

%d bloggers like this: