حالات حاضرہ ریاست اور سیاست

عمران خان کے مسٹر نیا پاکستان سے علامتی مکالمہ ۔ منشور فحاشی ہے تو دستور ہے گالی


 احباب یہ علامتی مکالمہ کوئی مذاق نہیں بلکہ اسلامی جمہورہ پاکستان کے تشخص اور ہمارے پراگندا سیاسی کلچر اور جاہل “بنیاد پرستوں ” کے ساتھ رونما ہونے والا  ایک روزمرہ سانحہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مغرب نواز سیکولرImran_Khan1 مکتبہء فکر،غلامانِ فتن روشن خیال سیاست دان اور امن کی آشا برانڈ ملالائی میڈیا، خوفناک سامراجی پلان کے عین مطابق ہماری نوجوان نسل کو گستاخین قرآن و شریعت مسخروں کے میوزک شو دکھا کر نظریہ پاکستان اور دینی اقدار سے دور لادینیت یا پھر انارکی اور خانہ جنگی کی طرف لے جارہے ہیں۔ گماشتین دہر الطاف حسین اورعمران خان کے جنون میں پاگل تہذیب مغرب کے دلدادہ اوباش خیال لوگوں کیلئے توہین قرآن و رسالت یا تذلیل اکابرین دین بہہت  معمولی باتیں ہیں مگر الطاف اور عمران پر کی گئی معمولی سی تنقید ناقابل معافی جرائم ٹھہرے ہیں۔ خان صاحب پر کسی طرح کی مثبت تنقید کرنے والوں کو جس نوعیت کی حسین جمیل غلاظت آمیز گالیوں، پاکیزہ  فحش طنزوں اور کھلی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ سنسر شدہ علامتی مکالمہ ان خباثیات کا عشرعشیر بھی نہیں۔ شاید میری یہ کاوش سونامیوں کے حسن اخلاق کے سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہو۔ دعا ہے کہ اس تحریر کے آئینے میں اپنا اصلی پاکیزہ چہرہ دیکھ کر ان کا سویا  ضمیر جاگ جائے۔ باخدا اکثر و عموماً ان سونامیوں کی طرف سے نازل ہونے والی فحش گالیوں کی مہذب ترین کوالٹی اس قدر ناقابل برداشت ہوتی ہے کہ الامان الحفیظ، کلی ناقابل بیان و اشاعت ہے ۔ مگر جب ہر طرف ہی عمران اور الطاف کے خلاف زبان کھولنے والے ہر جی دار اور حق گو لکھاری کو متعفن و پراگندہ زبان میں ہر برانڈ کی گالیاں پڑتے دیکھتا ہوں تو تھوڑا حوصلہ ملتا ہے کہ ایسا صرف میرے ساتھ ہی نہیں بلکہ ہر اس شخص کے ساتھ ہو رہا ہے جو نیوٹرل حیثیت سے خان صاحب یا الطاف جیسوں کے قول و فعل کے حوالے سے کھری تنقید لکھتا ہے۔ بحرحال ماننا پڑے گا کہ غیرت لا لباس اتارے ہوئے، فحش کلامی، سائبرغنڈہ گردی اور تمام غیراخلاقی ہتھکنڈوں سے لیس، شرافت سے کوسوں دور پراگندہ حرکات میں ملوث، خان صاحب کے معززعاشقین و پرستار خباثتِ زبان و دشنام  کے تمام ریکارڈ توڑ کر نمبر ون ہیں۔

فاروق درویش : ۔۔۔۔  یاد۔۔۔۔ رکھیے سونامی، رحمت و خوشحالی کی نہیں بلکہ صرف دہشت، تباہی اور بربادی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ انصاف ہمیشہ قوموں کیلئے امن اور انسانیت کیلئے پناہ  کی علامت جبکہ سونامی دہشت و ہلاکت کا نشان ہے۔ سو خان صاحب کی طرف سے اپنی انصاف کی تحریک کو سونامی سے تشبہہ دینے کی بات سمجھ نہیں آتی۔

عمران کا  نیا پاکستانی  : ۔۔۔۔    اوئے کتی کے بچے بڈھے درویش لعنت ہے تجھ پر اور تیری داڑھی پر، نواز شریف پٹواری  سے لفافہ لیکر عمران خان کے بارے بکواس لکھتا ہے، حرامزادے، کنجر کے بچے تیری ماں کو ۔ ۔ ۔ ۔ دوں،  بہن ۔ ۔ ۔ ۔  کے بچے، کیا عمران نے تیری بہن کو ۔ ۔ ۔ ۔ دیا ہے؟  بکواس بند کرتا ہے یا  پھر اپنی ٹانگیں تڑوا کر چپ ہو گا ؟

فاروق درویش : ۔۔۔۔  برادر پنجابی کہاوت ہے ” مونہہ کھاوے تے اکھ شرمائے” میرے سب کالمز غور سے پڑھیں،  میں نے نواز شریف کی طرف سے عاصمہ جہانگیر جیسی ملعون گستاخ رسالت  کو نگران وزیر اعظم  نامذد کرنے اور نجم سیٹھی کو نگران وزیر اعلی قبول کرنے پر بھی اور اس کی طرف سے قادیانیوں کو بھائی کہنے پر بھی جائز اور کڑی تنقید کی ہے۔ ذرا سی بھی عقل ہے تو سوچو کہ اگر میں  اس سے لفافے لے رہا ہوتا تو اس کیخلاف کیوں کر لکھتا ؟ میں بلا امتیاز سیاسی جماعت، ہر سیاست دان کی ہر اچھائی برائی، غلط اور نیک کاموں کا کھل کر تذکرہ  اور تنقید کرتا ہوں۔ میں حسن نثار، ہارون رشید یا عطاالحق قاسمی جیسے ضمیر فروشوں کی طرح لفافے یا مراعات  لیکر تحریر لکھنے کو خنزیر خوری اور ماں بہن کی کمائی کھانے کے مترادف سمجھتا ہوں۔ میرے مطابق جو شخص بھی کسی سیاست دان سے رقم یا مراعات لیکر کسی کی بھی حمایت یا مخالفت میں لکھتا ہے وہ روز محشر اللہ کی بخشش اور نبی ء آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے محروم ہو گا۔ میرے لئے طلعت حسین،  اوریا مقبول جان اور انصار عباسی جیسے حق گو، محبان وطن، محبان دین صحافی رول ماڈل ہیں۔ لعنت اللہ علی الکاذبین ۔ فحش کلامی اور گالی گلوچ سے اپنی خصلت اور مان باپ کی دی ہوئی تربیت دکھانے کی بجائے، دلیل اور منطق سے بات کرو۔ خدا جانے کیا وجہ ہے کہ آپ سب انصافیوں پر بھی متحدہ قاتکل موومنٹ کے ورکروں اور قادیانی زندیقوں کا رنگ چڑھ گیا ہے۔ آپ انصافیے بھی  فحش کلامی اور غلاظت آلودہ گالی گلوچ کے سوا دلیل سے بات ہی نہیں کرتے۔

عمران کا نیا پاکستانی  :۔۔۔۔      اوئے حرامزادے، میرے باپ تک جاتا ہے۔ کنجر کے پتر اپنی وال اور بلاگ سے عمران خان کے خلاف تمام  پوسٹنگ ابھی  ڈیلٹ کر ورنہ تیری  ماں، بہن کی ننگی تصاویر بنا کر پورے فیس بک پر پھیلا دیں گے۔ کتی کے بچے بزدل انسان فیس بک پر بیٹھ کر گندگی پھیلاتا ہے، ہمت ہے تو اپنا ایڈریس بتا ابھی تیری ماں کو ۔ ۔ ۔ ۔  دینے تیرے پاس پہنچتے ہیں۔ کنجر انسان بکواس بند کر، کنجر کی نسل، حرامی  توگنجے پٹواریوں سے لفافے لیکر لکھتا ہے ۔

فاروق درویش : ۔۔۔۔  برادر میں تو خان صاحب پر جائز تنقید کرتا ہوں، میں بھی خان صاحب کا بڑا فین تھا ان کے نعرے او وعدے مجھے بھی بہت متاثر کرتے تھے، مگر جب انہوں نے فتنہء مغرب اور قادیانیں کے نمک خوار الطاف حسین کیخلاف لندن میں مقدمات لڑنے اور اس کے بھتہ خور ٹارگٹ کلر مافیہ کیخلاف جہد کے وعدوں سے یو ٹرن لیا مجھے ان کی بزدلی اور وعدہ خلافی پر بہت سخت افسوس ہوا۔ پھر انہیوں نے اپنے وعدے کیخلاف مشرف کے سب کرپٹ ساتھی اور پیشہ ور لوٹوں کو اپنے ساتھ ملا کر صرف مجھے ہی نہیں پاکستان کے کروڑوں لوگوں کو سخت مایوس کیا۔ اگر نون لیگ اور دوسری جماعتوں میں لوٹے ہیں تو اب مشرف اور سامراج کے خصوصی چیلے شاہ محمود قریشی اور اسرائیلی ایجنٹ خورشید محمود قصوری جیسے سب ننگ دین و ملت لوٹے اور کرپشن کنگزجوق در جوق  تحریک انصاف میں بھی داخل ہو رہے ہیں۔ اس قوم کی بدبختی ہے کہ مغرب کے غلیظ ترین مععاشرے کی پلید تقلید میں ہم جنس پرستی کے حامی بدبخت لوگوں کے سیمنار کروانے والی ماڈرن خیال بیگم خورشید محمود قصوری تحریک انصاف خواتین ونگ کی انچارج ہے۔ برادر معافی چاہتا ہوں ! کیا یہی غلاظتِ کردار، فحاشی اور ہم جنس پرستی کا واہیات کلچر عمران کا نیا پاکستان ہے؟

لوٹوں کی سیاست پہ ہیں مجبور یہ سونامی                
کردار کے گفتار کے ناسور یہ سونامی               

عمران کا نیا پاکستانی  : ۔۔۔۔   او کتی کے بچے، کنجر درویش تو بکواس کرتا ہے ، جھوٹ بولتا ہے تو صرف نون لیگ سے لفافے لیکر لکھتا ہے۔ اب دیکھ میں تیرا حشر کیا کرتا ہوں۔ تجھ جیسے حرامزادے عمران خان کے انقلاب کو نہیں روک سکتے۔ ہم پورے پاکستان میں کیلن سویپ کریں گے۔ وزیر اعظم صرف عمران خان ہو گا۔ کنجر انسان بھول گیا صرف خاں ہی وہ واحد بندہ ہے جس نے پاکستان کو ورلڈ کپ جتوایا تھا۔ تیری ما کو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دوں ۔ عمران خان کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈا بند کر ورنہ تیری ماں کو ۔ ۔ ۔ ۔  دے دیں گے۔ مادر ۔ ۔ ۔  برا آیا دانشور۔ کنجر کا پتر لعنت ہو تجھ پر۔

فاروق درویش :۔۔۔۔   برادر چلو لوٹو کو گولی مارو لیکن ہم مسلمان ہیں تو کم از کم  ہمیں کسی گستاخ قرآن کے ساتھ تعلقات سے تو پرہیز کرنا چاہیے۔ افسوس کہ عمران خان ایک کھلے گستاخ قرآن  و اسلام میراثی گویے ملعون سلمان احمد کا میوزک پروگرام کرواتا ہے، سارا پاکستان اس کی مذمت کرتا ہے لیکن عمران ایک گستاخ قرآن شخص کو ساتھ رکھنے پر بضد ہے۔ حیرت ہے کہ پچھلے دنوں آپ ہی اپنی وال پر قرآن حکیم کو آگ لگنے والے یورپی پادری ٹیری جونز کیخلف مہم چلا کر اسے واجب القتل قرار دے رہے تھے مگر اب تحریک انصاف کے جلسوں میں میوزک شو کرنے والے گستاخ قرآن سلمان احمد کے بارے خاموش ہیں، بلکہ خامخواہ میں اس کی وکالت کرتے ہیں۔ کیا یہ دوغلا پن، منافقت، یہودیوں کی تقلید میں اسلام دشمنی اور دینی بے غیرتی ہی آپ لوگوں کا نیا پاکستان ہے؟ اللہ، رسول ، کل کائنات اور ہفت افلاک کی لعنت ہو گستاخ قرآن کے حواریوں اور حمایتیوں پر ۔ لعنت اللہ علی لاکاذبین والمنافقین والگستاخینِ قرآن و رسالت۔

درویش! یہود اور نصاریٰ کے یہ پالے                    
  اسلام کے گستاخ ہیں، لنگور یہ سونامی                    

عمران کا نیا پاکستانی  : ۔۔۔۔   حرامزادے  لگتا ہے تیری ماں کسی مولوی کے ساتھ بھاگ گئی تھی۔  تو اسی مولوی کا ناجائز بچہ ہے۔اب جب تک تیری ٹانگیں نہیں ٹوٹیں گی تو اپنی  یہ جاہلوں جیسی بکواس بند نہیں کرے گا۔ بہت ہی ڈھیٹ بے شرم اور کنجر انسان ہے تو۔ نے یہ بکواس بند نہ کی تو تیری ماں کو ۔ ۔ ۔ ۔ کر رکھ دیں گے۔

فاروق درویش :۔۔۔۔   احمق انسان اگر تم انصافیے ایک گستاخ قرآن گویے کے سیکولر سرپرست کو ہی اپنا مسیحا سمجھ بیٹھے ہو تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اب تم لوگوں کی  دینی غیرت ہی  مر چکی ہے، لہذا تم جیسے لعنت زدہ شخص سے مذید بحث و تکرار بے سود ہو گی۔ خبیث آدمی تیری یہ بدبانی اور فحش کلامی تیرا قصور نہیں، شاید تیرے ماں باپ کی تربیت ہی ایسی تھی۔ جو عمران خان ساری زندگی سیتا وائٹ جیسی مغربی تتلیوں کے ساتھ مادر پدر آزاد پلے بوائے زندگی گذارتا رہا، جو بیس گوروں کی داشتہ جمائمہ خان سے طلاق کے بعد  بھی تعلق رکھے ہوئے اسے اپنے انٹی ڈرون مظاہروں میں استعمال کرتا اور اپنے یہودی سسرال کے ساتھ ابھی تک ملنسار ہے۔ اس مارد پدر آزاد سیکولر اور فری سیکس لائف گذارنے والے لادین شخص کے سیاسی بچے کیونکر فحش کلام اور بدزبان نہ ہوں گے۔ نہ ایک یہودی بغل بچہ عمران خان گستاخیء قران کرنے والے ملعون سلمان احمد سے ناطہ توڑنا پسند کرتا ہے نہ آپ روشن خیال اور دوضلے انصافیے ہی تحریک کے گویے اس لعنت زدہ ورکر کی مذمت کرتے ہو۔ اگر یہی لادینیت آپ لوگوں کا نیا پاکستان ہے تو ہم سب ہزار بار آپ کے عمران خان اور اس کی روشن خیالی پر لعنت بھیجتے ہیں۔ افسوس کہ لاکستان الیکش کمیشن میں اتنی جرات نہین کہ اپنی کتاب میں اپنے یہدی سالے ساتھ ملکر کرکٹ میچ پر جوا کھیلنے اور جوے کی آمدنی سے اپنی سیاسی جماعت کا قرض اتارنے کا اقرار کرنے والے جواریے کو نااہل قرار دے سکے۔ تم جیسے احمق اور لعنت زدہ شکص سے بحث فضول ہے۔ جاؤ اور جا کر یو ٹیوب اور ڈیلی موشن پر جمائمہ خان اور سیتا وائٹ کی نئی اپلوڈ ہونے والی ویڈیو فائلز اور مغربی میگزینز میں ان کی نیم عریاں اور سیکسی تصاویر دیکھو تاکہ تم انصافیوں کو اندازہ  ہو کہ نام نہاد انقلاب کے داعی پاکیزہ صفت سیکولر عمران خان کے تعلقات کس قدر فحش کردار مغربی دوشیزاؤں اور یہودی  تتلیوں سے رہے ہیں۔

 منشور فحاشی ہے تو دستور ہے گالی              
بدبخت بہت دین سے ہیں دور یہ سونامی                 

فاروق درویش :۔۔۔۔  لعنت زدہ شخص اب بھی فحش گالیوں کے سوا تمہارے پاس  کوئی اور جواب ہے؟

فاروق درویش:۔۔۔۔  خدارا ایک بار سوچنا ضرور کہ جو شخص ایک گستاخ قرآن گویے کے گانوں کے ذریعے ” نیا پاکستان ” کا پیغام دے رہا ہے کیا وہ دین محمدی اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مفلس عوام کا نجات دہندہ ہو سکتا ہے؟

فاروق درویش :۔۔ صاحب لعنت، فحش گفتار عمرانئے اب جواب نہیں دیا ؟

فاروق درویش : ۔۔۔۔   مسٹر عمرانی!  زندہ بھی ہے یا شرم کے مارے کسی گندے پانی کے جوہڑ میں  ڈوب کر مر گیا

عمران کا نیا پاکستانی :۔۔۔۔       ( ایک گھنٹہ بعد )  تیرا بیڑا غرق ہو بڈھے درویش، کنجر کے بچے، خود ہی مجھے جمائمہ اور سیتا وائٹ کی نئی  ویڈیوز اور سیکسی تصاویر کا بتایا تھا۔ سالے اب جواب دینے میں دیر ہونے پر چیخیں کیوں مار رہا ہے۔ تیرے پہ لعنت ہو کنجر، لگتا ہے تو ہیرامنڈی میں پیدا ہوا تھا، تو نے مجھے جمائمہ اور سیتا وائٹ کی نئی تصویروں کا کیوں بتایا؟  حرامزادے تیرے بتانے کی وجہ سے مجھے ایک گھنٹے میں دو بار نہانا پڑا ہے۔ عمران خان کی سیتا وائٹ اور جمائمہ خان کے ساتھ تصویریں دیکھیں، اف کیا کمال  بیوٹیز اور کیا کمال شخص ہے۔ خدا کی قسم  پاکستان کو ایسا ہی وزیر اعظم چاہیے، عمران خان زندہ باد، وزیر اعظم عمران خان۔

فاروق درویش: ۔۔۔۔ اللہ تم عمرانیوں کو ہدایت دے ۔ لکم دین کم ولی دین

عمران کا نیا پاکستان: ۔۔۔         اوئے نواز شریف پٹواری سے لفافے لیکر لکھنے والے کنجر درویش ۔ مجھے اپنی البم کیلئے جمائما اور اور سیتا وائٹ کی اور بھی ہاٹ تصویریں ڈھونڈنے دے۔ اور یہ تجھے آخری بار کہہ رہا ہوں کہ تو عمران خان کے بارے اپنا جھوٹا پراپیگنڈا اور یہ سب بکواس بند کر دے ورنہ  ہم سب لوگ تیری ماں بہن ایک  کرتے رہیں گے ۔ ۔ انتظار کر  مجھے جمائمہ اور سیتا وائٹ کی مذید تصاویر ملی ہیں ۔ ۔ دیکھ لوں پھر ۔ ۔ ۔ ۔  ابھی نہا کر واپس آتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ پھر تیری ماں کو ۔ ۔ ۔ ۔  تا ہوں۔ ۔ ۔ آج نہیں تو کل سہی ۔ مادر ۔ ۔ ۔  کے بچے نپٹ لوں گا تجھ سے  ۔  ۔ ۔ ۔

فاروق درویش : ۔۔۔۔  شاباش عمرانی بچے شاباش صبح دوپہر شام، آنٹی سیتا وائٹ اور باجی جمائمہ خان دیکھتے رہو، بار بار نہاؤ  اور نعرہء عمران لگاؤ

اور اس کے ساتھ ہی چاروں طرف سے عمرانیوں کا ایک مقدس انقلابی جھنڈ  دیسی ولائتی گالیوں کے برچھے، فحش ترین طنزوں کی تلواریں اور تعفن آمیز کلمات کے سب دشنامی ہتھیار لیکر میری ایک دوسری پوسٹ پر پوری شدت حملہ آور ہوگیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

آئیے میرے ساتھ دعا کیجیے، یا رب العالمین !  میرے پیارے پاکستان کو تمام گستاخین قرآن و رسالت ملعونوں، لادین سیاست دانوں، روشن خیال دانشوروں اور الیکشن میں نمبر ون ہونے کی امیدوں کے ٹوٹ جانے سے مایوسی اور فرسٹریشن کا شکار ہو کر غلاظت گفتار اور فحش کلامی پر اتر آنے والے مادر پدر آزاد عمرانی مسخروں سے محفوظ فرما۔۔۔۔ آمین یا رب العالمین ۔۔۔

 فاروق درویش ۔۔۔ واٹس ایپ ۔۔ 00923224061000

imrankhan2

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

2 Comments

Click here to post a comment

Leave a Reply

  • محترم فاروق صاحب! آپ کے بیان کیئے گئے حقائق درست ہیں، لیکن اس علامتی مقالمے میں استعمال کی جانے والی گھٹیا زبان پڑھ کر مجھے گمان ہونے لگا ہے، کہ واقعی میں سچا آدمی ملنا مشکل ہے۔ میں آپ کا ایک سنجیدہ قادی ہوں، اور ساتھ ہی ساتھ تحریک انصاف کےپر جوش کارکنوں کے مباحث بھی نظر سے گزرتے رہتے ہیں۔ لیکن اتنی گھٹیا زبان استعمال کی گئی کہیں نہیں دیکھی گئی۔ لہذا یہ بات اور آپ کی پچھلے ہفتہ محترم نواز شریف صاحب سے ملاقات کی بات بطور خاص مد نظر رکھتے ہوئے یہ نتیجہ نکالنے میں حق بجانب ہوں کہ آپ مسلم لیگ ن سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔ اور کچھ بعید نہیں کہ گھر کے خرچ کے لیے کسی قسم کا وظیفہ بھی مقرر ہو، اس ضمن میں سب سے اہم بات یہ حقیقت ہے کہ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ کی کچھ تحاریر مسلم لیگ ن کی لیڈروں کی کوتاہیوں کو بھی گرفت کرتی ہیں، لیکن زیاوہ تر تحاریر جناب عمران خان کے خلاف لکھی محسوس ہوتی ہیں، لیکن ان میں کی جانے والی بات بے بنیاد نہیں بلکہ ثبوتوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ (کوئی بھی انسان آپ کے بلاگ پر موجود تحاریر کی فہرست کو باآسانی دیکھ سکتا ہے۔)۔
    لیکن سامنے کی اس حقیقت کو بھی کوئی ذی شعور فراموش نہیں کر سکتا کہ جناب نواز و شہباز کی غلطیاں ان غلطیوں سے بالکل کم نہیں جو جناب عمران خان سے سرزد ہوئی ہیں۔ یوں غیر جانبداری کا دامن آپ کےہاتھ سے چھوٹتا محسوس ہوتا ہے۔ جہاں تک صحافت میں اپنے رول ماڈل کا تعلق ہے ، تو معذرت اور احترام کے ساتھ، کہ آپ حسن نثار سے محسوس ہوتے ہو، خصوصاََٰ اس فحش تحریری کلام کے بعد، نہ کہ محترم اوریا مقبول کی جماعت کے۔
    آپ پر کافی اعتماد تھا، لیکن اس حد درجہ فحش طرز تحریر اوپر سے اس ہٹ دھرمی ” آپ ” علامتی مقالمہ” کے معانی ھی نہیں سمجھتے۔۔۔” نے میرے اعتماد کو کافی ٹھیس پہنچائی ہے۔ بلکہ اگر آپ کو ناگوار نہ گزرے تو آپ کی تحریروں کی بنیاد پر تحریک انصاف کے کارکنوں سے بحث کرنے کا جواز ختم ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اور یوں محسوس ہوتا ہےکہ شاید آپ زہنی طور پر کنفیوژڈ ہیں۔ کم از کم اس طرح کا فحش علامتی مکالمی ہونے سے مکالمہ نہ ہونا بہتر ہے۔ سنجیدہ قاری کے طور پر میں وضاحت کا منتظر ہوں۔

    • صاحب میم شین ۔۔۔ آپ کے تمام سوالوں کے جوابات پہلے ہی میری اس تحریر میں موجود ہیں ۔۔۔لیکن پھر بھی وضاحت کر رہا ہوں ۔۔ افسوس صد افسوس کہ آپ نے مجھ جیسے حقیر فقیر اور ادنیٰ سے غلام مصطفے کو دینی اقدار ، سنت بنوی اور اکابریک ملت کی توہین و تذلیل کرنے والے بدبخت حسن نثار جیسے مغرب کے طفیلی ایک پلید انسان سے ملا دیا ۔ اللہ آپ کو ہدایت دے ۔ الحمد للہ میں حبیب بینک کی 30 سالہ ملازمت کے بعد ایک اچھے عہدے سے گولڈن ہینڈ شیک / پری میچور ریٹائرمنٹ لیکر اپنا ذاتی کاروبار چلا رہا ہوں اور اللہ سبحان تعالیٰ کا خاص کرم ہے کہ اس ذات باری نے مجھے اس قدر نوازا ہے کہ اس کے عطا کردہ رزق حلالسے صرف میرے سات بچے ہی نہیں بلکہ میرے ادارے کے ایک درجن ملازموں کے بچے بھی کسی سیاست دان کے وظیفے کے بغیر بڑے احسن طریقے سے پل رہے ہیں ۔ اس تحریر میں میرے اس بیان کے بعد کہ
      ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
      ۔” میں حسن نثار، ہارون رشید یا عطاالحق قاسمی جیسے ضمیر فروشوں کی طرح لفافے یا مراعات لیکر تحریر لکھنے کو خنزیر خوری اور ماں بہن کی کمائی کھانے کے مترادف سمجھتا ہوں۔ میرے مطابق جو شخص بھی کسی سیاست دان سے رقم یا مراعات لیکر کسی کی بھی حمایت یا مخالفت میں لکھتا ہے وہ روز محشر اللہ کی بخشش اور نبی ء آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے محروم ہو گا۔ “۔ ”
      ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
      آپ کا میرے بارے “وظیفہ خوار” لکھنا انتہائی قابل مذمت ہے ۔ الحمدللہ میرے گھر کے خرچ کیلئے نواز شریف یا کسی اور سیاست دان کے وظیفے کی ضرورت نہیں ہے۔ فقیر شاھوں کے در کے نہیں رب کائنات کے در کے بھکاری ہوتے ہیں ۔ سرکاری اور غیر ملکی وظیفوں پر ماضی میں مرزا غالب جیسے بھی پلتے رہے اور آج بھی سینکروں لفافہ برانڈ ننگ دین ملت پلتے ہیں ۔ مجھ پر اللہ کی خاص رحمتیں اور نبیء آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی نگاہِ کرم ہے۔ میں کئی لوگوں کی طرف سے عمرے کا ٹکٹ بھی شکریے کے ساتھ یہ کہہ کر واپس کر چکا ہوں کہ میں جس مالک کائنات کے در کا بھکاری ہوں وہ ہی میرے سفر حجاز کا بندوبست کرتا ہے، اور اس ذات باری کا خصوصی کرم ہے کہ اسی کی عطا کردہ بھیک سے بار بار اس کے در کی حاضری نصیب ہوتی ہے۔ ایاز امیر کے بارے بات کرنے کیلئے ، آجکل رش کے باعث شاہوں ے ملنا ممکن نہیں ، میں نواز شریف سے ملا نہیں بلکہ اپنی یاداشت سینکروں مسلمانوں کے دستخطوں کے ساتھ چار بار رائیونڈ پیلس میں انکے سیکریٹری کو جمع کروائی تھی ۔۔۔۔ میاں صاحب کے قریبی ساتھی گواہ ہیں کہ دو برس قبل جب میں ایک اخبار کی طرف سے الیکشن نیوز کوریج کرنے کیلئے آزاد کشمیر الیکشن کمپین میں میاں نواز شریف کے ساتھ ساتھ رہا تھا، بتاتا چلوں کہ ان کے طرف سے پی سی بھوربن سے آیا ہوا کھانا تمام صحافیوں میں بھی بٹتا تھا لیکن میں فقیر آدمی اپنا کھانا بازار سے خود خرید کر کھاتا تھا۔ سو اس پر میاں صاحب کے ساتھیوں کی طرف سے بد دماغ اور بدتمیز قرار دیا گیا تھا ۔

      یہ علامتی مکالمہ ہے لیکن میری ہی نہیں بیسوں لوگوں کی انٹی عمران پوسٹوں پر پی ٹی آئی کے اوباش لوگ جو فحش زبان استعمال کرتے ہیں اس کا بعین ذکر ممکن ہی نہیں تھا ، لہذا انتہائی سنسرڈ انداز میں ان لوگوں کی زبان درازی اور طرز گفگتو کی جھلک دکھائی ہے ۔۔

      آخری بات یہ کہ۔ مجھے فخر ہے کہ میں اس دادے کا پوتا ہوں جسے انگریزوں نے تحریک آزادی پاکستان کے جرم میں سزائے موت دی تھی ۔ ہاں میں پیدائشی مسلم لیگی ضرور ہوں نواز شریفیا نہیں۔۔۔مسلم لیگ نواز شریف یا کسی کے باپ کی میراث یا ملکیت نہیں ہے۔۔ ی۔ جب نواز شریف کا ڈائی ہارڈ سیاسی ورکر تھا اس وقت بھی اپنی جیب سے ہزاروں نہیں لاکھوں روپے خرچ کرتا تھا، پھر حق گوئی کے جرم میں مسلم لیگیوں سے ہی گولی کھا کر اپنا لہو بھی دیا، سیاست میں سچ بک کر جیلیں بھی کاٹیں اور میاں نواز شریف کی جدہ یاترہ کے بعد مشرف جیسے بھیڑیے کے اذیت ناک ٹارچر سیلز بھی دیکھے ، مسلسل دو سال بستر ِ علالت اور وہیل چیئر پر رہا لیکن کسی سے ایک دمڑی کی مالی امداد کی اپیل نہیں کی۔ لیکن پھرمیں ان سیاست دانوں کیلئے انتہائی ناپسندیدہ شخصیت ہوں ، کیونکہ مجھے چاپلوسی ہرگز نہیں آتی اور میں ” ہر حال میں صرف میرا لیڈر زندہ باد” نہیں کہہ سکتا۔ نواز شریف قادیانیوں کو بھائی کہے یا عاصمہ جہانگیر کو نگران وزارت عظمی کیلئے نامزد کرے تو میں صرف اپنے بلاگ میں لکھتا ہی نہیں بلکہ پنجاب اسمبلی کے باہر کھڑا ہو کر پمفلٹ تقسیم کر کے ڈنڈے اور گالیاں بھی کھا تا ہوں اور سیکولر عمران خان کے جلسے میں ایک گستاخ قرآن گویے کے میوزک شو کیخلاف بھی کلمہء حق کی صدا لگا کے سونامی جاہلوں کی گالیاں اور دھمکیاں بھی ۔۔۔۔۔ میرے بارے اول فول بکنے والے لوگ جو چاہیں بکتے یا فرماتے رہیں۔ مجھے کسی کی کوئی پروا نہیں، میرا اللہ میرے بارے سب جانتا ہے اور میں اسی مالک کائنات کے روبرو جواب دہ ہوں ۔۔۔۔ آپ کو بھی میرے بارے کچھ بھی فرض کر لینے کا پورا حق حاصل ہے۔۔ یاد رکھیں میاں نواز شریف ہو یا عمران خان، کوئی سیاست دان اپنے سیاسی ورکرز کے ساتھ مخلص نہیں ہوتا ، ہاں صرف ” حصول اقتدار و طوالت اقتدار” کے ساتھ مخلص ہوتا ہے ۔۔۔

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: