تاریخِ عالم و اسلام تاریخِ ہند و پاکستان حالات حاضرہ

فاتحینِ بیت المقدس و قسطنطنیہ اور دورِ جدید کے جہادی


مقبوضہ کشمیر کو اٹوٹ انگ اور ناقابل تسخیر سمجھنے والے بھارتی برہمن یاد رکھیں کہ قیصر روم بھی اپنی بازنطینی سلطنت کے مرکز قسطنطنیہ کو ایک ناقابل تسخیر شہر سمجھا جاتا تھا۔ اس مقدس صلیبی شہر کے تین اطراف میں گہرا سمندر اور چوتھی طرف دشوار گزار پتھریلی چٹانیں اور سنگلاخ زمین تھی۔ شہر کی حفاظت کیلئے دائرے کی شکل میں مضبوط فصیل  پر جا بجا مضبوط برجیاں تعمیر کی گئی تھیں۔ اس بیرونی فصیل کے اندر ایک اور فصیل تھی۔ اور ان دو فصیلوں کے درمیان ساٹھ فٹ چوڑی ناقابل عبور خندق کھودی گئی تھی۔ ان دو فصیلوں کے بعد بھی آبادی کے گرد مذید حفاظتی حصار کیلئے ایک  تیسری فصیل کی موجودگی نے شہر کے دفاع کو فول پروف حد تک ناقابل تسخیر بنا دیا تھا۔ لیکن اس شہر کی فتح کے حوالے سے نبیء آخرالزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشارت ایک حدیث میں یوں بیان کی گئی تھی کہ ” تم  قسطنطنیہ کو ضرور فتح کرو گے، وہ فاتح بھی باکمال ہوگا اور وہ لشکر بھی باکمال ہو گا “۔ یہی وہ فرمان رسالت مآب تھا کہ جس کے باکمال فاتح اور باکمال لشکر بننے کی دھن میں شمع رسالت کے پروانے امیر معاویہ، عمر بن عبدالعزیز، ہشام بن عبد الملک، مہدی عباسی اور ہارون الرشید جیسے عظیم  فاتحین کے کئی لشکر پورے عزم اور جنگی سازو سامان کے ہمراہ اس شہر پر یلغار کرنے کیلئے آئے مگر یہ شہر فتح نہ ہو سکا۔ لیکن بالآخر خلافت عثمانیہ کے عظیم حکمران سلطان محمد فاتح کے ہاتھوں تاجدار انبیاء کی بشارت تکمیل کو پہنچی۔

قیصر روم اور سلطان محمد فاتح کے درمیان ہونے والا یہ معرکہ اسلامی تاریخ کا ایک روشن و تابندہ باب ہے۔ مورخ  نے دنیا کے کسی معرکے میں کبھی ایسا منظر نہ دیکھا ہو گا کہ کسی سلطان نے اپنی بحری فوج کو خشکی پر جہاز چلانے کا حکم دیا ہو۔ لیکن یہاں مسلم لشکر نے دس میل کا دشوار گزار پہاڑی راستہ بحری بیڑوں کو سنگلاخ  چٹانوں پر گھسیٹ کر طے کیا ۔ اور پھر آخری قیصر کے جہنم واصل اور قسطنطنیہ کے ”استنبول“ بن جانے  پر رسالت مآب ص کی یہ پیشن گوئی سچ ثابت ہوئی کہ ” اذا ھلک قیصرا فلا قیصر بعدۃ “۔ یعنی جب قیصر ہلاک ہوگیا تو پھر کوئی قیصر نہیں آئے گا۔“۔ یہ تاریخی حقائق اسلام کو شدت پسند قرار دینے والے مغربی اور بھارتی دانشوروں یا مساجد و درسگاہوں پر عوام الناس اور معصوم بچوں کے قتل عام کو جہاد قرار دینے والے نام نہاد جہادی عناصر کیلئے ایک روشن دلیل ہیں کہ اسلامی جہاد کا جذبہ اور مجاہدوں کا شیوہ و کردار تو یہ رہا ہے،  کہ سلطان محمد فاتح نے فوج کو فیصلہ کن حملے کے ساتھ  یہ حکم  بھی دیا تھا کہ نہ وہ شہری عمارات کو نقصان پہنچائے اور نہ ہی امن کی طلب  رعایا ، عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں پر ہاتھ اٹھایا جائے۔ اسی طرح صلاح الدین ایوبی نے بھی ثابت کیا کہ بلاشبہ مقامات مقدسہ کی بازیابی کیلئے جہاد فرض ہے، مگر اسلام امن کا دین اور انسانیت سے حسن سلوک کا آفاقی نظریہ بھی ہے۔ سو اس مجاہد نے بھی مسلمانوں پر صلیبی مظالم کا انتقام نہیں لیا بلکہ نہتے شہریوں ، بچوں اور عورتوں کے ساتھ انتہائی رحمدل برتاؤ کیا ۔ اس نے فتح بیت المقدس کے موقع پر عیسائیوں کو امن کے ساتھ  شہر چھوڑنے کی اجازت دی۔ ان کیلئے فدیہ کی معمولی رقم مقرر کی اور جو لوگ وہ بھی ادا نہ کر سکے ان کا فدیہ اپنی طرف سے ادا کر کے آزادی دی۔ آج بے گناہ لوگوں  اور معصوم بچوں کو بربریت کا نشانہ بنانے کی سفاک دہشت گردی کو جہاد قرار دینے والے ” مجاہدین” اسلام کی عظمت رفتہ کے ” اصل مجاہدین”  کی تاریخ پڑھیں کہ کسی بھی مسلم  حکمران نے نہ تو کبھی نہتے شہریوں کا قتل عام کیا اور نہ ہی کہیں مساجد ،  درسگاہوں اور مدارس میں خون کی ہولی کھیلی۔

میں گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کی اتحاد شکن بحث میں سب طالبان کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے والے احباب سے مودبانہ اختلاف رکھتا ہوں۔  ایسی بحثوں سے سوائے مسلکی منافرت اور تقسیم قوم و ملت کے سوا اور کچھ حاصل نہیں۔ میرے مطابق عسکری اداروں، مساجد اور سکولوں پر حملے کرنے والے عناصر دراصل طالبان نہیں بلکہ امریکہ بھارت گٹھ جوڑ کے سفاک مہرے ہیں۔ اس حوالے سے ملا عمر نے بارہا  یہ واضع بیان دیا ہے کہ اسلام کسی بے گناہ شخص کی جان لینے کی اجازت نہیں دیتا ، لہذا مسلمانوں اور نہتے لوگوں کیخلاف بم دھماکے اسلامی فکر کے منافی ہیں۔ مساجد اور سکولوں وغیرہ پر حملوں کا ذمہ دار طالبان کو ٹھہرایا جاتا ہے لیکن ہم ایسے حملوں میں ملوث نہیں ۔ سوال یہ ہے کہ اگر افغان طالبان اس دہشت گردی کیخلاف ہیں تو آخر پاکستانی طالبان کون ہیں اور یہ پاکستان ہی میں دہشت گردی کیوں کرتے ہیں؟ اہل نظر کے مطابق یہ بھی ایک پراپیگنڈا ہے کہ چونکہ پاکستان نے افغان طالبان کیخلاف امریکہ کا ساتھ دیا ہے، لہذا ٹی ٹی پی ہم سے بدلہ لے رہی ہے۔  مبصرین کے مطابق پاکستان نے جن طالبان کیخلاف امریکہ کو راستہ دیا تھا وہ اس ” خطرناک کھیل” سے خوب واقف تھے کہ امریکہ پاکستان اور افغان طالبان کا ٹکراؤ چاہتا ہے۔ لہذا انہوں نے پاکستان کیخلاف نہ تو کبھی کوئی بیان دیا اور نہ ہی کبھی پاکستانی سیکورٹی فورسز پر گولی چلائی۔ یاد رہے کہ ملا عمر یا دوسرے افغان کماندڑوں نے کبھی پاکستان کیخلاف جہاد کا اعلان نہیں کیا۔  قوی قیاس ہے کہ افغان سرحد  سے پاکستانی چوکیوں پر حملے کرنے والے عناصر افغان طالبان نہیں بلکہ امریکی سی آئی اے اور بھارتی را کے آلہ کار ہیں

پاکستانی طالبان کی افغان طالبان سے قطعی الگ تنظیم ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ جب ملا فضل اللہ نے سوات آپریشن کے دوران ملا عمر سے مدد طلب کی تو اس نے یہ کہہ کر  صاف انکار کر دیا تھا کہ ” تم لوگ پاک فوج کے خلاف جو جنگ لڑ رہے ہو اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں پے “۔  میرے مطابق دہشت گردوں کی یہ سب کاروائیاں دراصل افغان جنگ میں پاکستان کی بے پناہ قربانیوں کے جواب میں امریکہ، اسرائیل اور انڈیا کا مشترکہ ” پروگرام ” ہے۔ حقائق یہ ہیں کہ افغان بارڈ پر بھارت کے درجن سے زائد قونصل خانے صرف وزیرستان کی سرحد پر واقع ہیں۔ ذرا سوچیے کہ کیا بھارتی ویزوں کی درخواستیں اتنی ہی زیادہ ہیں کہ انہیں چالیس قونصلیٹ درکار ہیں؟ نہیں ہرگز نہیں، در حقیقت ان بھارتی مراکز میں تورخم سے بلوچستان کی سرحد اور اندرون پاکستان مساجد سے درس گاہوں تک دہشت گردی پھیلانے والے انٹی پاکستان عناصر کو عسکری تربیت اور اسلحہ فراہم کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے افواج پاکستان کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں بغیر ختنوں کے ” ہندو اور سکھ مجاہدین ” بھارتی مداخلت کا نا قابل تردید ثبوت ہے۔ مگر صد افسوس کہ آج تک ہماری کسی بھی حکومت نے عالمی اداروں میں اس کھلی بھارتی مداخلت اور عیاں دہشت گردی کیخلاف کبھی بھرپور آواز نہیں اٹھائی۔ جبکہ بھارت اپنے ملک میں  رونما ہونے والی کسی بھی تخریب کاری پر پاک فوج ، آئی ایس آئی یا لشکر طیبہ کیخلاف جھوٹے الزامات کا شور مچانا اولین فرض سمجھتا ہے۔

 نام نہاد طالبان کے یہ  منافقانہ نظریات ہی ان کے ” اسلامی جہاد” کا پول کھول دیتے ہیں کہ کشمیر کا جہاد سرکاری جہاد ہونے کے ناطے کفر ہے۔ اور افغانستان کا جہاد تب تک جائز نہیں جب تک پاکستان کو درست نہ کر لیا جائے۔ غور طلب ہے کہ جب پاکستان نے  وزیرستان آپریشن کا اغاز کیا تو چین نے ایک سیٹلائٹ فوٹیج ریلیز کی تھی۔ جس میں صاف دکھایا گیا تھا کہ حکیم اللہ محسود سمیت کئی کمانڈروں کو امریکی ہیلی کاپٹر نے وزیرستان سے اٹھا کر افغان صوبہ صوبہ پکتیا کے ایک محفوظ مقام پر ڈراپ کیا تھا۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان دراصل افغان طالبان سے الگ امریکی اور بھارتی مفادات کی کٹھ پتلی تنظیم ہے۔  قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے احباب بخوبی واقف ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث نام نہاد طالبان کی افغانستان جہاد سے اس حد تک نفرت ہے کہ افغان جہاد کے اکثر و بیشتر کمانڈروں سے ان کے مسلسل خونریز معرکے رہے ہیں۔  ملا فضل اللہ نے سوات میں طاقت ملتے ہی افغان جہاد کیلئے سرگرم اس اہم  شاہ گروپ کا سوات سے مکمل خاتمہ کردیا تھا جس نے افغان صوبے نورستان میں کبھی امریکہ کے قدم جمنے نہیں دیے تھے۔ مگر اس گروپ کا خاتمہ ہوتے ہی نورستان پر امریکی قبضہ ہو گیا ۔ جسے ملا عمر نے کئی ماہ کی خونریزی کے بعد چھڑوایا۔ آدم خیل میں طارق افریدی کی افغان مجاہد مومن آفریدی سے دشمنی، اورگزئی ایجنسی میں مولوی نور جمال کی افغان مجاہد ملا نبی سے معرکہ آرائی، باڑہ ایجنسی میں منگل باغ آفریدی کی افغان مجاہد محبوب ملا  سے خونریزی اور حکیم اللہ محسود کی افغان مجاہدین ملا نظیر، زین الدین محسود ، ترکستان بیٹنی وغیرہ سے جنگ اس بات کی دلیل ہے کہ امریکہ کیخلاف سرگرم افغان طالبان اور پاکستان میں دہشت گردی کے مجرم نام نہاد طالبان، دو مختلف اور متضاد قوتیں ہیں۔

 پاکستانی میڈٰیا بھارتی ایما پر امن کی آشا کے گیت تو گاتا ہے مگر دہشت گردوں کے خوف سے یہ اصل حقائق بیان کرنے سے گریزاں ہے۔ مگر جلد ہی پوری قوم یہ حقیقت تسلیم کرے گی کہ امریکی استعمار کی طرف سے ہمیں نہ چاہتے ہوئے بھی جس جنگ میں دھکیلا گیا ہے وہ  افواج پاکستان کی جنگ نہیں ، پاکستان کے بقا کی جنگ ہے۔ خدانخواستہ اگر ہم بھارتی اور سامراجی  کٹھ پتلیوں کی دہشت گردی کیخلاف یہ جنگ ہارگیے تو یہ پاکستان کی نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کی شکست ہو گی۔ یاد رکھیے کہ دہشت گردوں کا نہ تو کوئی مذہب  و مسلک ہے اور نہ ہی قومیت و سیاسی برادری ۔ ہم نظریہء جہاد پر پختہ یقین رکھتے ہیں لیکن ہم اس انسانیت کش دہشت گردی کو کسی بھی طور پر جہاد  تسلیم نہیں کرتے جو صلاح الدین ایوبی، سلطان محمد فاتح، سلطان ٹیپو شہید جیے مسلمان مجاہدین کا وطیرہ نہیں بلکہ ہلاکو خان، حسن بن صباح اور نریندر مودی کے بھارتی بھیڑیوں کا طریقَ بربریت ہے۔  سو آئیے نواز شریفی اور عمران خابی کی سیاسی شناخت سے ماورا ہو کر، شعیہ، سنی ، دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث کے مسلکی اختلافات بھلا کر، سندھی پنجابی بلوچ اور پٹھان کی شناخت پس پشت ڈال کر، ایک متحدہ قوم کی طرح افواج پاکستان، آئی ایس آئی اور  محب اوطن و امن گرد قوتوں کے شانہ بشانہ سی آئی اے ، را اور موساد اور ان کے سب ہمنواؤں کو للکار کر بولیں کہ امریکی، بھارتی اور اسرائیلی گٹھ جوڑ کی پرودا  ہر دپشت گردی کیخلاف ، ہم سب ایک ہیں۔ ۔ ہم  زندہ قوم ہیں ۔۔۔۔  پائیندہ قوم ہیں ۔۔۔۔  تابندہ قوم ہیں ۔۔۔۔۔

( فاروق درویش — 03224061000–03324061000)

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

%d bloggers like this: