حالات حاضرہ ریاست اور سیاست سیکولرازم اور دیسی لبرل

فتنہء عاصمہ جہانگیری کے حلیف حکمران


یہ ایک آفاقی سچ  ہے کہ پاکستانی پریس اینڈ میڈیا ہر اس دجالی گروہ یا “روشن خیال شخصیت” کو بھرپور پروموٹ کرتا ہے جو اسلامی اقدار اور نظریہء پاکستان کی مخالف اور مغربی طرز فکر کی علمبردار ہے۔ اس کی بنیادی وجہ میڈیا کی وہ پیشہ ورانہ مجبوریاں بھی ہیں جو اسے مغربی و ہندوتوا لابیوں کی فرمابرداری پر مجبور کرتی ہیں۔ اس کا سب سے بڑا سبب یہود و ہنود کی ملکیت ملٹی نیشنل کمپنیوں سے ملنے والے اربوں کی مالیت کے وہ اشتہارات ہیں جو کسی بھی میڈیا چینل کیلئے آکسیجن کا درجہ رکھتے ہیں۔ لہذا کسی پاکستانی کو اس بات پر تعجب نہیں ہونا چاہئے کہ ایک کھلی گستاخ قرآن و رسالت عاصمہ جہانگیر جیسی اسلام دشمن شخصیت ہر ٹی وی چینل پر مذہبی امور اور حساس قومی ایشوز پر اپنی ” عالمانہ رائے” دینے کیلے کیوں بلائی جاتی ہے۔ لیکن جب ایسی قابل صد نفرت شخصیات اسلام اور نظریہ ء پاکستان کی علمبرداری کے دعویدار حکمرانوں کے ایوانوں میں ان کی مشیر اور اتحادی بن کر بیٹھی ہوں تو عوامی حلقوں میں شدید اضطراب اور غم و غصے کی لہر دوڑ جانا فطری عمل ہے۔ یہ امر اپنی جگہ قابل صد افسوس ہے کہ پچھلے چند برس سے عاصمہ جہانگیر گروپ اور نون لیگ اسلام آباد اور لاہور سمیت مختف اضلاع کی بار کونسلوں کے الیکشن میں سیاسی اتحادی رہے ہیں۔ لیکن گذشتہ انتخابات سے قبل یہ خبر” اسلامی جمہوریہ پاکستان” کے مسلمان عوام کیلئے شدید دل آزاری کا سبب تھی کہ پاکستان کے اسلامی تشخص کی محافظ اورنظریہء پاکستان کی خالق ہونے کی دعویدار مسلم لیگ نون نے عاصمہ جہانگیر جیسی مصدقہ گستاخ رسول شخصیت کو نگران وزیر اعظم کے عہدے کیلئے نامزد کیا تھا۔ یاد رہے کہ اس حوالے سے عوام حلقوں کے شدید ردعمل کے بعد یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا تھا۔ ممکن ہے کہ پاکستانی عوام کی اکثریت قران و شریعت اور شانِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس خاتون کی گستاخانہ ہسٹری سے ناواقف ہو، لیکن قومی سیاست دانوں اور خاص طور پر دین دوست حکمران طبقے کا ان حساس حقائق سے لاعلم ہونا یا چشم پوشی کرنا ناقابل فہم ہے۔

 آج میں معزز قارئین کو گواہ بنا کر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف اور نون لیگ کے معزز احباب کو یہ حقائق یاد دلانا چاہتا ہوں کہ قانون تعزیراتِ ہند میں 295 الف کا اضافہ اگر ایک ہندو گستاخ رسول راج پال کی گستاخانہ بدبختی کا نتیجہ تھا، تو قانون تعزیراتِ پاکستان میں 295 سی کے ظہور کی وجہ راج پال اور سلمان رشدی جیسے ہر ماڈرن ابوجہل کی فکری اولاد اور بال ٹھاکرے نظریات کی علمبردار ایک ملعون و گستاخ عورت عاصمہ جہانگیر کی طرف سے نبیء آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں دریدہ دہنی بنی تھی۔ گو کہ ان دونوں دفعات کے قانون کا حصہ بننے کے عمل میں ساٹھ برس حائل ہیں، لیکن ان دونوں کے پس منظر میں حیران کن حد تک مماثلت ہے۔ یہ 1983 کی بات ہے کہ ایک مغربی گماشتے قادیانی مشتاق راج ایڈووکیٹ نے ” آفاقی اشتمالیت ” کے نام سے ایک شاتمانہ کتاب تحریر کی ۔ جس میں انبیائے حق علیہ السلام کے خلاف ہرزہ سرائی اورانتہائے خباثت یہ کہ شان سالت مآب میں بھی ناقابل برداشت حد تک گستاخانہ جسارت کی گئی تھی۔ ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی قرار داد کے نتیجے میں حکومت نے اس کتاب کو ضبط کرنے کے احکامات جاری کئے۔ مشتاق راج قادیانی کے خلاف توہین مذہب کے جرم میں زیر دفعہ 295 ۔ الف تعزیراتِ پاکستان مقدمہ درج کر لیا گیا۔ چونکہ اس وقت تک تعزیراتِ پاکستان میں توہین ِرسالت جیسے سنگین جرم کی کوئی سزا مقرر نہیں کی گئی تھی۔ سواس ملعون مشتاق راج کی گرفتاری عمل میں نہ آنے کی وجہ سے مسلمانوں میں شدید اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔ تمام اسلامی مکاتبِ فکر کے علما اور ممتاز قانون دانوں نے ایک کانفرنس بلائی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ آئین و قانون میں توہین رسالت کے جرم کی سزا صرف سزائے موت مقرر کی جائے۔ ابھی عوامی حلقوں کو حکومتی ردعمل کا انتظار اور جذبات بھڑک رہے تھے کہ عاصمہ جہانگیر کی طرف سے18  مئی 1986 کو شان رسالت مآب میں شدید بے ادبی کا ناقابل برداشت واقعہ پیش آیا۔ لعنت صد افلاک کہ اس حیا باختہ عورت نے محبوب کبریا اور معلم انسانیت کا ذکر ( اس کی منہ میں جہنم کی آگ )  اَن پڑھ اور تعلیم سے نابلد کہہ کر کیا ۔ یہ گستاخانہ کلمات اس بدبخت شاتمہء رسالت نے مغربی تہذیب کی دلدادہ اور آزادیء نسواں کے نام پرعریانی و آوارگیء نسواں کیلئے سرگرم فاحشہ عورتوں کے اسلام آباد میں منعقد کردہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہے۔

اس حوالے سے روزنامہ جسارت  کے مطابق، “خواتین محاذِ عمل اسلا م آباد کے ایک جلسے میں صورتِ حال اس وقت سنگین ہو گئی، جب ایک خاتون مقرر عاصمہ جہانگیر نے شریعت بل کیخلاف تقریر کرتے ہوئے سرورِ کائنات ص کے بارے میں قابل اعتراض زبان استعمال کی۔ اس پر ایک مقامی وکیل نے احتجاج کیا اورکہا کہ رسولِِ خدا ص کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے محتاط رہنا چاہیے۔ جس پر دونوں کے درمیان تلخی ہوئی اور جلسے کی فضا کشیدہ ہو گئی۔ عاصمہ جہانگیر نے اپنی تقریر میں “تعلیم سے نابلد” اور “ان پڑھ” کے الفاظ استعمال کیے تھے۔” (جسارت ،کراچی 18 مئی 1986)۔ اس سیاہ بخت ہندوتوا باندی نے محسن انسانیت ص کیلیے قصداً وہی مذموم اور قابل صد مذمت لفظ استعمال کیا جو مغربی گستاخین اور ہنود و یہود دین برحق او ر نبیء آخر الزماں ص کی تحقیر و اہانت کی غرض سے کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ جس سیمینار میں عاصمہ نے یہ الفاظ کہے، وہ شریعت بل کی مخالفت میں ہو رہا تھا۔ اتفاق سے اس سیمینار میں سب ” اعلی تعلیم یافتہ ” لوگ تھے۔ افسوس کہ وہاں کسی ترکھان کے ان پڑھ بیٹے غازی علم الدین شہید جیسا کوئی “جاہل غیرت مند ” موجود نہ تھا۔ ورنہ یہ قابل صد لعنت خاتون آج یہ لغو بیانی کرنے کیلئے زندہ نہ ہوتی کہ ” میری جان کو طالبان اور خفیہ ایجنسیوں سے شدید خطرہ لاحق ہے”۔ عاصمہ کے الفاظ مسلمانوں کی سخت دل آزاری کا باعث بنے اور سیمینار میں ایک شدید ہنگامہ برپا ہوا۔ جس طرح 1928ء میں ہندو گستاخ رسول راج پال کے خلاف مسلمانوں کے جذبات کا لاوا بھڑک اُٹھا تھا ، بالکل اسی طرح اس ملعون عورت کی دریدہ دہنی سے صرف پاکستان ہی میں نہیں بلکہ پورے عالم اسلام میں شدید اضطراب اورغم وغصے کی لہر دوڑ گئی۔ مسلمانوں کیلئے یہ امر نہایت تکلیف دہ تھا کہ غازی علم دین شہید کے ہاتھوں واصل جہنم ہونے والا گستاخ رسول راج پال تو ایک متعصب ہندو تھا۔ لیکن اس بار شانِ نبوت میں گستاخانہ جسارت کا ارتکاب ایک ایسی لعنت زدہ عورت کی طرف سے کیا گیا تھا جو کبھی قادیانیوں کی عبادت گاہوں اور کبھی ہندوتوا کے مندروں میں کافرانہ پوجا پاٹ کرنے کے باوجود خود کو “مسلمان ” کہلوانے پر مصر ہے۔

asmaj1

نامور مصنف محمد اسمٰعیل قریشی ایڈووکٹ نے اپنی معرکہ آراء تصنیف ” ناموسِ رسول ص اور قانونِ توہین رسالت ” میں اس واقعے کا پس منظران الفاظ میں بیان کیا ہے۔ ” اس کے بعد ماہ مئی 1986ء میں ایک خاتون ایڈووکیٹ عاصمہ جیلانی نے اسلام آباد میں منعقدہ ایک سیمینار میں تقریر کرتے ہوئے معلم انسانیت حضور ختمی مرتبت ص کے بارے میں ” ناخواندہ ” اور ” تعلیم سے نابلد ” جیسے نازیبا اور توہین آمیز الفاظ استعمال کیے، جو سامعین اور تمام اُمت ِمسلمہ کی سخت دل آزاری کا باعث تھے۔ اس گستاخانہ حرکت پر راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کے معزز اراکین سخت احتجاج کیا اور پرزور مطالبہ کیا کہ وہ ان توہین آمیز الفاظ کو واپس لے کر اس گستاخی پر معافی مانگے، لیکن اس بدبخت عورت کے صاف انکار پر سیمینار میں شدید ہنگامہ برپا ہوگیا۔ دوسرے روز جب یہ خبر اخبارات میں شائع ہوئی تو ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس کا ایک غیر معمولی اجلاس لاہور میں منعقد ہوا، جس میں کھلی توہین رسالت کی مرتکب عاصمہ جہانگیر کی اس قابل اعتراض تقریر پر انتہائی غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر توہین رسالت کی سزائے حد کو پاکستان میں نافذ کرے اور اس جرم کے مرتکب افراد کو قرار واقعی سزا دے، ورنہ اس کے سنگین نتائج کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ راقم الحروف کی درخواست پر لاہور میں وکلا اور علما کا ایک مشترکہ اجلاس ماہ جون 1986ء میں منعقد ہوا، جس میں تمام مکاتبِ فکر کے سر بر آور دہ علما اور ممتاز قانون دان حضرات نے شرکت کی اور متفقہ طور پر حسب ِذیل قرارداد منظور کی گئی۔ ”ہم دین اور قانون سے وابستہ لوگ برملا اس کا اعلان کرتے ہیں کہ سرزمین پاکستان کا کوئی مسلمان اس ملک میں اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں کسی قسم کی اہانت آمیز بات کو کسی نوع برداشت نہیں کر سکتا اور نہ ہی سیکولر ذہن رکھنے والے عناصر کو یہ اجازت دینے کے لئے تیار ہے کہ وہ یہاں اپنی مذموم اور شرانگیز سرگرمیوں کو جاری رکھے اور فتنہ وفساد پھیلانے کی کوشش کرے۔ ہم واشگاف الفاظ میں ان عناصر کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے سے باز آجائیں ورنہ اس کے نہایت سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔” اس قرار داد پر شعیہ سنی، اہل حدیث اور دیوبندی سمیت تمام مسلم مسالک دین کے علما اکرام نے دستخط کر کے اس بات کا کھلا اعلان کیا کہ امت محمدی کے تمام مسالک ناموس رسالت کے اس مقدس ایشو پر متحد اور ایک ہیں ۔ ان کے علاوہ تمام مسالک سے تعلق رکھنے والے ممتاز وکلا نے بھی اس قرار داد پر اپنے دستخط ثبت کیے اور مابعد یہ قرارداد حکومت پاکستان، صوبائی حکومتوں اور اراکین قومی اسمبلی کو بھیج دی گئی ۔

اسمعیل قریشی صاحب مزید لکھتے ہیں کہ ”عاصمہ جہانگیر کی اس قابل اعتراض تقریر کا نوٹس سب سے پہلے قومی اسمبلی میں اسلامی جذبہ سے سرشار خاتون ایم این اے محترمہ نثار فاطمہ نے لیا تھا ( قابل توجہ ہے کہ یہ محترمہ نثار فاظمہ صاحبہ ، اسی عاصمہ جہانگیر کا نام نگران وزیر اعظم کیلئے تجویذ کرنے والی حکمران سیاسی جماعت مسلم لیگ نون کے مرکزی راہنما اور سیکریٹری نشر و اشاعت احسن اقبال صاحب کی والدہ ماجدہ تھیں )۔ نثار فاطمہ صاحبہ نے قومی اسمبلی میں پوری قوت کے ساتھ آواز اٹھائی کہ عاصمہ جہانگیر کے ان توہین آمیز الفاظ کے خلاف حکومت فوری کاروائی کرے، لیکن چونکہ اس وقت قانون میں توہین رسالت کے جرم کی کوئی سزا مقرر نہیں تھی، اسی لیے اس کے خلاف کوئی مؤثر کاروائی نہ ہو سکی۔” مابعد عاشقین مصطفے کی جدوجہد کے سامنے حکومت نے سر تسلیم خم کرتے ہوئے 1986ء میں تعزیراتِ پاکستان میں ترمیم کر دی۔ اس حوالے سے فوجداری قوانین میں ترمیمی ایکٹ پاس کر کے دفعہ 295 سی کا اضافہ کیا گیا، جس کے مطابق توہین ِرسالت کے جرم کی سزا عمر قید یا موت مقرر کی گئی ۔ لیکن 295۔ سی کا قانون کتاب وسنت پر مبنی مسلمانوں کے مطالبہ کی حرف بہ حرف تکمیل نہیں تھا، کیونکہ اس میں توہین رسالت کے جرم کی واحد سزا، سزائے موت کے ساتھ ساتھ ” عمر قید ” کو بھی بطورِ سزا شامل کیا گیا تھا۔ لہٰذا مسلمانوں کی طرف سے اس پرعدمِ اطمینان کا اظہار کیا گیا ۔ لیکن دشمنانِ دین  پر بالعموم اور ابو لہبی فکر کی وارثہ عاصمہ جہانگیر پر بالخصوص حکومت کی طرف سے یہ نیم دلانہ قانون سازی بھی بے حد ناگوارگذری۔ غدار ملک و ملت قادیانی اُمت کے عیار و مکار دماغوں نے اس قانون کے خلاف ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مذموم پراپیگنڈہ کیلئے جامع منصوبہ بندی کی اور مغربی کندھوں پر سوار قادیانی ذرائع ابلاغ نے اسے آزادیء مذہب اور آزادیء اظہارِ رائے کے بنیادی حقوق کے منافی ہونے کا دجالی واویلا شروع کر دیا۔

امریکہ اور یورپ میں متحرک قادیانی تنظیموں نے اپنے مربی و سرپرست مغرب کو متاثر کرنے کیلئے اسے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ڈکلیریشن کی خلاف ورزی قرار دیا۔ مغرب کے پیروکار مذہب بیزار طبقہ، جو انسانی حقوق کے ” مغربی ورژن ” کو گذشتہ چند عشروں سے اپنا دین ومذہب سمجھے ہوئے ہے، پر اس بے بنیاد پراپیگنڈہ کا فوری اثر ہوا۔ ویسے بھی مغربی صہیونی لابی اسلامی جمہوریہ پاکستان کو بدنام کرنے کے بہانوں کی تلاش میں رہتی ہے اور برطانوی استعمار کے کاشت کردہ پلید قادیانی پودے کی حفاظت کیلئے اپنے وسائل کا بے دریغ استعمال کرنا فرضِ عین سمجھتی ہے۔ یہ امر قابل افسوس ہے کہ میاں نواز شریف صاحب نے اپنے پہلے دورحکومت میں بھی اس گستاخ مزاج عورت کی اسلام دشمن سرگرمیوں کا کوئی نوٹس نہیں لیا تھا ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سیکولر قوتوں کی حامی بے نظیر اور سامراجی اسلام دشمنوں کے کٹھ پتلی پرویز مشرف کے دین دشمن دور میں مغرب کی پاکستان دشمنی عاصمہ جہانگیر جیسے اسلام دشمن فتنوں کیلئے اپنے مکر و فریب کا جال بچھانے کیلئے بے حد حوصلہ افزا ثابت ہوئی۔ یاد رہے کہ عاصمہ جہانگیر نے اپنے مغربی اور ہندوتوا سرپرستوں کی آشیر باد کے ساتھ جسٹس درّاب پٹیل کے ساتھ مل کر ” پاکستان انسانی حقوق کمیشن ” کی داغ بیل ڈالی ۔ جس کے بعد آج تک قادیانی حقوق کا تحفظ اس مغربی غلام کمیشن کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔ اس حوالے سے 23 اپریل 1987ء کو عاصمہ جہانگیر نے اسی انسانی حقوق کمیشن کے ایک اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ، ”کمیشن کو نہ صرف 1983ء کے آئین میں مندرجہ انسانی حقوق کی بازیابی کی جدوجہد کرنی ہے بلکہ پاکستان میں اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج کئے گئے انسانی حقوق کا آئیڈیل حاصل کرنا ہے۔ کمیشن کو بہت سے ایسے قوانین کو منسوخ کرانے کی کوشش بھی کرنا ہوگی جو یک طرفہ ہیں۔ اس ملعون خاتون نے اس ضمن میں حدود آرڈیننس، قانونِ شہادت میں مرد وعورت کی حیثیت، غیر مسلموں کو مسلمانوں کی شہادت اور عورت کو مرد کی گواہی پر سزا، قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے والے قانون، قانونِ توہین رسالت اور جداگانہ انتخابات جیسے قوانین کا ذکر کیا۔” (نوائے وقت: 25 اپریل 1984ء)

احباب ریکارڈ گواہ ہیں کہ 1985ء میں قانونِ توہین رسالت کے نفاذ کے بعد سے اب تک اس فتنہ گر خاتون کی طرف سے بیسیوں بار شدید جذباتی رد عمل سامنے آیا ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ اس شرعی قانون کو ختم کرانا ہی اس ملعون عورت کی زندگی کا اہم ترین نصب العین ہے۔ لہذا یہ خاتون انسانی حقوق کمیشن کے انسانی و مادی ذرائع کو اپنے دجالی مقاصد کے حصول کیلیے بھرپور استعمال کرتی رہی ہے۔ کمیشن کی طرف سے جاری کی جانے والی سالانہ رپورٹوں کے علاوہ اس نے سیمینار، انٹرویو اور جلسے جلوسوں کے ذریعے بھی اس قانون کے خلاف بارہا صدائے احتجاج بلند کی ہے۔ اورپاکستان کے مغربی غلام میڈیا نے اس دہریہ مزاج خاتون کو ہر دور میں بھرپور کوریج اور تشہیری سہولتیں مہیا کی ہیں۔ یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اس عیار خاتون نے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور مغرب میں انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں سے قریبی تعلقات استوار کرتے ہوئے ان اداروں کی طرف سے بھی ہر حکومت پر 298 اور 295۔ سی کو واپس لینے کیلئے شدید دباؤ ڈلوایا ہے۔ لیکن الحدللہ آج تک کسی بھی حکومت کو توہین رسالت سے متعلق یہ اسلامی دفعات منسوخ کرنے کی جرات ہوئی ہے اور نہ ہی انشاللہ ہو گی۔  1984ء سے لے کر آج تک مغربی بغل بچہ تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک بھی سالانہ رپورٹ ایسی نہیں ہے جس میں اسلام اور پاکستان کے بدترین دشمن قادیانیوں کے انسانی حقوق کی نام نہاد پامالی پر مبنی بے بنیاد، من گھڑت اور شرانگیز واقعات کی داستانوں کا طویل تذکرہ اور حکومت سے قادیانیوں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ شامل نہ ہو۔ ایمنسٹی انٹرنیشل کی رپورٹوں کے گہرے مطالعے کے بعد یہ اندازہ کرنا زیادہ مشکل امر نہیں ہے کہ ان رپورٹوں کا اصل ماخذ ومصدرعاصمہ جہانگیر کی زیر سرکردگی کام کرنے والا انسانی حقوق کمیشن ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کا ایک مفصل باب صرف قادیانی زندیقوں ہی کے بارے میں تھا، جس کا ترجمہ قادیانی رسالہ ” الفضل ” نے اپنی یکم جولائی 1993ء کی اشاعت میں ” پاکستان میں جماعتِ احمدیہ پر مظالم کے سلسلہ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تازہ رپورٹ ” کے عنوان سے شائع کیا ۔ اس رپورٹ میں 295 ۔ بی اور 295 ۔ سی کا مفصل ناقدانہ جائزہ لینے کے بعد حکومت ِپاکستان سے قادیانیوں کے انسانی حقوق کی پامالی کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عاصمہ جہانگیر کی طرح 295 – سی کے تحت سزائے موت کا خوف ان کیلئے پریشانی اور گستاخانہ ” آزادیء اظہار” میں رکاوٹ کا باعث ہے۔ یہ طرفہ تماشا ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کمیشن، جس کے اہم عہدیداروں کی اکثریت کا تعلق قادیانی فرقے سے ہے، کی طرف سے ایمنسٹی انٹرنیشنل کو یہ بنی بنائی رپورٹیں ارسال کی جاتی ہیں اور جب یہ رپورٹیں قادیانی کے میزبان و سرپرست دیس لندن سے شائع ہوتی ہیں تو پاکستان میں موجود ملعون قادیانی لابی نام نہاد انسانی حقوق کے نام پر ان کی بھرپور تشہیر کرتی ہے۔ پاکستانی حکومت پر بے جا دباؤ کے قابل مذمت ہتھکنڈے شروع کر دئیے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ عاصمہ جہانگیر برانڈ پاکستان انسانی حقوق کمیشن عملی طور پر مغربی صہیونی لابی اور ہندوتوا کی اسلام دشمن تنظیموں کے ذیلی ادارے کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اور طاہری اور باطنی مقصد فتنہء قادیانیت جیسے ہر اس گروہ  کا  تحفظ ہے جو مغربی اغیار اور سامراجی فتنہ گروں کے ایما ہر اسلام اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کیلئے فعال و سرگرم ہے۔

یہ تمام حقائق ثابت کرتے ہیں کہ فتنہء قادیانیت، فتنہء عاصمہ جہانگیر اور فتنہء ایمنسٹی انٹرنیشل ایک تکون کی طرح اپنے مشترکہ مغربی، یہودی اور ہندوتوا آقاؤں کی طرف سے تفویض کیا گیا “مقدس فریضہ ” سرانجام دے رہے ہیں۔ ان تمام حقائق  کو سامنے رکھتے ہوئے سوچیں کہ نظریہء پاکستان کی علمبردار سیاسی جماعت ہی کی طرف سے عاصمہ جہانگیر جیسی مصدقہ گستاخ رسول اور ہندوتوا ایجنٹ کو الیکشن سے قبل نگران وزیراعظم کی تقرری کیلئے نامزد کیا جانا اور میاں نواز شریف کی طرف سے گستاخین قرآن و رسالت، قادیانی زندیقوں کو ” ہمارے بھائی ” قرار دینا کن خطرناک علامات ہیں ۔ ممکن ہیں کہ میاں نواز شریف کے سیاسی اور مذہبی عقائد رائیونڈ پیلس کے طواف کاٹنے والے سیکولرزاور عاصمہ جہانگیری گروہ کے زیراثر آ چکے ہوں۔ لیکن ایک تلخ حقیقیت  یہی ہے کہ پاکستان کے ہر قومی ادارے اور خاص طور پر بیوروکریسی اوراسٹیبلشمنٹ میں   قادیانی اور مغرب زدہ دہریہ سوچ رکھنے والے صلیبی آلہ کار اس قدر فعال اورمظبوط ہو چکے ہیں کہ طاقت ور حکمران بھی ان کی مرضی اور منشا کے خلاف بیان و اقدام کی جرات نہیں رکھتے۔  سیاست دانوں کیلئے ہر حال میں جو بات سب سے عزیز ہے وہ  ” حصول اقتدار و طوالت اقتدار” ہی  ہے۔ عاصمہ جہانگیر جیسے ناپاک فتنوں کا علاج کوئی خود کش بم دھماکہ نہیں بلکہ ان مغربی آلہ کاروں کے غلاظت آلودہ کردار اور اسلام دشمن دجالی مقاصد کے بارے ہر خاص و عام تک آگاہی پھیلانا ہے۔ تاکہ عوام الناس اور خواص المسندین کے مذموم مقاصد سے باخبر اور ہوشیار ہیں۔ آئیے انہیں خود کش بمبار جیکٹ سے نہیں بلکہ شعور اور آگہی کے ایٹمی میزائیل سے جہنم واصل کریں۔ یاد رہے کہ ہم مسلمان لکھاری ہیں، را اور سی آئی اے کے آلہ کار مسلح دہشت گرد نہیں، سو قلم ہمارا ہتھیار اور پرامن قلمی جہاد ہمارا طریقِ اول و آخر ہے۔ آج  فاروق درویش سمیت ہر مسلمان کو اس عین جائز مطالبے کا مکمل آئینی حق حاصل ہے کہ چونکہ عاصمہ جہانگیر ایک مصدقہ گستاخ رسالت ہے، لہذا  پاکستان کے آئین و قانون کے عین مطانق اس بدبخت عورت کو سزائے موت دی جائے۔۔۔۔  ۔

asmaj3اس مضمون کیلئے  جناب عطاللہ صدیقی اور جنانب اسمعیل قریشی ایڈووکیٹ  کے مضامین سے مدد لی گئی

( فاروق درویش ۔ 03224061000 )

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

2 Comments

Click here to post a comment

Leave a Reply

  • چشم کُشا انکشافات اور حق بات ڈنکے کی چوٹ پر کرنا ، آپ کے بلاگ کا خاصہ ہے۔
    اللہ جزائے خیر دے۔

    • جزاک اللہ بیٹا جی ۔۔۔۔ اللہ سبحان تعالیٰ سب لکھاریوں کو کھرا سچ لکھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔ سدا خوش آباد ۔۔۔ جگ جگ جئیں۔

%d bloggers like this: