بین الاقوامی حالات حاضرہ ریاست اور سیاست

قحبہ خانوں سے سیاسی ایوانوں اور فائیو سٹار زندانوں تک


یہ بھی کسی اخلاقی و نظریاتی المیے سے کم نہیں کہ اس ملک میں سر پر قرآن اٹھا کر انکشافات کرنے والے سیاست دان اور اچھی شہرت کے حامل این جی او حضرات بھی اسلام عقائد کی شدید توہین کے مرتکب ہو کر دل آزاری کا باعث بنتے ہیں۔ افسوس صد افسوس کہ ہمارے معاشرے میں مذہبی اقدار سے ضدی اختلاف و انحراف کرنا ایک ماڈرن فیشن کا روپ دھار رہا ہے۔  ہماری نابالغ سیاسی اور نظریاتی وابستگیاں بھی عجب ست رنگی ہیں۔ ہم اکثر حب علی نہیں بغض معاویہ کے مصداق اپنے کسی غیر پسندیدہ کردار کے مخالف کو بنا سوچے سمجھے ہیرو بنا کر سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ جیسا کہ زرداری صاحب کی کھلی مخالفت کرنے والے ذوالفقار مرزا صاحب کو ایک عظیم سیاسی اوتار بنا کر پیش کرنے والے اس کے ماضی و حال کی جانکاری یا ان کی فہم و بصیرت پر انگلی اٹھاتی ہوئی کھلی حماقیں تک بھول جاتے ہیں۔ قرآن کو سیاسی تختہء مشق بنانے والے ذوالفقار مرزا صاحب کا  ایک میڈیا پروگرام کے دوران یہ بیان انتہائی قابل اعتراض اور ناقص العقلی پر مبنی تھا کہ ” اگر عورت کی نبوت ہوتی تو بی بی بے نظیر نبی ہوتیں “۔ سوال یہ ہے کہ کیا انہیں اس بنیادی اسلامی عقیدے کا بھی علم نہیں کہ نبیء آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سلسلہء نبوت کے اختتام پر حق الایمان کے بنا کوئی دعویء مسلمانی ہی نہیں۔ کیا انہیں نہیں معلوم کہ بے نظیر زمانہء نبوت سے پہلے کی شخصیت نہیں اور زمانہء نبوت کے بعد کسی بھی شخص کی نبوت کا مفروضہ یا گمان و بیان بھی عین کفر ہے ؟  بینظیر اگر دور خاتم المرسلین سے پہلے کی بھی ہوتیں تو بھی ولائتی یونیورسٹیوں سے  تا دم مرگ ماورائے مذہب، رنگین افسانوں کی حامل ، ایک آزاد خیال سیکولر خاتون کیلئے ایسا مفروضہ و قیاس بھی  قابل اعتراض ہے۔ عہدہء نبوت کے حامل انبیائے اکرام انسانوں میں برگزیدہ ترین صاحبان ایمان، پابند شریعتِ الہی تھے۔ وہ پیدائشی معصوم ، گناہوں سے پاک اور حتی الگمان بے عیب تھے۔ دوسرے میں اس بات پر کیا تبصرہ کروں کہ ایک معروف سماجی کارکن رمضان چھیپا نے امن کی آشا میڈیا کے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی قصیدہ گوئی میں سب حدود عبور کرتے ہوئے اسے اس دور میں  ولیوں جیسی روحانی شخصیت قرار دے دیا۔ گمان ہوتا ہے کہ میڈیا اداروں  کیلئے اشتہارات کا حصول اور این جی اوز کیلئے خیراتی چیکوں کی وصولیاں تقدیس دین و مذہب سے اہم تر ہیں۔  ٹاک شوز اور رنگ برنگے  پروگراموں میں شعائر اسلام کا کھلا مذاق اڑانے والے حضرات کی مذہب اور پاکستانیت سے ضدی بغاوت، اب  کہاں جا کر تھمے گی، واللہ علم بالصواب۔ کچھ میڈیا گروپس پر ہوش ربا  مارنگ شوز کے پردے میں ایسی روح کھچ ماڈلز کو باقاعدہ لانچ اور پروموٹ  کیا جاتا ہے۔ اور مابعد مادر پدر آزاد ماڈلز کی یہی نرسری کرپشن کنگ سیاست دانوں کیلئے ایان علی برانڈ  کرپشن کے ہتھیار بنتی ہیں۔  بدقسمتی سے، پاکستانیت اور  اخلاقیات کا جنازہ نکالنے کی یہ روش الیکٹرانک میڈیا سے ہوتی ہوئی  اب سوشل میڈیا کو بھی بری طرح سے اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔

 صد شکر کہ پاکستان میں کبھی کسی طواف الملوکی کا امکان نہیں رہا لیکن ” طوائف الملوکی ”  کے صدقے سنگین خطرات ہمیشہ منڈلاتے رہتے ہیں۔ 71ء کے سقوط مشرقی پاکستان میں جنرل رانی سے لیکر 99ء کے سقوط نواز شریف کی طاہرہ سید تک ہر کردار اپنے اندر اک داستانِ ہوش ربا رکھتا ہے۔ تاریخ سیاہ ست گواہ ہے کہ بازارِ حسن کی سدا سنگھار طوائفیں اور سیاست دانوں کیلئے رنگینیوں کے ساماں بہم پہنچانے والی رنگین ادا مٹیاریں ایوانان اقتدار تک رسائی میں محب وطن سیاست دانوں سے آگے رہی ہیں۔ لیکن ذوالفقار مرزا جی کے چاہنے والوں کیلئے یہ خبر بڑی خطرناک ہو سکتی ہے کہ جب سے حنا ربانی کھر کو  بلاول بیٹے نے ہتھیا لیا ہے ، زرداری صاحب کی تازہ محبوبہ آیان علی اب پاکستان کی با آثر ترین شخصیت  بن چکی ہیں ۔ یاد رہے کہ جیل اہلکار بھی اس سمگلر حسینہ کے جنونِ عشق میں اس قدر طالبِ دیدار رہے کہ بیرک کی ڈیوٹی کیلئے ملازمین کے مابین عاشق و رقیب جیسے جھگڑے ہوتے ہیں۔ عملے کی بے تابیء دیدار کا یہ عالم ہے کہ ڈیوٹی پر مامور دل پھینک اہلکار ”  میڈم کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ” پوچھنے  کے بہانے ہی حسن کی ایک جھلک دیکھنے کی تمنا بار بار پوری کرتے تھے ۔ عدالتوں میں پیشی کے دوران اس ماڈل حسینہ کا تر و تازہ میک اپ زدہ مکھڑا اس امر کا مونہہ بولتا ثبوت رہا  ہے کہ بڑے ناموں سے وابستہ ایسی حوروں کی پابندیء سلاسل کسی فائیو سٹار ہوٹل سے بھی بہتر آسائشیں رکھتی ہے ۔

.

میں نے گذشتہ کالم میں  لکھا تھا کہ عدالتی پیشیوں میں ہوش ربا میک اپ اور دن بہ دن نیچے سرکتے ہوئے گریبان کی بے قابو رفتار یہی رہی تو امید ہے کہ جج صاحب اگلی ایک دو پیشیوں ہی میں  ” صدقے جاواں اس رخَ مہتاب جوانی کو قید میں رکھنے کا گناہ کبیرہ ہم نہیں کر سکتے” کا فیصلہ سنا کر انصاف کی ویسی ہی عظیم فتخ کا اعلان کریں گے جیسی دونوں ہاتھوں سے پاکستان سٹیل مل لوٹنے والے ، شرمیلا فاروقی کے پورے خاندان کو نصیب ہوئی تھی۔ ایان علی  خوش نصیب ہیں کہ رحمن ملک جیسے با اثر حضرات کے بھائی بھی جیل میں ان سے ملنے آتے جاتے رہے۔ یعنی  اس ” کھنڈ کے کھڈونے “سے منی لانڈڑنگ جیسا عظیم ترین قومی کام لینے والوں نے اپنے ” حسین ہتھیار”  کو جیل میں بھی بے یار و مددگار نہیں چھوڑا۔ انہیں زندہ بچ جانے پر اپنا صدقہ دینا چاہیے کہ معروف  دانشور شاہد مسعود صاحب کو یہ خدشات لاحق تھے کہ زرداری مافیہ ” ثبوتَ عشق  ” غائب کرنے کیلئے ان کی “جیل میں شہادت” کا بھی ذمہ دار  ہو سکتا ہے۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی قیاس تھا کہ کل کو یہ خبر آئے کہ ایان علی نے جیل کے پنکھے سے لٹک کر خود کشی کر لی۔ شاہد مسعود صاحب تو خاموش ہو گئے لیکن فاروق درویش کی طرف سے عاشقین حضرات کو پیشگی خوش خبری ہے  کہ ننگِ حیا میڈم میرا کی طرح اس ننگِ بدن جوانی کیلئے بھی مستقبل میں حسن کارکردگی کا کوئی نہ کوئی صدراتی ایوارڈ  ضرور پکا ہو چکا ہے ۔ البتہ  ستارہء امتیاز یا نشانِ پاکستان جیسے قومی اعزازوں کیلئے مذید دعائیں جاری رکھئے۔ انتہائی پراسرار امر ہے کہ ملزمہ  کے موبائل ڈیٹا کیلئے نہ ایف آئی اے سے رجوع کیا گیا اور نہ ہی دوبئی کے مہنگے ترین برج الخلیفہ میں اپارٹمنٹ خریدنے سمیت بیرون ممالک کے بیسیوں  دوروں کی تفتیش کی گئی ہے۔

.

 دوسری طرف  خود کو عقل کل سمجھنے والے  دانشور حضرات اپنے ضدی  موقف ،  خود ساختہ حقائق اور من گھڑت تاریخ بیانی پر مصر ہیں۔اکثر میڈیا انیکرز حساس قومی امور اور حالات مفلساں کو بلیک آؤٹ کر کے، کہیں بھارتی فلم انڈسٹری کے سکینڈلز اور کبھی امریکہ کی  خطرناک جنگی حکمت عملی ، ” فورتھ جنریشن ڈاکٹرائن ” کے زر خرید ہتھیار بنکر ہمہ وقت یہی ثابت کرنے کیلئے کوشاں ہوتے ہیں کہ پاکستان کی سلامتی اسلام اور نظریہء پاکستان سے انحراف اور مادر پدر آزاد سیکولر ازم میں ہے۔ ایک گروپ نے امن کی آشا ، عریانی مہم اور عسکری اداروں سے ٹکراؤ کی قسم کھا رکھی ہے تو اِدھر جاوید چوہدری کبھی  ڈاکٹر عبدالسلام  کی قصیدہ گوئی  اور کبھی اتا ترک جیسے مغربی بغل بچے کی مداحی سے پیچھے ہٹنے کو تیار ہی نہیں ہیں ۔ اتا ترک کی شان میں سابقہ قصیدوں پر اہل حق کے ہاتھوں رسوا ہونے کے بعد  موصوف نے ” تاریخ کا ادراک” کے نام سے ایک اور کالم میں اس ننگِ اسلام اتا ترک کی قصیدہ گوئی میں تاریخ کا جس مجرمانہ انداز میں قتل اور کھلی کذب بیانی کی ہے اس کیلئے انا للہ و اناا الیہ راجعون کہنا کافی  ہے۔

.

تاریخ کے خود ساختہ جھوٹ لکھنے  کے ماہر کالم نگار جناب جاوید چوہدری صاحب نے لکھا ہے کہ ، گیلی پولی کی جنگ سے سیاسی اتاترک کا ظہور ہوا، ۔ ۔ ۔ ۔ اتا ترک نے اس کے بعد ترکی کی آزادی کا جھنڈا اٹھایا اور یوں ایک عظیم اسلامی ملک نے جنم لیا، ۔ ۔ ۔ ۔  ہندوستان کے مسلمانوں نے گیلی پولی کی جنگ اور جنگ کے بعد اتاترک کی کوششوں کو بھرپور سپورٹ کیا، ہندوستانی مسلمان خواتین نے اپنے زیور تک اتار کر ترکی بھجوا دیے“۔ احباب باخڈا  کم از کم مجھے جاوید چاہدری  صاحب  سے اس حد درجہ تک   سفید جھوٹ اور خود ساختہ تاریخ  گردانی کی امید نہ تھی۔  بچہ بچہ جانتا ہے کہ  ہندوستان کے مسلمانوں نے مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی کی جرات مندانہ قیادت میں جس تاریخی تحریک خلافت میں بے مثال قربانیاں دیں ،  وہ  خلافت عثمانیہ کی اعلانیہ حمایت اور اتا ترک جیسے مغربی کٹھ پتلی کی کھلی مخالفت میں تھی۔ ہاں اس تحریک خلافت کے مخالف اور اتا ترک کے حامی گوروں کے سب بغل بچے اور باچا خانی عناصر ضرور تھے۔ میں دوبارہ یاد دلاتا ہوں کہ مساجد کو تالے ،  اذان اور نماز پر پابندی اور ہزاروں حفاظ قرآن کو شہید کر کے ترکی کے آئین سے اسلام کا نام تک مٹا دینے والے غدارِملت اتا ترک نے ایک اسلامی ملک کی نہیں بلکہ  اسلامی اقدار سے بغاوت کے نشان  سیکولر ترکی کی بنیاد رکھی تھی۔ جبکہ ترکی کی حقیقی اسلامی ریاست کے بانی موجودہ  قائد طیب اردگان ہیں۔ اگر جاوید چوہدری  صاحب  کسی مقصد کے تحت ،  تاریخ کا گلہ گھونٹ کر خود ساختہ  کذب بیانی کرتے ہیں تو با ادب  لعنت اللہ علی الکاذبین کہنا فاروق درویش پر بھی فرض ٹھہرا  ہے۔

افسوس کہ کسی میڈیائی  دانشور کو اس حقائق بیانی کی جرات نہیں کہ قومی سیاست دانوں کی گود میں بیٹھے بازارِ حسن کے ” کھنڈ کے کھڈونے ” دراصل  را کی حسین کٹھ پتلیاں  اور این جی اوز کے خدائی خدمت گاروں کے بہروپ میں ملکائیں ان کی مقامی سرپرست ہیں۔ کون میڈیا اینکر اس حقیقت سے واقف نہیں کہ کئی سیاسی چہرے ان حسن پریوں کو اسلام آباد کے بدیسی سفارت خانوں کو سپلائی کرنے کے دھندے میں ملوث ہیں۔ آزاد میڈیا یہ سچ بولنے کی جرات کیوں نہیں کرتا کہ یہ سب طوائف زادیاں دراصل را اور سی آئی اے کے مفادات کی محافظ اور دیسی جاسوس ہیں۔ میڈیا میں یہ حقیقت اجاگر کرنے کی جرات کیوں نہیں کہ یہ ننگی تتلیاں سنہرے  بیڈ روموں میں رات  زرداری، صبح  بیٹے بلاول اور اگلے روز بلوچستان کے باغی مداریوں کی آغوش میں ہوتی ہیں۔ میڈیا کیونکر بتائے گا کہ بابر غوری اور فاروق ستار کے آشرموں میں سونے والی مٹیاروں ہی کو ماڈلنگ کے ٹاپ کنٹریکٹ کیوں دئے جاتے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ اگر پاکستانی میڈیا بھارتی را کی  ان لاڈلی شہزادیوں کے سر پر دست شفقت نہ رکھے تو امن کی آشا  حضرات اور جاوید چوہدری اینڈ کمپنی کو انڈین ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ” ارب پتی اشتہارات ” کون دے گا؟

 بے حجاب آج چلی لیلی سوئے دشتِ جنوں– پارسائی کسی مجنوں کی کہاں ٹھہرے گی
درد خاموش ہے درویش سمندر کی طرح –خامشی بن کے فغاں حشر فشاں ٹھہرے گی

فاروق درویش ۔۔ واٹس ایپ کنٹیکٹ ۔۔۔- 03224061000

اپنی رائے سے نوازیں

%d bloggers like this: