بین الاقوامی تہذیبِ مشرق و مغرب سیکولرازم اور دیسی لبرل

قومِ لوط کے شہرِ سدوم سے پنٹاگون تک

حضرت لوط علیہ السلام کا زمانہ عین وہی ہے جو ابراہیم علیہ السلام کا تھا۔ اللہ سبحان تعالیٰ انہیں حضرت ابراہیم کےاس نواحی علاقے میں پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا جس کے باسی آج کے تعلیم یافتہ مغرب و امریکہ کے روشن خیال امن گردوں کی طرح اغلام جیسے پلید فعل کی عادتِ بد میں مبتلا تھے۔ جب اللہ کے پیغمبر نے ان لوگوں کو اس بد فعلی سے روکا اورانہیں اللہ کی طرف سے دی گئی تنبیہ پہنچائی تو انہوں نے لوط علیہ السلام کو اللہ کا نبی ماننے اور نصیحت قبول کرنے سے صاف انکارکردیا اورغیرفطری فعل سے تسکینِ ہوس کا شغل جاری رکھا۔ بالآخر اللہ کی طرف سےان نافرمانوں پر شدیدعذاب نازل ہوا اور یوں وہ لوگ ایک عبرت انگیزحادثے کی بناء پرروئے زمین سےہمیشہ ہمیشہ کیلئے نیست ونابود ہوگئے۔ قوم لوط کےمسکن اس شہرکوعیسائیوں کی ہی مقدس کتاب عہد نامہء عتیق قدیم ( اولڈ ٹسٹامنٹ ) میں “سدوم” یعنی گناہ گاروں یا بدفعلیاں کرنے والوں کے شہر کا نام دیا گیا ہے۔ مسلمان کی حیثیت سے ہمارا کامل ایمان  ہے کہ قرآن حکیم اللہ کا کلام ہے اور حق الیقین یہ کہ اس میں جو بھی لکھا ہے وہ عین سچ ہے۔ لہذا اردن اور اسرائیل کی سرحد پر بحیرہ مردار کے قریب و جوار میں واقع یہ فنا شدہ شہر یقیناً اسی انداز میں تباہ ہوا ہوا ہو گا جیسا کہ کتاب الہی میں بتایا گیا ہے یہ کسی جاہل اور بنیاد پرست  مسلم یا دہشت گرد مولوی کا کہنا نہیں بلکہ خود خالق کائنات فرماتا ہے کہ قوم لوط نے (ان کی) تنبیہ کو جھٹلایا۔ ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا ان پر بھیج دی (جس نے انہیں تباہ کردیا)، صرف لوط علیہ السلام کے گھر والے اس سے محفوظ رہے، جنہیں ہم نے اپنے فضل سے صبح ہونے سے قبل (وہاں سے ) بچا کر نکال لیا۔ ہم ہر اس شخص کو جز ا دیتے ہیں، جو شکر گزار ہوتا ہے۔ اور لوط نے اپنی قوم کے لوگوں کو ہماری (جانب سے بھیجی گئی) سزا سے خبردار کیا لیکن وہ ساری تنبیہات پر شک کرتے اور انہیں نظر انداز کرتے رہے۔‘‘ (سورہ القمر۔آیات 33 تا 36 ) غلاظت اور بدفعلی میں مبتلا قوم لوط پر اللہ تعالی نے مختلف قسم کےسخت ترین عذاب نازل کئے،رات کے آخری حصہ میں ایک فرشتے نے ہیبت ناک چیخ ماری جس نے انہیں زیر و زبر کردیا، چالیس لاکھ پر مشتمل آبادی کو آسمان تک لیجا کر الٹ دیا گیا اوران پر پتھروں کی لگاتار بارش برسا کر صفحہ ہستی سے ان کا نام و نشان مٹا دیا۔ آج مسٹر کلین مغرب اور ماڈرن فرعون امریکہ کا روشن خیال معاشرہ اسی فعل بد کو اپنی زندگی کا آئینی اور قانونی حصہ بنا کر عذاب الہی کو کھلی دعوت دے رہا ہے اس حوالے سے خبریں ہیں کہ صدر اوبامہ کی منظوری کے بعد دو امریکی ریاستوں میری لینڈ اور مینی میں ہم جنس پرست شادیوں کو قانونی حیثیت دے دی گئی ہے، میری لینڈ میں 52 فیصد ووٹروں نے ہم جنس پرست شادیوں کی حمایت جبکہ 48 نے مخالفت کی۔ ریاست مینی میں 54 فیصد نے حمایت اور 46 فیصد نے مخالفت کی۔ یاد رہے کہ میری لینڈ، کولراڈو اور واشنگٹن میں عوام کی اکثریت نےمیری جونا یعنی چرس کو کھلےعام استعمال کرنے کے حق میں بھی ووٹ دیا ہے جبکہ امریکہ میں اس کے کھلےعام استعمال پرپابندی عائد ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ملالہ جی کےآئیڈیل انکل اوبامہ شہرِ پینٹاگون واشنگٹن میں بھی ان ہم جنس پرستی کے اقدام کی منظوری دیتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں،جہاں 52 فیصد نےحمایت اور 48 فیصد مخالفت میں ووٹ پڑے ہیں۔ خبریں یہ بھی کہ پینٹاگون کے متعدد فوجی جرنیل بھی ہم جنس پرستی اورجنسی سکینڈلوں میں ملوث ہیں۔ مسلمانوں کو دین سے دور کرنےکی دجالی کوششوں میں سرگرم امریکی قرآن کے منکر سہی اپنےعیسائی مورخین ہی کی لکھی تاریخ عالم پڑھ لیں تومعلوم ہو جائے کہ اہلِ پومپیائی کا انجام بھی کچھ ایسا ہی ہوا ۔ مندرجہ ذیل آیات میں قرآن حکیم کھل اعلان کر رہا ہے کہ اللہ کے قوانین میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ ’’یہ لوگ کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی خبردار کرنے والا ان کے ہاں آگیا ہوتا تو یہ دنیا کی ہر دوسری قوم سے بڑھ کر راست رو ہوتے۔ مگر جب خبردار کرنے والا ان کے ہاں آگیا تو اس کی آمد نے ان کے اندر حق سے فرار کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کیا۔ یہ زمین میں اور زیادہ سرکشی کرنے لگے اور بری بری چالیں چلنے لگے ، حالانکہ بری چالیں اپنے چلنے والوں ہی کو لے بیٹھتی ہیں۔ اب کیا یہ لوگ اس کا انتظار کر رہے ہیں کہ پچھلی قوموں کے ساتھ اللہ کا جو طریقہ رہا ہے وہی ان کے ساتھ بھی برتا جائے؟ یہی بات ہے کہ تم اللہ کے طریقے میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے اورتم کبھی نہ دیکھو گے کہ اللہ کی سنت کو اس کے مقرر راستے سے کوئی طاقت پھیر سکتی ہے‘‘۔ (سورہ الفاطر۔ آیات 42 تا 43 ) اللہ کے طریق اور قانون میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ اس کے جو قوانین قوم لوط اور فرعون و نمرود کیلئے تھے وہی قوم پومپیائی کیلئے تھے اور وہی آج امریکی، مغربی اور ایشیائی مخلوق یا ہمارے کیلئے بھی ہیں ہر وہ شخص جو اس مقتدر اعلی کے متعین کردہ قوانین کی خلاف ورزی کرے گا اس کے نظام کے خلاف متحرک ہوگا اسے انہی قوانین الہٰی کے تحت سزا ملے گی۔ سلطنت روم کی تنزلی کی علامت، پومپیائی کے لوگ بھی قوم لوط کی مانند جنسی بے راہ روی، بدفعلی، بدکاری اورغیر فطری فعل کی عادتوں میں مبتلا تھے۔ ان کا انجام بھی بالکل وہی ہواجو قوم لوط کا ہوا تھا۔ یاد رہے کہ پومپیائی کی تباہی، ویسو ویئس آتش فشاں کے پھٹنے سے ہوئی۔ یہ آتش فشاں، اٹلی کا یہ آتش فشاں پچھلے دو ہزار سال سے خاموش ہے۔اس کے نام’’ویسوویئس‘‘ کا مطلب ہے’’ تنبیہ کا پہاڑ‘‘ اوریہ نام بھی بلاوجہ نہیں رکھا گیا ہے۔ جیسی آفت نے گمراہ سدوم کو نیست و نابود کیا تھا بالکل ویسی ہی آفت نے پومپیائی کو بھی تباہ وبرباد کیا۔ ویسو ویئس پہاڑ کے ایک طرف نیلپس ہے تو دوسری طرف مشرق میں پومپیائی واقع ہے۔ یہی پہاڑ آج سے دوہزار سال پہلےاچانک پھٹ پڑا، ایک بڑی مقدار میں لاوا اور گرم راکھ، اس سے ابل پڑے اور پومپیائی شہر کے باسی (لاوے اور راکھ میں) گھر کر رہ گئے۔ یہ بھیانک حادثہ اتنی تیزی سے رونما ہوا کہ شہر کی  ہرایک  شےاور ایک ایک باسی، روز مرہ معمولات سرانجام دیتے ہوئے اس کا شکار ہوگیا اور یہ لوگ آج تک اسی حالت میں پڑے ہیں جیسے کہ وہ دوہزار سال پہلےتھے۔

سیدنا لوط علیہ السلام کا زمانہ عین وہی ہے جو  ابراہیم علیہ السلام کا تھا۔ اللہ سبحان تعالیٰ نے انہیں حضرت ابراہیم کےاس نواحی علاقے میں پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا جس کے باسی آج کے تعلیم یافتہ مغرب و امریکہ کے لبرل کی طرح ہم جنس پرستی کی  پلید عادت میں مبتلا تھے۔  اللہ کے پیغمبر نے انہیں اس بد فعلی سے روک کر اللہ کی  تنبیہ پہنچائی تو انہوں نے لوط علیہ السلام کو نبی ماننے اور نصیحت قبول کرنے سے صاف انکار کردیا۔  اور اپنی تسکینِ ہوس کا شغل جاری رکھا۔ بالآخر اللہ کی طرف سےان نافرمانوں پر شدیدعذاب نازل ہوا اور یوں وہ لوگ ایک عبرت انگیزحادثے کی بناء پرروئے زمین سےہمیشہ ہمیشہ کیلئے نیست ونابود ہوگئے۔ قوم لوط کےمسکن اس شہرکوعیسائیوں کی ہی مقدس کتاب عہد نامہء عتیق قدیم ( اولڈ ٹسٹامنٹ ) میں “سدوم” یعنی گناہ گاروں یا بدفعلیاں کرنے والوں کے شہر کا نام دیا گیا ہے۔ ہمارا کامل ایمان  ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور اس میں جو بھی لکھا ہے وہ عین سچ ہے۔ لہذا اردن اور اسرائیل کی سرحد پر بحیرہ مردار کے قریب و جوار میں واقع یہ فنا شدہ شہر یقیناً اسی انداز میں تباہ ہوا ہوا ہو گا جیسا کہ کتاب الہی میں بتایا گیا ہے۔۔۔۔

 یہ کسی جاہل اور بنیاد پرست  مسلمان کا فتوی نہیں بلکہ خود خالق کائنات فرماتا ہے کہ  ۔۔۔۔  ترجمہ : قوم لوط نے (ان کی) تنبیہ کو جھٹلایا۔ ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا ان پر بھیج دی (جس نے انہیں تباہ کردیا)، صرف لوط علیہ السلام کے گھر والے اس سے محفوظ رہے، جنہیں ہم نے اپنے فضل سے صبح ہونے سے قبل (وہاں سے ) بچا کر نکال لیا۔ ہم ہر اس شخص کو جز ا دیتے ہیں، جو شکر گزار ہوتا ہے۔ اور لوط نے اپنی قوم کے لوگوں کو ہماری (جانب سے بھیجی گئی) سزا سے خبردار کیا لیکن وہ ساری تنبیہات پر شک کرتے اور انہیں نظر انداز کرتے رہے ” (سورہ القمر۔آیات 33 تا 36۔)۔

اس بدفعلی میں مبتلا قوم لوط پر اللہ تعالی نے مختلف سخت عذاب نازل کئے،رات کے آخری حصہ میں ایک فرشتے نے ہیبت ناک چیخ ماری جس نے انہیں زیر و زبر کردیا، چالیس لاکھ پر مشتمل آبادی کو آسمان تک لیجا کر الٹ دیا گیا اور ان پر پتھروں کی لگاتار بارش برسا کر صفحہ ہستی سے ان کا نام و نشان مٹا دیا۔ آج مسٹر کلین مغرب اور امریکہ کا لبرل معاشرہ اسی فعل بد کو اپنی زندگی کا قانونی حصہ بنا کر عذاب الہی کو کھلی دعوت دے رہا ہے۔ صدر اوبامہ کی منظوری سے کچھ چند ریاستوں میں ہم جنس پرست شادیوں کو قانونی حیثیت دے دی گئی ،  یاد رہے کہ  ان ریاستوں ، میری لینڈ، کولراڈو اور واشنگٹن میں عوام کی اکثریت نےمیری جونا یعنی چرس کو کھلےعام استعمال کرنے کے حق میں بھی ووٹ دیا ہے جبکہ امریکہ میں اس کے استعمال پرپابندی عائد ہے۔ گویا امریکی عوام از خود اپنے اخلاقی اور طبعی قتل عام کے اقدامات پر اپنی مرضی کی مہر ثبت کر رہے ہیں۔ مصدقہ معلومات ہیں کہ پینٹاگون کےعام ملازمین ہی نہیں بلکہ متعدد سینئرفوجی جرنیل بھی ہم جنس پرستی اورجنسی سکینڈلوں میں ملوث ہیں۔ مسلمانوں کو  اپنی پسند کے اسلام کا پابند بنانے کیلئے سرگرم امریکی، اللہ کے کلام قرآن حکیم کے منکر سہی ، اپنی بائیبل کے اسباق اورعیسائی مورخین ہی کی لکھی تاریخ عالم پڑھ لیں کہ اہلِ پومپیائی کا انجام بھی کچھ ایسا ہی ہوا ۔

مندرجہ ذیل آیات میں قرآن حکیم کھل اعلان کر رہا ہے کہ اللہ کے قوانین میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔
۔” یہ لوگ کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی خبردار کرنے والا ان کے ہاں آگیا ہوتا تو یہ دنیا کی ہر دوسری قوم سے بڑھ کر راست رو ہوتے۔ مگر جب خبردار کرنے والا ان کے ہاں آگیا تو اس کی آمد نے ان کے اندر حق سے فرار کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کیا۔ یہ زمین میں اور زیادہ سرکشی کرنے لگے اور بری بری چالیں چلنے لگے ، حالانکہ بری چالیں اپنے چلنے والوں ہی کو لے بیٹھتی ہیں۔ اب کیا یہ لوگ اس کا انتظار کر رہے ہیں کہ پچھلی قوموں کے ساتھ اللہ کا جو طریقہ رہا ہے وہی ان کے ساتھ بھی برتا جائے؟ یہی بات ہے کہ تم اللہ کے طریقے میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے اورتم کبھی نہ دیکھو گے کہ اللہ کی سنت کو اس کے مقرر راستے سے کوئی طاقت پھیر سکتی ہے‘‘ ۔ (سورہ الفاطر ۔ آیات 42 تا 43 )۔

احباب اللہ کے طریق اور قانون میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ اس کے جو قوانین قوم لوط اور فرعون و نمرود کیلئے تھے وہی قوم پومپیائی کیلئے تھے اور وہی آج امریکی، مغربی اور ایشیائی مخلوق یا ہمارے کیلئے بھی ہیں ہر وہ شخص جو اس مقتدر اعلی کے متعین کردہ قوانین کی خلاف ورزی کرے گا ، اسے انہی قوانین الہٰی کے تحت سزا ملے گی۔ سلطنت روم کی تنزلی کی علامت، پومپیائی کے لوگ بھی قوم لوط کی طرح جنسی  بدکاری اورغیر فطری فعل کی عادتوں میں مبتلا تھے۔ ان کا انجام بھی بالکل وہی ہواجو قوم لوط کا ہوا تھا۔ یاد رہے کہ پومپیائی کی تباہی، ویسو ویئس آتش فشاں کے پھٹنے سے ہوئی۔ اٹلی کا یہ آتش فشاں اب پچھلے دو ہزار سال سے خاموش ہے۔اس کے نام’’ویسوویئس‘‘ کا مطلب ہے’’ تنبیہ کا پہاڑ‘‘ اوریہ نام بھی بلاوجہ نہیں رکھا گیا ہے۔ جیسی آفت نے گمراہ سدوم کو نیست و نابود کیا تھا بالکل ویسی ہی آفت نے پومپیائی کو بھی تباہ وبرباد کیا۔ ویسو ویئس پہاڑ کے ایک طرف نیلپس ہے تو دوسری طرف مشرق میں پومپیائی واقع ہے۔ یہی پہاڑ آج سے دوہزار سال پہلےاچانک پھٹ پڑا، ایک بڑی مقدار میں لاوا اور گرم راکھ، اس سے ابل پڑے اور پومپیائی شہر کے باسی اس لاوے میں ہلاک ہو گئے۔ یہ بھیانک حادثہ اتنی تیزی سے رونما ہوا کہ شہر کی  ہرایک  شےاور ہر باسی، جہاں تھا ، جیسے تھا ، اس عذاب کا شکار ہوگیا۔  یہ لوگ آج تک بھی اسی حالت میں پڑے ہیں جیسے کہ وہ دوہزار سال پہلے تھے۔ گویا وقت ان کیلئے تھم گیا ہو۔

پومپیائی پر اس عذاب الہی کے ذریعے تباہی بےمقصد نہیں تھی۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ یہ شہر بدکاری اور بدفعلی کا عین مرکز تھا۔ یہ شہر ہم جنس پرستی کے دلدادوں اور  قحبہ خانوں کے حوالے سے خاص شہرت رکھتا تھا۔ بے حیائی  اس حد تک تجاوز کر چکی تھی کہ پومپیائی میں قحبہ خانوں کے دروازوں پرمردانہ اعضائے تناسل کی اصل جسامت کے پتھر کے بنے ہوئے نمونےلٹکائے جاتے تھے۔ یہاں کے باسیوں کے متھرائی عقیدے کے مطابق اختلاط بھی کھلےعام کیا جاتا تھا۔ مگر ویسوویئس پہاڑ کے لاوے نے پورے شہر کو صرف ایک لحظے میں صفحۂ ہستی سے مٹادیا۔ اس واقعے کا سب سے عبرتناک پہلو یہ ہے کہ  بھیانک آتش فشانی لاوے کا یہ ریلا اس قدر شدید اور اچانک تھا  کہ شہر کا ایک فرد بھی بچ کر نہیں بھاگ سکا۔ محسوس ہوتا ہے کہ انہیں اس آفت  کے آنے کا احساس بھی نہیں ہوا ہو گا یا پھر وہ اس آفت کے نزول کے وقت اسی بدفعلی میں مگن اور مسحور تھے۔ قدرتی حنوط ہوئے افراد کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ کھانا کھاتے ہوئے ایک گھرانہ چشم زدن میں پتھرا گیا۔ انتہائی  توجہ طلب چیز یہ بھی ہے کہ ان میں سے کئی ہم جنس پرستوں کے جوڑے اسی بد فعلی کی عریاں حالت میں اللہ کے عذاب کا شکار ہوئے۔  اور آتشی لاوے نے انہیں کوئی مہلت دیئےبغیر پتھر کے بتوں میں تبدیل کردیا۔ پومپیائی سے برآمد ہونے والی بعض پتھریلی لاشوں کے چہروں پر خوف کا کوئی نشان نہیں ہے۔ البتہ پتھائی ہوئی ان لاشوں کے چہروں پر حیرت، سراسیمگی یا پریشانی جیسے تاثرات ضرور موجود  ہیں۔

اس آفت اورآفت رسیدگی کا ایک ناقابل فہم پہلو یہ بھی ہے کہ ہزاروں لوگ کچھ دیکھے اور سنے بغیر موت کا نوالہ بننے کا انتظار کرتے رہے ہوں؟ یہی پہلو ہمیں بتاتا ہے کہ پومپیائی لوگ بھی بالکل ویسے ہی تباہ کن عوامل اور عذاب کا شکار ہوئے ، جیسے کہ قرآن جب بھی کبھی ایسے واقعات کا حوالہ دیتاہے تو’’اچانک تباہی‘‘ کا صرف ایک اشارہ دیتا ہے۔ مثال کے طور پر سورہ یاسین میں بیان کردہ ’’شہر کے باسی‘‘ ایک لمحے میں تمام کے تمام مرگئے۔ یہ کیفیت سورہ یاسین کی 29 ویں آیت میں کچھ اس طرح بتائی گئی ہے

۔” بس ایک دھماکہ ہوا اور یکایک وہ سب بجھ کر ( اور خاموش ہوکر ) رہ گئے‘‘۔
سورہ القمر کی 31 ویں آیت میں  قوم ثمود کی تباہی کا تذکرہ کرتے ہوئے ’’اچانک تباہی‘‘ کا حوالہ دیا گیا ہے۔
’’ہم نے ان پر بس ایک ہی دھماکا چھوڑا اور وہ باڑے والے کی روندی ہوئی باڑ کی طرح بھس ہوکر رہ گئے۔‘‘

پومپیائی کے لوگوں کی موت بھی ایسی ہی آناً فاناً ہوئی جس کا تذکرہ مذکورہ بالا آیات میں کیا گیا ہے۔ لیکن تعجب ہے کہ اس کے باوجود، اسی پومپیائی کے آس پاس کے لوگوں نے اب تک کوئی خاص عبرت نہیں پکڑی ہے۔ نیپلس کے اضلاع میں آج بھی عیاشی اوراوباشی  کی اجارہ داری پومپیائی والوں کی بے راہروی اور شہوت پرستی سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ اسی علاقے میں کیپری کا جزیرہ ہم جنس پرستوں کا مرکز ہے۔ سیاحوں کیلئے اشتہارات میں کیپری کو’’ ہم جنس پرستوں کی جنت‘‘ کہا جاتا ہے۔ معاملہ صرف کیپری جنریرے یا اٹلی تک ہی محدودنہیں، بلکہ قریب قریب تمام مغربی دنیا ، مشرق بعید اور سیکولر بھارت کی یہی صورتحال ہوتی جارہی ہے۔ اسی طرح اخلاقی زوال پذیری ہروقت روبہ عمل ہے اورآج کے لوگ، ماضی کی تباہ شدہ، معدوم ومعتوب تہذیبوں کے لوگوں سےعبرت پکڑنے کیلئے تیار ہی نہیں ہیں ۔ یہی امریکہ اور اس کے حواری مغرب کے تاریک الفطرت گورے لوگوں کی “روشن خیالی” ہے۔ جو بہت جلد انہیں قوم لوط اور پومپیائی کی طرح لے ڈوبے گی۔ بحرحال ملالہ جی کے چہیتے انکل اوبامہ کے دیس کے صاف ستھرے لوگوں اور پاکستانی میڈیا کے رول ماڈل پڑھے لکھے مغربی معاشرے، تعلیم یافتہ امن گردوں کے ہر شہر ِ پلیدستان و غلاظت آباد کو ذلالت کی انتہا کی سمت مادر پدرآزادی کا سفرمبارک رہے۔

قدامت پسند مسلم حلقوں کیلئے یہ بات کسی تعجب کا باعث نہیں تھی کہ جون 2012 میں امریکی وزیردفاع لیون پینٹا نےامریکی فوج میں شامل ہم جنس پرست خواتین وحضرات کوعزت و توقیر سےنوازنے کیلیےایک محبت بھرا ویڈیو پیغام جاری کیا تھا۔ جس کےبعدامریکی پنٹاگان کی تاریخ میں پہلی بار، جون کو ہم جنس پرستوں کے ماہِ  فخر کے طور پرمنایا گیا تھا۔ یہ سب حالات بتا رہے ہیں کہ قوم لوط کے شہر ِ سدوم کے بھیانک انجام اور پومپیائی کی تباہی کی داستان عبرت کی طرح امریکہ بھی اسی جانب گامزن ہے۔ ممکن ہے کہ اب امریکہ سے کچھ ایسی خبریں بھی موصول ہوا کریں کہ کسی حسینہ کے منگیتر نے گھر سےبھاگ کراس کے سابقہ بوائے فرینڈ سےشادی کرلی ہے۔ ہم جنس پرستوں کی شادیوں کے قانون کی منظوری دینے سے پہلے صدراوبامہ کو بھی سوچنا چاہیئے تھا کہ کچھ بعید نہیں کہ دنیا میں  کبھی یہ خبر بھی زیرِ گردش ہو کہ  اوبامہ کی بیگم نےاوبامہ جی کی گرل فرینڈ سے شادی رچا لی ہے ۔  مققدس بائبل کی تعلیمات کے پیروکار قدامت پسند امریکی عوام کیلئے بری خبر یہ ہے کہ نئے امریکی صدر ٹرمپ ہم جنس پرست شادیوں کا قانون پورے امریکہ میں رائج کرنے کے زبردست حامی ہیں ۔۔۔۔۔۔

فاروق درویش — واٹس ایپ- 03224061000

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

14 Comments

Click here to post a comment

Leave a Reply

  • کچھ بعید نہیں کہ دنیا میں کبھی یہ خبر بھی زیرِ گردش ہوکہ امریکی خاتون اول نےاوبامہ جی کی گرل فرینڈ سے شادی رچا لی
    behtreen sir ji maza hi agaya is jumley sey …

  • Sir Farooq Darwaish jee

    اللہ پاک آپ کو جزائے خیر دے اور اپنی حفاظت اور امان میں رکھے آمین

  • انا للہ و انا الیہ راجعون ۔۔۔
    ربانی نظام ہی فلاح کا نظام ہے ،
    وہی ہمارا خالق ہے اور وہی رہنما ہے ۔
    اس لیے ہمیں پورا یقن ہے کہ خالق اپنی مخلوق کو بہترین دیکھنا چاھتا ہے ۔
    جزاک اللہ جناب فاروق درویش صاحب،

  • INKEE SOCHO NAY INHY GHALAT AWAR SAHE KE PEHCHAN NAHE SEEKI AB YE IN KE JIHAALAT KE SAZA AWAR AZAB IN KA MUSTAQBIL….

  • یہ کسی جاہل اور بنیاد پرست درویش یا دہشت گرد مولوی کا فتوی نہیں بلکہ خود خالق کائنات قرآن حکیم میں فرماتے ھیں کہ.

    قوم لوط نے (ان کی) تنبیہ کو جھٹلایا۔ ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا ان پر بھیج دی (جس نے انہیں تباہ کردیا)، صرف لوط علیہ السلام کے گھر والے اس سے محفوظ رہے، جنہیں ہم نے اپنے فضل سے صبح ہونے سے قبل (وہاں سے ) بچا کر نکال لیا۔ ہم ہر اس شخص کو جز ا دیتے ہیں، جو شکر گزار ہوتا ہے۔ اور لوط نے اپنی قوم کے لوگوں کو ہماری (جانب سے بھیجی گئی) سزا سے خبردار کیا لیکن وہ ساری تنبیہات پر شک کرتے اور انہیں نظر انداز کرتے رہے “ (سورہ القمر۔آیات 33 تا 36۔)۔.

    غلاظت اور بدفعلی میں مبتلا قوم لوط پر اللہ تعالی نے مختلف قسم کے سخت ترین عذاب نازل کئے،رات کے آخری حصہ میں ایک فرشتے نے ہیبت ناک چیخ ماری جس نے انہیں زیر و زبر کردیا، چالیس لاکھ پر مشتمل آبادی کو آسمان تک لیجا کر الٹ دیا گیا اور ان پر پتھروں کی لگاتار بارش برسا کر صفحہ ہستی سے ان کا نام و نشان مٹا دیا۔ آج مسٹر کلین مغرب اور ماڈرن فرعون امریکہ اور ھم جنس پرستی اور فحاشی کے فروغ کیلئے سرگرم سامراجی آلہ کار تحریک انصاف کی شعبہ خواتین ھیڈ فوزیہ قصوری جیسے پلید کردار اسی فعل بد کی مغرب کی طرح تشہیر کر کے عذاب الہی کو کھلی دعوت دے رہے ھیں.

  • بحرحال ملالہ جی کے چہیتے انکل اوبامہ کے دیس کے صاف ستھرے لوگوں اور پاکستانی میڈیا کے رول ماڈل پڑھے لکھے مغربی معاشرے، تعلیم یافتہ امن گردوں کے ہر شہر ِ پلیدستان و غلاظت آباد کو ذلالت کی انتہا کی سمت مادر پدرآزادی کا سفرمبارک رہے۔ تاریک خیال مسلم حلقوں کیلئے یہ بات کسی تعجب کا باعث نہیں تھی کہ جون 2012 میں امریکی وزیردفاع لیون پینٹا نےامریکی فوج میں شامل ہم جنس پرست خواتین وحضرات کوعزت و توقیر سےنوازنے کیلیےایک محبت بھرا ویڈیو پیغام جاری کیا تھا۔ جس کےبعدامریکی پنٹاگان کی تاریخ میں پہلی بار، جون کو ہم جنس پرستوں کے ماہِ فخر کے طور پرمنایا گیا تھا.

  • ہم جنس پرستی کے دلدادہ پومپیائی کے لوگوں کی موت بھی ایسی ہی سرعت رفتاری کے ساتھ ہوئی جس کا تذکرہ مذکورہ بالا آیات میں کیا گیا ہے۔ لیکن تعجب ہے کہ اس کے باوجود، جہاں کبھی پومپیائی تھا، اس کے آس پاس کےلوگوں نے اب تک کوئی خاص عبرت نہیں پکڑی ہے۔ نیپلس کے اضلاع، جہاں عیاشی اوراوباشی کی اجارہ داری ہے، پومپیائی والوں کی بے راہروی اور شہوت پرستی سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ کیپری کا جزیرہ ہم جنس پرستوں اور بے لباسوں کا گڑھ ہے۔ سیاحوں کے لئے نشر ہونے والے اشتہارات میں کیپری کو’’ ہم جنس پرستوں کی جنت‘‘ کے طور پر بھی پیش کیا جاتا ہے۔ معاملہ صرف کیپری جنریرے یا اٹلی تک ہی محدودنہیں، بلکہ قریب قریب تمام مغربی دنیا ، مشرق بعید اور سیکولر بھارت کی یہی صورتحال ہوتی جارہی ہے.

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

Featured

%d bloggers like this: