تاریخِ ہند و پاکستان حالات حاضرہ ریاست اور سیاست

قوم کا اگلا پلے بوائے حکمران بلاول زرداری


پی پی پلے بوائے گروپ کے خوبرو جیالے جوان بلاول بھٹو زرداری نے ہندو برادری کو دیوالی کی مبارکباد دینے کیلئے بتوں کی پوجا پاٹ میں عملی شرکت کا جو انداز اپنایا، وہ کسی ملا کے فتوی کے مطابق نہیں بلکہ کتابِ الہی قرآن حکیم کی رو سے عین کفر ہے۔ ہندو برادری کو مبارکباد کا پیغام دینا، بلاشبہ  بین المذاہب امن و رواداری کا پیغام ہے لیکن ہندوتوا پوجاپاٹ میں عملی شرکت تمام مسالکِ دین اور تمام مکاتبِ فکر کے نزدیک لادینیت نہیں بلکہ مشرکانہ ہے۔ یاد رہے کہ انہوں نے دو برس قبل کرسمس  کے موقع پر مسیحی برادری کو مبارکباد کا پیغام دیتے ہوئے جب اس صلیبانہ خواہش کا اظہار کیا کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بھی ایک عیسائی وزیر اعظم دیکھنے کے خواہاں ہیں، تو ایسا گمان ہوا کہ گویا ان میں پوپ پال اور باراک اوبامہ کی  زندہ  روحیں حلوت کر چکی ہیں۔ بلاول کے بیانات دراصل گذشتہ برسوں سے ” خالص سیکولر ” اور اعلانیہ ” صلیبی غلام ” پالیسی اپنانے والے زرداری گروپ کی صلیبی برانڈ حکمت عملی  ہی  کا  تسلسل  ہے۔  وہ اپنے کرپشن کنگ سیاسی گروہ  کو شہیدوں اور بہادروں کی جماعت قرار دیتے ہوئے مقتول سلمان تاثیر اور انجہانی شہباز بھٹی کا ذکر کرتے ہیں۔ تو جہاں ان کی محبوبہء خصوصی خوش رنگ حنا کا دل دھڑکتا ہے،  وہاں اہل نظر کو بھی یہ اندازہ ہوتا ہے  کہ الیکشن میں بری طرح سے پٹے ہوئے جیالوں نے اگلے اقتدار کے حصول کیلئے اب عوام کی بجائے ، صلیبی بادشاہ گروں اور مغربی تہذیب و فکر کے علمبردار سیکولرعناصر کو خوش رکھنے کی پالیسی اختتیار کی ہے۔ یاد رہے کہ بلاول نے کہا  تھا کہ حضرت عیسٰی کے چاہنے والوں کیلیے پارٹی کے لوگوں نے اپنی جانیں تو دے دیں لیکن ان کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دی۔ ایک عرصہ لندن کی گوری میموں کے ساتھ رہ کر شاید وہ یہ بھول گیے تھے کہ وہ جن لوگوں  کے ہجوم سے مخاطب ہیں وہ نبی آخر الزماں محمد ص کے امتی اور چاہنے والے ہیں۔ ان مسلمانوں کے ایمان کا جزوء اول عشق مصطفے اور خاصہء دین آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت عیسی علیہ السلام تک تمام سچے نبیوں پر ایمان اور ان کی توقیر و تکریم  ہے۔

لندن کے ٹھنڈے گرم شراب خانوں میں سلمان تاثیرکی طرح مغرب کے نان حلال  پکوان کھا کھا کر وہ اپنے گستاخ اسلام صلیبی دوستوں کی زبان تو سیکھ گئے لیکن آج تک یہ نہیں جان پائے کہ آج بھی انگلستان کے آئین و قانون کے مطابق توہینِ مسیح کی سزا عمر قید ہے۔ لیکن گوروں اور ان کے ٹکروں پر پلنے والے سلمان تاثیر برانڈ مسخروں، بال ٹھاکری داسی عاصمہ جہانگر برانڈ این جی او کوئینز کو توہین رسالت کی شرعی سزاؤں پر بلاجواز ہی پیٹ میں مڑوڑ اٹھتے رہتے ہیں۔ بلاول کو یاد رکھنا چاہیے تھا کہ ان کی والدہ  اور ان کے عزیز سلمان تاثیر انہیں صلیبیوں کی بغل بچگی کی قیمت اپنی جانیں دیکر ادا کر چکے ہیں۔ بلاول کو محتاط رہنا چاہئے کہ اس آگ میں کود کر اگر وہ بھی سلمان تاثیر کی طرح خامخواہ میں “شہید” بن گئے تو بھٹو خاندان کے اقتدار کی امیدوں کا چراغ ہمیشہ کیلئے گل ہو جائے گا۔ انہیں اس بات کا بھی خاص خیال رکھنا چاہئے کہ ان کے بعد ان کی  خصوصی دوست خوش رنگ حنا کھر کا کیا ہو گا۔ شاید انہیں بھول گیا ہو لیکن حنا  صاحبہ کی طرف سے انہیں بھیجے گئے عید کارڈ پر لکھی اضطرابی تحریر کے الفاظ ”ہم نے بہت انتظار کر لیا ہے اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے انتظار کو ختم کریں”۔  سیاست میں کیریئر بنانے کیلئے سامراجی آشیرباد حاصل کرنے سے لیکر برہمن لابی تک کی ہر خواہش پوری کرنے کیلئے تیار خوش رنگ حنا نے یہ جملہ پاکستان کے مستقبل کے ممکنہ وزیر اعظم بلاول کےقریب تر ہونے کیلئے ہی کہا تھا۔ بلاول صاحب کوضرور یہ خیال رکھنا چاہیے کہ سیاست میں آگے سے آگے بڑھنے کے نظریے پر رواں دواں حنا ربانی کھر جیسی کئی معزز روحیں آج بھی ملکہ عالیہ بننے کے خواب دیکھ رہی ہوں گی۔

بلاول زرداری کی طرف سے وطن کے پاسبان جنرل حمید گل جیسے ملی و قومی سپوتوں کے بارے ہرزہ سرائی صرف چاند پر تھوکنے کے مترادف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہے ان کی پارٹی نے گزشتہ انتخابات میں کارکنوں کی جانیں بچانے کیلیے سو سیٹیں قربان کر دیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ  سیاست دان ہمیشہ ہی اپنے کارکنوں کے جنازوں کی سیڑھیوں پرایوان اقتدار تک پہنچنے کیلئے کوشاں رہتے ہیں۔ یاد رہے کہ ان کے والد گرامی نے بھی ان کی والدہ کے جنازے پر چڑھ کر ہی ایوان صدر کی دیوار پھلانگی تھی۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کو بہادروں اور شہیدوں کی پارٹی قرار تو دیا لیکن ماں کی طرح “شہید ” ہونے کے ڈر سے ایک مدت لندن کی گوری آغوشوں اور کروڑوں ڈالرز کے سیکورٹی پیکج کے خول میں رہنے کی وجہ نہیں بتائی۔ بلاول صاحب نے تحریک انصاف کو”بزدل خان” کی جماعت قراردیکر کہا کہ وہ پشاور میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے چرچ کے باہر کھڑے ہو کر دہشت گردوں کی مدد کیلیے بہانے تلاش کر رہا تھا۔ لیکن موت کے ڈر سے لندن کی گوری مٹیاروں کی آغوش میں رہ کر اماں جی کے قتل کا غم غرق کرنے والے بہادر بلاول نے یہ نہیں بتایا کہ لیاری کے جیالوں کے ہاتھوں لقمہء اجل بننے والوں کے خون کا الزام کس کے سر دھریں گے۔ ان کے دونوں ماموں کس کے ہاتھوں قتل ہوئے اور ان کے مقدمات رکوانے میں کون شخصیت پیش پیش رہی۔ درراصل یہ بات ماں کو کھو کر مسکین ہو جانے والے بلاول بھی جانتے ہیں کہ اپنی والدہ کے قاتلوں کو تختہء دار تک پہنچا کر وہ خود بھی یتیم ہو جائیں گے۔

سو ماں کے خون سے غداری کرنے والے بہادر سپوت  نے اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں اپنی مقتول والدہ کے قتل کی تحقیقات کے حوالے سے اپنی جیالی حکومت کی حسن کارکاردگی کا بھی کوئی ذکر نہیں کیا۔ لیکن یہ ضرور کہا کہ کراچی اب بھی برطانوی کالونی ہے۔انہیں یاد دلایا جائے کہ کراچی کو برطانوی کالونی بنانے والے بھارتی بغل بچے کے ٹارگٹ کلر بھتہ خور اسی کے باپ کے حلیف رہے ہیں۔بلاول صاحب اپنے سیکولر زبان و انداز میں مذہبی ٹھیکداروں کے خلاف جہاد کا اعلان کے ساتھ  یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کی پارٹی اپنی پانچ سالہ حکومت میں دہشت گردی کو ختم نہیں کر سکی۔ لیکن بحرحال ان کی جماعت نے دہشت گردوں کا سینہ تان کر ان کا مقابلہ کیا۔ اب اس کا تعین قارئین ہی کر سکتے ہیں کہ بہادر بلاول  نے لندن کے پلے بوائے ہاؤس میں انگنت گوری معشوقاؤں کے سامنے سینہ تانا تھا یا بھوک اور افلاس سے مرتے ہوئے ہاریوں کے قبرستان تھر میں برپا میوزیکل فیسٹیول میں جیالی رقاصاؤں کے سامنے رقصاں ہوئے تھے، لیکن لوگ اتنا ضرور جانتے ہیں کہ  بلاول جیسے جوان میں اتنی جرات نہیں کہ وہ وزیرستان کے کسی دوراہے پر کھڑا ہو کر اپنے ماں کے فرضی قاتلوں سے سرگوشی میں بھی بات کر سکے۔ بلاول جیسے ہزاروں بہادر ، محمد شاہ رنگیلا کی اس فوج میں بھی موجود تھے۔ جنہوں نے نادر شاہ درانی کے محل میں داخل ہونے پر ” اللہ ان کی توپوں میں کیڑے پڑ جائیں” اور ” اللہ ان کی تلواریں توٹ جائیں” کے بہادرانہ طریق سے مقابلہ کیا تھا۔ بلاول اپنی سیاست کا آغاز والدہ پر کارساز حملے کی سالگرہ پر کریں یا ان کی نام نہاد شہادت کی برسی پر،  وہ جنازہ ان کے والد حضور کیش کروا چکے ہیں اور جنازے بار بار کیش نہیں ہوتے۔  زرداری صاحب نے ان کو پارٹی قیادت سونپی ہے تو عوام  دعا گو اور آرزو مند ہیں کہ وہ ضرورت سے زیادہ  بہادری دکھا کر اپنے نظریاتی عزیز سلمان تاثیر کی قربت میں جانے  کا خطرہ مول نہیں لیں گے۔ انہیں خیال رہے کہ ان کی ملکہ ء عالیہ کے خواب دیکھنے والی صرف حنا ربانی کھر ہی نہیں، کئی اور پریاں بھی  ان کی جادوئی آغوش میں آنے کیلئے بے قرار ہیں۔ اگر انہوں نے پاکستان میں قیام کا حوصلہ کیا ہے تو اس ملک کی سیاست کے انداز اور عوام کے دینی و نظریاتی رحجان کو دیکھ کر سمجھنا چاہیے  کہ وہ ان کی ماں کی شہادت ہو، انکے محبوب سلمان تاثیر کی ہلاکت ہو یا بشیر بلور جیسے دوسرے سیکولر سیاست دانوں کی ” شہادت” ان سب کا سبب ان کے وہی سلمان تاثیر برانڈ صلیبی نظریات تھے جن کا اعادہ آج وہ بھی کر رہے ہیں۔

انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ امریکی و مغربی جادوگروں کے جادو کا ہی کمال ہے کہ اس وقت پاکستان میں روشن خیال اور اسلام دوست نظریات کا عیاں ٹکراؤ ہے۔ اس سے ملک میں انارکی اور بیرون سے در آمد دہشت گردی پھیلی ہے۔ مگر مغربی غلام میڈیا اور سیکولرز کی جان توڑ کوششوں کے باوجود ملالہ برانڈ  ڈرامے فلاپ ہو رہے ہیں۔  پے در پے ٹھوکریں کھانے والی خوابیدہ قوم میں اب ملی اور قومی غیرت بیدار ہو رہی ہے۔ اب ہماری نئی نسل بھی مغرب اور ہندوآتہ کی اس نظریاتی یلغار کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے جس کا منجن بیچنے گوری کالی رکھیلوں کے یہ عیاش عاشق صاحب بھی آن ٹپکے ہیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ ان کے پانچ سالہ دور حکومت کی جو کارکردگی رہی ہے وہ انتہائی ناقص اور قاتل مفلس رہی ہے۔ روٹی کپڑا اور مکان کا نعرے لگانے والے بہروپیوں سے مفلس عوام کو ریلیف تو نہیں ملا البتہ ان جیالوں کے اندھا دھند لوٹ مار پروگراموں کے باعث مہنگائی ناقبل برداشت حد تک ڑھ گئی اور قومی اداروں میں لوٹ کھسوٹ سے بیروزگاری میں خطرناک اضافہ ہوا۔ افسوس کہ بہادر بلاول ماضی میں عدلیہ کو بھی ٹارگٹ کرتے ہوئے یہ کھلا اشارہ دے چکے ہیں کہ آج بھی عدلیہ سے محاذ آرائی جیالوں کی اولین ترجیح ہے۔ مستقبل میں بلاول کا جو بھی سیاسی کردار ہو لیکن پی پی کی پانچ سالہ ناقص ترین کارکردگی سے عوام اتنی متنفر ہو چکی ہے کہ اب والدہ کی یاد میں مصنوئی آنسو بہانے والے بہادر بلاول کو سیاسی میدان میں لانے سے پی پی کو کوئی غیبی مدد ملنے کا چانس کم ہی ہے۔ لیکن زرداری مافیہ کے پاس پھر سے اقتدار حاصل کرنے کا ایک طریقہ ضرور بچا ہے۔ وہ یہ کہ بینظیر کی طرح اب بہادر بلاول زرداری بھٹو کو ” سیاسی شہید” بنا کر آصفہ زرداری بھٹو کو وزیر اعظم پاکستان بنوایا جائے۔ اور پھر سے وہی پرانا کھیل شروع ہو جائے جو جیالوں کے ہر دور حکومت میں ہوتا رہا ہے یعنی ” جئے بھٹو، رج کے لٹو”۔

لیکن ذرا سوچیے کہ پھربلاول بھٹو زرداری کی خوش رنگ حنا  جیسی بے چین روحوں کا کیا ہو گا۔ جی ہاں وہی جو پاکستانی سیاست دانوں کے حسن پرست معاشرے کا خوش رنگ حسن ہے۔ کہ نہ تو یہاں اقتدار کی دوڑ میں شریک سیاسی گھرانوں میں بلاول سے بڑھ کر خوبرو اور وجیہہ القامت دل پھینک مردوں کی کمی ہے اور نہ ہی سیاسی وابستگیاں بدلنے کے حوالے سے کسی سیاسی مرد و زن میں کوئی غیرت باقی ہے۔ بلاول کے بعد اگلا قرعہء عشق حمزہ شہباز شریف یا حتی کہ مردانہ وجاہت کے شاہکار خوبرو حضرت سونامی عمران خان صاحب کے نام بھی تو نکل سکتا ہے ۔۔۔ فریبِ دہر ہے قاتل کی مرثیہ خوانی  :  بنے مزارِ صنم قصرِ اقتدار چلے۔۔۔۔۔

       فاروق درویش ۔۔ واٹس ایپ ۔۔۔ 03224061000۔۔

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: