حالات حاضرہ ریاست اور سیاست

قیامت ہے نئی لیلیٰ کی دشتِ قیس میں آمد ۔۔ نئی بھابھی مبارک


دنیا کا پہلا جھوٹ  بولنے والا  پہلا جھوٹا ، انسان نہیں شیطان تھا، جس نے جھوٹ بول کر حضرت آدم علیہ السلام کو گندم  کا دانہ کھلایا اور جنت سے بیدخل کروا دیا۔ اس کے بعد  انسانوں میں یہ سلسلہ ایسا مقبول ہوا کہ  بابائے آدم  کے زمانے  سے اب تک ، دنیا کے ستر فیصد سے زائد انسان تقلیدِ ابلیسی کی اس لعنت آلودہ  بیماری میں مبتلا رہتے ہیں۔اس حوالے سے  دنیا میں سب سے زیادہ جھوٹ بولنے والوں  میں  پہلا نمبر خواتین  کا ہے، کہ  یہ  اپنی عمر کے بارے کبھی  مر کر بھی سچ نہیں بولتیں۔ کذب بیانی  میں  دوسرے نمبر پر گامزن میدان  سیاست کے وہ خواتین و حضرات ہیں،  جن کے ننانوے فیصد بیانات جھوٹ ،  مکر و فریب اور منافقت  پر مبنی ہوتے ہیں۔  انہیں اس امر سے بھی کوئی غرض نہیں ہوتی کہ  جھوٹوں پر  خود اللہ  کی طرف سے لعنت  کی  دلیل قرآن حکیم میں  ” لعنت اللہ علی الکاذبین” کے الفاظ ربی ہیں۔ ممتاز صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود  کی طرف سے  بی بی سی  کی  اینکر ریحام خان سے عمران خان کے معاشقے اور شادی  کا دعوی کیا گیا  تو خود خاں صاحب اور ان کی ہمشیرہ سمیت تحریک انصاف کی پوری قیادت مکرر در مکرر جھوٹ بولتے ہوئے اس خبر کو تبدیلی اور انقلاب کیخلاف ایک مذموم سازش قرار دیکر جھٹلاتی رہی۔  کچھ  احباب  کو کم از کم  عمران خان  سے اس مکرر در مکر جھوٹ  کی  ہرگز توقع نہ تھی ، کیونکہ وہ  انکی شناخت ہی  ایک  کھرے آدمی کے طور پہ کرتے ہیں ۔  ماڈرن تبدیلی  اور عشق خانوی کے ایمان لیوا مرض میں مبتلا  انقلابی حضرات  کو خان صاحب  کے  اس کاذبانہ  طرز عمل کی روشنی میں اب  ” سچے اور کھرے ” جیسے الفاظ  کی تعریف نئے سرے سے متعین کرنی ہو گی۔ لمحہء فکریہ ہے کہ ہمیں ایسے ہی سیاسی شعبدہ بازوں اور کاذبینِ مطلق  سے مسیحائی کی امیدیں بھی ہیں ۔

 عجب تماشہ ہے کہ نکاح  جیسی سنت کی تردید میں اکسٹھ سالہ دولہا ، اکتالیس سالہ دلہن، بہنوں اور قیادت سمیت تمام انقلابی اس شد و مد سے کذب بیانی اوردفاع  کرتے رہے جیسے اس نوبہاہتا جوڑے پر کسی  سنگین فوجداری جرم یا گناہ کبیرہ کا الزام لگا ہو۔ بریٹنی سپیئر جیسے مختصر لباس اور میڈونا  جیسے قابل اعتراض  رقصوں سے  شہرت حاصل کرنے  والی ریحام خان سے شادی چھپانے میں ایسی کون سی بات تھی کہ جس کے عیاں ہوجانے پر عوام کی طرف سے  سنگساری کا خدشہ تھا۔ افسوس کہ خان صاحب اینڈ کمپنی کے مسلسل جھوٹ در جھوٹ سے نوبت  یہاں تک جا پہنچی کہ ریحام جی کے سابق آقا، بی بی سی سمیت ملکی وغیر ملکی میڈٰیا کو یہ مصدقہ خبرشائع کرنی پڑی کہ  نومبر میں میں  پرویز خٹک کے بھائی کے گھر پر کسی پراسرار سازش کی طرح  برپا ہونے والا  یہ نکاح  مری سے تعلق رکھنے والے مفتی محمد سعید  صاحب نے پڑھایا  تھا۔  کچھ  ذرائع کے مطابق  یہ نکاح مبینہ  طور پر محرم الحرام کے اس مقدس مہینے کی ساتویں تاریخ  کو پڑھا گیا تھا جس ماہ میں مسلم  اکثریت احتراماً شادی بیاہ کی تقاریب سے اجتناب کرتی ہے ۔ اور پھر جب  عالمی اور قومی پریس اینڈ میڈیا نے نکاح کے دونوں مصدقہ گواہوں عون چوہدری اور ذاکر خان کے نام تک  شائع کر دئے تو ہیتھرو ائر پورٹ پر اخباری نمائیندوں میں گھرے ہوئے شرمندہ خان صاحب کے پاس اس ” حسین جرم ” کا اعتراف کرنے کے سوا کوئی اور دوسرا راستہ نہ تھا۔

 پچھلے چند  ماہ کی  ناقابل فہم سیاسی قلابازیوں و نجی سرگرمیوں نے خان صاحب کی ” سچی اور کھری ” شخصیت اور ” غریب دوست حب الوطنی”  کا اصل چہرہ اب پوری طرح عریاں کر کے رکھ  دیا ہے۔ قوم یہ حقیقت کیسے بھلا سکتی ہے کہ جب کے پی کے، پنجاب اور سندھ کے لوگ خوفناک سیلاب میں ڈوب رہے تھے، خان صاحب ان آفت زدوں کی مدد کو سرکاری ذمہ داری کہہ کر میوزیکل شوز، محافل رقص اور اپنی شادی کی خوش خبری کے وعدوں سے  دھرنہ گرما رہے  تھے۔  پھر قوم کو پشاور جیسا دلدوز سانحہ اور چیلنج درپیش ہوا تو خان صاحب نے پاکستان کی نئی نسل کو مادر پدر آزاد بنانے کی تحریک میوزیکل انقلاب اور مغربی تہذیب کی طرف تبدیلی کی راہ آسان بنانے کیلئے ایک مغربی لاڈو سے شادی کے جشن کی تیاریاں شروع کر دیں۔ افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کے موقع پر را اور موساد کے آشیرباد یافتہ دہشت گردوں نے پشاور میں سکول کے معصوم بچوں کو خون میں نہلایا تو دوست اور دشمن سمیت پوری دنیا کی نظریں اس سنگین مسئلے پر مرکوز تھیں ۔ مغرب و سامراج کی  دو رنگی قیادت، عرب و عجم  کے رہنما ، حکومت ، اپوزیشن ، فوجی جرنیل اور عوام و خواص سمیت سبھی  دل فگار، جگر پارہ  اور اشکبار تھے۔ مگر اس سے قبل ہی نومبر میں خفیہ طور پر شادی رچا چکے خان صاحب اپنی نئی  ڈانسر گرل فرینڈ  کیساتھ  شادی کا ڈرامہ سٹیج کرنے کیلئے کسی مناسب وقت کے انتظار میں تھے ۔

افسوس  کہ  پہلے سیلاب میں ڈوبتی ہوئی قوم کے دکھ  بھول کر میوزیکل دھرنے جاری رکھنے والے خان صاحب، اس تازہ  سانحہ پر بھی اپنی یہ قومی ذمہ داری بھول گئے کہ  مبینہ  دہشت گردی میں موت سے بچ جانے والے ان سہمے ہوئے بچوں کا کرب اور مذید ضروریات کیا ہیں، جو  ایک حالیہ قیامت سے گزرے ہیں۔  جن معصوم اطفال  کی عمر پھولوں اور تتلیوں سے دل بہلاوے کی ہوتی ہے ان پر گولیوں کی بوچھاڑ سے معصوم دماغوں سمیت کتابیں بھی سکول میں بکھر گئیں۔ جو اس المناک سانحہ میں اس جہان سے رخصت ہوئے وہ اپنے پیاروں کو زندگی بھر  کیلئے المناک درد احساس دے گئے۔ اور جو خوش قسمت بچ گئے ان کی خوف زدہ آنکھیں آج بھی پھٹی پھٹی اور سوچیں  لرزاں لرزاں ہیں۔ افسوس کہ شہدائے ماڈل ٹاؤن کا میوزیکل سوگ منانے والے انقلابیوں کے شہنشاہء رومانس نے خون میں ڈوبے ملک اوردکھی قوم کو اس افسوس ناک موقع پر اپنے ست رنگی شادی پروگرام کا تحفہ دیا ہے۔ یہ ایک قومی المیہ ہے کہ سنگین سانحے بھلا کر رقص و شباب میں ڈوب جانا ہمارے آمروں اور سیاست دانوں کا  وطیرہ رہا ہے۔ لال مسجد اور جامعیہ حفصہ  میں  معصوم بچیوں کے ہولناک قتل عام کے بعد بھی مبینہ سیاسی قاتلوں کا گروہ رقص و سرور میں مدہوش و مخمور دکھائی دیتا تھا۔ اس خبر کے بعد  فلم سٹار میرا جی کے زار و قطار آنسو، عائلہ ملک کی افسردہ و بے مراد  سرد آہیں اور دھرنے کے دوران خان صاحب سے شادی کی نمکین و میٹھی، گرما گرم  تمناؤں میں والہانہ رقص کرنے والی انگنت دل پھینک مٹیاروں کے  شکستہ  دلوں کا احوال ایک الگ داستانِ حسرت ہے۔

عالمی میڈیا کے مطابق عمران خان نے اپنی اس سابقہ  سسرالی گولڈ سمتھ  فیملی سے بھی اپنی شادی کے بارے بات چیت کی ہے، جس کے ساتھ انہوں نے جمائما خان کو طلاق کے بعد بھی قریبی رابطے برقرار رکھے ہیں ۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق عمران خان نے اپنے دونوں  بیٹوں کو بھی اعتماد میں لینے کی کوشش کی ہے،  لیکن وہ اس شادی سے قطعی خوش نہیں ہیں۔ جبکہ پاکستان میں ان کے اہل خانہ نے بھی اس  خفیہ معاشقے اور شادی پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔  دوسری طرف جمائما نے لندن میں خان صاحب کی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹوئٹر پر  ” خاتون اول ” اور ” سدا بہار ” قرار دینے والوں کا شکریہ ادا کر کے سابق شوہر کی  شادی کی نامنظوری کا اعلان کیا ہے۔  جمایما نے اپنے گذشتہ بیان میں اپنے نام سے  خان کا لفظ  ہٹا کر گولڈ سمتھ لگانے کا اعلان کیا تھا ۔ ان کا دعوی تھا  کہ عمران جلد ہی دوبارہ شادی کر لیں گے۔ جمائما کے اس بیان پر کہ بیٹوں کو ان کے نام بدلنے سے کوئی دلچسپی نہیں ، اہل دانش سمجھ  سکتے ہیں کہ آدھی یہودی، آدھی عیسائی ماں  کے ساتھ  یہودی معبدوں اور گرجوں کی یاترا کرنے والے ” مسلمان بیٹے ” اب اپنی روشن خیال و ماڈرن والدہ  کے زیر سایہ مسلمان باپ کے مذہب سے کوسوں دور اس مغربی تہذیب کے طلسم میں غرق ہو چکے ہیں، جہاں ان کی ایک بہن ٹائرن خان بھی انصاف خان  سے حقیقی انصاف ملنے کے انتظار میں بھٹک رہی ہے۔۔

عمران خان کی نئی محبوبہ کے بارے میں مزید چشم کشا حقائق سامنے آ رہے ہیں۔ ان کا پہلا نکاح 92ء میں ایبٹ آباد کے اعجاز خان سے اٹھارہ برس کی عمر میں ہوا ۔ جمائما اور ریحام میں جہاں ” خان ” ، مختصر لباس، مغربی تہذیب پسندی ،  بوائے فرینڈز، رقص و شراب اور نائٹ کلبوں میں شب بسری جیسی کئی ہو بہو عادات ہیں، وہاں ایک ” خوبصورت قدر مشترک ” یہ بھی ہے کہ دونوں کے بوائے فرینڈز و آزادانہ معاشقے ان کی” ناگہانی طلاقوں” کی خصوصی وجہ بنے۔ دنیا بھر کی نگاہوں اور گرما گرم خبروں کی مرکز بننے والی اس ” مقدس شادی ” کو منظرعام پر لانے والے ذرائع  کا یہ دعوی بھی پاکستان کیلئے کسی خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں کہ  ریحام خان، تحریک انصاف میں ایک کلیدی حیثیت و کردار چاہتی ہیں۔ قابل توجہ حقائق ہیں کہ  ریحام خان اسی بی بی سی کی پروردا و تربیت یافتہ ہیں جو ایک عرصہ سے انٹی پاکستان گروہوں کا سرپرست و مشتہر رہا ہے۔ یہ وہی بی بی سی ہے جس نے 65ء کی جنگ میں، لاہور ہر ہندوستانی قبضے کی من گھڑت خبریں شائع کی تھیں۔ یہ وہی ادارہ ہے جس پر سلمان احمد جیسے سونامی گویے قرآن حکیم اور دین اسلام کو سیکسی کتاب و مذہب قرار دیکر توہینِ قرآن و اسلام کرتے رہے ہیں۔ یہ وہی فتنہ گر میڈیا چینل  ہے جو سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین  جیسے گستاخین رسالت  کا پروموٹر اور سپورٹر ہے۔ یاد رہے کہ یہ وہی ام الکاذبین خبر نیوز ایجنسی ہے جو ایک عرصہ سے سی آئی اے اور دوسری مغربی ایجنسیوں کے ایما پر افواجِ پاکستان اور آئی آیس آئی جیسے قومی اداروں کیخلاف مسلسل  پراپیگنڈا مہم میں مصروف ہے۔

مختصر لباس میں  ہوش ربا تصاویراورگوروں کے ہمراہ شرمناک رقص کی مصدقہ ویڈیوز کے منظرعام پر آنے پر سونامی احباب کی نئی بھابھی ریحام خان کی پرانی بھابھی جمائما خان سے بڑھ کر ہنگامہ خیز مغربی برانڈ ” دلیریء کردار” کا پردا چاک ہو رہا ہے۔ سونامی حضرات کو سیدنا فاروق اعظم جیسی اسلامی فلاحی ریاست کے نام نہاد داعی ” عظیم یو ٹرن خان ” کی جماعت اور قرابت داروں میں فوزیہ قصوری جیسی ہم جنس پرستی کی داعی ،  سلمان احمد جیسے گستاخ اسلام  گویے  اور  حسن نثار جیسے دجالی فکر زدہ دانشوروں کے بعد  مغربی میڈیا کی دنیا کی ” سمبل آف سیکس” قرار دی جانے والی اُس ماڈرن بھابھی کا حسین اضافہ مبارک ہو، جو ہر طرح کے رقصِ فتن  میں اپنی مثال آپ ہے۔  سو امید رکھنی چاہئے کہ ایک باکمال فنکارہء رقص  کی موجودگی میں آئیندہ دھرنوں کے رقص و شباب کا مزا ہی کچھ اور ہو گا۔ خان صاحب کو مکمل یقین ہے کہ اس قوم کو آسانی سے بیوقوف بنایا جا سکتا ہے۔ لہذا سابقہ نکاح سے کاذبانہ انکار اور مسلسل جھوٹ عیاں ہونے  پر ذلت و رسوائی کے بعد مذید سبکی اور شرمندگی سے بچنے کیلئے 8 جنوری  کو بنی گالہ میں نکاح کی دوبارہ رسمی کاروائی  کا  “عزت بچاؤ ڈرامہ ” رچایا گیا ہے ۔ مشتری ہوشیار باش کہ سونامی طوفان کے سرپرست مغربی فتنہ گروں نے ، پاکستان کے جلتے ہوئے حالات اور مادر پدر آزاد آزادی  کے شوقین رنگیلے دلوں میں مذید آگ بھڑکانے کیلئے، تھرکتی ہوئی رنگ رنگیلی بجلی ریحام خان کی صورت میں ایک نیا  ہنگامہ خیز شعلہء حسن  و آتش بھیجا ہے۔  سونامی حضرات کو امید رکھنی چاہیے کہ ان کی یہ نئی نویلی بھابھی، مغرب زدہ بے لباس تبدیلی اور مادر پدر آزاد  انقلاب کی  اصل روح رواں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے   ماڈرن جولیس سیزر خان صاحب کی اصلی ملکہ قلوپطرہ ثابت ہو گی۔

    قیامت ہے نئی لیلیٰ کی دشتِ قیس میں آمد — نیا محشر سجے گا اور نیا رقصِ صنم ہو گا
مسیحائی کو اتریں گے فرشتے مقتلِ شب میں — قلم تھامے گا جو درویش اس کا سر قلم ہو گا

ریحام خان کے لندن میں گورے پارٹنر کے ساتھ  نیم عریاں ڈانس کیلئے اس لنک پر کلک کیجئے

( فاروق درویش ۔ 03224061000 ۔۔ 03324061000 )

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

Featured

%d bloggers like this: