تاریخِ ہند و پاکستان حالات حاضرہ سیکولرازم اور دیسی لبرل نظریات و مذاہبِ عالم

لو جہاد، شدھی تحریک اور بھارت کا سیکولر چہرہ


ہندو دہشت گرد وزیر اعظم نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد حالات بتا رہے ہیں بی جے پی کی حواری انتہا پسند تنظیموں راشٹریہ سیوک سوئم اور وشوا ہندوپریشد نے بھارت کو سو فیصد ہندو اکثریتی ملک میں بدلنے کا ” مہا بھارتی ” منصوبہ بنا لیا ہے۔ ہندو دہشت گردوں  کی شدھی تحریک کے اس دوسرے جنم کے ستھ ہی ہندوتوا نے اپنی ہندو انتہا پسندی کا وہ ابلیسی پتہ شو کر دیا ہے جو ایک عرصہ تک نام نہاد سیکولر ازم کے پردے میں چھپا رکھا تھا۔  مذہبی دہشت گردی کے شاہکار ” لو جہاد ” پروگرام کے بعد ہندو شدت پسندوں کا تازہ منصوبہ یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ غریب مسلمانوں اور عیسائیوں کو ” گھر واپسی “ پروگرام کے تحت ہندو دھرم اختیار کرنے پر مجبور کیا جائے۔ گاہے بہ گاہے مذہبی جنون کے نت نئے شوشے چھوڑنے والی راشٹریہ سیوک سوئم  اور سنگھ پریوار جیسی زہر آلودہ ہندو تنظیموں کا بنیادی مشن مسلمانوں کے خلاف نفرت کا بازار گرم کئے رکھنا ہے۔ اترپردیش کے ضمنی الیکشن میں ” لوجہاد“ کا عجیب و غریب شوشہ بھی سمہیں برہمن تنظیموں کا چھوڑا ہوا تھا۔ ماضی میں اسی تنظیم کے زہریلے پراپیگنڈا کے باعث بھارت میں دینی مدارس پر دہشت گردی کے الزامات عائد کر کے انہیں بند کرنے کی سازش بھی کی گئی۔

shuddhi
ہندو لڑکیوں سے شادیاں رچانے واالے مسلمان نوجوانوں کی مذہبی شناخت ایک سوالیہ نشان ہے

 سومنات کی تباہی کے کرب اور گیارہ سو سال تک مسلمان حکمرانوں کے محکوم رہنے کی تکلیف میں مبتلا ہندوتوا کی انتقامی انتہا پسندی جنگ آزادیء ہند کے بعد انتہائے عروج پر پہنچ چکی تھی۔ یاد رہے کہ 1920 میں ایک مذہبی دہشت گرد ہندو سوامی دیانند سرسوتی نے مسلمانوں کو زبردستی ہندو بنانے کیلئے بدنام زمانہ شدھی تحریک کا آغاز کیا تھا ۔ اس تحریک کو ہندو سیاسی رہنمائوں کی بھرپور تائید حاصل ہوئی تو ہندوؤں نے مفلس مسلمانوں کو دھونس اور  پیسے کا لالچ دے کر ہندو بنانا شروع کر دیا۔ مگر جب ہندو مہاسبھا کا بانی سوامی شردھا نند 23 دسمبر 1926ء کو غازی علم دین شہید جیسے ایک مرد مومن  قاضی عبدالرشید غازی کے ہاتھوں اپنے گھر میں جہنم واصل ہوا تو پورے ہندوستان میں صف ماتم بچھ گئی۔ اور گاندھی جی نے کانگرس کا اجلاس بلا کر ایک تعزیتی قرارداد کے ذریعے قوم سے سوگ منانے کی اپیل کر دی۔ مرحبا کہ غازی عبدالرشید  کے خنجر کے ایک ہی ایمان افروز وار سے کروڑوں ہندو نوے برس تک ”شدھی تحریک” کا نام تک بھولے رہے ۔ مگر اب نریندر مودی جیسے دہشت گرد ہندو کے برسراقتدار آتے ہی مسلم دشمنی سے آلودہ ہندو خصلت میں پھر سے شدھی کے بدبودار کیڑے نمودار ہو رہے  ہیں۔ یاد رہے کہ شدھی تحریک کے بانی  سوامی شردھا نند کا شمار بھارت کے عظیم قومی ہیروز میں ہوتا ہے اور اس مذہبی دہشت گرد  کا مجسمہ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے ٹاؤن ہال کے عین سامنے نصب کیا گیا ہے

 ماضی کی سوامی دیانند سرسوتی شدھی تحریک اور سوامی شردھانند کی مہاسبھا تنظیم کا مقصد بھی وہی تھا جو آج سنگھ پپریوار اور بھارتیا جنتا پارٹی کی ماڈرن شدھی تحریک کا ہے۔ قدیم  شدت پسندوں کا ابلیسی موقف یہ تھا کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے آنے سے پہلے چونکہ  ہندوستان کے سارے لوگ ہندو تھے، لہذا ان سب کو واپس ہندو بنانا فرض ہے۔ جبکہ ماڈرن سوامی کہتے ہیں کہ عیسائی اور مسلمان ہمارے وہ بچھڑے ہوئے بھائی ہیں۔ جنہیں مسلم حکمرانوں اور انگریزوں کے دور حکومت میں زبردستی ہندو سے مسلمان بنایا گیا تھا۔ ہندو لیڈروں کا کہنا ہے کہ اگر مسلمان ہندوستان میں رہنا چاہتے ہیں تو پھر ان کو ہندو معاشرے میں جذب ہو کر ہندو مت اختیار کرنا پڑے گا۔ ماضی میں ہندو مت قبول کرنے سے انکار کرنے والے مسلمانوں کو قتل کرنے کیلئے شروع کی گئی سنگھٹن تحریک کا بانی سوامی مدہن مالویہ بھی ہندو مذہبی جنونیوں کو ہندو مذہب قبول نہ کرنے والے مسلمانوں سے لڑنے اور انہیں قتل کرنے  کی ترغیب دیتا تھا۔

 ہندو سوامیوں کی اس خود ساختہ تاریخ اور بے بنیاد موقف پر کہ  ” ہندوستان میں رہنے والے سب مسلمان  پہلے ہندو تھے ” کے جواب میں مذاہب عالم کی تاریخ ہی اک طمانچہ ہے۔ تاریخ کے مطابق ہندو مذہب کا آغاز دو ہزار قبل مسیح یعنی صرف چار ہزار برس پہلے ہوا تھا۔ جبکہ اللہ کا پسندیدہ مذہب اسلام،  دنیا میں آنے والے پہلے انسان آدم علیہ السلام کی آمد سے موجود ہے۔  آدم علیہ السلام سے لیکر محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام انبیاء کے کلمہ کا اولین جز ” لا الہ الا اللہ ” اور دین اسلام ہی تھا۔ ان نبیوں کے کلمہ کے جزوء اول و مشترک  یعنی ” لا الہ الا اللہ ” کے ساتھ آدم صفی اللہ ، موسی کلیم اللہ، ابراہیم خلیل اللہ، موسی کلیم اللہ اور عیسی روح اللہ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ کی طرف سے معبوث کئے گیے تمام انبیائے اکرام کی شریعت اور احکامات اگرچہ اپنے اپنے ادوار اور لوگوں کی معاشرت و اطوار کے مطابق قدرے الگ الگ تھے لیکن وہ سب اللہ کی وحدانیت اور اس کے پسندیدہ  دین اسلام ہی کے پیغامبر بنا کر معبوث کئے گئے۔ سیدنا آدم سے لیکر سیدنا عیسی تک سب نبیوں کے پیروکار بھی دراصل حق پرست یعنی مسلمان ہی تھے۔ جبکہ نبی ء آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور کتابِ الہی قرآن حکیم کا نزول اسلام کا آغاز نہیں بلکہ اس  دین کی تکمیل ہے۔ چونکہ اسلام سب سے قدیم ترین مذہب ثابت ہے ، لہذا سب ہندو ان ہاتھی اور بندر نما بے جان بتوں کی پوجا چھوڑ کر اللہ و ایشور کے اس قدیم ترین اور سچے مذہب اسلام کو قبول کر لیں جو ہندو مذہب سے کروڑ ہا  برس قبل ازل سے موجود ہے ۔ اور اگر وقتی طور پر اس  ہندو منطق کو درست مان لیا جائے تو پھر اس کی رو سے چین، برما، سری لنکا، تھائی لینڈ ، جاپان  اور کوریا جیسے ممالک میں رہنے والے تمام ہندوؤں کو وہاں کی اکثریتی آبادی کا وہ قدیم مذہب بدھ مت اختیار کرنا ہو گا جس ابتدا کی تاریخ ان کے ہندو مذہب سے بھی کئی صدیوں پہلے کی ہے۔

shudi1

بھارت کی اس کھلی مذہبی دہشت گردی پر امن کی آشا کے گیت سنانے والا میڈیا مافیہ اور انسانی حقوق کے نام پر دراصل ہندوتوا حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر جیسی بال ٹھاکری  وارثائیں خاموش ہیں۔ بے لاگ عالمی تجزیہ نگاروں کے مطابق ہندو لیڈرز مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی شرح آبادی سے خوف زدہ ہیں۔  کئی ہندو لیڈروں کی طرف سے ہندوؤں کو چار پانچ بچے پیدا کرنے کی تلقین اسی خوف کی عکاس ہے۔ ہندو مذہبی تنظیم ایس ایس کے قائد موہن بھاگوت نے دعوی کیا ہے کہ ہندوستان کو ایک خالص ہندو ملک بنانے کا خواب پورا کرنے کیلئے اب اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک تمام مسلمانوں کی ” گھر واپسی “ کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا ۔ ہندتوا تنظیم جاگرن منچ کے اجیشور سنگھ نے کہا کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کو بھارت میں رہنے کا کوئی حق نہیں، لہذا 2021 کے اختتام تک ہندوستان کو مسلمانوں اور عیسائیوں سے مکمل طور پر پاک کرنا ان کا ٹارگٹ ہے ۔ ہندوستان کی سیکولر شناخت کا بھرم اس ہندو شدت پسند کے اس دعوے سے بینقاب ہو گیا ہے کہ اس کی تنظیم اب تک تین لاکھ مسلمانوں اور عیسائیوں کو ہندو بنانے میں کامیاب رہی ہے۔

 دنیا بھر کے مسلمانوں کی شدید تنقید اورعیسائیوں کو بھی جبری ہندو بنانے کے باعث بولنے پر مجبور  صدر اوبامہ کی طرف سے مذہبی شدت پسندی کی مذمت کے بعد بھارتی دہشت گرد  نریندر مودی نے اپنی بغل بچہ دہشت گرد تنظیموں کی مذموم سرگرمیوں پر پردہ ڈالنے اور بھارتی مسلمانوں کو مطمئن کرنے کیلئے نیا منافقانہ پینترا بدلا ہے۔ پارٹی کے مسلمان لیڈروں اور اداکار امیتابھ بچن کو یہ ذمہ دار سونپی گئی ہے کہ وہ پسماندہ علاقوں کے کو مودی حکومت کے ترقیاتی منصوبوں سے آگاہ  کر کے حمایت پر آمادہ کریں۔ بھارت کی مسلم برادری بھی اس بات سے متفق ہے کہ بھارتی فلم اور میڈیا کی آزاد خیالی نے ان کی نئی نسل کو مذہب سے دور کر دیا ہے۔ اہل دانش کے مطابق بھارتی مسلمانوں کی سیکولر زدہ نوجوان نسل  میں ہندوؤں  سے  معاشقوں اور لو میرج کا بڑھتا ہوا رحجان بولی وڈ کے بڑے ناموں کی اندھی تقلید  کا نتیجہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے پیدا کردہ ایسی مذہبی دہشت گردی کی صورت حال میں ان سیکولر زدہ مسلمانوں کا مستقبل کیا ہے جوبھارتی سیکولر ازم سے وفا اور روشن خیالی کی روشنی میں نہا کے ہندو و سکھوں سے شادیاں رچا کر گناہ گار ٹھہرے ہیں۔ ذرا سوچیے کہ  ہندو بیویاں رکھنے اور مندروں کی یاترا کرنے والے نصیر الدین شاہ، شاہ رخ خان، عرفان پٹھان اور سیف علی خان جیسے ” دین اکبری ” برانڈ  مسلمانوں کا حال ” آدھا تیتر آدھا بٹیر “،  انجام ” دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا ” اور حقیقت ” دین کے نہ دنیا کے ” سے سوا اور کیا ہے ؟ ۔۔

( فاروق درویش – 03224061000 – 03324061000)

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

%d bloggers like this: