تاریخِ ہند و پاکستان حالات حاضرہ

لہو رنگ دامن صدا دے رہا ہے ۔ سقوط ڈھاکہ کے مجرم


ماہِ دسمبر آتا ہے تو عالمی سازش، بھارتی سنگت  اور اپنوں کی کرتوتوں کے باعث، وطن عزیز سے جدا ہونے والے مشرقی پاکستان کے سقوط کی سیاہ تاریخ  ہر محب وطن پاکستانی کے جگر کے زخم تازہ کر دیتی ہے۔  پاکستانی سرحدوں  پر  مذموم بھارتی جارحیت، مقبوضہ کشمیر میں ہندوتوا کی  ریاستی دہشت گردی ،  ملک میں جاری مفلس کش سیاسی بحرانوں یا  افغانستان سے  خطہء عرب تک  کی رنگ  بدلتی ہوئی صورت حال کا ذکر ہو تو اندھیرے دماغوں میں بھی تاریخ کے  کچھ  تلخ  اور کچھ شیریں ابواب جگمگا اٹھتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے راہنماؤں اور  خود ہم نے  بھی  تاریخ سے سبق حاصل نہ کرنے کی قسم اٹھا  رکھی ہے۔  بھولی ہوئی  تاریخ یاد دلائی جائے، مفلس کش سیاسی پالیسیوں، بدیسی ممالک سے درآمد احتجاجی  ڈراموں  کے حوالے سے حقائق بیان کئے جائیں  یا   سیاسی شعبدہ بازوں کی منافقت  کا  پراگندا چہرہ بے نقاب کیا جائے،  توحقائق  شفاف و عیاں نظر آنے کے باوجود  بے لاگ اور سچ لکھنے والے  پر” لفافہ بردار  صحافت ” کے الزامات اور طعن و دشنام،  ہمارے سیاسی کلچر کا خاصہء  بدنام بن چکا ہے۔ اکثر قارئین سوال کرتے ہیں کہ اگر  سیاہ ست کے اس حمام میں سارے ہی ننگے ہیں تو  پھر راہنمائی  کی  امید  کس سے رکھیں؟  تو  احباب  اس کیلئے  ہمیں سب سے پہلے خود میں تنقید سننے کا حوصلہ پیدا کر کے عدم برداشت  کی  روش ترک کرنا ہو گی۔  ہم اپنی خود احتسابی  کے بعد ، اندرون جماعت اپنے  اپنے محبوب راہنماؤں کے قول و فعل  پر  تنقید  اور ان کا احتساب کریں تو  یقینی طور پر ہمارے قومی راہنماؤں کا قبلہ اور ملک کے سیاسی حالات  درست ہوں۔

 سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے اپنے ایک کالم ” لہو رنگ آنچل کو پھیلائے رکھنا، سقوط مشرقی پاکستان ” میں لکھ چکا ہوں۔ کہ سامراج اور مغربی طاقتوں کے گماشتہ غداروں کی کالی کرتوتوں کی بدولت تاریخ میں سولہ دسمبر 1971ء کا سیاہ ترین دن ملت اسلامیہ اور پاکستانی قوم کی ذلت و رسوائی کی شرمناک داستان بن کر آج بھی کلیجہء مسلم سلگا رہا ہے۔ محمد شاہ رنگیلے کے فطری وارثین، میر جعفر و صادق کے پیروکار سیاہ ست دانوں اور شراب و شباب میں ڈوبے جنرل رانی برانڈ جرنیلوں نے قوم و ملت کے ماتھے پر ایسا بدنما داغ لگایا جو تا قیامت نہ دھلے گا نہ مٹے گا۔ دھرتی سے غداریوں کے صلے میں انگریزوں کی عطا کردہ جاگیروں کو بچانے کیلئے کچھ جاگیرداروں اور کسی بھی قیمت پر حصول اقتدار کیلئے سرگرم سیاستدانوں کی مشرقی بنگال میں لگائی ہوئی آگ ایک شرابی مسخرے  یحیی خان اور ناعاقبت اندیش ٹولے نے پٹرول سے بجھانے کی کوشش میں بھڑکتا ہوا تندور بنا دی۔ جنرل رانی جیسی فاحشائیں ہندوآتہ کی آلہ کار بن کر ایوان اقتدار پر قابض مدہوش عاشقوں کے فیصلے خود لکھتی رہیں۔ اور پاک دھرتی کا مقدس بدن دو لخت ہو کر قوم کا کلیجہ چاک چاک کر گیا۔

اس دور کے حالات سے واقف بزرگ اور تاریخ گواہ ہے کہ اس نازک وقت میں بھٹو مرحوم کا  رویہ بڑا پراسرار اور جارحانہ تھا وہ ہر قیمت پر حصول اقتدارکیلئے بیتاب تھے۔ سب سے پہلے تو مشرقی پاکستان میں اپنے امیدوار نہ کھڑے کرنا ہی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ پی پی پی کی کوئی اعلی قیادت یا کوئی راہنما آج تک اس سوال کا جواب نہیں دے سکا کہ ” اُدھر تم، اِدھر ہم “، ” جو مشرقی پاکستان جائے گا ٹانگیں توڑ دوں گا ” ، ” میں اپوزیشن میں نہیں بیٹھوں گا ” ،” دونوں حصوں کیلئے علیحدہ آئین بنا لیں” جیسے قابل مذمت جملے کیوں استعمال کئے گئے؟ شیخ مجیب کی اکثریت پارٹی کو اقتدار کیوں نہیں سونپا گیا ؟ بھٹو مرحوم  سول مارشل لا ایڈ منسٹریٹر کیوں رہے ؟ جب بھی مشرقی پاکستان کا ذکر ہوگا یہ سوال پیپلز پارٹی کا پیچھا کرتے رہیں گے۔ حقائق بتاتے ہیں کہ اس وقت مشرقی پاکستان کی قیادت مڈل کلاس لوگوں کے پاس تھی۔ جبکہ مغربی پاکستان کی سیاست پر جاگیرداروں اور وڈیروں کا قبضہ تھا۔ مغربی پاکستان کے سیاست دان خوفزدہ تھے کہ اگر پاکستان کے دونوں حصے متحد رہے تو اکثریتی جماعت ہونے کے ناطے اقتدار مجیب الرحمن کو ملے گا۔ اور اس صورت میں مغربی پاکستان سے جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ یقینی تھا ۔ لہذا ان جاگیرداروں اور سیاسی وڈیروں نے صرف اپنی بقا کیلئے آدھا ملک گنوا دیا

احباب قابل توجہ ہے کہ 20 دسمبر کو یحیی خان کی معزولی کے بعد بھٹو مرحوم صدر اور سویلین چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنے، تو  انہوں نے یحیٰی خان سمیت کئی جرنیلوں کو برطرف کردیا۔ غدارِ پاکستان شیخ مجیب کو سنائی گئی سزائے موت منسوخ کردی۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور ہتھیار ڈالنے کے ذمہ داروں کے تعین کیلئے جو حمود الرحمان کمیشن بنایا گیا ۔ اس نے تین سو سے زائد گواہوں کے بیانات کے بعد پہلی رپورٹ انیس سو بہتر میں اور دوسری رپورٹ انیس سو چوہتر میں پیش کی۔ لیکن آج تک اس کمیشن کی سفارشات پر نہ عمل ہوا نہ ہو گا۔ کمیشن نے جن جرنیلوں پر کھلی عدالت میں مقدمہ چلانے کی سفارش کی، ان میں  جنرل یحییٰ سرفہرست تھا۔ بھٹو صاحب نے کمیشن کی سفارش کے مطابق اس پر مقدمہ چلانے کی بجائے گھر میں باعزت نظربند رکھا۔ بعد ازاں بیماری کی وجہ سے جنرل ضیا الحق نے نظربندی ختم کردی۔ برطرف ہونے والے دوسرے جنرل عبدالحمید خان، یحیٰی کے نائب اور ڈپٹی مارشل لا ایڈمنسٹریٹر تھے۔ موصوف حالتِ گمنامی میں لاہور کینٹ میں واقع  گھر میں انتقال کر گئے۔ لیفٹننٹ جنرل ایم ایم پیرزادہ،  صدر کے پرسنل سٹاف آفیسر اور بھٹو اور یحییٰ کے درمیان رابطے کا مبینہ پل سمجھے جاتے تھے۔ یہ بھی بیس دسمبر کو برطرف ہوئے اور تادمِ مرگ گوشہ نشین رہے۔ میجرجنرل گل حسن، سقوطِ ڈھاکہ کے وقت چیف آف جنرل سٹاف تھے۔ یہ اس قدرخوش قسمت تھے کہ بھٹو صاحب نے انہیں برطرف نہیں، بلکہ لیفٹننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر فوج کا سربراہ  مقرر کردیا۔ تاہم کچھ عرصہ بعد شدید  تنقید پر،  سروس سے برطرف کر کے تمام مراعات اور تمغات واپس لے لئے گئے۔ مگر اللہ  ہی جانے کہ  انہیں کس ” کارنامے ” کے صلے میں آسٹریا میں سفیر مقرر کردیا گیا۔

میجرجنرل غلام عمر، نیشنل سکیورٹی کونسل میں یحیی خان کے نائب تھے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کیلیے پاکستانی صنعت کاروں سے کروڑوں کے فنڈز جمع کیے تھے۔ بریگیڈیر اے آر صدیقی کے بقول وہ رقم  دو کروڑ کے قریب تھی۔ جبکہ الطاف گوہر کے مطابق اٹھائیس لاکھ روپے سیاسی قوتوں میں تقسیم کئے گئے۔ بھٹو صاحب نے انہیں برطرف کرنے کے بعد کچھ عرصہ نظربند رکھا۔ وہ خوش قسمت تھے کہ کسی مقدمہ کا سامنا کرنے کی بجائے، ضیا دور میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز کے چیرمین بنے۔  جنرل عمر اس حوالے سے بھی خوش نصیب ہیں کہ  سیاست اور شہرت کی دیویاں ان کے خانوادے پر انتہائی مہربان ہیں۔ ان کے ایک صاحبزادے زبیر عمر، مسلم لیگ نون کے مرکزی رہنما اور ایک اہم سرکاری ادارے کے سربراہ ہیں۔ دوسرے صاحبزادے اسد عمر تحریک انصاف کے راہنما،  عمران خان صاحب کے قریبی ساتھی اور ممبر پارلیمنٹ بن چکے ہیں۔ جبکہ  تیسرے بیٹے کراچی سٹا ک ایکسچینج کے سربراہ ہیں۔

ان کے علاوہ بھٹو حکومت کی طرف سے جو جرنیل برطرف کئے گئے ان میں  میجر جنرل اے او مٹھا ۔ لیفٹننٹ جنرل ارشاد احمد خان، میجر جنرل عابد زاہد اور میجر جنرل بی ایم مصطفی شامل تھے۔ مگر افسوس کہ حمود الرحمن کمیشن کے مطابق سقوط مشرقی پاکستان کے ذمہ دار ٹھہرائے گئے ان حضرات میں سے کسی ایک پر بھی نہ تو کوئی مقدمہ چلا اور نہ ہی سزا ہوئی۔ البتہ ان میں سے کچھ کو سفارتوں اور اعلی عہدوں سے ضرور نوازا گیا۔ تاریخ کے یہ دونوں ابواب دلِ مسلم کیلئے بڑے ہی تکلیف دہ ہیں کہ سقوط غرناطہ پر ابو عبداللہ نے شہر کی چابیاں دشمنان ملت کے حوالے کیں تو سقوط ڈھاکہ پر اس کے ہم نام امیر عبداللہ نیازی نے نوے ہزار فوجی دستیاب ہونے کے باوجود دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست کا آدھا حصہ ” باعزت انداز” میں اپنے بدترین دشمن بھارت کے حوالے کر دیا۔ ہم کیسے بھول سکتے ہیں کہ اس المناک سانحہ کے بعد کئی روز تک،  ایک ہزار برس مسلمانوں کے محکوم رہنے والے اسلام دشمن ہندوتوا جشن فتح مناتے ہوئے ”  اب پورا پاکستان مٹا دیں گے ”  کے دجالی نعرے لگاتے رہے۔

بھارت میں بی جے پی کے دوبارہ  برسراقتدار آنے پر  پاکستانی سرحدوں پر حالیہ جارحیت اشارہ دے رہی ہے کہ مسلمانان ہند اور پاکستان کے بدترین دشمن نریندر مودی کےعزائم خطرناک ہیں۔ بھارت کی طرف سے افواج پاکستان، قومی حساس اداروں اور آزادیء کشمیر کیلئے صدائے حق بلند کرنے والے قومی راہنماؤں کیخلاف ہرزہ سرائی  معمول بن چکی ہے۔  میرا اٹل موقف اور حق القین ہے کہ جو ادارہ اور کردار بھارت کی مذموم  تنقید اور ہندوتوا کے زہریلے پراپیگنڈا کا نشانہ بنتا ہے،  دراصل وہی پاکستان کا محب و محافظ اور ملک و ملت کا وفادار ہوتا ہے۔ بھارت کی طرف سے افواج پاکستان ، دشمنانِ وطن کی سازشوں کیخلاف دفاعی حصار کا درجہ رکھنے والےعظیم قومی ادارے آئی ایس آئی اور آزادیء کشمیر کی جہد کے علمبردار حافظ سعید جیسے جرات مند کرداروں کے بارے کاذبانہ  پراپیگنڈا مہم، اس امر کا ثبوت ہے کہ یہ ادارے اور یہ لوگ سچے محبان و فرزندانِ پاکستان ہیں۔ جماعت الدعوۃ کو دہشت گرد قرار دینے والے ہندوتوا مسخرے یاد رکھیں کہ جماعت الدعوۃ، جلاؤ گھیراؤ اور بدامنی کی سیاست یا عوامی مقامات پر بم دھماکوں کی شدید مخالف ہے۔ آئی ایس آئی اور جماعت الدعوۃ  کے حوالے سے زہر اگلنے والے یاد رکھیں کہ  بھارتی پارلیمنٹ پر حملے اور سانحہ چھٹی سنگھ پورہ جیسے واقعات پر الزامات لگانے والے کاذبین، عالمی برادری کے سامنے اس وقت ذلیل و رسوا ہوئے جب تحقیقات کے مطابق ان واقعات میں خود بھارتی فوج ہی ملوث پائی گئی۔ آج حافظ سعید صاحب کا تجزیہ نظرسے گزرا تو سقوط مشرقی پاکستان کے اُس افسوس ناک ترین  روز اپنے والد محترم کے زار و قطار رونے کا منظر یاد کر کے آنکھیں بھیگ گئیں۔ حافظ سعید صاحب نے درست فرمایا کہ اگر بھارت کو کشمیر میں فوج داخل کرتے وقت ہی درست سبق سکھا دیا جاتا تو وہ کبھی بھی مشرقی پاکستان میں فوج کشی کی جرأت نہ کرتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت  پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کر کے وسطی ایشیا کی منڈیوں تک رسائی چاہتا ہے۔

احباب سقوط ڈھاکہ کا المیہ ہمیں اول و آخر قومی و ملی اتحاد کا سبق دیتا ہے۔ مگر افسوس کہ ایک طرف ہم اپنے قبائلی بھائیوں اور نادان بلوچوں کو امن اور قومی دھارے میں لانے کیلئے قومی ہم آہنگی کی حکمت عملی اور مذاکرات کیلئے سنجیدہ نہیں اور دوسری جانب اپنے اس بدترین دشمن، ہندوستان  سے مذاکرات کیلئے جھک رہے ہیں جو پاکستان میں خون آشام دہشت گردی پھیلانے والے سب گروہوں کا سرپرست ہے۔ ہم پر واجب ہے کہ ملکی مفاد کے پیش نظر اپنے ان قبائلی اور بلوچی بھائیوں کو مثبت سوچ کے ساتھ ، امن کی راہ کی طرف لوٹنے پر مجبور کریں جو دور آمریت کے ظلم و جبر اور سیاسی استحصال کا شکار رہے ہیں ۔ تاکہ مشرقی سرحدوں پر بھارتی اور مغربی سرحدوں سے بھارتی آشیرباد یافتہ دہشت گرد عناصر کی دراندازی سے محفوظ ہوں۔ دعا گو ہوں کہ اس قوم کو سیاسی ، مسلکی ، لسانی اور گروہی بنیادوں پر تقسیم در تقسیم کرنے والی مغربی سازشیں ناکام ٹھہریں۔ اور پاکستانی ایک متحد قوم بن کر ہر اندرونی و بیرونی دشمنوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوں۔

سرحدوں پر جارحیت کی مرتکب مودی ہندوتوا سرکار یاد رکھے کہ یہ 1971 نہیں 2014 ہے۔ آج افواج پاکستان کا شمار دنیا کی بہترین عسکری قوتوں میں ہوتا ہے۔ الحمد للہ آج پاکستان شاہین و غوری، حتف و غزنوی جیسے جدید ترین میزائل رکھنے والی ایٹمی طاقت اور آئی ایس آئی دنیا کا بہترین اور موثر ترین انٹیلی جنس ادارہ ہے۔ گو کہ آج مغرب و سامراجی استعمار اور بھارتی گٹھ جوڑ نے پاکستان میں سقوط  مشرقی پاکستان سے بدتر حالات پیدا کر رکھے ہیں۔ مگر صد شکر کہ اُس دور کے برعکس آج کی عسکری قیادت اور جدید ترین پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی حامل افواج پاکستان تمام سیاسی وابستگیوں سے آزاد، ملک دشمن عناصر اور دہشت گرد  قوتوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے، وطن کے بھرپور دفاع کیلئے ہمہ وقت ہوشیار اور تیار ہے۔ معزز قومی راہنماؤں سے بھی دست بستہ عرض ہے کہ 16 دسمبر سیاسی دھرنوں، احتجاج اور پاکستان کا پہیہ جام کرنے کا نہیں بلکہ سقوط مشرقی پاکستان سے سبق سیکھنے اور مستقبل کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر اس پاک دھرتی سے محبت و وفا کی تجدید عہد کا دن ہے۔ گذشتہ برس  16 دسمبر ہی کے دن پشاور میں معصوم بچوں کے خون سے ہولی کھیل کر بھارتی را کے کٹھ پتلی دہشت گردوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کی سلامتی اور امن و عوام کے قتل عام کے بھارتی شیطانی عزائم خطے مین امن کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔  یاد رکھیں کہ یہ مملکت خداداد پاکستان سلامت و آباد ہے تو ایوان اقتدار اور سیاست کے ایوان بھی آباد ہیں۔

فاروق درویش ۔۔۔ واٹس ایپ کنٹیکٹ ۔۔۔ 03224061000

سقوط مشرقی پاکستان کے حوالے سے میری گذشتہ تحریر کا لنک

لہو رنگ آنچل کو پھیلائے رکھنا ۔ سقوط مشرقی پاکستان

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: