بین الاقوامی تاریخِ عالم و اسلام حالات حاضرہ نظریات و مذاہبِ عالم

مغرب و ایران ڈرامہ سیریز کا فلاپ شوشہ ” جہاد النکاح “۔


مسلم معاشرے پر بہتان بازی اور عرب ممالک کو بدنام کرنے کیلئے کذب بیانی سامراجی اور ان کے بغل بچہ ایرانی فتنہ گروں  کا محبوب مشغلہ بن چکا ہے۔ وہ ایک ڈرامے میں ناکامی اور ذلت اٹھا کر امت مسلمہ کو بدنام کرنے کیئے کوئی دوسرا مضحکہ خیز ڈرامہ سٹیج کر دیتے ہیں۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ عراق اور افغانستان میں قتل مسلم کے مجرم  مغرب کے صلیبی بادشاہ گر اور ان کے حلیف ایران جیسے مسلم ممالک شامی حکومت کے ظلم و جبر اور قتل عام کیخلاف برسرپیکار مسلمانوں کی مزاحمتی تحریک کو بدنام کرنے کیلئے خود ساختہ و مضحکہ خیز پراپیگنڈا کر رہے ہیں۔ ستمبر 2013 کے اوائل میں مغرب اور اس کے کٹھ پتلی میڈیا کے ساتھ ساتھ ایرانی اور سعودیہ مخالف ویب سایٹوں نے بھی بڑے اہتمام کے ساتھ یہ خبر شائع کی تھی کہ تیونس کے وزیر داخلہ لطفی بن جدو نے اپنی پارلیمنٹ کے اراکین کو بتایا ہے کہ کئی خواتین ” سیکسی جہاد ” کیلیے شامی حکومت کے خلاف لڑنے والے مسلم جنگجوؤں کے ساتھ عیاشی کا وقت گزارنے کیلیے شام جا کر واپس آ گئی ہیں jehad100۔ مغربی خبر رساں مسخروں کے مطابق مطابق تیونس کے وزیر داخلہ نے وہاں کی قومی قانون ساز اسمبلی کو بتایا تھا کہ کچھ مسلمان خواتین شام میں بیس، تیس یا ایک سو جنگجوؤں کے ساتھ سیکس کرتی ہیں۔ “جہاد النکاح ” کے نام پر مجاہدین کو جنسی تعلقات کی خدمات فراہم کرنے کے بعد ایسی خواتین حاملہ ہو کر واپس تیونس آ جاتی ہیں۔ تیونس کے سیکولر میڈیا کے مطابق پندرہ ماہ سے جاری شام میں خانہ جنگی میں حصہ لینے کے لیے تیونس سے ہزاروں لوگ شام جا چکے ہیں۔ تنظیم انصار الشریعہ کے سربراہ ابو عیاض کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ نوجوان لڑکوں کو شام میں حکومتی فورسز کے خلاف لڑنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ابو عیاض کے بارے میں مغربی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق اس شدت پسند گروپ سے ہے جس نے نو ستمبر 2011 میں افغانستان میں شمالی اتحاد کے سربراہ احمد شاہ مسعود کو خودکش حملے میں قتل کیا تھا۔ یاد رہے کہ پچھلے برسوں مصرمیں بھی مغرب و ایران کی خود ساختہ ایسی ہی خبریں منظر عام پر آئی تھیں۔ کہ اب مصری خواتین بھی ’’جہاد النکاح‘‘ کے سلسلے کی ایک مہم شروع کر کے اپنے ساتھی  سیاسی ورکروں کو جنسی خدمات پیش کریں گی۔

 امریکی کٹھ پتلی  ایرانی میڈیا اور روسی خبررساں ایجنسی رشیا ٹوڈے نے ایک مسلم خاتون  اور مرد  کی تصویر شائع کر کے دعوی کیا کہ اس  جوڑے کی طرح اسلامی جہاد کی آڑ میں ایسی نوجوان لڑکیاں اپنے جہادی ساتھیوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کر کے انہیں جنسی تسکین پہنچاتی ہیں تاکہ وہ گھر سے دور رہ کر بے سکونی کا شکار نہ ہوں۔ لیکن مغرب اور روسی خبر رساں ادارے کے گھٹیا ترین جھوٹ کا پول اس وقت کھل گیا جب مصری اخبارات  میں شائع ہونے والی اسی نوجوان جوڑے کی اپنی بیٹی کے ساتھ اصل تصویروں نے ثابت کر دیا کہ وہ دراصل ایک حقیقی میاں بیوی کی تصویر تھی جو اپنے خاندان سمیت بشار الاسد کیخلاف مزاحمت کیلئے شام میں موجود تھے۔ مغربی، روسی اور ایرانی ذرائع ابلاغ کا جھوٹا پراپیگنڈا بینقاب ہونے کے بعد مغربی میڈیا اور ایرانی حلقہ خاموش ہو گیا۔ اب ایک بار پھر سے میڈم ملالہ کی سرکاری سرپرست میڈم بی بی سی نے مغرب کے خود ساختہ ” جہاد النکاح ” کی رپورٹ شائع کر کے انتہائی بے شرم اور ڈھیٹ اسلام دشمن ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ میں یہاں مغربی، روسی اور برادر مسلم ملک ایران کی سوشل میڈیا ویب سائٹس پر زانی جہادی جوڑے کے طور پر شائع کی جانے والی تصویر اور اس میاں بیوی مجاہد جوڑے کی اپنی بیٹی سمیت سچ بولتی تصویر شائع کر رہا ہوں جس سے آپ پر مغربی اور اسلام دشمن سامراجی طبقے کی کذب بیانی اورجھوٹی رپورٹس کا ملالہ برانڈ ڈرامہ پوری طرح عیاں جائے گا۔

jehad7احباب یاد رہے کہ تیونس میں اسلامی نظریات کے حامیوں کی حکومت ہے لیکن وہاں بھی پاکستان کی طرح مغرب زدہ سیکولر اور نام نہاد طبقہ اپنے سامراجی آئیڈلوں کے ہاتھ میں کھیل کر عریانی و فحاشی اور اسلام دشمن فکر کا علمبردار ہے۔ تیونس میں مغرب زدہ حکام نے جب یہ مضحکہ خیز دعویٰ کیا تھا تو بہت سے لوگ اس بیان سے چونک گئے تھے اور اسے انتہائی شک کی نظر سے دیکھا گیا تھا۔ عالمی میڈیا میں کئی ماہ سے “سیکسی جہاد یا جنسی جہاد ” کے نام سے یاد کیے جانے والے اس مغرب برانڈ معاملے کے بارے میں کئی طرح کی افواہیں آتی رہیں لیکن یہ کس سطح پر ہو رہا ہے اور شام میں جاری بغاوت سے اس کا کیا تعلق ہے، یہ سب پراسرار ہی رہا۔ صد افسوس کہ اس من گھڑت بیان سے حراست میں لی گئی بے گناہ لڑکیوں کے خاندانوں کو بھی شدید دھچکا لگا۔ پہاڑی علاقے چمبی کے نزدیک قصرین شہر میں اسی الزام کے تحت گرفتار ایسی ہی ایک لڑکی کے خاندان سے صحافیوں کی ملاقات ہوئی۔ ان صحافیوں کے مطابق لڑکی کی ماں نے بتایا کہ ان کی 17 سالہ بیٹی بھی ان 19 خواتین میں شامل ہے جنھیں اس شہر میں گزشتہ دو ماہ کے دوران گرفتار کيا گیا ہے۔ جب کہ اس کی بیٹی بالکل بے گناہ ہے۔ اس نے الزام لگایا کہ لڑکی کو نابالغ ہونے کے باوجود بالغ مردوں کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ ماں کا کہنا تھا کہ اس کی بیٹی کو مسلسل جسمانی و ذہنی تشدد کے ذریعے ذہنی مریضہ بنا دیا گیا ہے۔ ماں نے دعوی کیا کہ اس کی بیٹی کبھی بھی جہاد کیلئے چمبی کی پہاڑیوں پر نہیں گئی۔ اس نے مذید بتایا کہ اس کی بیٹی اپنے پورے جسم کو برقعے سے ڈھانپ کر رکھتی تھی۔ جو ان کی نظر میں یہ پاکیزگی اور حیا کی علامت ہے، مذہبی انتہا پسندی نہیں۔

ماں کے مطابق اس کی بیٹی مذہبی تعلیم اور عبادت کیلئے التوبہ مسجد جاتی تھی، جہاں سے اسے بنا کسی ثبوت کے گرفتار کیا گیا۔ اس نوجوان لڑکی کی والدہ شاید اس بات سے بے خبر ہے کہ مغرب کی نظر میں بروعہ سے جسم ڈھانپنے والی خاتون دہشت گرد اور شدت پسند ہوتی ہے۔ ملزمہ کی ماں کو یاد رکھنا چاہیے تھا کہ امریکی کے مطابق مسجد میں جانے والی مسلمان بچیاں جامعیہ حفصہ اور لال مسجد برانڈ سلوک کی مستحق ہوتی ہیں۔ امریکہ اور مغرب اس  ملالہ کا گرویدہ و سرپرست ہے جو خود تو چارد اوڑھتی ہے مگر اسے مشرف دور کی میراتھن میں شریک نیکر پہننے والی نیم عریاں لڑکیاں پسند ہیں۔ اس رپورٹ کے حوالے سے نیوز براڈکاسٹر ذوہیر ایلجس کا کہنا تھا کہ ان الزامات کا مقصد حکمراں اسلامی جماعت کی شدت پسندی کیخلاف خاموشی پر تنقید کر کے سیاسی دباؤ بڑھانا بھی ہو سکتا ہے۔ تنونس کے میڈیا کے مطابق ان کے وزیرِ داخلہ نے اس حوالے سے کوئی اعداد و شمار فراہم نہیں کیے اور نہ ہی اپنے دعوؤں کے بارے کوئی ثبوت پیش کیا۔ احباب قابل توجہ ہے کہ مغرب یا ان کے حواریوں کی طرف سے مسلم جہادی خواتین کی جتنی تصاویر بھی شائع کی گئی ہیں ان میں ان مسلماؤں کا لباس اور انداز کسی طور بھی ان کے فاحشہ ہونے کا نہیں بلکہ ان کے پاکیزہ اسلامی کردار و تشخص کا احوال بیان کرتا ہے۔

 مغربی اور ایرانی ویب سائٹس پر شائع ہونے والی ایسی خبروں کے بعد ایرانی مافیہ کی طرف سے پاکستان سوشل میڈیا پر کچھ اسی طرح کی کاذبانہ خبریں منظر عام پر آئیں کہ پاکستانی خواتین بھی ’’جہاد النکاح‘‘ کیلئے شام گئی ہیں۔ ایسی من گھڑت اور بے بنیاد رپورٹیں شائع کرنے میں سب سے آگے فتنہء قادیانیت، فتنہء ایران  اور گستاخین قرآن و رسالت سیکلور کے اسلام دشمن گروہ تھے ۔ جس کے بعد سرکاری ذرائع نے پاکستان سے خواتین کی شام روانگی اور ’’جہاد النکاح‘‘ کے نام پر بیک وقت کئی افراد سے ان کی شادی کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔ پاکستان کے تمام مسالک سے تعلق رکھنے والے علماء  نے بھی ’’جہاد النکاح‘‘ کے فتووں کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے اسے یکسر مسترد کردیا تھا۔ قارئین وقت گذرنے کے ساتھ اب یہ ثابت ہو رہا ہے کہ دراصل یہ مغرب اور ایران کا چھوڑا ہوا ایک نیا شوشہ تھا۔ قابل غور ہے کہ مغرب زدہ سیکولر حضرات، مغربی آلہ کار امت کے علما اور دین دوست حضرات کو بدنام کرنے کیلئے کہتے ہیں کہ ان مولویوں نےاسلام کو مذاق بنالیا ہے جسے وہ اپنے مفاد میں استعمال کرتے ہوئے اس کی غلط تشریح کرکے مسلمانوں کو گمراہ کررہے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ  مغرب اور بھارت نے ہی اپنے زرخرید نام نہاد جہادی گروپوں کے ذریعے عبادت گاہوں پر حملے اور خود کش دھماکے کروا کر حقیقی اسلامی مجاہدین کا تشخص بدنام کرنے کا دجالی کھیل کھیلتا رہا ہے۔ سو یہ یہی دشمنان ملت اسلامیہ مغربی کذاب اب تیونس سے تعلق رکھنے والے زرخرید حکومتی عناصر کی طرف سے جاری کیے گئے ’’جہاد النکاح‘‘ جیسے الزامات سے بیک وقت اسلام، علمائے حق اور جہادی گروپوں کو بدنام کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ دراصل ایسی من گھڑت خبریں پھیلا کر یا اپنے زرخرید علمائے سو کے ذریعے خود ساختہ فتوے دلوا کرمسلمانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا جا رہا ہے کہ ہم اسلام کو کس سمت لے جارہے ہیں اور ہماری یہ حرکات غیر مسلموں اور مغربی میڈیا میں اسلام کی اس تذلیل کا سبب بن رہی ہیں جس سے اسلام اور ملت اسلامیہ کا تشخص مجروح ہورہا ہے۔

 تاریخ گواہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے دور یا مابعد بھی ہمیں کہیں بھی ’’جہاد النکاح‘‘ جیسے مغربی بہتان کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اگر تیونس کے کسی امریکی ایجنٹ اور صلیبی بغل بچے مولوی نے امریکی یا مغربی آقاؤں کے ایما پر ایسا  فتویٰ دیا تو یہ ہر مسلمان کے مطابق اسلامی قواعد و ضوابط اور بنیادی تعلیمات کے برخلاف ہے۔ ہمارے مطابق اس من گھڑت رپورٹ کی آڑ میں اسلام کے بنیادی تصور نکاح سمیت روح جہاد و اسلام کے روشن چہرے کو داغدار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مشرق و مغرب میں سامراجی اور ایرانی ظالمین کیخلاف مسلمانوں کے تمام گروپوں کے مطابق نوجوان مسلمان لڑکوں اور لڑکیوں کو بے راہ روی کے راستے پر ڈالنا اور عورتوں کا استحصال کرنا حرام اور ایسا گناہ کبیرہ ہے جس کی اسلام قطعاً اجازت نہیں دیتا۔ ایسی من گھڑت رپورٹس اور خبریں شائع کرنے والا مغربی پریس ، فتنہء ایران اور ان کے سیکولر مسخرے حواری اگر اپنے محبوب  امریکہ اور مغربی ویب سائٹس پر شائع شدہ اعداد شمار اور حقائق   سے کب تک چشم پوشی کرتے رہیں گے؟۔ شرم و حیا اور مذہبی و اخلاقی غیرت سے عاری سیکولر حضرات کیلئے ان کے ہی مغربی پریس کی ویب سائٹس گواہ ہیں کہ مغرب کے ہر دسویں شہری کیلئے تمام جنسی سہولتوں سے مزین ایک سیکس ہاؤس یعنی قحبہ خانہ موجود ہے۔ امریکہ اور مغرب میں ہر تیسری ماں پورے فخر کے ساتھ، بنا شادی کے ولد الحرام یعنی ناجائز بچے یا بچوں کی ماں ہے۔ مغرب کا ہر چوتھا مرد اور عورت فیملی سیکس جیسے پلید اور گھٹیا ترین جنسی تعلقات کی مرتکب ٹھہرتی ہے۔

امریکی صدر اور جرنیلوں سے لیکر مغربی پادریوں اور راہباؤں تک ہم جنس پرستی اور فری سیکس نظریات کے کھلےعلمبردار پوری صلیبی دنیا میں موجود ہیں۔ مسلم ممالک میں قتل عام کرنے والے مغرب و سامراج، ان کے حلیف ایران ، بی بی سی برانڈ خبر رساں ایجنسیاں اور مغرب زدہ سیکولر مسخرے بھی جانتے ہیں کہ اسلام شرم و حیا اور پاکیزگی کا درس دیتا ہے۔ عریاں خیال و فحش کردار مغرب کو مسلم خواتین کا حجاب بھی کھٹکتا ہے اور با حیا کردار بھی۔ مغرب و مشرق میں رہنے والی مسلم بیٹیاں مغربی فاحشاؤں کی طرح مادر پدر آزاد اور بے لگام و بے پردہ ہرگز نہیں ہو سکتیں۔ جبکہ اس کے برعکس عریانیت، فحاشی اور ہم جنس پرستی سمیت ہر صنف کی زناکاری امریکی اور مغربی معاشرے کا خاصہء خاص ہے۔  مغربی ذرائع ابلاغ ہی کے مطابق امریکہ اور مغرب کی آبادی کا چوتھا حصہ قانونی، مذہبی اور اخلاقی طور پر حقیقی ” ولد الحرام ” ہے. امید ہے کہ پڑھے لکھے روشن خیال احباب میری طرف سے استعمال کئے گئے لفظ ” ولد الحرام”  کو گالی قرار نہیں دیں گے۔ ان کےعلم میں اضافے کیلئے بتانا چاہتا ہوں کہ زبان و بیان کے مطابق ولد الحرام کوئی گالی یا بدزبانی نہیں بلکہ یہ اس ناجائز اولاد کو کہا جاتا ہے جو بنا شادی و نکاح کے معرض ہستی میں آئی ہو۔ اور یہ بات تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ بغیر شادی کے بچے پیدا کرنے والی مشینیں امریکہ اور برطانیہ سمیت پورے مغرب کے ہر اک گوشے میں بہت عام ہیں ۔ میڈم عاصمہ جہانگیر  اور ماروی سرمد کو مبارک ہو کہ اب اس پوتر مغربی تہذیب کی تقلید میں ان کے محبوب بھارت دیش کا مہذب و تعلیم یافتہ معاشرہ سب سے آگے ہے۔

( فاروق درویش ۔ 03224061000 )

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

Featured

%d bloggers like this: