جواں ترنگ دورحاضر کے شعرا

مقفل ہی سہی لیکن نظر کے اسم ِ اعظم سے : از سیدہ سارا غزل


مقفل ہی سہی لیکن نظر کے اسم ِ اعظم سے
کھلے ہیں وقت کے زنداں میں دروازے کئی ہم سے

طلوعِ صبح کے منظر تراشے ہیں نگاہوں نے
ہیولے ظلمتوں کے ہر طرف پھرتے ہیں برہم سے

ہم اپنے جسم کی سرحد سے بھی آگے نکل آئے
کبھی رکتی نہیں ہے بوئے گل دیوارِ شبنم سے

پریشانی مرے چاروں طرف ہے گرد کی صورت
بیابانِ بلا میں حشر برپا ہے مرے دم سے

یہ میری ذات کا صحرا نہ گم کردے کہیں مجھ کو
عجب ڈر ہے کہ خود کو دیکھتی ہوں چشمِ عالم سے

ہری شاخوں سے لپٹی ہے پرانے موسموں کی باس
ابھی فارغ نہیں ہوں میں گئے لمحوں کے ماتم سے

یہ آسیبِ تمنا روح کے اجڑے مکانوں سے
بدل کر صورتیں اب جھانکتے ہیں روزنِ غم سے

غزل اس عہد میں ایسے دلوں کے خشک ہیں چشمے
بدن کی پیاس بھی بجھتی نہیں ہے آنکھ کے نم سے

(سیدہ سارا غزل ہاشمی)

اپنی رائے سے نوازیں

About the author

admin

1 Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

<head>
<script async src=”//pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js”></script>
<script>
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({
google_ad_client: “ca-pub-1666685666394960”,
enable_page_level_ads: true
});
</script>
<head>

%d bloggers like this: